مصر میں مساجد پر سرکاری کنٹرول کا نیا قانون

برادر مسلم ملک ’’عرب جمہوریہ مصر‘‘ میں ان دنوں مساجد پر سرکاری کنٹرول کے سلسلہ میں حکومت اور مذہبی حلقوں کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ ہفت روزہ ’’العالم الاسلامی‘‘ مکہ مکرمہ نے ۶ جنوری ۱۹۹۷ء کی اشاعت میں اس سلسلہ میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مصری پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۱۹۹۷ء

الجزائر: سرکاری ریفرنڈم اور اسلامی نظام کا مستقبل

برادر مسلم ملک الجزائر کی حکومت نے گزشتہ ماہ کے اواخر میں ایک ریفرنڈم کا اہتمام کیا جس کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ عوام نے اس ریفرنڈم میں حکومت کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے اسلامی بنیاد پرستوں کو مسترد کر دیا ہے۔ چنانچہ اس ریفرنڈم کے بعد دستوری طور پر یہ پابندی عائد کر دی گئی ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۷ء

میاں محمد نواز شریف اور اسلام کی تشریح کا حق

روزنامہ جنگ لاہور ۲۰ دسمبر ۱۹۹۶ء کی ایک خبر کے مطابق پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے اپنی جماعت کے انتخابی امیدواروں کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سیاسی اسلامی ٹھیکیداروں کے اسلام کے حق میں نہیں، کیونکہ ان کے نزدیک اسلام کا نفاذ مخلوق کی خدمت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۷ء

مجلسِ شوریٰ میں غیر مسلموں کی نمائندگی

حضرت مولانا قاضی عبد الکریم صاحب آف کلاچی پاکستان کے بزرگ علماء میں سے ہیں اور اہم دینی و قومی مسائل پر ان کے وقیع مضامین مختلف جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے وہ ایک مسئلہ پر تسلسل کے ساتھ اظہارِ خیال کر رہے ہیں کہ کسی مسلمان ملک کی پارلیمنٹ میں غیر مسلموں کی نمائندگی کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۷ء

کلیدی عہدوں پر قادیانیوں کی واپسی کا مسئلہ

سندھ کی صوبائی نگران حکومت میں قادیانی وزیر کنور ادریس کی شمولیت پر دینی حلقوں کا احتجاج مسلسل جاری ہے اور لاہور ہائیکورٹ میں قادیانی ججوں کے تقرر کا مسئلہ بھی اس احتجاج میں شامل ہو گیا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک وفد نے گزشتہ روز صدر مملکت سردار فاروق احمد لغاری سے ملاقات کر کے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۷ء

برطانیہ میں لڑکیوں کیلئے الگ سکول

برطانیہ کے دوسرے بڑے شہر برمنگھم میں پاکستانیوں کی بڑی آبادی کے علاقہ الم راک میں ایک اسکول کو صرف لڑکیوں کے لیے مخصوص کر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور روزنامہ جنگ لندن ۱۴ نومبر کی ایک خبر کے مطابق اس سلسلہ میں برمنگھم سٹی کونسل کی ایجوکیشن کمیٹی نے منظوری دے دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۶ء

شیخ التفسیر حضرت احمد علی لاہوریؒ: حیات و خدمات

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ ایک نو مسلم خاندان کے فرد تھے۔ ان کے والد محترم جو گکھڑ منڈی کے قریب بستی جلال کے رہنے والے تھے،سکھ مذہب سے مسلمان ہوئے تھے، اور اللہ رب العزت نے ان کو یہ مقام عطا فرمایا کہ ان کے بیٹے مولانا احمد علی لاہوریؒ کا شمار برصغیر کے چوٹی کے علماء اور اہل اللہ میں ہوتا ہے۔ حضرت لاہوریؒ نے قرآن کریم کی ابتدائی تعلیم مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں حضرت باواجی عبد الحقؒ سے حاصل کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اکتوبر ۲۰۲۳ء

برطانیہ کی مردم شماری کے فارم میں مذہب کا خانہ

روزنامہ جنگ لندن ۱۴ نومبر ۱۹۹۶ء کی ایک خبر کے مطابق برطانوی حکومت نے ملک میں مردم شماری کے لیے، جو ۲۰۰۱ء میں ہو رہی ہے، مردم شماری کے فارم میں مذہب کے خانے کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسے لازمی خانہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں درج سوال کا جواب دینا ہر شخص کے لیے ضروری ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر۱۹۹۶ء

’’الرابطۃ الاسلامیۃ العالمیۃ‘‘ : دینی تحریکات کے درمیان مفاہمت کی جدوجہد

گزشتہ دنوں لندن میں پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، شام اور الجزائر کی دینی تحریکات کے نمائندوں کا ایک اجلاس ہوا جس میں شریک ہونے والوں میں ڈاکٹر محمد المسعدی (سعودی عرب)، الشیخ عمر بکری محمد (شام)، الشیخ محمد عبد اللہ مسعی (الجزائر)، قاضی صادق الوعد (افغانستان)، اور مولانا محمد عیسٰی منصوری (برطانیہ) بطور خاص قابلِ ذکر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۶ء

مسلم ممالک کی باہمی تجارت کیلئے الگ کرنسی کا منصوبہ

روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ اگست ۲۰۰۲ء کی ایک خبر کے مطابق ’’اسلامی ممالک نے باہمی تجارت ڈالر یا دیگر عالمی کرنسیوں میں کرنے کی بجائے گولڈ میں کرنے کے پلان پر کام شروع کر دیا ہے۔ یہ پلان ملائیشیا کی تجویز پر پیش کیا گیا ہے اور اس پر عملدرآمد سال ۲۰۰۳ء میں ہو گا۔ یہ تجارت ایک نئے سسٹم پر ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter