دینی جماعتوں کی قیادتوں سے سوال
قومی سیاست میں پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی دھماکہ خیز واپسی کے دیگر نتائج تو وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آتے رہیں گے، لیکن اتنا ضرور ہوا ہے کہ وہ قومی سیاست میں واپس آ گئے ہیں اور انہوں نے قومی سیاست دانوں اور میڈیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ توجہ مثبت ہو یا منفی، بہرحال توجہ ہے اور سیاست میں بسا اوقات منفی توجہ زیادہ گہرے اثرات مرتب کرتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کے فضلاء کے لیے خطابت کورس
جامعہ اسلامیہ کلفٹن کراچی کے مہتمم مولانا مفتی محی الدین کا تعلق خوشاب کے علاقہ سے ہے۔ میرے پرانے اور بزرگ دوستوں میں سے ہیں اور ایک طویل عرصہ ہمارا جماعتی اور تحریکی رفاقت میں گزرا ہے۔ ان کے فرزند مولانا مفتی ابوذر محی الدین اور مولانا مفتی ابو ہریرہ محی الدین دیگر برادران اور رفقاء کے ساتھ اپنے والد بزرگوار کے تعلیمی اور فکری مشن کو حسن و خوبی کے ساتھ آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ جبکہ مولانا جمیل الرحمٰن فاروقی رفقاء کی پوری ٹیم کے ساتھ اس کام میں ان کے معاون اور دست و بازو ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قاضی حسین احمدؒ: جدوجہد کا ایک متحرک کردار
قاضی حسین احمدؒ کو ہم سے رخصت ہوئے ایک سال ہو گیا ہے، مگر ان کی متحرک زندگی کی یادیں ابھی تک ذہن میں تازہ ہیں، جو ایک عرصے تک ان کی یاد دلاتی رہیں گی۔ میری مختلف تحریکوں میں ان کے ساتھ رفاقت رہی ہے اور بہت سے دوسرے احباب کی طرح میں بھی یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے درمیان بے تکلف دوستی کا رشتہ قائم تھا۔ قاضی صاحبؒ کا خاندانی پس منظر جمعیت علمائے ہند کا تھا۔ وہ ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ذکرِ حبیبؐ اور اطاعتِ رسولؐ
۱۷ مارچ کو سیالکوٹ کے ایمن آباد روڈ میں محترم حاجی محمد یوسف کی رہائش گاہ پر سیرت النبیؐ کے سلسلہ میں منعقدہ ایک محفل میں کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا، جس کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔ بعد الحمد والصلوٰۃ۔ یہ بات ہم سب کے لیے سعادت کا باعث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے ہونے والی اس مجلس میں جمع ہیں اور ہمارا مل بیٹھنے کا مقصد یہ ہے کہ سرور کائنات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ باتیں آپس میں کہہ سن لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذِ اسلام کی دستوری جدوجہد میں جمعیت علماء اسلام کا کردار
۳۱ مارچ کو مینارِ پاکستان لاہور کے گراؤنڈ میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان صوبہ پنجاب کے زیر اہتمام ”اسلام زندہ باد“ کانفرنس منعقد ہو رہی ہے، جس کے لیے پورے صوبے میں تیاریاں جاری ہیں اور جمعیت کے کارکن اسے اپنے لیے ایک چیلنج سمجھ کر بھرپور محنت کر رہے ہیں۔ مجھے بھی اس سلسلے میں دو تین اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا ہے اور میں نے تمام دینی حلقوں، خاص طور پر ہم مسلک احباب سے گزارش کی ہے کہ وہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذِ شریعت کے لیے تصادم اور مسلح جدوجہد کا راستہ
اسلامی نظام کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد کے حوالے سے دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں قیام پاکستان کے بعد تمام مکاتب فکر کے اکابر علمائے کرام نے علامہ سید سلیمان ندویؒ کی زیر صدارت مشترکہ اجلاس میں اسلامی دستور کے ۲۲ نکات مرتب کر کے یہ فیصلہ بالکل آغاز ہی میں کر لیا تھا کہ پاکستان میں نفاذ اسلام دستور کے ذریعے سے ہوگا اور اس کے لیے جمہوری عمل کو ذریعہ بنایا جائے گا۔ یہ چند علماء کا فیصلہ نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چنیوٹ میں دو دن
میں ۱۵ مئی سے چنیوٹ میں ہوں، جامعہ اسلامیہ امدادیہ چنیوٹ کی ختم بخاری شریف کی تقریب میں شرکت کے لیے حاضری ہوئی ہے۔ مگر میں نے مولانا محمد الیاس چنیوٹی کو مبارکباد بھی دینا تھی، جو حالیہ انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر بھاری اکثریت سے صوبائی اسمبلی کے دوسری بار ممبر منتخب ہوئے ہیں۔ وہ گزشتہ ٹرم میں بھی ایم پی اے تھے، جبکہ ان کے والد محترم حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمہ اللہ تعالیٰ اس سیٹ پر تین بار ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
گلگت، بلتستان کا مسئلہ اور پاکستانی حکمران
آزاد جموں و کشمیر کی طرح گلگت بلتستان کے عوام نے بھی ہندو راجہ کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ کر گلو خلاصی کرائی تھی اور بین الاقوامی نقشوں میں ریاست جموں و کشمیر کے متنازع علاقے کے نقشے میں شامل ہونے کے باوجود معاہدۂ کراچی کے تحت اس کا انتظام حکومت پاکستان نے اس خطے کے مستقبل کا فیصلہ ہونے تک عارضی طور پر سنبھال لیا تھا، اس لیے کہ آزاد جموں و کشمیر کی نئی ریاست کے ساتھ مواصلاتی رابطے بہت کم ہونے کی وجہ سے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
میڈیا کا مثبت کردار
میں بھی آزاد میڈیا کے ناقدین میں سے ہوں کہ اس قدر آزادی، جس سے قوم کی نظریاتی شناخت اور تہذیبی قدریں خطرے میں پڑ جائیں، عقیدہ و ثقافت رکھنے والی کسی بھی قوم کے لیے سود مند نہیں ہوتی۔ لیکن تھر کے معاملے میں آزاد میڈیا نے جو مثبت اور جرأت مندانہ کردار ادا کیا ہے اس پر داد نہ دینا بھی ناانصافی اور ناقدری کی بات ہو گی۔ تھر کے علاقے میں طویل خشک سالی اور اس سے زیادہ حکمرانوں کی بے اعتنائی نے جو صورت حال پیدا کر دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
میڈیا: آزادی کی حدود کا تعین ضروری ہے
حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد اس کے اسباب و عوامل پر بحث و مباحثہ جس حد تک آگے بڑھ گیا ہے اور اس نے جو رخ اختیار کر لیا ہے یہ اگر نہ ہوتا تو بہتر تھا۔ حامد میر ملک کے معروف صحافی اور اربابِ دانش میں سے ہیں، جبکہ ملک و قوم کے ساتھ ان کی وفاداری شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ ملکی صحافت کو ایک نئی نہج دینے میں جن حضرات کا کردار نمایاں ہے ان میں ایک نام حامد میر کا بھی ہے۔ وہ معروف دانش ور پروفیسر وارث میر مرحوم کے فرزند ہونے کا تعارف رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 33
- 34
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »