دینی جدوجہد کے لیے متفقہ ۸ نکات
’’رابطہ کمیٹی‘‘ نے اپنے کام کے آغاز کے لیے کیا حکمت عملی طے کی ہے، وہ اس کی طرف سے جاری کردہ خبر سے معلوم ہو جائے گی۔ البتہ علمائے دیوبند کی جماعتوں، حلقوں اور مراکز کے درمیان رابطہ و اشتراک عمل کے لیے ۱۸ نومبر کو اسلام آباد میں حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر دامت برکاتہم کی سربراہی میں سپریم کونسل اور حافظ سید عطاء المومن شاہ بخاری کی سربراہی میں رابطہ کمیٹی کے قیام کے اعلان کے بعد سے ملک بھر سے احباب مسلسل پوچھ رہے ہیں کہ یہ تو بہت اچھا ہوگیا ہے اور ہمیں اس کا شدت سے انتظار تھا مگر اب کرنا کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لابنگ اور ذہن سازی کی محنت کی ضرورت
پشاور اور مردان سے واپسی پر ۸ نومبر کو اسلام آباد کے چند سرکردہ علماء کرام کے ساتھ ایک مشاورت میں شرکت کا موقع ملا جس کا اہتمام پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی ناظم حافظ سید علی محی الدین نے جامعہ رحمانیہ ماڈل ٹاؤن ہمک میں کیا تھا، مولانا فداء الرحمان درخواستی بھی اس میں شریک ہوئے بلکہ یہ مشاورتی اجلاس انہی کی زیر صدارت ہوا۔ مشاورت کا اہم نکتہ یہ تھا کہ قومی اسمبلی میں ملکی قوانین میں موت کی سزا کو ختم کر دینے کا جو بل پیش ہوا تھا اس سلسلہ میں ہمیں کیا کرنا چاہیے اور ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’دولتِ فاطمیہ‘‘ کی واپسی کی کوششیں!
اسلام آباد کے دھرنوں کے پاکستان اور اس خطے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ جاننے کے لیے ابھی انتظار کرنا ہوگا، لیکن یمن کے دارالحکومت صنعا کے گرد حوثی قبائل کا ایک ماہ سے زیادہ جاری رہنے والا ’’دھرنا‘‘ کامیاب ہوگیا ہے اور ۱۷ اگست سے شروع ہونے والے اس دھرنے کو ۲۱ اگست کے روز اقوام متحدہ کے ایلچی جمال بن عمر کی نگرانی میں ہونے والے اس معاہدے نے تکمیل تک پہنچا دیا ہے کہ حکومت مستعفی ہو جائے گی اور اس کی جگہ ٹیکنوکریٹ حکومت قائم ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حفظ قرآن کریم کا معیار کیسے بہتر بنایا جائے۔ الشریعہ اکادمی میں سیمینار
لوگوں میں قرآن کریم حفظ کرنے کا شوق و ذوق بحمد اللہ تعالٰی بڑھتا جا رہا ہے اور حفظ کے مدارس کے ساتھ ساتھ طلبہ کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ تعلیم کے معیار اور دینی و اخلاقی تربیت کے تقاضوں کے حوالہ سے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں اور ان کی طرف اصحابِ فکر کی توجہ کسی حد تک مبذول ہونے لگی ہے۔ اس سلسلہ میں ۲ دسمبر کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس کا عنوان یہ تھا کہ قرآن کریم حفظ کرنے والے بچوں کی اخلاقی و دینی تربیت کا معیار کس طرح بہتر بنایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چند تقریبات اور مجالس میں شرکت
آج کا کالم چند تقریبات اور مجالس میں شرکت کے حوالہ سے ہے۔ ۲۸ اکتوبر کو، جو میرا یوم پیدائش بھی ہے، اقراء روضۃ الاطفال گوجرانوالہ زون کی سالانہ تقریب تھی، بچوں اور بچیوں کے لیے قرآن کریم اور ضروریات دین کے ساتھ ساتھ سکول کی عصری تعلیم کا یہ وسیع نیٹ ورک ملک بھر میں کام کر رہا ہے جس کا آغاز مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ نے اکابر علماء کرام کی سرپرستی میں ۱۹۸۴ء میں کیا تھا۔ یہ تعلیمی نیٹ ورک معیاری تعلیم اور قابل اعتماد دینی ماحول کے باعث اولاد کو دین و دنیا دونوں کی تعلیم دلوانے کے خواہشمند مسلمانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پشاور اور مردان کا تعلیمی سہ روزہ
عید الاضحٰی کے بعد ایک سہ روزہ تبلیغی جماعت کے ساتھ فیصل آباد میں لگا کر مجلس صوت الاسلام کلفٹن کراچی کی دعوت پر تین دن پشاور اور مردان میں گزارنے کا موقع ملا۔ مجلس صوت الاسلام کراچی کا ایک مرکز پشاور میں بھی ہے جہاں فارغ التحصیل علمائے کرام کے لیے ایک سالہ تربیتی کورس کا اہتمام ہوتا ہے، اس سے قبل بھی ایک بار مجھے وہاں حاضری کا موقع مل چکا ہے۔ مولانا محمد حلیم صدیقی اس مرکز کے نگران ہیں اور مختلف دینی اداروں اور جامعات کے سینئر اساتذہ متنوع موضوعات پر اپنی تحقیقات سے دینی مدارس کے فضلاء کو آگاہ کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اقوام متحدہ کا ’’ملالہ ڈے‘‘
اقوام متحدہ نے ۱۰ نومبر ۲۰۱۲ء کو ’’ملالہ ڈے‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا اور دنیا بھر میں یہ ڈے منایا گیا۔ اس موقع پر ملالہ یوسف زئی کو تعلیم کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا جس کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ مسلمانوں میں اور پاکستان میں تعلیم کے فروغ اور تعلیم کی آزادی کے لیے ملالہ یوسف زئی ایک نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا مسلم سوسائٹی میں تعلیم کا آغاز اور تعلیمی شعور کی بیداری ملالہ یوسف زئی سے شروع ہو رہی ہے اور اس کی مظلومیت پاکستان میں عورتوں کی تعلیم کا نقطۂ آغاز بن رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قومی و ملی مسائل ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس
راقم الحروف نے ملک کی عمومی صورتحال اور پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت و تشخص کے خلاف سیکولر حلقوں کی مہم کا تذکرہ کیا اور گزارش کی کہ بین الاقوامی اور ملکی سیکولر حلقوں کی سرگرمیوں سے واقف رہنے کی ضرورت ہے اور ان کے سدباب کے لیے سنجیدہ اور مربوط محنت ہماری ذمہ داری ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اس وقت سیکولر حلقے ملکی اور عالمی سطح پر ان اہداف کے لیے پوری طرح سرگرم عمل ہیں، چنانچہ اس حوالہ سے چند اہم امور خصوصاً قابل توجہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سزائے موت ختم کرنے کی مہم اور آسمانی تعلیمات
گزشتہ روز ایک قومی اخبار کے دفتر سے فون پر مجھ سے پوچھا گیا کہ حکومت ملک کے قانونی نظام میں موت کی سزا کو ختم کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں بل لانے کی تیاری کر رہی ہے، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ میں نے اجمالاً عرض کیا کہ: اگر ایسا کیا گیا تو یہ قرآن کریم کے صریح حکم سے انحراف ہوگا اس لیے کہ قرآن کریم میں قصاص کے قانون کو مسلمانوں کے فرائض میں شمار کیا گیا ہے (البقرہ ۱۷۸)، پھر یہ دستور پاکستان کے بھی منافی ہوگا اس لیے کہ دستور میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ پارلیمنٹ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنا سکے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آسیہ مسیح کیس: حالیہ بحران اور وزیراعظم کا خطاب
تین سال قبل رہائش کی تبدیلی کے بعد سے معمول ہے کہ نماز فجر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں پڑھاتا ہوں اور اس کے بعد بخاری شریف کا مختصر درس ہوتا ہے، جبکہ اس سے قبل مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں تقریباً چالیس برس تک نماز فجر پڑھانے اور اس کے بعد قرآن و حدیث کا درس دینے کی سعادت حاصل رہی ہے، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔ آج کے درس میں حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کی یہ روایت گفتگو کا موضوع تھی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جب اسلام کی بیعت لی تو اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ ’’والنصح لکل مسلم‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 229
- 230
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »