دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کا خواب ۔ قومی تعلیمی کمیشن کا سوالنامہ

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا ہے کہ ’’ہمیں ایک ایسے نظام تعلیم کی ضرورت ہے جس میں دینی اور دنیوی تعلیم اکٹھی دی جائے، جہاں دین کی بنیادی معلومات سب کو پڑھائی جائیں۔ اس کے بعد ہر ہر شعبہ میں اختصاص کے مواقع دیے جائیں۔ یہ نظام تعلیم ہمارے اسلاف کی تاریخ سے مربوط چلا آرہا ہے۔‘‘ یہ پڑھ کر دل سے بے ساختہ ’’تری آواز مکے اور مدینے‘‘ کی صدا بلند ہوئی اور ماضی کی بعض یادیں تازہ ہوگئیں۔ یہ بات سب سے پہلے مفتی صاحب کے والد گرامی مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیعؒ نے اب سے کوئی چھ عشرے قبل فرمائی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ و ۲۱ مارچ ۲۰۱۶ء

اب قرآن کریم میں ردوبدل کا مطالبہ!

تسلیمہ نسرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نمازوں کی تعداد پانچ سے کم کر کے ایک کر دیں۔ ایک عرصہ قبل انہوں نے قرآن کریم پر (نعوذ باللہ) نظر ثانی اور مروجہ عالمی نظام و قوانین کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ضروری ترامیم کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس پر ان کے خلاف بنگلہ دیش میں ’’توہین مذہب‘‘ کا مقدمہ درج ہوا اور دینی حلقوں نے عوامی سطح پر احتجاج کا اہتمام کیا۔ اس پر وہ گرفتار ہوئیں مگر یورپین یونین کی مداخلت پر انہیں رہائی دلا کر یورپ کے ایک ملک میں سیاسی پناہ دے دی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مارچ ۲۰۱۶ء

ممتاز قادریؒ کی پھانسی اور مذہبی طبقات کا رد عمل

غازی ممتاز قادری شہیدؒ کو پھانسی دیے جانے کے بعد ملک بھر میں دینی حلقوں میں اضطراب اور بے چینی نے باہمی رابطوں کا جو ماحول پیدا کر دیا ہے وہ یقیناً خوش آئند ہے اور اس سے دینی کارکنوں کا حوصلہ بڑھ رہا ہے ۔ ۔ ۔ میڈیا نے غازی ممتاز قادری شہیدؒ کے جنازہ اور ملک بھر کی احتجاجی سرگرمیوں کو جس طرح بلیک آؤٹ کیا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے، یہ طرز عمل اظہار رائے کی آزادی اور رائے عامہ کے جمہوری حق کے منافی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۲۰۱۶ء

غازی ممتاز قادری شہیدؒ

ہماری مروجہ دانش کو صرف اپنے ایجنڈے کی فکر ہے جو خود اس کا اپنا نہیں ہے بلکہ اس کا ریموٹ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ اور یہ ریموٹ کنٹرول بھی اب خفیہ نہیں رہا بلکہ ساری دنیا کو دکھائی دے رہا ہے کہ کون کس کے ایجنڈے پر چل رہا ہے۔ اس دانش کو نہ دستور کی نظریاتی اساس سے کوئی دلچسپی ہے، نہ شریعت کے تقاضوں کی کوئی پروا ہے، اور نہ ہی سول سوسائٹی کے احساسات و جذبات اور رائے عامہ کا کوئی لحاظ ہے۔ اسے صرف اپنے ایجنڈے سے غرض ہے اور اس کے لیے مروجہ دانش اکثر اوقات جنگل کا شیر بن جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مارچ ۲۰۱۶ء

اسلام کا خاندانی نظام اور مغربی ثقافت

پرانے شماروں کی ورق گردانی کے دوران جنوری 1997ء میں شائع ہونے والی ’’الشریعہ‘‘ کی ایک خصوصی اشاعت سامنے آگئی جو ’’اسلام کا خاندانی نظام اور مغربی ثقافت‘‘ کے عنوان سے ایک سو صفحات پر مشتمل تھی اور اس میں مولانا مفتی محمودؒ، مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا مفتی فضیل الرحمن عثمانی، اور راقم الحروف کے تفصیلی مضامین کے علاوہ جناب عمران خان، جناب ارشاد احمد حقانیؒ، اور جاوید اقبال خواجہ کی اہم تجزیاتی نگارشات بھی شامل تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مارچ ۲۰۱۶ء

قابلِ تشویش سیاسی منظر نامہ اور پاکستان شریعت کونسل کی قراردادیں

یہ اجتماع اس عزم کا ایک بار پھر اظہار ضروری سمجھتا ہے کہ پاکستان کو اسلامی تشخص سے محروم کرنے، دستور کی اسلامی بنیادوں کو کمزور کرنے اور پاکستانی قوم کو اسلامی و مشرقی ثقافتی اقدار و روایات کے ماحول سے نکال کر مغربی و ہندووانہ ثقافت کو فروغ دینے کی ہر کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا۔ اور پاکستانی قوم متحد ہو کر اپنے عقائد و اقدار کا تحفظ کرتے ہوئے اسلام کے معاشرتی کردار کے خلاف عالمی و ملکی سیکولر لابیوں کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ فروری ۲۰۱۶ء

حضرت شاہ ولی اللہؒ کا فکر و فلسفہ اور دور حاضر

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ بارھویں صدی کے ان عظیم علماء امت میں سے تھے جنہوں نے دین کے مختلف شعبوں میں اجتہاد و تجدید کا کام سنبھالا اور اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے وہ اس کٹھن گھاٹی سے اس طرح کامیابی سے گزرے کہ ان کے علوم و فیوض اور سعی و کاوش سے اب تک مسلسل استفادہ کیا جا رہا ہے۔بلکہ دینی علوم کے فروغ اور ترویج میں ان کے ذوق و اسلوب کی ضرورت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید اجاگر ہوتی جا رہی ہے۔وہ ایک بڑے محدث، مفسر ، مجاہد ،متکلم اور صوفی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ فروری ۲۰۱۶ء

قرآنِ کریم کے مروجہ نسخے اور ایک نئی بحث

مصحف عثمانی کے دو نمونے عالم اسلام میں اشاعت پذیر ہو رہے ہیں جو قرأت میں تو ایک دوسرے سے زیادہ مختلف نہیں ہیں مگر رسوم و علامات کے حوالہ سے الگ الگ ہیں۔ عرب دنیا میں قرآن کریم کی طباعت ان رسوم و علامات کے ساتھ ہوتی ہے جو وہاں معروف ہیں، جبکہ جنوبی ایشیا یعنی بنگلہ دیش، پاکستان اور بھارت وغیرہ میں مطبوعہ قرآن کریم کی رسوم و علامات ان سے الگ ہیں جو اس قدر متعارف اور عام فہم ہو چکی ہیں کہ یہاں کے عام مسلمان کے لیے کسی دوسرے نسخہ سے قرآن کریم کی تلاوت کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ فروری ۲۰۱۶ء

ایک اچھی خبر اور ایک حسرت!

جمعیۃ علماء اسلام میرا گھر ہے، میں نے 1962ء میں چودہ سال کی عمر میں اس حویلی میں قدم رکھا تھا اور اب جبکہ ہجری اعتبار سے سترہواں (۷۰) سال گزر رہا ہے اس کے مین گیٹ کے اندر ہی ہوں اور اسی حویلی میں زندگی کے باقی ماندہ لمحات گزارنے کی خواہش رکھتا ہوں۔ کنبے بڑے ہو جائیں تو حویلی میں دیواریں بھی کھینچی جاتی ہیں، نئے نئے پورشن بھی تعمیر ہوتے ہیں اور اسٹرکچر میں رد و بدل بھی ہوتا رہتا ہے۔ ان سارے مراحل سے گزشتہ نصف صدی کے دوران میں بھی بار بار گزرا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ فروری ۲۰۱۶ء

معاہدۂ حدیبیہ کے اہم سبق

صلح حدیبیہ کے معاہدہ میں جہاں یہ طے ہوا تھا کہ مسلمانوں اور قریش کے درمیان دس سال تک جنگ نہیں ہوگی، وہاں دوسری شرائط کے ساتھ ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر مکہ مکرمہ سے قریش کا کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرے گا تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ لیکن اگر کوئی مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا (نعوذ باللہ) ساتھ چھوڑ کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا تو اس کی واپسی ضروری نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ فروری ۲۰۱۶ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter