مولانا غلام ربانیؒ / مولانا مفتی علی محمدؒ / مولانا محمد متین ہاشمیؒ / مولانا ظفر احمد انصاریؒ
حضرت مولانا غلام ربانی صاحبؒ جمعیۃ علماء اسلام کے سرکردہ زعماء میں سے تھے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد اور رئیس الموحدین حضرت مولانا حسین علیؒ آف واں بھچراں کے مرید تھے۔ دونوں بزرگوں کے ساتھ انہیں والہانہ تعلق تھا۔ ایک عرصہ سے رحیم یار خان کی مکی مسجد میں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور دارالعلوم حسینیہ کے نام سے ایک دینی ادارہ کے بھی سربراہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تعارف و تبصرہ
حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ برصغیر کی اُن گنی چنی دینی و علمی شخصیات میں سے ہیں جن کا وجود برصغیر میں مسلمانوں کے دورِ زوال و انحطاط میں ان کے ایمان کا سہارا بنا، اور جن کا علمی و روحانی فیض رہتی دنیا تک اہلِ علم کے لیے استفادہ کا مرکز رہے گا۔ حضرت شاہ صاحبؒ اپنے دور کے عظیم محدث، فقیہ، متکلم، فلسفی اور دانشور تھے جن کے بارے میں علامہ محمد اقبال مرحوم کا یہ کہنا ہے کہ ’’اسلام کی ادھر کی پانچ سو سالہ تاریخ شاہ صاحبؒ کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تعارف و تبصرہ
’’مناقب صحابہ کرامؓ‘‘: ماہنامہ ’’الہلال‘‘ مانچسٹر برطانیہ کے مدیر جناب حافظ محمد اقبال رنگونی نے حضرات صحابہ کرامؓ کے مناقب و فضائل کے مختلف پہلوؤں پر ممتاز علماء کرام کے چیدہ چیدہ مضامین کو یکجا شائع کیا ہے۔ اس موضوع پر یہ ایک قابل قدر ذخیرہ ہے جو سوا دو سو صفحات پر مشتمل ہے اور معیاری کتابت و طباعت اور عمدہ جلد کے ساتھ مزین ہے۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ
عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے سربراہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ العالی نے گزشتہ روز گوجرانوالہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں نئے شناختی کارڈوں کے اجراء کے موقع پر شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ کیا جائے اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے شناختی کارڈوں کا رنگ الگ الگ کر دیا جائے۔ مکمل تحریر
بہبودِ آبادی اور اسلام
۲۶ دسمبر کو گوجرانوالہ کے ایک ہوٹل میں محکمہ بہبود آبادی پنجاب کے زیر اہتمام علماء کرام کا سیمینار ہوا، جس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی۔ محکمہ بہبود آبادی کے صوبائی سیکرٹری جناب الطاف ایزد خان نے صدارت کی، ان کے ساتھ محکمہ کے صوبائی ڈائریکٹر جنرل قیصر سلیم صاحب مہمان خصوصی تھے اور ڈسٹرکٹ ویلفیئر آفیسر گوجرانوالہ جناب محمد شعیب اس سیمینار کے منتظم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سوسائٹی سے لاتعلق ہو جانا دین نہیں ہے
جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں سہ ماہی امتحانات کا آغاز ہو چکا ہے اور میں حسبِ معمول پہلے پرچے کی نگرانی میں شریک ہو کر ہفتہ کی شام کو کراچی پہنچ گیا ہوں۔ حسنِ اتفاق سے اسی شام کو مولانا فداء الرحمٰن درخواستی امیر پاکستان شریعت کونسل کے پوتے کا ولیمہ تھا، جس میں شرکت کی مجھے بھی سعادت حاصل ہو گئی۔ مولانا موصوف کے بیٹے مولانا قاری حسین احمد درخواستی اور مولانا رشید احمد درخواستی بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ سمدھی بھی ہو گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مغرب تو ہماری پچ پر قابض ہے
گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے شعبہ علوم اسلامیہ نے ۱۲ مئی کو ”مغربی فکر و فلسفہ کا چیلنج اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں“ کے عنوان پر ایک سیمینار کا اہتمام کیا، جس کی صدارت شعبہ کے صدر پروفیسر چودھری محمد شریف نے کی اور اس سے گفٹ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر طاہر اقبال کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی، پروفیسر ڈاکٹر مدثر احمد، پروفیسر زاہد احمد شیخ، پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک اور راقم الحروف نے بھی خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بخاری شریف اور دینی مدارس
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ابھی آپ کے سامنے دورۂ حدیث کے ایک طالب علم نے بخاری شریف کا آخری باب اور حدیث پڑھی ہے۔ میں سب سے پہلے بخاری شریف مکمل کرنے والے طلبہ اور ان کے اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے بخاری شریف پڑھنے اور تکمیل تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائی۔ اس حدیث کے پڑھنے کے ساتھ ہی آپ حضرات رسمی طور پر علماء کرام کی صف میں شامل ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت شاہ ولی اللہؒ اور ان کا فکر و فلسفہ
لاہور میں ”شاہ ولی اللہ سوسائٹی“ کا احیاء اور اس کی سرگرمیوں کا آغاز فکری و نظریاتی حلقوں کے لیے خوش آئند بات ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے افکار و تعلیمات کے فروغ کے لیے ”شاہ ولی اللہ سوسائٹی“ مفکرِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے قائم کی تھی اور ایک عرصے تک ان کے تلامذہ اس فورم پر حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر و فلسفے کی تبلیغ و اشاعت کے لیے سرگرم عمل رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کراچی کا تازہ سفر
کراچی میں ایک ہفتہ گزار کر گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا ہوں۔ کراچی سمندر کے کنارے پر ہے، لیکن خود بھی انسانی آبادی کا ایک وسیع سمندر ہے۔ مجھے کراچی آتے جاتے تین عشروں سے زیادہ وقت گزر گیا ہے اور اس کے لیے بیسیوں بار کا جملہ بہت کم معلوم ہوتا ہے۔ پہلی بار ۱۹۷۷ء کی تحریک نظامِ مصطفی کے بعد کراچی جانے کا اتفاق ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 33
- 34
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »