تجارت و ابلاغ اور اسلامی تعلیمات

’’رفاہ انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی‘‘ کا نام سن رکھا تھا مگر کبھی حاضری کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ ۱۰ جنوری کو یونیورسٹی کے ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (MBA) کے شعبے کی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا جو راولپنڈی صدر میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی سابقہ عمارت میں واقع رفاہ یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس میں منعقد ہوئی۔ شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر عمیر صاحب اور دیگر اساتذہ سے ملاقات و گفت و شنید ہوئی اور تجارت میں تشہیر و ابلاغ کی اخلاقیات و آداب کے حوالہ سے منعقدہ تقریب میں کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جنوری ۲۰۱۲ء

خلافتِ راشدہ اور عمران خان

عمران خان آج کل اپنی زندگی کی سب سے بڑی اور سب سے مشکل اننگز کھیل رہے ہیں اور ابھی تک بظاہر کامیاب جا رہے ہیں۔ بلا ہاتھ میں ہوتا ہے تو چوکے چھکے لگاتے چلے جاتے ہیں اور گیند پکڑتے ہیں تو وکٹیں اڑانے کی رفتار بھی ویسی ہی ہوتی ہے۔ نوجوانوں کو ورلڈ کپ جیتنے والا عمران خان ایک بار پھر فارم میں دکھائی دے رہے ہے اور مجھ جیسے بوڑھے کبھی آنکھیں ملتے اور کبھی عینک کے شیشے صاف کرتے ہوئے اس قدر نئے منظر کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ دسمبر ۲۰۱۱ء

دفاعِ پاکستان کے پانچ دائرے

پاکستان کے دفاع و سالمیت اور قومی وحدت و خودمختاری پر پوری قوم متفق ہے۔ جوں جوں اس سلسلہ میں عالمی قوتوں کی منفی خواہشات اور بین الاقوامی لابیوں کی سازشیں بے نقاب ہو رہی ہیں عوام کے جوش و جذبے بلکہ غیظ و غضب میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوامی جذبات کا لاوا پکتا جا رہا ہے جو کسی وقت بھی آتش فشاں کی شکل میں پھٹ سکتا ہے۔ اس لیے ہماری قومی قیادت خواہ اس کا تعلق حکمران طبقات سے ہو یا اپوزیشن سے اور خواہ اس کا دائرہ سیاسی ہو یا دینی، سب کی یہ ذمہ داری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ نومبر ۲۰۱۱ء

لوڈشیڈنگ اور عوام

لوڈشیڈنگ کے عذاب سے تنگ عوام بار بار سڑکوں پر آکر اپنے غصے اور جذبات کا اظہار کر رہے ہیں مگر منصوبہ سازوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کو پتھر کے دور میں واپس لے جانے کی جو دھمکی دی گئی تھی، شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کے ہاتھوں اس پر عمل کرایا جا رہا ہے۔ لوڈشیڈنگ تو غریب عوام کے لیے اس شدید گرمی اور تپش میں عذاب بنی ہوئی ہے لیکن اس کے ردعمل میں جگہ جگہ ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے بھی مستقل پریشانی کی صورت اختیار کر لی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جون ۲۰۱۲ء

مسئلہ قادیانیت کے تین پہلو

جنوبی ایشیا کے کسی حصہ میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے اس پہلو پر جب بات ہوتی ہے تو قادیانیت کا تذکرہ لازمی سمجھا جاتا ہے کیونکہ گزشتہ کم و بیش سوا سو برس سے قادیانیت ہی کو عقیدۂ ختم نبوت سے انکار کے عنوان سے پہچانا جاتا ہے اور اسی کے ساتھ علمائے اسلام اور دینی جماعتوں کی کشمکش جاری ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے متفقہ طور پر انہیں اور ان کے پیروکاروں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۲۰۱۲ء

جامعہ ملیہ اسلامیہ لاہور اور حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ

۱۸ فروری کو جامعہ ملیہ اسلامیہ لاہور کی سالانہ تقریب میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہ جامعہ مفکرِ اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب نے شاہدرہ لاہور میں امامیہ کالونی سے گزر کر عمرؓ چوک کے بائیں جانب محمود کالونی میں قائم کر رکھا ہے۔ علامہ صاحب خود تو مانچسٹر برطانیہ میں قیام رکھتے ہیں جبکہ ان کی نگرانی میں مفتی عزیر الحسن صاحب اور ان کے رفقا کی ٹیم اس ادارہ کو چلا رہی ہے۔ حضرت علامہ صاحب سال میں ایک بار تشریف لا کر چند ہفتے لاہور میں قیام کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ فروری ۲۰۱۸ء

طلاق، انتہائی ناپسندیدہ فعل

روزنامہ پاکستان میں ۲۲ اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں طلاق کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے اور معاشرتی ناہمواری، غیر ملکی ثقافتی یلغار اور ذہنی ہم آہنگی کے فقدان کو اس کی اہم وجوہات شمار کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دس سال کے دوران پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں صرف طلاق کے ایک لاکھ سے زائد دعوے دائر ہوئے ہیں اور مجموعی طور پر بیس ہزار سے زائد خواتین کو طلاق کی ڈگریاں جاری کی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ نومبر ۲۰۱۱ء

دینی مدارس اور ٹونی بلیئر کی غلط فہمی

روزنامہ پاکستان نے ۳۰ ستمبر ۲۰۱۱ء کو نئی دہلی کی ڈیٹ لائن سے آن لائن کے حوالہ سے ایک خبر شائع کی ہے جس کے مطابق برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ: مکمل تحریر

۲۰ اکتوبر ۲۰۱۱ء

ملی مجلس شرعی کی قراردادیں

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس میں ملک کی سیاسی، مذہبی اور عسکری قیادت نے امریکی الزامات کو بیک آواز مسترد کرتے ہوئے امریکہ کی طرف سے ڈومور کے مطالبے کو قبول نہ کرنے کا اعلان کیا ہے جو ملک بھر کے عوام کے دلوں کی آواز ہے۔ اس طرح رائے عامہ کے رجحانات و جذبات نے ایک متفقہ قومی موقف کی حیثیت اختیار کر لی ہے جس پر آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے والے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور کانفرنس کے تمام شرکا مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اکتوبر ۲۰۱۱ء

’’خبرِ واحد‘‘ اور اس کی حفاظت کا اہتمام

گزشتہ روز ایک نوجوان نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’خبرِ واحد‘‘ کی حفاظت کا اہتمام کیا تھا؟ میں نے پوچھا کہ بیٹا آپ کی تعلیم کیا ہے؟ بتایا کہ تھرڈ ایئر کا سٹوڈنٹ ہوں۔ پھر پوچھا کہ دینی تعلیم کہاں تک حاصل کی ہے؟ جواب دیا کہ ایک مکتب میں ناظرہ قرآن کریم اور نماز وغیرہ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ میں نے دریافت کیا کہ علمِ حدیث کی کوئی کتاب اردو میں مطالعہ کی ہے؟ جواب دیا کہ نہیں۔ میں نے سوال کیا کہ بیٹا خبرِ واحد کے بارے میں آپ کو کس نے بتایا ہے کہ یہ کیا ہوتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ فروری ۲۰۱۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter