حضرت والد محترمؒ کا کمرہ

حضرت والد محترم رحمہ اللہ کے دور سے معمول چلا آ رہا ہے کہ بہت زیادہ مصروفیت نہ ہو تو جمعۃ المبارک کے روز مغرب کی نماز گکھڑ میں حضرت والد صاحب کی مسجد میں ادا کرتا ہوں۔ اس کے بعد مختصر درس ہوتا ہے، بہت سے دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے اور اس طرح اپنے آبائی شہر کے احوال سے بھی باخبر رہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اپریل ۲۰۱۲ء

’’تجلیاتِ قرآن‘‘

مولانا منیر احمد معاویہ جامعہ عثمانیہ اڈا تلونڈی تحصیل چونیاں نے قرآن کریم کی عظمت و فضیلت اور برکت و ثواب کے مختلف پہلوؤں پر معلومات کا ایک اچھا ذخیرہ ’’تجلیاتِ قرآن‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں مرتب کیا ہے اور قرانی تعلیمات کو عام فہم انداز میں پیش کرنے کی اچھی کوشش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو ان کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس سے نفع اٹھانے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔ مکمل تحریر

۳ فروری ۲۰۱۶ء

مولانا منیر احمد معاویہ کے خطبات

مولانا منیر احمد معاویہ جامعہ عثمانیہ اڈا تلونڈی تحصیل چونیاں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت و منقبت کے حوالہ سے اپنے مختلف خطبات میں عقیدت و محبت کا اظہار کیا ہے جو ان کے حسنِ ذوق کی علامت ہیں۔ یہ خطبات تین جلدوں میں کتابی صورت میں شائع ہوئے ہیں جو کم و بیش نو سو صفحات پر مشتمل ہیں، اصحابِ ذوق اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ فروری ۲۰۱۶ء

دینی مدارس کی جہدِ مسلسل اور درپیش چیلنجز

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم نے الشریعہ اکیڈمی کے نام سے یہ ٹھکانہ بنا رکھا ہے جس میں چھوٹے موٹے کام کرتے رہتے ہیں۔ ہمارا بنیادی کام یہ ہے کہ دینی حلقوں میں آج کے عصری تقاضوں کا احساس اجاگر کرنا اور جہاں تک ہو سکے بریفنگ مہیا کرنا۔ آج کے عصری تقاضے کیا ہیں، دینی حوالے سے آج کی ہماری ضروریات کیا ہیں اور ہم نے ان کو کیسے پورا کرنا ہے؟ ان تقاضوں کی نشاندہی، احساس اور ہلکی پھلکی بریفنگ ہم نے اپنے کام کو اس دائرے میں محدود کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ نومبر ۲۰۱۳ء

متفرق رپورٹس

پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے مدرسہ قاسمیہ ہمک اسلام آباد میں علماء کرام کی ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ دینی و قومی حوالوں سے در پیش مسائل بالخصوص غیر ملکی ایجنڈے کے تحت کی جانے والی قانونی، تعلیمی اور معاشرتی تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھنا علماء کرام کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، جس کے لیے دو باتوں کا اہتمام لازمی ہے: مکمل تحریر

۳۱ جولائی ۲۰۲۴ء

سید مردان علی شاہ پیر آف پگارا شریف

پیر صاحب آف پگارا شریف انتقال کر گئے ہیں اور گزشتہ روز انہیں ان کے روحانی مرکز پیر جوگوٹھ میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آج کی نسل کے سامنے پیر صاحب آف پگارا کا تعارف اس دائرے میں ہے کہ وہ سندھ کے ایک بڑے پیر تھے، ہزاروں عقیدت مند رکھتے تھے، قومی سیاست میں ان کی موجود گی ہمیشہ محسوس کی جاتی تھی، وہ منفرد انداز میں سیاسی بات کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جنوری ۲۰۱۲ء

ملک عبد الحقؒ اور ملک عبد الغنیؒ، دیارِ حرم کے دو اصحابِ خیر

گزشتہ روز ”اسلام“ میں یہ خبر نظر سے گزری کہ محترم ملک عبد الغنی صاحب مکہ مکرمہ میں انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بہت سی باتیں ماضی کے حوالہ سے ذہن میں تازہ ہو گئیں اور قارئین کو بھی ان یادوں میں شریک کرنے کو جی چاہ رہا ہے۔ ملک عبد الحق رحمہ اللہ تعالیٰ اور ملک عبد الغنی رحمہ اللہ تعالیٰ کا یہ خاندان، جو علمی و دینی حلقوں میں حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی دامت فیوضہم کے ذریعہ متعارف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اکتوبر ۲۰۱۲ء

دینی تعلیم کے نظام و نصاب میں تبدیلی کی بحث

دینی تعلیم کے نظام و نصاب کے بارے میں راقم الحروف کی گزارشات پر محترم مولانا محمد اسماعیل ریحان کا تبصرہ نظر سے گزرا۔ اس سے قبل ادارہ علوم اسلامیہ، بھارہ کہو اسلام آباد کے پرنسپل مولانا فیض الرحمٰن عثمانی بھی فون پر اس سلسلہ میں اپنے تحفظات سے آگاہ فرما چکے ہیں۔ مجھے ان دونوں بزرگوں کے تحفظات سے اتفاق ہے، بلکہ اگر اس موضوع پر عمومی بحث و مباحثہ کی کوئی صورت پیدا ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ دسمبر ۲۰۱۲ء

قرآن کریم کی قرأت و سماعت کی آسانیاں اور ثواب

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ عزیزم حافظ محمد حذیفہ خان سواتی کو جس نے تراویح میں قرآن کریم سنایا ہے اور سننے والے تمام نمازیوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ اللہ رب العزت نے رمضان المبارک کے دوران مسجد میں نماز کی حالت میں قرآن کریم پڑھنے اور سننے کی توفیق عطا فرمائی ہے، اللہ تعالیٰ قبولیت سے نوازیں اور بار بار یہ سعادت نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ ہمارے لیے یہ دوہری خوشی کا موقع ہے کہ حافظ محمد حذیفہ خان سواتی مفسر قرآن کریم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کا پوتا اور میرا نواسہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جولائی ۲۰۱۵ء

دینی تعلیم کے مختصر کورسز کی ضرورت و اہمیت

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مجھے اس مسجد میں وقتاً فوقتاً آتے ہوئے نصف صدی کا عرصہ ہو گیا ہے، حضرت مولانا قاری محمد طلحہ قدوسیؒ اور حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ کا دور میرے سامنے ہے، اور اب ان کے جانشین مولانا قاری محمود الرشید اور مولانا داؤد احمد کی محنت دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ دونوں حضرات اپنے بزرگوں کے مشن کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں تا عمر یہ خدمت کرتے رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اگست ۲۰۱۵ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter