زندہ باد افغان مجاہدین

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک بار پھر افغانستان سے روسی افواج کی مکمل واپسی کا مطالبہ کیا ہے اور اس دفعہ یہ مطالبہ پہلے سے زیادہ اکثریت کے ساتھ کیا گیا ہے جو یقیناً افغان مجاہدین کی عظیم اصولی اور اخلاقی کامیابی ہے۔ روسی حکومت اور کابل کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے کچھ عرصہ سے جنگ بندی کی یکطرفہ پیشکش اور قومی افغان مصالحت کے عنوان سے سیاسی حربے اختیار کر کے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش شروع کر رکھی تھی کہ روس اپنی افواج واپس بلانے کے لیے تیار ہے لیکن افغان مجاہدین قومی مصالحت کی طرف پیش رفت نہ کر کے روسی افواج کی واپسی میں تاخیر کا باعث بن رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ نومبر ۱۹۸۷ء

دینی قوتوں کے باہمی اتحاد و اشتراک عمل کی ضرورت

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر سے ملاقات کے لیے گکھڑ تشریف لائے اور ان کی بیمار پرسی کے علاوہ دینی جماعتوں کے درمیان مفاہمت و اشتراک عمل کی ضرورت پر ان سے تبادلہ خیال کیا۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل سید منور حسن اور جمعیۃ اتحاد العلماء پاکستان کے سربراہ مولانا عبد المالک خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر راقم الحروف کے والد محترم ہیں اور دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی اکثریتی دینی و سیاسی جماعتوں کے متحدہ محاذ ’’مجلس عمل علماء اسلام پاکستان‘‘ کے سربراہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۱۹۹۹ء

مسندِ حدیث و فتویٰ اور خواتینِ اسلام

ان دنوں واشنگٹن پوسٹ کی اس رپورٹ کا عام چرچا ہے جس میں حیدرآباد دکن انڈیا کے ایک دینی مدرسہ جامعۃ المومنات کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ اس مدرسہ کے منتظمین نے اپنی تین خاتون عالمات فاضلات کو فتویٰ نویسی کی تعلیم و تربیت سے بہرہ ور کر کے خواتین کے لیے ان تینوں پر مشتمل مفتی پینل بنا دیا ہے جس سے عورتیں براہ راست رجوع کر کے مسائل دریافت کرتی ہیں اور وہ انہیں متعلقہ مسائل پر فتویٰ دیتی ہیں۔ مجھ سے ایک دوست نے گزشتہ روز دریافت کیا کہ کیا یہ درست ہے اور کیا اس سے قبل بھی اس کی کوئی مثال ملتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۲۰۰۳ء

ایماندار افسران کی تلاش

آج ایک قومی اخبار کے گوجرانوالہ ایڈیشن میں مقامی صفحہ کی اس بڑی سرخی نے بار بار اپنی طرف متوجہ کیا کہ ’’ایماندار ایس ایچ اوز کی تلاش، ریجن بھر کے پولیس انسپکٹروں کے کوائف طلب‘‘۔ ہمارے موجودہ معاشرتی ماحول میں یہ کوئی بہت بڑی خبر نہیں ہے کیونکہ صرف پولیس نہیں بلکہ کم و بیش ہر شعبہ اور ادارہ میں اسی قسم کی صورتحال کا سامنا ہے کہ ایماندار افراد تلاش کرنا پڑتے ہیں۔ اس پر اسلامی تاریخ کے دو حوالے ذہن میں آگئے ہیں اور جی چاہتا ہے کہ انہیں قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اکتوبر ۲۰۱۷ء

برطانیہ کے چند مذہبی اداروں میں حاضری

گزشتہ ہفتے کے دوران برطانیہ میں ندوۃ العلماء لکھنو کے استاذ الحدیث مولانا سید سلمان حسنی ندوی کے ساتھ جن اداروں میں جانے کا اتفاق ہوا ان میں سے چند کا تذکرہ قارئین کی معلومات کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے۔ جامعہ الہدٰی نوٹنگھم میں ہمارا قیام تھا اور اس کے پرنسپل مولانا رضاء الحق سیاکھوی ہمارے میزبان تھے۔ یہ ادارہ نوٹنگھم کے وسط میں ’’فارسٹ ہاؤس‘‘ نامی ایک بڑی بلڈنگ خریدکر قائم کیا گیا ہے جہاں پہلے محکمہ صحت کے دفاتر تھے۔ خوبصورت اور مضبوط بلڈنگ ہے، چار منزلہ عمارت میں اڑھائی سو کے لگ بھگ کمرے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جون ۱۹۹۸ء

ساؤتھال لندن میں مسلمانوں کی مذہبی جدوجہد

مغربی لندن میں ساؤتھال کا علاقہ ایشین آبادی کا علاقہ کہلاتا ہے جہاں پاکستان اور بھارت سے آئے ہوئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور آبادی کی اکثریت انہی لوگوں پر مشتمل ہے۔ ان میں مسلمان، ہندو اور سکھ تینوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں، زیادہ تعداد سکھ کمیونٹی کی بتائی جاتی ہے اس کے بعد مسلمان اور ہندو ہیں۔ اور اب صومالیہ سے آنے والے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے اس علاقہ میں آباد ہونے سے آبادی میں مسلمانوں کا تناسب خاصا بڑھ گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جولائی ۱۹۹۸ء

لندن میں ’’ریلی فار اسلام‘‘

’’المہاجرون‘‘ نے ۲۶ جولائی کو ٹریفالیگر اسکوائر لندن میں ’’ریلی فار اسلام‘‘ کے نام سے ایک ریلی کا اہتمام کیا جس میں راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔ المہاجرون مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے پرجوش نوجوانوں کی تنظیم ہے جس کے سربراہ شیخ عمر بکری محمد ہیں۔ شیخ عمر کا تعلق شام سے ہے اور دینی حلقوں کے خلاف ریاستی جبر سے تنگ آکر انہوں نے برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کر رکھی ہے۔ شافعی المذہب سنی عالم ہیں، شریعہ کالج کے نام سے لندن میں ادارہ قائم کر رکھا ہے جس میں نوجوانوں کو قرآن و سنت، فقہ اور اسلام کے اجتماعی نظام کی تعلیم دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اگست ۱۹۹۸ء

مسلم ہینڈز، ایک بین الاقوامی رفاہی ادارہ

مغربی ممالک میں مسلمانوں کے کسی ادارے کو تعلیمی یا رفاہی کام کرتے ہوئے دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔ ہم مسلمان پوری دنیا میں اس کام میں بہت پیچھے ہیں حالانکہ سماجی خدمات اور رفاہی کام جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور اسلامی تعلیمات میں سوشل ورک کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اس لیے مسلمان بالخصوص پاکستانی دوستوں کا کوئی کام اس حوالہ سے دیکھنے میں آتا ہے تو مسرت حاصل ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ دسمبر ۱۹۹۸ء

بارہ ربیع الاول کو ساؤتھال میں المہاجرون ریلی

۲۶ جون کو برمنگھم جانے کے لیے ایک بجے کے لگ بھگ ابوبکرؓ مسجد ساؤتھال براڈوے سے نکلا، مجھے اڑھائی بجے وکٹوریہ کوچ اسٹیشن سے بس پکڑنا تھی جس کی سیٹ دو روز قبل ریزرو کرالی تھی۔ خیال تھا کہ وقت پر پہنچ جاؤں گا مگر ساؤتھال براڈوے کے بس اسٹاپ پر لوکل بس کے انتظار میں کھڑا تھا کہ ایک طرف سے اسلام زندہ باد کے نعروں اور تلاوت قران کریم کی آواز کانوں میں پڑنے لگی۔ تعجب سے ادھر ادھر دیکھا کہ یہ آوازیں کدھر سے آرہی ہیں، معلوم ہوا کہ ’’المہاجرون‘‘ کی ریلی ہے جو اس تنظیم نے اسلام کے تعارف کے لیے منعقد کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جولائی ۱۹۹۹ء

دوبئی کے چند دینی و علمی مراکز میں حاضری

دوبئی پہلے بھی کئی بار جا چکا ہوں مگر اس بار خاصے عرصہ کے بعد جانے کا اتفاق ہوا۔ نو روزہ قیام کے دوران میرے میزبانوں محمد فاروق الشیخ، حافظ بشیر احمد چیمہ، مفتی عبد الرحمان اور چوہدری رشید احمد چیمہ نے ہر ممکن کوشش کی کہ زیادہ سے زیادہ وقت نکال کر مجھے مختلف مقامات پر لے جا سکیں۔ چنانچہ ان کی توجہات کے باعث میں نے خاصا مصروف وقت گزارا اور کوشش رہی کہ ذاتی معلومات اور استفادہ کے ساتھ ساتھ اپنے قارئین کے لیے بھی دلچسپی کی کچھ چیزیں جمع کر سکوں جس کے لیے ان دوستوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جنوری ۲۰۰۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter