سقوط ڈھاکہ، جہادِ افغانستان اور معاشی خودمختاری

محترم راجہ انور صاحب کا کہنا ہے کہ ’’سامراج سے آزادی حاصل کرنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ ہم پانچ سال کے لیے اپنی ساری ترجیحات معطل کر دیں، صرف پانچ سال کے لیے اپنے سارے اہم مسائل طلاق نسیاں کی نذر کر دیں اور معاشی لحاظ سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں۔ جس دن ہم معاشی طور پر مضبوط اور آزاد ہوگئے اس دن دنیا کی کوئی قوت، کوئی سامراج اور کوئی سازش ہمیں غلام نہیں رکھ سکے گی۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ مارچ ۲۰۰۰ء

لوئیس فرخان اور نیشن آف اسلام کا خودساختہ اسلام!

امریکہ کی سیاہ فام کمیونٹی کی تحریک ’’نیشن آف اسلام‘‘ کے بارے میں ہم ان کالموں میں کئی بار اظہار خیال کر چکے ہیں کہ لوئیس فرخان کی قیادت میں کام کرنے والے اس گروہ کو امریکہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس کا اصل پس منظر یہ ہے کہ ۱۹۳۰ء میں امریکہ کے شہر ڈیٹرائیٹ میں ’’فارد محمد‘‘ نامی ایک صاحب نے دعویٰ کیا کہ انہیں امریکہ کے سیاہ فاموں کی فلاح و بہبود کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مارچ ۲۰۰۰ء

وسطی ایشیا کی ریاستیں آزادی کے بعد

ان ممالک کی بدقسمتی یہ رہی کہ آزادی کا لیبل چسپاں ہونے کے باوجود ان ریاستوں میں حکومتی ڈھانچے، ریاستی نظام او رحکمران کلاس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اور آزادی کے منتظم اور رکھوالے بھی وہی قرار پائے جو آزادی سے قبل کمیونسٹ نظام کو چلانے کے ذمہ دار تھے اور چلاتے آرہے تھے۔ اس طرح وسطی ایشیا کے مسلمانوں کے ساتھ بھی وہی ’’ٹریجڈی‘‘ ہوئی جس کا اس سے قبل ہم جنوبی ایشیا کے مسلمان شکار ہو چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ ستمبر ۲۰۰۰ء

اسلامی ریاست کے خدوخال ۔ جسٹس منیر اور جسٹس کیانی کی نظر میں

1953ء کی تحریک ختم نبوت کے اسباب و عوامل کا جائزہ لینے کے لیے قائم کیے گئے جسٹس محمد منیر اور جسٹس اے آر کیانی پر مشتمل اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقاتی کمیشن نے انکوائری کے دوران بہت سے دیگر قومی اور دینی مسائل کے علاوہ ’’اسلامی ریاست‘‘ کے خدوخال کو بھی موضوع بحث بنایا تھا اور سرکردہ علماء کرام سے اس سلسلہ میں متنوع سوالات کے ساتھ ساتھ اپنی رائے کا بھی اظہار کیا تھا۔ اس رپورٹ کا ایک حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس وقت ہمارے ملک کی اعلیٰ سطح کی عدلیہ کا ’’اسلامی ریاست‘‘ کے بارے میں تصور کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اکتوبر ۲۰۱۷ء

بلدیاتی انتخابات اور مسلم لیگ

حکومت نے بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر منعقد کرانے کا اعلان کیا تو ملک کی بیشتر سیاسی جماعتوں نے اسے غیر اصولی فیصلہ قرار دینے کے باوجود میدان کو خالی نہ چھوڑتے ہوئے ان میں حصہ لیا۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے بھی اپنے کارکنوں کو بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کی ہدایات جاری کر دیں جن کے بحمد اللہ تعالیٰ خاطر خواہ اثرات ظاہر ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ دسمبر ۱۹۸۷ء

قومی سنی کنونشن: پس منظر، اہمیت اور تقاضے

شیعہ سنی تنازعہ کی تاریخ بہت پرانی ہے اور پاکستان میں بھی ایک عرصے سے ماتمی جلوسوں اور تقریبات کے حوالہ سے مختلف شہروں میں یہ تنازعہ خونریز فسادات کا باعث بنتا چلا آرہا ہے۔ لیکن پڑوسی ملک ایران میں کامیاب مذہبی انقلاب کے بعد اردگرد کے دیگر مسلم ممالک کی طرح پاکستان میں بھی شیعہ سنی تنازعہ مذہبی اختلاف کا لبادہ اتار کر اپنے اصل سیاسی روپ میں ظاہر ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جنوری ۱۹۸۸ء

علامہ اقبالؒ کے نام پر گمراہ کن خیالات پیش کیے جا رہے ہیں

مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے بارے میں سردار محمد عبد القیوم خان کی ناروے کی تقریر کے حوالہ سے جو باتیں منظر عام پر آئی ہیں وہ غیر محتاط ضرور ہیں لیکن یہ سب کچھ علامہ اقبالؒ کے بعض نادان دوستوں کی اس نئی مہم کا فطری ردعمل ہے جو انہوں نے اقبالؒ کو پیغمبر اور فکر اقبالؒ کو وحی کے طور پر پیش کرنے کی صورت میں شروع کر رکھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جنوری ۱۹۸۸ء

اوجڑی کیمپ راولپنڈی کا سانحہ

۱۰ اپریل کو راولپنڈی میں اوجڑی کیمپ کے اسلحہ کے ڈپو میں آگ لگنے سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں پر جو قیامت ٹوٹی ہے اس سے پورا ملک نہ صرف سوگوار ہے بلکہ رنج و الم اور اضطراب کی ٹیسیں رہ رہ کر اسلامیانِ پاکستان کے دلوں میں اٹھ رہی ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اپریل ۱۹۸۸ء

جہادِ افغانستان فیصلہ کن مرحلہ میں!

افغان عوام کا جہادِ حریت سیاسی اور فوجی دونوں محاذوں پر فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ جہادِ آزادی جو آج سے آٹھ نو برس پہلے چند سو سرفروشوں کے نعرۂ مستانہ کے ساتھ شروع ہوا تھا، قربانی، ایثار اور جہد و استقلال کے کٹھن مراحل سے گزرتا ہوا آج اس مرحلہ تک پہنچ چکا ہے کہ افغانستان کے اسی فیصد علاقہ پر مجاہدین کا کنٹرول عملاً قائم ہو گیا ہے۔ روس جیسی استعماری قوت اور عالمی طاقت کو افغان مجاہدین کے ہاتھوں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ اب واپسی کے ارادہ کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے بعد قائم ہونے والی حکومت کے بارے میں تحفظات کی تلاش میں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء

مولانا سید اسعد مدنی کی آمد اور جماعتی مصالحت کی کوشش

جمعیۃ العلماء ہند کے سربراہ حضرت مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ العالی کی پاکستان تشریف آوری کے موقع پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے متوازی دھڑے کے ساتھ اختلافات کے خاتمہ اور جماعتی اتحاد کے لیے ایک بار پھر گفت و شنید کا سلسلہ شروع ہوا اور اس ضمن میں متعدد حضرات نے دونوں جانب سے خلوص کے ساتھ اس نیک مقصد کے لیے محنت کی لیکن بات چیت آگے نہ بڑھ سکی اور صورتحال جوں کی توں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جنوری ۱۹۸۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter