سودی نظام کے خاتمہ کیلئے مزید ایک سال کی مہلت
سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت ایپلٹ بینچ نے حکومتِ پاکستان اور یونائیٹڈ بینک کی درخواست پر سودی نظام کے تسلسل کو ایک سال مزید جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ وزارتِ خزانہ نے اس موقع پر یہ موقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ۳۰ جون ۲۰۰۱ء تک سودی نظام ختم کرنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سودی نظام کے خاتمہ کی ڈیڈ لائن اور دینی راہنماؤں کے مطالبات
ملک سے سودی نظام کے خاتمہ کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے ڈیڈلائن کی تاریخ ۳۰ جون ۲۰۰۱ء جوں جوں قریب آ رہی ہے اس حوالہ سے مختلف اطراف سے بیانات کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ملک میں رائج تمام سودی قوانین کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ ۳۰ جون ۲۰۰۱ء تک ان قوانین کے خاتمہ اور یکم جولائی سے اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر غیر سودی مالیاتی نظام کے مکمل تحریر
عالمی مالیاتی اداروں کے اہداف اور آسٹریلوی راہنماؤں کی یاددہانی
روزنامہ جنگ کراچی ۲۰ نومبر ۲۰۰۰ء کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کی ڈیموکریٹک سوشلسٹ پارٹی کی راہنما مس سوبل اور مزدور راہنما ٹم گڈن نے لاہور پریس کلب کے پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے جو قرضے ملتے ہیں ان کے ایک ڈالر کے گیارہ ڈالر واپس کرنا پڑے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سودی نظام کے خاتمہ کا فیصلہ: سرکاری اعلانات اور حکومت کی نئی مالیاتی اسکیم
روزنامہ جنگ لاہور ۲۱ جون ۲۰۰۰ء کی ایک خبر کے مطابق دارالعلوم کراچی کے صدر مہتمم مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے اس امر پر تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے کہ حکومت ایک طرف سودی قوانین کے خاتمہ کی بات کر رہی ہے مگر دوسری طرف حکومت کی طرف سے جن نئی مالیاتی اسکیموں کا اعلان کیا گیا ان میں سود پر مبنی اسکیم بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
غریب ممالک کیلئے عالمی قرضوں سے نکلنے کا راستہ
روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۱۳ اپریل ۲۰۰۰ء کے مطابق امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے خلاف گزشتہ روز ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین نے زنجیریں پکڑ رکھی تھیں جو اس بات کو ظاہر کر رہے تھے کہ چھوٹے ممالک آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا مالیاتی کمیشن
روزنامہ نوائے وقت کے مدیر محترم نے ۲۵ جنوری ۲۰۰۰ء کے ایک ادارتی شذرہ میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کی ہدایت پر ملک کے مالیاتی نظام کو سودی اثرات سے نجات دلانے اور اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جس مالیاتی کمیشن کا اعلان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سودی نظام اور سپریم کورٹ کا فیصلہ
روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۲۲ جنوری ۲۰۰۰ء نے این این آئی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ملک میں سودی نظام کے خاتمہ کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت ایپلٹ بینچ نے گزشتہ دنوں جو تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے، اس کے خلاف اپیل کے لیے صرف دو دن کی میعاد باقی رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سودی نظام، وفاقی شرعی عدالت اور حکومتِ پاکستان
حکومتِ پاکستان نے وفاقی شرعی عدالت میں ایک نئی درخواست دائر کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے چند سال قبل سودی نظام کو غیر شرعی قرار دینے کا جو فیصلہ دیا تھا اس پر نظرثانی کی جائے۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور نے اس درخواست کی جو تفصیلات ۱۴ فروری ۱۹۹۹ء کی اشاعت میں پیش کی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
غیر سودی نظام اور ہمارے معاشی ماہرین
روزنامہ جنگ لاہور نے ۱۷ اپریل ۱۹۸۹ء کے شمارے میں خبر دی ہے کہ ملکی اور غیر ملکی بینکوں کے ماہرین نے مالیاتی اداروں اور بینکوں میں سود کا نظام ختم کرنے کو ناقابلِ عمل قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے بینکنگ سسٹم خطرہ میں پڑ جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حسبہ ایکٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل
ایک اخباری رپورٹ کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے صوبہ سرحد کی حکومت کی طرف سے پیش کیے جانے والے ’’حسبہ ایکٹ‘‘ کو یہ کہہ کر ناقابلِ عمل قرار دے دیا ہے کہ اس سے ایک متوازی سسٹم وجود میں آجائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 112
- 113
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »