حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ کا تاریخ میں تعارف دو حوالوں سے ہے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد مذہبی حلقوں کی جو نئی تقسیم ہوئی تھی اس میں دیوبندی مکتبۂ فکر کا بانی اور نقطۂ آغاز کہا جاتا ہے۔ ۱۸۵۷ء اور یعنی ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور سے پہلے ہمارے ہاں مسلم معاشرے میں جو مذہبی دائرہ بندی تھی اس کے عنوانات اور تھے، ۱۸۵۷ء کے بعد جہاں اور بہت سی باتیں تبدیل ہوئیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’اثمھما اکبر من نفعھما‘‘
’’مرکز الاقتصاد الاسلامی‘‘ اور ’’وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان‘‘ کا شکرگزار ہوں کہ ایک اہم ترین قومی و دینی مسئلہ پر تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام اور تاجر طبقہ کے راہنماؤں کے اس اجتماع کا اہتمام کیا، بالخصوص شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم اور ان کے رفقاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر سے نوازیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سر سید احمد خان اور قائد اعظم کے کیمپ سے ایک گزارش
قائد اعظم ہمارے قومی لیڈر اور ہمارے محسن تھے، آپ پاکستان کے بانی ہیں، پاکستان کے لیے ان کی خدمات ہیں۔ آج مجھے کہا گیا کہ اس وقت ملتِ اسلامیہ کو جو چیلنجز درپیش ہیں اور مسلم دنیا کو جس صورتحال کا سامنا ہے اس پر بات کروں تو میرا جی چاہ رہا ہے کہ قائد اعظم کے حوالے سے ہی بات کروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جمعۃ المبارک ۲۵ نومبر ۔ یومِ انسدادِ سود
قرآن مجید نے صراحت کے ساتھ سود کے کاروبار کو اللہ اور رسول کے ساتھ جنگ قرار دیا ہے اور واضح حکم دیا ہے کہ سودی کاروبار چھوڑ دو۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سودی نظام ختم کیا تھا اور خلافت راشدہ، خلافت بنو امیہ، خلافت عباسیہ اور خلافت عثمانیہ کے ادوار میں ہماری معیشت میں سود کا کوئی شائبہ نہیں تھا۔ سود کا نظام مغرب نے شروع کیا اور چلتے چلتے جب ہم پر غیر مسلم حکومتیں آئیں تو ہمارا نظام بھی سودی ہوتا چلا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانیؒ
حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی رحمہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے رخصت ہو گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کچھ عرصہ قبل کراچی حاضری کے دوران ان کی بیمارپرسی کا موقع ملا تو والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا آخری دور یا دآ گیا، انہوں نے بھی ضعف و علالت کا خاصا عرصہ بسترِ علالت پر گزارا تھا اور میں ساتھیوں سے کہا کرتا تھا کہ یہ ’’من بعد قوۃ ضعفاً و شیبۃ‘‘ کا اظہار ہے کہ جس بزرگ کے ساتھ ان مکمل تحریر
سودی نظام سے نجات کی نوید
گزشتہ دنوں ہمارے ملک کے وزیرخزانہ جناب اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے سودی نظام کو ختم کرنے اور غیر سودی معیشت کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے، اور وفاقی شرعی عدالت نے رمضان المبارک میں جو فیصلہ کیا تھا کہ سودی نظام ختم کرو اور شریعت کا نظام نافذ کرو، اس پر مقرر کردہ مدت کے اندر عملدرآمد کا ہم نے پروگرام بنا لیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جو اپیلیں دائر کی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
رائے ونڈ کے سالانہ تبلیغی اجتماع میں مختصر حاضری
مولانا محمد ابراہیم دیولا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی شکرگزاری پر گفتگو فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ بہت قدردان ہیں کہ اعمالِ خیر کے ساتھ ساتھ ان کے اسباب اختیار کرنے پر بھی اجر عطا فرماتے ہیں۔ مثلاً نماز عبادت ہے مگر نماز سے متعلقہ ہر عمل پر ثواب ملتا ہے حتٰی کہ نماز کے لیے مسجد میں جانے پر قدم بھی شمارے ہوتے ہیں اور ہر قدم پر اللہ تعالیٰ اجر عطا فرماتے ہیں۔ اسی طرح خیر کا جو عمل بھی آپ کریں اور اس کے لیے جو اسباب بھی اختیار کریں ۔۔۔ مکمل تحریر
قومی خلفشار کے اسباب کا جائزہ لینے کی ضرورت
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ احد کے موقع پر پریشان کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کا ذکر قرآن کریم میں تفصیل کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جنگ کے ابتدائی مراحل میں مسلمانوں کی فتح اور پیش قدمی کے حالات پیدا ہو گئے تھے مگر اچانک پانسہ پلٹ گیا اور وقتی پسپائی کے ساتھ بہت نقصان کا سامنا کرنا پڑا، مسلمان لشکر کچھ دیر کے لیے تتربتر ہو گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسلم امت کا معاشرتی مزاج
جمعیت اہلسنت والجماعت ہمارے شہر کے علماء کرام کی ایک جماعت ہے جس کے تحت ہم وقتاً فوقتاً دینی کاموں کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر کام کرتے ہیں۔ تعلیمی، اصلاحی، مسلکی، دعوتی اور اس کے ساتھ رفاہی کام بھی مل جل کر کرتے رہتے ہیں۔ کافی عرصے سے یہ جماعت کام کر رہی ہے، حالیہ سیلاب کا مرحلہ آیا تو ہم نے مشاورت کی کہ اس محاذ پر بھی کردار ادا کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
معاشرہ کے ضرورت مندوں کی خبرگیری
آج کا یہ پروگرام جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ گوجرانوالہ کی طرف سے درسِ قرآن کریم کے عنوان سے ہے جبکہ اس کے اشتہار میں سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کے لیے جمعیت اہل سنت کی سرگرمیوں کا بھی ذکر ہے اس لیے اس حوالہ سے کچھ گزارشات پیش کروں گا کہ جب معاشرہ میں کچھ لوگ کسی اجتماعی آزمائش کا شکار ہو کر بے سہارا ہو جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 124
- 125
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »