جہاد کشمیر اور بعض حلقوں کے تحفظات

پشاور کی ’’خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس‘‘ میں جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا سید اسعد مدنی کی شمولیت کے حوالہ سے اخبارات میں بعض امور پر گفتگو کا سلسلہ چل نکلا ہے اور مختلف مضامین اور کالموں میں ملے جلے خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مجھے یہ بات اسی وقت کھٹک گئی تھی جب اس کانفرنس میں مولانا سید اسعد مدنی کی شرکت کا اعلان ہوا تھا اور میں نے بعض دوستوں سے اس کا اظہار بھی کر دیا تھا کہ اس سے مسائل پیدا ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اپریل ۲۰۰۱ء

جناب حکمت یار کا انتخابی فارمولا

حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ انجینئر گلبدین حکمت یار نے گزشتہ روز تہران میں پاکستانی رہنماؤں محترم قاضی حسین احمد، جناب وسیم احمد سجاد اور جناب الٰہی بخش سومرو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امارت اسلامی افغانستان کی طالبان حکومت کے سربراہ امیر المؤمنین ملا محمد عمر اگر الیکشن میں منتخب ہو جائیں تو وہ انہیں امیر المؤمنین تسلیم کر لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ملا محمد عمر کو ایک خط میں فارمولا پیش کیا ہے کہ وہ اپنی سربراہی میں عبوری حکومت قائم کریں جس میں تمام گروپوں کو نمائندگی دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اپریل ۲۰۰۱ء

گوجرانوالہ، پہلوانوں اور خوش خوراکوں کا شہر

گوجرانوالہ پہلوانوں اور خوش خوراکوں کا شہر مشہور ہے، اس شہر کے پہلوانوں نے کسی دور میں نہ صرف برصغیر میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنے فن کا لوہا منوایا ہے لیکن اب یہ بات قصہ پارینہ بن کر رہ گئی ہے اور بڑے بڑے پہلوانوں کے روایتی اکھاڑے ماضی کا حصہ بن گئے ہیں۔ اکا دکا اکھاڑوں میں اب بھی پہلوانی زور ہوتا ہے اور گوجرانوالہ کے بعض پہلوان ملکی اور بین الاقوامی دنگلوں میں شریک ہوتے ہیں مگر اس کی حیثیت اب ماضی کی یاد کو تازہ رکھنے کی ہوگئی ہے۔ البتہ خوش خوراکی کی رسم ابھی باقی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مارچ ۲۰۰۱ء

سنی و شیعہ رہنماؤں سے ایک دردمندانہ گزارش

شیخ حق نواز کی پھانسی کے بعد جھنگ، ہنگو اور شیخوپورہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے جو المناک واقعات رونما ہوئے ہیں اور بیسیوں بے گناہ شہریوں کی افسوسناک ہلاکت پر منتج ہوئے ہیں انہوں نے اس سوال کی شدت اور سنگینی میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہےکہ آخر اس عمل کو کب اور کہاں بریک لگے گی؟ عید کے دن مجھے اپنے علاقہ کے پولیس افسران کی ایڈوائس پر اپنے تیس سال سے چلے آنے والے معمول کو بدل کر ایک متعین راستے پر پیدل عید گاہ جانے کی بجائے راستہ بدل کر اور سواری پر نماز عید پڑھانے کے لیے جانا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مارچ ۲۰۰۱ء

قرآن کریم کی تعلیم اور ریاستی تعلیمی نظام

اپریل کو گکھڑ میں والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی مسجد میں جمعہ پڑھانے اور ان کے قائم کردہ مدرسہ معارف اسلامیہ اکادمی کے شعبہ تجوید و قراءت اور شعبہ حفظ و ناظرہ کی تعلیم مکمل کرنے والے قراء اور حفاظ کی دستار بندی کرانے کی سعادت حاصل ہوئی، اس موقع پر کی جانے والی گزارشات کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔ بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں نے جو آیت کریمہ آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اس میں اللہ رب العزت نے نسل انسانی اور امت محمدیہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام پر اپنے اس عظیم احسان کا ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اپریل ۲۰۱۸ء

حق نواز کی پھانسی اور مذہبی انتہا پسندی

لاہور میں ایران کے خانہ فرہنگ کے ڈائریکٹر آقائے صادق گنجی کے قتل کے جرم میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق جھنگ کے مذہبی کارکن حق نواز کو میانوالی جیل میں پھانسی دے دی گئی ہے اور اسے اس کی وصیت کے مطابق جامعہ محمودیہ جھنگ میں سپاہ صحابہؓ پاکستان کے بانی مولانا حق نواز شہیدؒ کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس پھانسی کو رکوانے کے لیے سپاہ صحابہؓ کے راہنماؤں نے ہر ممکن کوشش کی اور بعض دیگر دینی حلقوں نے بھی اس سلسلہ میں ان سے تعاون کیا لیکن ایسی کوئی کوشش کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مارچ ۲۰۰۱ء

درسگاہِ نبویؐ کا ایک طالب علم

ادارہ علوم اسلامی بھارہ کہو اسلام آباد کے منتظم مولانا فیض الرحمان عثمانی نے فون پر یہ خوش خبری سنائی کہ ان کے ادارہ کے دو طلبہ نے میٹرک کے امتحان میں اسلام آباد ثانوی تعلیمی بورڈ کے نتائج کے مطابق دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی ہے تو بے حد خوشی ہوئی مگر چونکہ دوسرے روز مجھے ایک دو ضروری اجلاسوں کے لیے اسلام آباد جانا تھا اس لیے فون پر مبارکباد دینے کی بجائے اس مقصد کے لیے خود ادارہ علوم اسلامی میں حاضری کا وعدہ کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جولائی ۲۰۰۰ء

خلیج عرب میں امریکہ کی نئی مہم

امریکہ بہادر آج کل پھر اس کوشش میں ہے کہ خلیج میں کسی بہانے عراق کو اشتعال دلا کر اس سے کوئی ایسی حرکت سرزد کرا دی جائے جس کے نتیجے میں امریکہ اور اس کے حواریوں کی افواج کو وہاں مزید کچھ عرصہ تک موجود رکھنے کی راہ ہموار کی جا سکے اور عربوں کو اس بات پر آمادہ کر لیا جائے کہ وہ خلیج میں بعض عرب ممالک کے تحفظ و دفاع کے لیے امریکی افواج کی موجودگی کی مدت کی توسیع قبول کر لیں اور اس معاہدہ کی ازسرنو تجدید کر دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مارچ ۲۰۰۱ء

میاں محمد شریف کے لیے ایک قابل غور نکتہ

طیارہ سازش کیس کا فیصلہ میں نے دینہ ضلع جہلم میں سنا۔ دینہ کے عالم دین مولانا محمد حسین ایک عرصہ سے انگلینڈ میں مقیم ہیں، ان کے بیٹے امین الرشید نے حرکۃ الجہاد الاسلامی کے ساتھ میدان جنگ میں شہادت پائی ہے اور انہوں نے اس کی یاد میں دینہ میں جامعہ امینیہ اسلامیہ کے نام سے دینی درسگاہ تعمیر کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ تین کنال جگہ میں طالبات کی دینی تعلیم کا مدرسہ قائم کیا جائے گا۔ ۶ اپریل کو اس کے سنگ بنیاد کی تقریب تھی جس میں مجھے بھی شرکت کی دعوت دی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اپریل ۲۰۰۰ء

مذہب اور ریاست: مغربی اور مسلم تاریخ کے تین بنیادی فرق

محترمہ بے نظیر بھٹو نے گزشتہ دنوں آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایک مباحثہ میں مسلمان مقرر کے طور پر خطاب کرتے ہوئے جو کچھ کہا ہے وہ اگرچہ ان کی طرف سے کوئی نئی بات نہیں اور اس سے قبل بھی وہ متعدد مواقع پر ’’نیو سوشل کنٹریکٹ‘‘ کے عنوان سے یہ سب کچھ کہہ چکی ہیں لیکن اسلام اور مغرب کے درمیان روز افزوں اور تیزی سے بڑھتی ہوئی کشمکش کے حالیہ تناظر میں اس کی اہمیت پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ مباحثہ کا عنوان تھا کہ ’’اس ایوان کی رائے میں اسلام اور مغرب کے درمیان بقائے باہم ممکن نہیں‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اپریل ۲۰۰۰ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter