اسرائیل کی پسپائی اور ٹونی بلیئر کی دھمکی
لبنان پر فوج کشی سے اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکنے اور عالمی برادری کے دباؤ پر اسرائیل نے پسپائی اختیار کر لی ہے اور خود اسرائیل کے اندر اسے اسرائیل کی شکست قرار دیتے ہوئے اس کے اسباب پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ بظاہر اسرائیل کا مقصد اپنے دو فوجیوں کی رہائی اور جنوبی لبنان پر تسلط حاصل کرنا تھا لیکن ان میں سے کوئی مقصد بھی پورا نہیں ہوا اور اسرائیل کو اپنی سرحدوں کے اندر واپس جانا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حدود آرڈیننس میں ترامیم کا نیا بل
قومی اسمبلی میں ’’تحفظ خواتین بل‘‘ کے نام سے حدود آرڈیننس میں ترامیم کا بل پیش کیا گیا ہے اور متحدہ مجلس عمل نے اسے مسترد کرتے ہوئے ایوان کے اندر اور باہر اس کے خلاف شدید احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ حدود آرڈیننس میں ترامیم کا عندیہ ایک عرصہ سے دیا جا رہا تھا اور بعض ملکی اور بین الاقوامی حلقوں کے مطالبہ پر ان ترامیم کی تیاری پر مسلسل کام ہو رہا تھا جس کا نتیجہ تحفظ خواتین بل کی صورت میں سامنے آیا ہے اور اس سے ملک میں حدود شرعیہ کے نفاذ و بقا کا مسئلہ بحث و مباحثہ کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قومی اسمبلی میں نماز کا وقفہ ختم کرنے کی تجویز
روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ مئی ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق قومی اسمبلی کی قواعد و ضوابط کمیٹی نے جناب نصر اللہ دریشک کی صدارت میں منعقدہ ایک اجلاس میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران نماز کا وقفہ ختم کر دینے کی تجویز پیش کی ہے جس پر متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے شدید نکتہ چینی کی ہے اور اسے اشتعال انگیز قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وفاقی شرعی عدالت بحران کی زد میں
وفاقی شرعی عدالت ان دنوں بحران کا شکار ہے اور روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ مئی ۲۰۰۶ء کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس نسیم سکندر نے وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کا منصب قبول کرنے سے معذرت کر لی ہے، انہیں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس اعجاز یوسف کی سبکدوشی کے بعد صدارتی نوٹیفکیشن کے ذریعہ چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس منصب کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عامر چیمہ ؒ کی شہادت اور حکومت کی ذمہ داری
عامر چیمہ شہیدؒ کو اس کے آبائی گاؤں ساروکی چیمہ میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ جنازہ کے وقت اور پروگرام کو آخر وقت تک ابہام میں رکھا گیا اور اس کے بارے میں متضاد خبریں نشر کی جاتی رہیں جن کا مقصد یہ تھا کہ نماز جنازہ میں زیادہ لوگ شریک نہ ہو سکیں، اس کے باوجود زندہ دل مسلمانوں کے ایک بڑے ہجوم نے نماز جنازہ ادا کی اور اس کے بعد بھی ملک بھر سے مسلمان بڑی تعداد میں ساروکی چیمہ پہنچ کر اس باغیرت مسلم نوجوان کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علامہ محمد احمد لدھیانویؒ
گزشتہ دنوں گوجرانوالہ کے بزرگ عالم دین علامہ محمد احمد لدھیانویؒ کم و بیش پچھتر برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق علماء لدھیانہ کے معروف خاندان سے تھا اور ان کے والد محترم حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانویؒ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے تلامذہ میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی تعلیم کے نصاب میں تبدیلی کے اقدامات
ان دنوں پھر اعلیٰ سطح پر ملک کے سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے اسلامی تعلیمات کے نصاب میں تبدیلی کی باتیں گردش کر رہی ہیں اور صدر پرویز مشرف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ نصاب فرقہ واریت کا باعث بن رہا ہے اس لیے اس کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔ دراصل مغرب کے دباؤ کے باعث ہمارے حکمران طبقے ایک عرصہ سے اس کوشش میں ہیں کہ ملک کے سرکاری نصاب تعلیم میں اسلامی تعلیمات کا جتنا کچھ مواد موجود ہے اسے اگر ختم نہیں کیا جا سکتا تو کم از کم کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دوپٹہ اختیاری نہیں دینی فریضہ ہے
گزشتہ روز اسلام آباد کے جناح کنونشن سنٹر میں طلبہ و طالبات کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ عورت کی مرضی ہے کہ وہ دوپٹہ لے یا نہ لے ، کسی پر اس سلسلہ میں جبر نہیں کیا جا سکتا۔ صدر جنرل پرویز مشرف اس قسم کے خیالات کا اظہار اس سے قبل بھی کئی بار کر چکے ہیں لیکن ایسا کہتے ہوئے وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سربراہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا عزیر گلؒ
۱۳ اپریل ۲۰۰۶ء کو شیر گڑھ مردان میں تحریک آزادی کے عظیم راہنما حضرت مولانا عزیر گل ؒ کی یاد میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں متحدہ مجلس عمل کے راہنماؤں مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد کے علاوہ صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم درانی اور دیگر اہم شخصیات نے بھی خطاب کیا۔ سیمینار میں حضرت مولانا عزیر گل ؒ کی دینی و ملی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا اور تحریک آزادی میں ان کے کردار کو سراہتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلنے کا عزم کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان کے دینی مدارس میں غیر ملکی طلبہ
روزنامہ جنگ کراچی ۲۴ جولائی ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق کراچی کے بڑے مدارس کے سرکردہ حضرات نے حکومت کی یہ ہدایت مسترد کر دی ہے کہ ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو ان کے ملکوں میں واپس بھجوا دیا جائے۔ خبر کے مطابق حکومت نے چار غیر ملکی طلبہ کو ان کے وطن واپس بھیجنے کے لیے جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن اور جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی کو خط لکھا ہے کہ جامعہ بنوری ٹاؤن کے تین اور جامعہ بنوریہ کے ایک طالب علم کو فوری طور پر فارغ کرکے ان کے وطن واپس بھیجا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
درسی کتب سے مذہبی مواد حذف کرنے کی کاروائی
روزنامہ پاکستان لاہور ۲۲ جولائی ۲۰۰۶ء کی خبر کے مطابق سعودی عرب نے درسی کتب میں مذہبی عقائد سے متعلق کٹر خیالات کو حذف کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق سعودی عرب نے درسی کتابوں سے کٹر عقائد اور خیالات کو حذف کرکے اصلاحات کے مخلصانہ رویے کا ثبوت دیا ہے اسی لیے اس پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا گیا ہے۔ سعودی عرب میں امریکی سفیر جان یان فورڈ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ اور ان کی حکومت نے اصلاحات پر عملدرآمد کا جو قدم اٹھایا ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لبنان کی صورتحال اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری
لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت نے ایک بار پھر پورے علاقہ کے لیے جنگی صورتحال پیدا کر دی ہے اور بعض حلقوں کی طرف سے نئی عالمگیر جنگ کے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے لیکن عالم اسلام ابھی تک خواب خرگوش میں ہے اور مسلم دارالحکومتوں پر ’’سکوت مرگ‘‘ طاری ہے۔ اسرائیل نے لبنان پر چڑھ دوڑنے کے لیے اسی طرح کا بہانہ تراشا ہے جس طرح کا بہانہ افغانستان اور عراق پر فوج کشی کے لیے امریکہ نے تراشا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
برطانیہ میں دینی تعلیم کا بڑھتا ہوا رجحان
گزشتہ ماہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شش ماہی امتحان کی تعطیلات کے دوران مجھے دو ہفتے کے لیے برطانیہ جانے کا اتفاق ہوا، کم و بیش ہر سال ان دنوں برطانیہ جاتا ہوں اور متعدد دینی مراکز اور تعلیمی مدارس کے پروگراموں میں شرکت ہوتی ہے، اس سال ابراہیم کمیونٹی کالج لندن، جامعۃ الہدیٰ شیفیلڈ، مدرسہ قاسم العلوم برمنگھم، مدینہ مسجد آکسفورڈ اور ابوبکر اسلامک سنٹر ساؤتھ آل لندن کے پروگراموں میں شرکت کے علاوہ بریڈ فورڈ، نوٹنگھم، برنلی، کراؤلی، رچڑیل اور ویکفیلڈ میں مختلف دینی اجتماعات میں حاضری ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بائبل اور ہم جنس پرستی
روزنامہ جنگ لاہور ۳۰ مئی ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق آکسفورڈ (برطانیہ) کے بشپ رچڑد نے دعویٰ کیا ہے کہ بائبل ہم جنس تعلقات کی (نعوذ باللہ) حمایت کرتی ہے، انہوں نے سنڈے ٹیلیگراف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بائبل کے عقیدے کے مطابق ہم جنس پرستی پر کوئی ممانعت نہیں ہے، انہوں نے کہا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے کو نئے زاویے سے دیکھا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فلم
بین الاقوامی میڈیا میں ان دنوں سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بننے والی فلم ’’ڈونچی کوڈ‘‘ کا خاصا چرچا ہے جس میں حضرت عیسٰیؑ کی حیات طیبہ کے مختلف حصے پیش کیے گئے ہیں اور مبینہ طور پر اس میں اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبر کے بارے میں توہین آمیز انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس فلم کے ریلیز ہونے پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے مذہبی حلقوں کی طرف سے مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے اور غالباً پاکستان میں اس پر پابندی بھی لگا دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان کو سیکولر ملک بنانے کا مطالبہ
روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۲ جون ۲۰۰۶ء کے مطابق سابق وفاقی وزیر اور پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے سیکرٹری جنرل سید اقبال حیدر نے ایک انٹرویو میں مطالبہ کیا ہے کہ مذہب کو چھوڑ کر پاکستان کو سیکولر ریاست بنایا جائے، انہوں نے حدود آرڈیننس پر سخت تنقید کی اور اس کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ملاّ‘‘ مسلمانوں کا سب سے بڑا ’’مجرم‘‘ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حکومت پنجاب کا مستحسن اقدام
روزنامہ اسلام لاہور ۱۸ نومبر ۲۰۰۵ء کی رپورٹ کے مطابق حکومت پنجاب نے گوجرانوالہ میں متحدہ مجلس عمل کے ممبر قومی اسمبلی مولانا قاضی حمید اللہ خان اور ان کے رفقاء کے خلاف میراتھن ریس کو روکنے کے لیے مظاہرہ کرنے کے الزام میں درج مقدمہ واپس لے لیا ہے جس پر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج طارق افتخار نے قاضی صاحب موصوف اور ان کے ۹۶ رفقاء کو باعزت بری کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان میں عیسائیت کی تبلیغ
روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۱۸ اکتوبر ۲۰۰۵ء کو پاکستان میں مسیحی مشنریوں کی تبلیغی سرگرمیوں کے حوالہ سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق گزشتہ دس سال کے دوران پاکستان میں سترہ ہزار مسلمانوں کو عیسائی بنایا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے مختلف مسیحی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں جو تعلیم، سماجی خدمت، صحت اور دیگر حوالوں سے کام کر رہی ہیں اور اس کے ساتھ سادہ لوح اور نادار مسلمانوں کو مسیحیت کی طرف راغب کرنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بیرونی ممالک میں قید ہزاروں پاکستانی شہری
روزنامہ انقلاب لاہور ۱۸ نومبر ۲۰۰۵ء کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بارہ ہزار سے زائد پاکستانی شہری اٹلی، یونان، ترکی اور ایران کی جیلوں میں اذیت ناک زندگی بسر کر رہے ہیں، جبکہ ۱۶ ہزار سے زائد افراد دھکے کھا کر وطن واپس آگئے ہیں اور سینکڑوں افراد بین الاقوامی سرحد کو ناجائز طور پر عبور کرتے ہوئے متعلقہ ملک کی فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بن کر جاں بحق ہوچکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
زلزلہ سے متاثرہ مساجد و مدارس، اصحاب خیر کی خصوصی توجہ کے مستحق
عید الفطر کے بعد مجھے تین چار روز کے لیے زلزلہ زدہ علاقے میں جانے کا موقع ملا، پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا قاری جمیل الرحمن اختر ہمراہ تھے، ہم نے راولاکوٹ، ہاڑی گہل، تھب، ارجہ، جگلڑی، ملوٹ، دھیرکوٹ، جھالہ، باغ، مظفر آباد ، گڑھی حبیب اللہ، بالا کوٹ اور مانسہرہ میں زلزلہ کی تباہ کاری کے مناظر دیکھے، متاثرین سے ملاقاتیں کیں، کچھ سامان اور نقدی ہمارے پاس تھی جو زیادہ مستحقین میں تقسیم کی، امدادی گروپوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ائمہ و خطباء کے لیے سرکاری خطبہ کی پابندی
گزشتہ ہفتہ کے دوران مختلف دینی جماعتوں کے راہنماؤں سے ملاقات اور ملکی صورتحال پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ اتوار کے روز قاری محمد عثمان رمضان اور حافظ شاہد الرحمان میر کے ہمراہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات ہوئی اور دیگر امور کے علاوہ حضرت مولانا سمیع الحقؒ کی شہادت کے بعد کی صورتحال پر باہمی مشاورت ہوئی، نیز جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) اور دفاع پاکستان کونسل کی سرگرمیوں اور عزائم سے آگاہی حاصل کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا سلیم اللہ خانؒ اور مولانا عبد الحفیظ مکیؒ کی یاد میں تعزیتی نشستیں
شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ اور پیر طریقت حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ کی یاد میں گوجرانوالہ میں منعقد ہونے والی دو تعزیتی نشستوں میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔ ۳ فروری کو مغرب کے بعد محمدی ٹاؤن کی جامع مسجد عثمان غنیؓ میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے راہنما مولانا حافظ گلزار احمد آزاد نے حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ کی خدمات کے تذکرہ کے لیے نشست کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں مولانا پیر سید کفیل شاہ بخاری مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا حافظ امجد محمود معاویہ اور راقم الحروف نے خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خوش آمدید ڈونلڈ ٹرمپ!
مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج وائٹ ہاؤس میں اپنے عہدہ کا حلف اٹھا کر ریاستہائے متحدہ امریکہ کے پینتالیسویں صدر کی حیثیت سے دورِ صدارت کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کا تعلق ری پبلکن پارٹی سے ہے اور وہ اپنے بعض متنازعہ بیانات کی وجہ سے منصبِ صدارت سنبھالنے سے پہلے ہی دنیا بھر میں مختلف النوع تبصروں اور تجزیوں کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران اپنی انفرادیت کو نمایاں کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ تاثر قائم کرنے میں وہ ایک حد تک کامیاب رہے ہیں کہ ان کا دورِ صدارت امریکہ میں داخلی اور خارجی دونوں حوالوں سے تبدیلیوں کا دور ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فلسطین میں حماس کی حکومت
فلسطین کے حالیہ انتخابات میں حماس نے جو کامیابی حاصل کی ہے اس نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ فلسطین کے عوام آزادی کے لیے جنگ لڑنے والے مجاہدین کے ساتھ ہیں اور اپنے مستقبل کے حوالہ سے انہی پر اعتماد کرتے ہیں۔ مگر امریکہ اور اس کے حواریوں کو حماس کی اس کامیابی پر سخت پریشانی ہے اور وہ فلسطینی عوام کے اس جمہوری فیصلے کا احترام کرنے کی بجائے حماس کی حکومت کو ناکام بنانے کے لیے ابھی سے سرگرم عمل ہوگئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پتنگ بازی اور انسانی جانیں ‒ دینی مدارس میں غیر ملکی طلبہ
روزنامہ پاکستان لاہور ۲۴ فروری ۲۰۰۶ء کی خبر کے مطابق لاہور میں ایک اور دس سالہ بچہ پتنگ بازی کی نذر ہوگیا، تفصیل کے مطابق پیکو روڈ کا دس سالہ بچہ حمزہ اپنے گھر کے باہر کھڑا تھا کہ ایک پتنگ بجلی کی تاروں پر گری، اس کے ساتھ لٹکتی دھاتی تار سے چھو کر بچہ بری طرح جھلس گیا اور تھوڑی دیر کے بعد جاں بحق ہوگیا۔ اس دوران لاہور کے بعض شہریوں نے ایک پریس کانفرنس منعقد کرکے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پتنگ بازی کے دھندے میں ملوث افراد کے لائسنس منسوخ کیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
توہین آمیز خاکوں کی اشاعت سے متعلق چند ضروری باتیں
ڈنمارک کے اخبار جیلنڈر پوسٹن میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے شائع ہونے پر مسلم امہ میں جو اضطراب اور بے چینی پیدا ہوئی ہے وہ دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور احتجاجی مظاہروں کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے- اخباری رپورٹوں کے مطابق اس روزنامہ نے باقاعدہ دعوت دے کر کارٹونسٹوں سے یہ خاکے بنوائے اور انہیں اہتمام کے ساتھ شائع کیا، اس پر ابتدا میں رسمی طور پر مختلف حلقوں کی طرف سے احتجاج ہوا جس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا بلکہ یورپ کے بعض دیگر ملکوں کے اخبارات نے بھی یہ خاکے شائع کرنا شروع کر دیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ملک بھر کے احباب سے ایک ذاتی گزارش
ایک ذاتی نوعیت کے مسئلے کی طرف احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ دینی اجتماعات اور پروگراموں میں حاضری طالب علمی کے دور سے میرا معمول رہی ہے اور ملک کا شاید ہی کوئی حصہ ایسا ہو جہاں میں نے اس سلسلے میں حاضری نہ دی ہو۔ یہ سلسلہ چالیس سال سے زیادہ عرصہ پر محیط ہے لیکن اب یہ معاملہ میری دسترس سے بتدریج نکلتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحفظ ناموس رسالتؐ کے سلسلہ میں اہل علم کی ذمہ داری
جناب سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا ہر پہلو تاریخ کے حوالہ سے اہم اور قیامت تک کے لیے مشعل راہ ہے اسی لیے اس کے تحفظ اور اسے تاریخ کے ریکارڈ میں پوری تفصیل کے ساتھ لانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ لیکن اس میں سب سے زیادہ اہمیت ’’حجۃ الوداع‘‘ کو حاصل ہے اس لیے کہ اس روز جناب نبی اکرمؐ کے اس مشن کی عملی تکمیل ہوئی تھی جس کا اعلان آپؐ نے نبوت ملنے اور پہلی وحی نازل ہونے کے بعد صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر اہل مکہ کے سامنے کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کینیڈا میں خاندانی اسلامی قوانین پر پابندی کا فیصلہ
مدرسہ نصرۃ العلوم کی سالانہ تعطیلات کے دوران حسب معمول بیرونی سفر پر ہوں۔ ۳۰ اگست کو پروگرام کے مطابق مجھے لندن پہنچنا تھا جہاں مانچسٹر میں مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی نے امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کی سیرت وخدمات کے حوالہ سے کانفرنس رکھی ہوئی تھی اور گلاسگو میں بھی ایک کانفرنس کا اہتمام تھا۔ انڈیا سے مولانا مفتی سیف اللہ خالد رحمانی پہنچ چکے تھے، پاکستان سے مجھے شریک ہونا تھا مگر ٹریول ایجنٹ کی غفلت کے باعث آخر وقت تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ ان دنوں فلائٹوں پر بہت رش ہوتا ہے اور میری سیٹ اوکے نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
زلزلہ کی تباہ کاریاں ۔ چند توجہ طلب امور
۸ اکتوبر کے زلزلہ کی شدت اور سنگینی کا اس بات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے اور ملکی و عالمی سطح پر تمام ممکنہ اور میسر وسائل استعمال کیے جانے کے باوجود نہ تو نقصانات کا پورے طور پر تخمینہ لگایا جا سکا ہے، نہ تمام متاثرہ علاقوں تک رسائی ممکن ہو سکی ہے اور نہ ہی ملبہ میں دب جانے والے انسانوں کو زندہ یا مردہ وہاں سے نکال لینے کی کوئی صورت قابل عمل دکھائی دے رہی ہے۔ امدادی کاروائیاں جاری ہیں اور عالمی برادری، مسلم امہ اور پاکستانی قوم کی بھرپور نمائندگی ان امدادی کاروائیوں میں نظر آرہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 72
- 73
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »