پارٹی سسٹم کی بنیاد پر الیکشن کی تجویز
صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک غیر ملکی جریدہ ’’امپیکٹ انٹرنیشنل‘‘ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں افراد کی بجائے جماعتوں کو ووٹ دینے کے سلسلہ میں اظہارِ خیال کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’وہ اس نظام کے حق میں ہیں لیکن جب انہوں نے یہ تجویز سیاستدانوں کو پیش کی تو ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی۔‘‘ ہمارے خیال میں اس تجویز پر سیاستدانوں کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ خود سیاستدان بارہا پارٹی سسٹم کی بنیاد پر انتخابات کرانے کا مطالبہ کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی رکن سازی ملک بھر میں چار ماہ سے جاری ہے جو پروگرام کے مطابق آخر مارچ تک جاری رہے گی اور اس کے بعد عہدہ داروں کے مرحلہ وار انتخابات کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ گزشتہ ادوار کی بہ نسبت اس دفعہ جمعیۃ کی رکن سازی میں عوام کی دلچسپی بہت زیادہ اور حوصلہ افزا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ قومی سیاست میں قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود کا کردار، تحریک نظام مصطفٰیؐ میں جمعیۃ علماء اسلام کے راہنماؤں اور کارکنوں کی قربانیاں، اور جمعیۃ علماء اسلام کی متوازن اور متحرک سیاسی جدوجہد ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کا اجلاس
متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کے زیراہتمام ۸ جون کو دفتر احرار لاہور میں پیر جی سید عطاء المہیمن شاہ بخاری کی زیرصدارت مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور راہنماؤں کا مشترکہ اجلاس ہوا جو نمائندگی کے لحاظ سے بھرپور تھا اور اس میں لاہور میں قادیانی مراکز پر ہونے والے مسلح حملوں سے پیدا شدہ صورتحال کے ساتھ ساتھ میڈیا میں قادیانی مسئلہ کے بارے میں بحث و مباحثہ اور میاں نواز شریف کے حالیہ بیان سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا قاضی بشیر احمد کشمیریؒ، مولانا قاضی عبد الحلیم کلاچویؒ اور قاری سعید احمدؒ
حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کی وفات کے بعد ایک محفل میں ذکر چل پڑا کہ اب ہمارے ملک میں اس کھیپ کے بزرگوں میں سے کون کون موجود ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میری معلومات کے مطابق مولانا محمد یوسف خان آف پلندری آزاد کشمیر اور حضرت مولانا قاضی عبد الکریم کلاچوی اس کھیپ کے آخری دو بزرگ ہیں جو ہمارے لیے برکات اور دعاؤں کا سہارا ہیں۔ ان کے ساتھ حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا عبید اللہ اشرفی، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر، حضرت مولانا صوفی محمد سرور اور حضرت مولانا قاضی عبد اللطیف آف کلاچی کو بھی میں اسی کھیپ کا حصہ سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا عبد القیوم حقانی اور جامعہ ابوہریرہؓ
بعض کام اس قدر اچانک اور غیر متوقع طور پر ہو جاتے ہیں کہ یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس میں ہمارے ارادے کا کوئی دخل نہیں تھا اور کسی نے طے شدہ منصوبے کے تحت وہ کام کروا دیا ہے۔ ۲۱ اکتوبر کو حسن ابدال میں پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس تھا، میرا پروگرام تھا کہ ۲۰ اکتوبر کو رات راولپنڈی یا ٹیکسلا میں گزاروں گا اور ۲۱ اکتوبر کو صبح اجلاس کے لیے مرکز حافظ الحدیث حسن ابدال پہنچ جاؤں گا۔ دو روز قبل نوشہرہ سے مولانا عبد القیوم حقانی کا فون آیا کہ آپ حسن ابدال آرہے ہیں تو رات کو ان کے مدرسے جامعہ ابوہریرہ آجائیں، صبح اکٹھے حسن ابدال چلیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نظامِ مصطفٰیؐ کا نفاذ اور ہماری ذمہ داریاں
کم و بیش دو صدیوں پر محیط مسلسل جدوجہد اور ملتِ اسلامیہ کی پشت ہا پشت کی طویل قربانیوں کے بعد جب امسال ۱۲ ربیع الاول کو صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ملک میں چند اسلامی قوانین کے نفاذ کا اعلان کیا تو ہر محبِ وطن شہری نے اطمینان کا سانس لیا کہ بدیر سہی لیکن بالآخر ہم نے اپنا رخ صحیح منزل کی طرف کر لیا ہے، اب اگر ہم سست روی سے چلے تب بھی کم از کم یہ اطمینان تو ہوگا کہ قوم کی اجتماعی گاڑی کا رخ اس کی اصل منزل کی طرف ہے اور اسے دوسری طرف پھیرا نہیں جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دورِ حاضر کی اہم دینی ضروریات: ایک بیٹی کا خط
میں آپ کا کالم روزنامہ اسلام میں بہت شوق سے پڑھتی ہوں، اللہ پاک نے آپ کو وسیع الظرفی، حقیقت پسندی، جدید حالات کا فہم، مغربی ذہنیت کا ادراک، قدیم مسائل کو جدید حالات پر منطبق کرنا، بے تکلف قوتِ تحریر، طبعیت میں اکابر والی سادگی، سلف صالحین کے اصل مزاج کو باقی رکھتے ہوئے جدید حالات کے تقاضوں کو پورا کرنے کی لگن، جدید طبقات سے قریبی روابط، مغربی دنیا کو بار بار قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کے مواقع، معاصر اہل علم کا اعتماد، تفسیرِ قرآن و علومِ حدیث سے طبعی مناسبت عطا فرمائی ہے۔ اللہم زد فزد ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کچھ نسبتوں کے بارے میں
ان دنوں ملک کے بہت سے دیگر دینی مدارس کی طرح جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں بھی ششماہی امتحان کی تعطیلات ہیں۔ میرا معمول سالہا سال سے یہ تعطیلات برطانیہ میں گزارنے کا رہا ہے لیکن اس بار ویزا کے حصول میں تاخیر کے باعث یہ سفر نہ ہو سکا اور میں اس وقت کراچی میں بیٹھا ہوں۔ اتوار کا دن اسلام آباد میں گزرا، اڈل ٹاؤن ہمک میں ہمارے ایک عزیز فاضل مولانا سید علی محی الدین اپنے بزرگوں کی دینی و روحانی میراث سنبھالے بیٹھے ہیں اور ذوق و حوصلہ کے ساتھ خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
صدر ٹرمپ کا بیان اور امریکی قیادت کی نفسیات
صدر ٹرمپ کے بیان پر پاکستانی قوم نے جس متفقہ موقف اور ردعمل کا اظہار کیا ہے وہ قومی وقار اور حمیت کا ناگزیر تقاضہ ہے اور امریکہ کے لیے واضح پیغام ہے کہ بس! اب بہت ہو چکی ہے اور اس سے آگے کوئی بات قابل برداشت نہیں ہوگی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو ان کے بقول گزشتہ پندرہ سال کے دوران تینتیس ارب ڈالر دیے ہیں لیکن پاکستان نے دوغلے پن سے کام لیا ہے اور امریکہ کی توقعات کو پورا کرنے کی بجائے جھوٹ اور فریب کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لاہور کا اجتماع اور علماء دیوبند کا مشترکہ موقف
ایک مدت کے بعد دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے سرکردہ علماء کرام کا ایک نمائندہ اجتماع جامعہ اشرفیہ لاہور میں ۱۵ اپریل جمعرات کو منعقد ہوا جس کی صدارت وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سربراہ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم نے فرمائی اور ملک بھر سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ علماء کرام نے شرکت کی۔ اس سے قبل پندرہ بیس کے لگ بھگ سرکردہ اہل علم نے جامعہ اشرفیہ میں ہی مسلسل مشاورت کی جو دو روز تک جاری رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تبلیغی جماعت کے اہداف: بانیٔ جماعت کے ملفوظات کی روشنی میں
تبلیغی جماعت کی جدوجہد اصولی طور پر مسلمانوں کو دین کے عملی ماحول کی طرف واپس لانے، مسجدوں کو آباد کرنے اور عام مسلمانوں میں دین کی تعلیم اور دینی اعمال پر عمل کا ذوق بیدار کرنے کی تحریک ہے۔ تبلیغی جماعت کے اہل دانش کا کہنا ہے کہ جب عام مسلمانوں میں دین پر عمل کا ماحول عام ہوگا، مسجدیں آباد ہوں گی، قرآن و سنت کی تعلیم کا فروغ ہوگا اور امت مسلمہ مجموعی طور پر دینی ماحول کی طرف واپس آجائے گی تو اس سے دو بڑے فائدے ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علماء کرام کا تاریخ ساز سہ روزہ اجتماع
گزشتہ ہفتے کے دوران جامعہ اشرفیہ لاہور میں منعقد ہونے والے اکابر علماء کرام کے سہ روزہ اجتماع کے بارے میں مجموعی طور پر بہت اچھے تاثرات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ملک بھر میں دیوبندی علماء اور کارکنوں کو اس بات سے حوصلہ ملا ہے کہ ہمارے بزرگ مل بیٹھے ہیں، پیش آمدہ مسائل پر انہوں نے کھلے دل کے ساتھ باہمی گفتگو کی ہے، گلے شکوے بھی ہوئے ہیں، بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا ہے اور مل جل کر چلنے کے عزم کے اظہار کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً اس قسم کی اجتماعی مشاورت جاری رکھنے کا اعلان ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
رائے ونڈ کا تبلیغی اجتماع ۲۰۰۸ء
رائے ونڈ کے عالمی تبلیغی اجتماع کے حوالہ سے میرا معمول یہ چلا آرہا ہے کہ اجتماع کے دوسرے روز یعنی ہفتہ کے دن حاضری دیتا ہوں اس طور پر کہ صبح گوجرانوالہ سے روانہ ہوتا ہوں اور مغرب رائے ونڈ میں پڑھ کر واپسی کرتا ہوں۔ مگر اس سال یہ معمول تبدیل کرنا پڑا اس لیے کہ گوجرانوالہ میں جمعیۃ علماء اسلام سے قدیمی تعلق رکھنے والے ایک خاندان میں اس روز ایک نوجوان کی شادی تھی اور ان کا اصرار تھا کہ نکاح بہرحال میں ہی پڑھاؤں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسجد حرام میں شیخ عبد الرحمان السدیس کا فکر انگیز خطبہ
۱۷ ستمبر ۲۰۰۴ء کو جمعۃ المبارک کی نماز مسجد حرام میں ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی، جدہ میں مقیم میرے ہم زلف قاری محمد اسلم شہزاد بھی ہمراہ تھے۔ ہم ساڑھے گیارہ بجے کے لگ بھگ مسجد میں داخل ہوئے تو نمازیوں کے ہجوم کے باعث مسجد اپنی تمام تر وسعت کے باوجود تنگ دامنی کی شکایت کر رہی تھی۔ ہر طرف سے لوگ امڈے چلے آرہے تھے حالانکہ نہ حج کا موقع تھا اور نہ ہی رمضان المبارک کا۔ یعنی معروف معنوں میں سیزن نہیں تھا مگر اس کے باوجود نمازیوں کا ہجوم دیدنی تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ختم نبوت کانفرنس کیپ ٹاؤن پر ایک نظر
جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن کے سٹی کونسل ہال میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ اور جنوبی افریقہ کی مسلم جوڈیشیل کونسل کے زیراہتمام منعقد ہونے والی تین روزہ ’’سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس‘‘ بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔ یہ کانفرنس ۳۱ اکتوبر تا ۲ نومبر منعقد ہوئی اور اس میں جنوبی افریقہ اور دیگر افریقی ممالک سے شریک ہونے والے سینکڑوں علماء کرام اور دینی راہنماؤں نے براعظم افریقہ میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے عقیدۂ ختم نبوت اور نئی نسل کے ایمان و عقیدہ کے تحفظ کے لیے جدوجہد کو نئے عزم کے ساتھ منظم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسلم خواتین کی دینی اور معاشرتی ذمہ داریاں
مرد اور عورت انسانی معاشرت اور سوسائٹی کا لازمی حصہ ہیں اور معاشرہ کی ترقی اور بقا کا دونوں پر مدار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کی جسمانی ساخت اور نفسیات میں کچھ فرق رکھا ہے اور اس کے مطابق ذمہ داریوں اور فرائض کی تقسیم کی ہے۔ کچھ کام ایسے ہیں جو مرد کے کرنے کے ہیں عورت وہ کام نہیں کر سکتی، اور کچھ کام عورت کے کرنے کے ہیں مرد ان کاموں کو سرانجام نہیں دے سکتا۔ اس فرق اور تقسیم کار پر انسانی سوسائٹی کی فلاح و ترقی کا مدار ہے اور اسلام نے اسی کے مطابق دونوں کی معاشرتی ذمہ داریوں کا تعین کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کا اجلاس
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس ۱۲ نومبر بدھ کو صبح گیارہ بجے دفتر وفاق ملتان میں صدر وفاق شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم کی زیرصدارت منعقد ہوا جو نماز اور کھانے کے وقفے کے ساتھ رات سات بجے تک جاری رہا۔ جبکہ اجلاس کی ایک نشست کی صدارت نائب صدر وفاق حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر دامت برکاتہم نے فرمائی۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں دینی مدارس کے عمومی معاملات کے ساتھ ساتھ نصابات اور امتحانات کے حوالہ سے مختلف امور کا جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دارالعلوم کراچی کا تدوینِ حدیث منصوبہ / عصرِ حاضر کے چیلنج اور ہماری ذمہ داریاں
۸ دسمبر کو دو روز کے لیے کراچی حاضری کا اتفاق ہوا، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے ایک سیمینار کے لیے بطور خاص دعوت دی جو ’’عصرِ حاضر کے چیلنج اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر آواری ٹاورز میں منعقد ہو رہا تھا۔ اس سیمینار کا اہتمام انٹرنیشنل اسلامک سنٹر جوہر ٹاؤن لاہور نے دارالعلم والتحقیق برائے اعلیٰ تعلیم و ٹیکنالوجی کراچی کے تعاون سے کیا۔ یہ سیمینار ۸ اور ۹ دسمبر دو دن جاری رہا۔ انٹرنیشنل اسلامک سنٹر کے نام سے جامعہ خیر المدارس ملتان نے جوہر ٹاؤن لاہور میں ایک ادارہ قائم کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ: الشریعہ اکادمی کا تعزیتی ریفرنس
۲۷ مئی کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا جس کی صدارت مولانا مشتاق احمد چنیوٹی نے کی اور اس میں مولانا موصوف کے علاوہ راقم الحروف اور عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ نے حضرت کو خراج عقیدت پیش کیا جبکہ اکادمی کے اساتذہ، طلبہ اور معاونین کے ساتھ ساتھ شہر کے بہت سے علماء کرام اور اہل دانش نے بھی شرکت کی۔ مولانا مشتاق احمد چنیوٹی نے اپنے استاذ محترم کے ساتھ دورِ طالب علمی سے وابستہ یادوں کا تذکرہ کیا اور عقیدت کے پھول نچھاور کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خصوصی اشاعت ماہنامہ الشریعہ ’’بیاد امام اہل سنتؒ‘‘ کی تقریب رونمائی
اکتوبر ۲۰۰۹ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ماہنامہ الشریعہ کی خصوصی اشاعت بیاد امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی جس میں نقابت کے فرائض اکادمی کے شعبہ تصنیف و تالیف کے رکن مولانا حافظ محمد یوسف نے انجام دیے جبکہ مختلف اہل علم نے اپنے تاثرات و احساسات کا اظہار کیا۔ الشریعہ اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور خصوصی اشاعت کے مرتب محمد عمار خان ناصر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ حضرت کی ذات سے اور ان کی خدمات سے جو فیضان دنیا میں پھیلا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
گوجرانوالہ: تعمیراتی کام اور لوگوں کے تحفظات
گوجرانوالہ شہر میں مین روڈ پر اقبال ہائی اسکول سے شیرانوالہ باغ تک اوورہیڈ برج کی تعمیر کے مجوزہ منصوبے پر کام کے آغاز کی تیاری ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی عوامی حلقوں میں اس منصوبے کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر بحث و مباحثے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ آج کے اخبارات میں منصوبے کے بارے میں ڈی سی او جناب محمد امین چودھری کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس کے فیصلوں کی کچھ تفصیلات شائع ہوئی ہیں اور اس پر بعض تاجر رہنماؤں کی طرف سے ہنگامی پریس کانفرنس میں بیان کیے گئے ردعمل کا تذکرہ بھی خبروں میں موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بنوں میں ایک دن
طویل عرصہ کے بعد ۲۵ مارچ کو ایک دن کے لیے بنوں جانے کا موقع ملا۔ ایک دور میں بنوں کافی آنا جانا رہا ہے، حضرت مولانا صدر الشہیدؒ بنوں سے قومی اسمبلی کے رکن تھے اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے قریبی رفقاء میں ان کا شمار ہوتا تھا، میری بھی ان سے نیاز مندی رہی ہے اور ان کے ہاں مدرسہ معراج العلوم میں کئی بار حاضری ہوئی مگر بنوں میں میرا اصل ٹھکانہ منڈی نیل گراں کی مسجد حق نواز خان تھی جہاں ہمارے پرانے دوست اور جماعتی ساتھی مولانا قاری حضرت گلؒ امام و خطیب تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سید نور بخش اور ان کی تعلیمات
چند ہفتے قبل بلتستان کے سفر کے حوالہ سے کچھ مشاہدات و تاثرات ایک دو کالموں میں پیش کر چکا ہوں، ان کے ساتھ میں نے وعدہ کیا تھا کہ نور بخشیہ فرقہ کے بارے میں معروضات کسی مستقل کالم میں پیش کروں گا، اس پس منظر میں یہ سطور سپردِ قلم کر رہا ہوں۔ اس فرقہ کے بانی سید نور بخش قہستانی بتائے جاتے ہیں جو نویں صدی ہجری میں گزرے ہیں اور ان کا سن وفات ان کی اپنی کتاب ’’الفقہ الاحوط‘‘ کے مترجم جناب محمد بشیر نے ۸۴۹ھ لکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بین المذاہب مکالمہ کی ضرورت / مسلم مسیحی کشمکش کا نقطۂ آغاز
انٹرفیتھ ڈائیلاگ یعنی بین المذاہب مکالمہ اس وقت کے اہم عالمی موضوعات میں سے ہے جس پر دنیا کے مختلف اداروں اور فورموں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ ہر جگہ اس کے مقاصد مختلف ہیں لیکن مذاہب کے مابین مشترکات تلاش کرنے اور مذہب کے معاشرتی کردار کی حدود طے کرنے کا معاملہ کسی حد تک قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتا ہے اور ہر سطح پر اربابِ فکر و دانش اس سلسلہ میں اظہارِ خیال کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مذہب کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر
مطالعۂ مذاہب کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے ہمیں سب سے پہلے اس بات کو دیکھنا ہے کہ ہم جس ماحول اور تناظر میں بات کر رہے ہیں اس میں مذہب اور دین کے بارے میں کیا سمجھا جا رہا ہے اور اس کے حوالہ سے لوگوں کے نظریات و افکار کیا ہیں؟ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کا اولین خطاب چونکہ عرب سوسائٹی سے تھا اور ان مذاہب و ادیان کے ساتھ ان کا مکالمہ تھا جس سے اسے سابقہ درپیش تھا اس لیے قرآن کریم نے عام طور پر یہود و نصاریٰ، مشرکین اور صابئین وغیرہ کو سامنے رکھ کر عقائد میں مجادلہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان نعت کونسل کے زیر اہتمام ’’نعت کانفرنس‘‘ میں شرکت
سورج اور چاند دونوں اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور ہمارے لیے بڑی نعمتیں ہیں جن سے ہم باقی بہت سے فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دنوں اور اوقات کا حساب بھی طے کرتے ہیں۔ شریعتِ اسلامیہ کے احکام میں دونوں کا اعتبار کیا جاتا ہے چنانچہ رمضان المبارک، عیدین، لیلۃ القدر، یوم عرفہ اور دیگر ایام کا تعین چاند کے حساب سے ہوتا ہے جبکہ نماز، روزہ اور مناسکِ حج کے اوقات سورج کی گردش کے حساب سے طے پاتے ہیں۔ شمسی سال کا موجودہ حساب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے شروع ہوتا ہے اور ’’عیسوی‘‘ اور ’’میلادی‘‘ کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں ٹی ہاؤس کا قیام
شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور کی بارہ دری دوبارہ تعمیر کی جا رہی ہے اور اس سلسلہ میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریٹر قلعہ دیدار سنگھ محمد اسلم قمر کے حوالے سے یہ خبر مقامی اخبارات کی زینت بنی ہے کہ بارہ دری کو اصلی حالت میں دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے محکمہ آثار قدیمہ سے قدیمی نقشہ منگوا لیا گیا ہے۔ شیرانوالہ باغ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن قلعہ دیدار سنگھ کی حدود میں واقع ہے اور یہ بارہ دری بھی اس میں شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فتح مباہلہ کانفرنس
میں جب ’’فتح مباہلہ کانفرنس‘‘ میں شرکت کے لیے ایوانِ اقبال کے ہال میں داخل ہوا تو سابق صدر پاکستان محترم جناب محمد رفیق تارڑ کانفرنس سے خطاب جبکہ انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سربراہ مولانا عبد الحفیظ مکی صدارت کر رہے تھے، ان کے ساتھ مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج، مولانا محمد زاہد قاسمی، مولانا محمد یوسف قریشی، مولانا محمد الیاس چنیوٹی اور دیگر حضرات اسٹیج پر موجود تھے۔ فتح مباہلہ کانفرنس کے عنوان سے یہ کانفرنس ہر سال ۲۶ فروری کو چنیوٹ میں ہوا کرتی ہے اور کم و بیش ہر سال مجھے اس میں شرکت کا موقع ملتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جنوبی افریقہ میں چند روز
جنوبی افریقہ میں کیپ ٹاؤن کی عالمی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان سے جانے والے حضرات میں (۱) علامہ ڈاکٹر خالد محمود (۲) مولانا محمد الیاس چنیوٹی (۳) مولانا محمد احمد لدھیانوی (۴) صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی (۵) مولانا مفتی شاہد محمود (۶) مولانا راشد فاروقی اور (۷) راقم الحروف شامل تھے۔ راشد فاروقی تو لیٹ ہوجانے کی وجہ سے کراچی سے فلائٹ نہ پکڑ سکے اور اگلے روز پہنچے جبکہ باقی ہم چھ حضرات ۳۰ اکتوبر کو کراچی سے امارات ایئرلائنز کے ذریعے دبئی اور پھر وہاں سے کم و بیش آٹھ گھنٹے کا فضائی سفر کرتے ہوئے اسی ایئرلائن سے جوہانسبرگ پہنچے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیلاب کی تباہ کاری اور بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی کی تشویش
دینی مدارس میں شعبان اور رمضان المبارک کے دوران تعطیلات ہوتی ہیں اور میرے پاس اسی دوران بیرونی سفر کی گنجائش ہوتی ہے۔ بیرون ملک بھی سرگرمیاں وہی ہوتی ہیں جو ملک میں باقی سارا سال رہتی ہیں۔ دینی مدارس کے پروگراموں میں حاضری، تعلیمی مشاورت کی مجالس میں شرکت اور مساجد میں جمعۃ المبارک کے خطبات اور دروس وغیرہ۔ البتہ حاضری کا دائرہ کچھ وسیع ہو جاتا ہے کہ پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ انڈیا اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے وہ حضرات بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں جو اردو بولتے اور سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 91
- 92
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »