جہادی تربیتی کیمپ ۔ وزیر داخلہ کے نام کھلا خط

بعد از سلام مسنون! گزارش ہے کہ گزشتہ روز ایک قومی اخبار نے آنجناب کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ ’’امریکہ کی طرف سے پاکستان سے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کے مطالبہ پر لندن میں اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے طالبان کی حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود تمام تربیتی کیمپ بند کر دے جہاں پر پاکستان کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ مسلح تربیت حاصل کرتے ہیں‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اپریل ۲۰۰۰ء

اسلامک تھنک ٹینک اور ورلڈ اسلامک فورم

گزشتہ روز ایک قومی اخبار میں اسلامک تھنک ٹینک کی سرگرمیوں کے حوالہ سے دو خبریں نظر سے گزریں۔ ایک خبر میں اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس کا ذکر ہے جس سے خطاب کرنے والوں میں جناب سرتاج عزیز، جناب مشاہد حسین سید اور جناب نیر حسین بخاری شامل ہیں، جبکہ دوسری خبر میں بتایا گیا ہے کہ اسلامک تھنک ٹینک کے ذمہ دار حضرات نے اپنے فورم کا نام تبدیل کر کے ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کے نام سے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جہاں تک اس فورم کے مقاصد اور سرگرمیوں کا تعلق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مارچ ۲۰۱۵ء

رمضان اور اجتہاد

رمضان المبارک ایک بار پھر ہماری زندگی میں آیا ہے اور خاموشی کے ساتھ گزرتا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے قرآن کریم کا مہینہ فرمایا ہے کہ اس میں لوح محفوظ سے قرآن کریم اتارا گیا اور جس رات یہ لوح محفوظ سے منتقل ہوا اس رات کو اللہ تعالیٰ نے ’’شبِ قدر‘‘ قرار دے کر ایک ہزار مہینوں پر بھاری کر دیا۔ قرآن کریم نے اس ماہ میں مسلمانوں پر روزوں کا حکم صادر فرمایا اور کہا کہ روزے رکھنے سے تقوٰی پیدا ہوتا ہے اور روزہ رکھنے والوں میں پرہیزگاری کا ذوق بیدار ہوتا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صبر و ضبط کا مہینہ قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ نومبر ۲۰۰۳ء

مولانا مشتاق احمد چنیوٹی ؒ

مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ بھی ہم سے رخصت ہوگئے اور یہ صدمہ علمی و تحقیقی دنیا میں روز بروز بڑھنے والے خلا کا احساس مزید اجاگر ہونے کا باعث ثابت ہوا۔ مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کتابی دنیا کے ماحول میں رہتے تھے، لکھنا پڑھنا اور قادیانیت کے محاذ پر نوجوان علماء و طلبہ کو تیار کرنا ان کا محاذ تھا۔ چند ہفتے قبل عمرہ کے لیے گئے اور مکہ مکرمہ میں احرام کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا۔ انہوں نے حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ سے رد قادیانیت کا ذوق پایا تھا اور وہ حضرت چنیوٹیؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۵ء

مولانا عبد المجید لدھیانویؒ

استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی قدس سرہ العزیز کا سانحۂ ارتحال پورے ملک کے دینی، علمی اور مسلکی حلقوں کے لیے بے پناہ رنج و غم اور صدمہ کا باعث بنا ہے۔ وہ ملتان میں وفاق المدارس العربیہ کے سیمینار سے خطاب کر رہے تھے کہ اجل کا بلاوا آگیا اور وہ اپنے ہزاروں شاگردوں اور لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ حضرت مولانا مفتی عبد الخالقؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ فروری ۲۰۱۵ء

حسن محمود عودہ سے ایک ملاقات

گزشتہ روز برطانیہ کے شہر سلاؤ میں مولانا منظور احمد چنیوٹی کے ہمراہ فلسطینی دانشور الاستاذ حسن محمود عودہ سے ملاقات کی اور مختلف مسائل پر ان سے گفتگو ہوئی۔ حسن عودہ کا تعلق اس فلسطینی خاندان سے ہے جس نے پون صدی قبل قادیانیت قبول کی تھی اور عرب ممالک میں قادیانیت کے فروغ میں اس خاندان نے مسلسل کردار ادا کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اگست ۱۹۹۹ء

ابوبکرؓ اسلامک سنٹر ساؤتھال لندن کے قیام کی منظوری

ساؤتھال لندن کے مسلمان دس سال کی طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد بالآخر ابوبکرؓ مسجد کے قیام کی باقاعدہ اجازت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور ایلنگ کونسل کی ویسٹ پلاننگ کمیٹی نے گزشتہ روز ابوبکرؓ مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے دی گئی ’’اسلامک ایجوکیشنل اینڈ ریکریشنل انسٹیٹیوٹ‘‘ کی پلاننگ پرمیشن کی درخواست کی منظوری دے دی ہے۔ اس مرحلہ پر کمیٹی کے ہندو اور سکھ ارکان نے بھی مسلمانوں کا بھرپور ساتھ دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جون ۱۹۹۹ء

حضرت مولانا محمد نافعؒ

علمی دنیا انہیں اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی ترجمان اور صحابہ کرامؓ کے ناموس و وقار کے تحفظ کی علامت کے طور پر جانتی ہے۔ وہ امام اہل السنۃ حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کے اس علمی قافلہ کے ایک فرد تھے جنہوں نے اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد کے فروغ و تحفظ اور حضرات صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم کی حیات و خدمات کی اشاعت اور ان کے بارے میں معاندین کی طرف سے مختلف ادوار میں پھیلائے جانے والے اعتراضات اور شکوک و شبہات کے جواب و دفاع میں مسلسل جدوجہد کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جنوری ۲۰۱۵ء

دہشت گردی اور فوجی عدالتیں

ماضی میں قائم ہونے والی فوجی عدالتوں اور احتسابی اداروں کے بارے میں ایک دوسرے سے یہی شکایت چلی آرہی ہے کہ انہیں ایک دوسرے کے خلاف سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور بہت سے معاملات میں سے یہ شکایت صرف الزام کی حد تک محدود نہیں ہے۔ اس لیے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات بلا تفریق ہونے چاہئیں اور ان میں سے کسی مسلک، جماعت اور دینی یا سیاسی حلقے کے خلاف انتقامی کاروائی اور کسی کے حق میں یا کسی کے خلاف جانبداری کا تاثر نہیں ملنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۵ء

دینی مدارس کا معاشرتی کردار ۔ دو الزامات کا جائزہ

آج دینی مدارس اور درسگاہیں دنیا بھر کی اعلیٰ دانش گاہوں، اداروں، لابیوں اور میڈیا سنٹروں کا موضوع بحث ہیں اور معاشرہ میں ان کے کردار اور ضرورت کے بارے میں مختلف باتیں کہی جا رہی ہیں۔ یہ درسگاہیں جنہیں دینی مدارس کے نام سے یاد کیا جاتا ہےاس سطح پر موضوع گفتگو ہیں کہ بی بی سی اور وائس آف امریکہ جیسے نشریاتی ادارے ان کے بارے میں پروگرام پیش کرتے ہیں، ایمنسٹی اور اقوام متحدہ کے ادارے ان کے بارے میں رپورٹیں جاری کرتے ہیں، بین الاقوامی پریس ان مدارس کے کردار کو موضوع بحث بنا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۱۹۹۹ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter