سنی شیعہ کشیدگی ۔ ظفر حسین نقوی صاحب کے خیالات

جناب ظفر حسین نقوی نے عنوان بالا پر میری گزارشات کے حوالہ سے ایک بار پھر قلم اٹھایا ہے اور میری درخواست کے برعکس پھر انہی مسائل کو زیربحث لانے کی کوشش کی ہے جن سے میں صرف اس لیے بچنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ان مسائل پر ازسرنو بحث و مباحثہ کا دروازہ کھلنے سے کشیدگی بڑھے گی اور اس کا نقصان ہوگا۔ قارئین گواہ ہیں کہ میں نے اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان مذہبی اختلافات اور پاکستان میں سنی شیعہ کشیدگی کا باعث بننے والے عوامل کو الگ الگ موضوعات قرار دیتے ہوئے ابتدا میں گزارش کی تھی کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مئی ۱۹۹۹ء

منقبت صحابہؓ پر ایک قابل قدر کاوش

ہمارے ایک فاضل دوست مولانا ثناء اللہ سعد بھی اسی بحرِ دخار کے غوطہ زن ہیں اور وقتاً فوقتاً ان کی مختلف تحقیقی کاوشیں ہماری نظر سے گزرتی رہتی ہیں۔ انہوں نے قرآن کریم کی ہزاروں آیات کریمہ میں مختلف حوالوں سے حضرات صحابہ کرامؓ کے تذکرہ کو موضوع بحث بنایا ہے اور ’’اصحاب النبی الکریم فی آیات القرآن الحکیم‘‘ کے نام سے ایک ضخیم کتاب مرتب کی ہے جو تین جلدوں میں ہے اور دو ہزار سے زائد صفحات کو محیط ہے۔ انہوں نے ترتیب کے ساتھ قرآن کریم کی کم و بیش سب سورتوں کو سامنے رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جولائی ۲۰۱۳ء

قطر میں افغان طالبان کا دفتر

قطر میں افغان طالبان کا سیاسی دفتر کھلنے کے ساتھ ہی امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا دکھائی دینے لگا ہے اور دونوں طرف سے تحفظات کے اظہار کے باوجود یہ بات یقینی نظر آرہی ہے کہ مذاکرات بہرحال ہوں گے۔ کیونکہ اس کے سوا اب کوئی اور آپشن باقی نہیں رہا اور دونوں فریقوں کو افغانستان کے مستقبل اور اس کے امن و استحکام کے لیے کسی نہ کسی فارمولے پر بالآخر اتفاق رائے کرنا ہی ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جون ۲۰۱۳ء

کراچی میں مصروفیت کا ایک دن

۲۳ جون کا دن کراچی میں گزرا اور خاصا مصروف گزرا۔ مولانا جمیل الرحمن فاروقی اور مولانا مفتی حماد اللہ وحید کے ہمراہ جامعہ اشرف المدارس میں حاضری دی۔ شیخ العلماء حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر قدس اللہ سرہ العزیز کی وفات پر ان کے فرزند و جانشین مولانا حکیم محمد مظہر اور دیگر حضرات سے تعزیت کی اور حضرتؒ قبر پر فاتحہ خوانی اور دعا کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ حکیم صاحبؒ ہمارے دور کے اکابر صوفیاء کرام اور بزرگان دین میں سے تھے۔ لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کی جوت جگانا ان کا زندگی بھر کا مشن تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جون ۲۰۱۳ء

مظفر آباد میں ایک دن

مقامی اخبارات میں ایک خبر نظر سے گزری کہ دو روز قبل مظفر آباد میں توہین رسالتؐ کے ایک مبینہ واقعہ پر فساد ہوتے ہوتے رہ گیا ہے اور مقامی علماء کرام نے اس فساد کو رکوانے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے جس پر پریس نے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ تفصیل معلوم کی تو پتہ چلا کہ ایک چینی کمپنی کے چینی ملازم نے اپنی رہائش تبدیل کی اور اس کا سامان جب کمرے سے نکالا جا رہا تھا تو قرآن کریم کا ایک نسخہ زمین پر گر گیا جس پر کچھ لوگوں نے اردگرد سے بہت سے لوگوں کو یہ کہہ کر جمع کر لیا کہ قرآن کریم کی توہین کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مئی ۲۰۱۳ء

مسلم لیگ ن کی نئی حکومت سے توقعات

عام انتخابات کے نتائج ہماری خواہشات کے خلاف ضرور ہیں مگر توقعات کے خلاف ہرگز نہیں ہیں۔ ہماری خواہش تھی کہ دینی قوتیں متحد ہو کر الیکشن لڑیں اور پارلیمنٹ میں اتنی قوت ضرور حاصل کر لیں کہ ملک کے نظریاتی تشخص اور دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قومی خود مختاری کی بحالی اور بیرونی مداخلت کے سدّباب کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکیں، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے نہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا تھا بلکہ صرف اس لیے کہ دینی قوتیں ذہنی طور پر اس کے لیے تیار نہیں تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مئی ۲۰۱۳ء

انتخابات اور توقعات

مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی ہم سب کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں کہ ملک کے مختلف انتخابی حلقوں میں گھوم پھر کر ان امیدواروں کے درمیان مفاہمت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو ہم مسلک ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں اور مذہبی ووٹ کو تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ جگ ہنسائی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ ہمارے تین بزرگوں مولانا سلیم اللہ خان، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر کی طرف سے اس سلسلہ میں مشترکہ دردمندانہ اپیل مسلسل شائع ہو رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مئی ۲۰۱۳ء

نصاب تعلیم کا ایک جائزہ ۔ الشریعہ اکادمی میں سیمینار

نصاب تعلیم کے حوالے سے ایک دائرہ یہ ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور قومی نصاب تعلیم کس حد تک ملک کی نظریاتی اساس کے ساتھ ہم آہنگ ہے؟ دوسرا یہ کہ ہماری قومی تعلیمی ضروریات کیا ہیں اور مذہب و ثقافت کے ساتھ ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، سول سروس، ملٹری، معیشت اور دیگر شعبوں کے تقاضوں کو یہ تعلیمی نصاب و نظام کس حد تک پورا کرتا ہے؟ اور تیسرا یہ کہ موجودہ عالمی تناظر میں ملک و قوم کی بین الاقوامی ضروریات کیا ہیں اور ان کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو پورا کرنے میں یہ قومی نصاب تعلیم کیا کردار ادا کر رہا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مئی ۲۰۱۳ء

۲۰۱۳ء کے انتخابات اور دینی جماعتوں کا انتشار

حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر اور حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کی مشترکہ اپیل روزنامہ ’’اسلام‘‘ میں مسلسل شائع ہو رہی ہے جس میں عام انتخابات کے موقع پر دینی جماعتوں میں باہمی تعاون و اشتراک کے فقدان اور الگ الگ انتخابی مہم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ اپیل کی گئی ہے کہ کم از کم اتنا تو کر لیا جائے کہ جن حلقوں میں دینی جماعتوں کے امیدوار آپس میں مقابلہ کر رہے ہیں ان حلقوں میں ان کے درمیان ایڈجسٹمنٹ کی کوئی صورت نکال لی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ مئی ۲۰۱۳ء

عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کے مطابق فتنوں کے ہجوم اور یلغار کے دور میں دو آدمی اپنا ایمان بچانے میں کامیاب رہیں گے۔ ایک وہ شخص جو شہری آبادی سے الگ تھلگ دور دراز علاقے میں بکریوں کے دودھ پر گزارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بندگی میں زندگی گزار دے، اور دوسرا وہ شخص جو گھوڑے کی لگام پکڑے دین کے دشمنوں کے خلاف مسلسل برسرِ پیکار رہے۔ چنانچہ فتنوں کے خلاف سرگرم عمل رہنا، ان کے مقابلہ اور سدّباب کے ساتھ اپنے ایمان کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اپریل ۲۰۱۳ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter