قومی و دینی خودمختاری کی جدوجہد اور علماء کرام

میں تاریخ اور سیاست کے طالب علم کے طور پر خود کو اس زمانہ میں محسوس کر رہا ہوں جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال، میسور اور دیگر علاقوں پر قبضہ کے بعد دہلی کی طرف پیش قدمی شروع کی تو مغل بادشاہت کا منصب شاہ عالم ثانی کے پاس تھا۔ اور مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے شاہ عالم ثانی نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ یہ معاہدہ کر لیا تھا کہ بادشاہت کا ٹائٹل تو اسی کے پاس رہے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جولائی ۲۰۲۲ء

مسجد کے اعمال کو زندہ کرنے کی ضرورت

بعد الحمد والصلوٰۃ! میں سب سے پہلے اس مسجد کی تعمیر پر آپ حضرات کو مبارکباد دینا چاہوں گا، اس کے سنگ بنیاد کی تقریب میں بھی حاضری ہوئی تھی اور آج تین منزلہ شاندار عمارت دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ بنانے والوں، تعاون کرنے والوں اور اہلِ علاقہ سب کے لیے اس کارِ خیر کو دنیا و آخرت کی کامیابیوں کا ذریعہ بنائیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جون ۲۰۲۲ء

سودی نظام سے نجات کی جدوجہد ہماری قومی ضرورت

۲۶ جون کو جامعہ نصرۃ العلوم میں اسباق سے فارغ ہوا تو دورۂ حدیث کے چند طلبہ نے گھیر لیا اور ایک عزیز شاگرد نے ہمدردی اور افسوس کے لہجے میں کہا، استاذ جی! آپ کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا گیا ہے۔ میں نے پوچھا کیا ہوا؟ اس نے کہا سود کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جولائی ۲۰۲۲ء

مغربی یلغار اور اسلامی تحریکیں

پاکستان میں شریعتِ اسلامیہ کی بالادستی کی جنگ اسلام آباد میں نہیں بلکہ واشنگٹن، نیویارک، جنیوا اور لندن میں لڑی جا رہی ہے اور مغربی لابیاں اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قراردادوں کی آڑ میں ’’انسانی حقوق‘‘ کے ہتھیاروں کے ساتھ اسلامی نظامِ حیات پر حملہ آور ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۴ء

نفاذِ اسلام کی جدوجہد کی معروضی صورتحال پر ایک نظر

قیامِ پاکستان کے وقت جو نظام ہمیں ورثے میں ملا تھا وہ قطعی طور پر ناکام ہو گیا ہے اور ہمارے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید الجھتے جا رہے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ نظام کی تبدیلی کے لیے سنجیدگی کے ساتھ محنت کی جائے۔ نظام کی تبدیلی کی بات ملک کے تمام سیاسی حلقے کر تے ہیں اور اس پر تمام حلقوں کا اتفاق پایا جاتا ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہو گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جون ۲۰۲۲ء

برصغیر پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے معاشی تسلط کی ایک جھلک

جنوبی ایشیا میں ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ نے اپنے تسلط کا بنیادی ذریعہ معیشت میں دخل اندازی کو بنایا تھا جو دھیرے دھیرے کنٹرول کی صورت اختیار کر گئی اور پھر پورا برصغیر بتدریج ایسٹ انڈیا کمپنی کی غلامی میں چلا گیا۔ اس کی ایک جھلک پنجاب یونیورسٹی کے ’’دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ نے مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی مرحوم کے تذکرہ میں اس طرح پیش کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جون ۲۰۲۲ء

دستور کی نظرِثانی ۔ پاکستان کے دینی و سیاسی راہنماؤں کے نام ایک اہم مراسلہ

بگرامی خدمت، زید مجدکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ مزاج گرامی؟ گزارش ہے کہ روزنامہ جنگ لندن ۲۴ اگست ۱۹۹۴ء کی ایک خبر کے مطابق پاکستان کی قومی اسمبلی نے ملک کے دستور پر نظرثانی کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں آنجناب کی توجہ اس پہلو کی طرف مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۴ء

انسانی اقدار اور مغربی اقدار

جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ِطیبہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے اور انسانی معاشرہ بالآخر رسول اکرمؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی امن و فلاح کی منزل حاصل کرے گا۔ محبتِ رسولؐ پر مسلمانوں کے ایمان کی بنیاد ہے، جس کے بغیر کوئی شخص مومن کہلانے کا حقدار نہیں ہو سکتا۔ لیکن محبتِ رسولؐ کی بنیاد اطاعت اور اتباع ہے کیونکہ محبوب کے احکام کی تعمیل کے بغیر مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۴ء

علومِ دینیہ کی ترویج میں خواتین کا کردار

بعد الحمد والصلوٰۃ! یہ مدرسہ ہمارے محترم دوست اور بزرگ ساتھی حضرت مولانا حافظ مہر محمد صاحبؒ کی یادگار اور ان کا صدقہ جاریہ ہے۔ ہم جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کئی برس اکٹھے پڑھتے رہے ہیں، وہ مجھ سے سینئر تھے اور دو تین سال پہلے فارغ ہوئے تھے، البتہ ترجمہ قرآن کریم کی کلاس میں شریک رہے ہیں۔ فاضل اور محقق عالم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۲۰۲۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter