مذاکرات کے سائے میں

بھٹو صاحب ریفرنڈم کے طمطراقانہ اعلان، قومی اسمبلی سے آئین میں ترمیم کی منظوری، اور قومی اسمبلی کے دوبارہ انتخابات کو یکسر مسترد کر دینے کے بعد ایک روز اچانک تین وفاقی وزراء کے ساتھ سہالہ پہونچے اور ’’قومی اتحاد‘‘ کے سربراہ مولانا مفتی محمود سے ازسرنو مذاکرات کا ڈول ڈالا ۔ اس گفتگو کے نتیجے میں سردار عبد القیوم رہا ہوئے اور ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مئی ۱۹۷۷ء

لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

بھٹو گورنمنٹ نے برسراقتدار آنے کے بعد سے اب تک جتنے پینترے بدلے ہیں اور سوشلزم، جمہوریت اور اسلام کے نام سے جس طرح عوام کو بے وقوف بنانے کی مسلسل کوشش کی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ اس فریب کار گروہ کا آخری حربہ ’’اسلام‘‘ ہے۔ بھٹو صاحب نے لاہور میں ۱۸ اپریل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی اصلاحات کا اعلان کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مئی ۱۹۷۷ء

مولانا چنیوٹی کا دورۂ عرب ممالک اور قادیانیت کے متعلق پارلیمنٹ کا فیصلہ

مولانا منظور احمد چنیوٹی نے جمعیۃ علماء اسلام کے پلیٹ فارم پر تحریکِ ختمِ نبوت کے سلسلہ میں جو نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں وہ کسی پر مخفی نہیں ہیں۔ حضرت مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ کے بعد یہ اعزاز مولانا چنیوٹی ہی کے حصہ میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بیرون ممالک میں قادیانیت کا تعاقب کرنے اور تحریکِ ختمِ نبوت منظم کرنے کے مواقع میسر فرمائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اکتوبر ۱۹۷۴ء

غازی جمال عبد الناصرؒ، عرب اتحاد کا عظیم علمبردار

صدر جمال عبد الناصر ۱۵ جنوری ۱۹۱۸ء کو شمالی مصر کے ایک چھوٹے سے گاؤں بنی مور میں ایک متوسط الحال مصری گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آٹھ برس کی عمر میں انہیں تحصیل علم کے لیے قاہرہ بھیج دیا گیا جہاں انہوں نے نہضۃ المصر ثانوی سکول میں داخلہ کیا۔ ثانوی تعلیم کی تکمیل کے بعد ۱۹۳۷ء میں جب ان کی عمر ۱۹ برس تھی، وہ ملٹری اکیڈمی میں داخل ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اکتوبر ۱۹۷۴ء

بلوچستان: قائد جمعیۃ کا بیان اور قومی پریس

قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحب مدظلہ ۳۰ مارچ کو اسلام آباد سے بہاولنگر جاتے ہوئے تھوڑی دیر کے لیے مرکزی دفتر لاہور میں رکے۔ آپ کے ساتھ سنیٹر حاجی محمد زمان خاں اچکزئی (کوئٹہ) اور سنیٹر حاجی محمد شعیب شاہ (بنوں) بھی تھے۔ اس موقع پر آپ نے ’’بلوچستان بچاؤ کمیٹی‘‘ کے نام سے لاہور میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اپریل ۱۹۷۴ء

حالات و واقعات

مشرقی پاکستان کے حالیہ واقعات اور سیاسی بحران کے بارہ میں بھارت اور اس کے مغربی ہمنوا جو گمراہ کن پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اس کی تردید نسبتاً زیادہ منظم اور گمراہ کن ہے۔ چنانچہ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے، جو تا دمِ تحریر مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، مدیر ترجمان اسلام کے نام ایک مکتوب میں اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اگست ۱۹۷۴ء

سیاست میں تشدد کا رجحان

قلات سے آمدہ ایک رپورٹ کے مطابق مستونگ میں جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان کے امیر اور صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر حضرت مولانا شمس الدین صاحب پر غنڈوں نے قاتلانہ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ان کے کچھ ساتھی زخمی ہو گئے، مگر الحمد للہ کہ مولانا شمس الدین کو کوئی گزند نہیں پہنچا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اکتوبر ۱۹۷۳ء

مولانا محمد یوسف الحسینیؒ

ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کی غرض سے چنیوٹ جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا کہ لائل پور سے فون پر یہ روح فرسا خبر ملی کہ جمعیۃ علماء اسلام ضلع لائل پور کے امیر اور بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد یوسف الحسینیؒ عالم فانی سے رحلت فرما گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جنازہ کا جو وقت بتایا گیا اس پر گوجرانوالہ سے لائل پور پہنچنا مشکل تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ فروری ۱۹۷۴ء

’’عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت اور منکرینِ ختمِ نبوت کا تاریخی پس منظر‘‘

تحریک ختم نبوت کے ساتھ تعلق بحمد اللہ تعالیٰ بچپن سے ہی استوار ہے اور اس میں تسلسل کے ساتھ کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کی توفیق کو اللہ تعالٰی کی بہت بڑی نعمت اور اپنے لیے نجات کا باعث سمجھتا ہوں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں میری عمر صرف پانچ برس تھی مگر والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی گرفتاری اور رہائی کے مناظر ابھی تک ذہن میں محفوظ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جنوری ۲۰۱۸ء

’’ریاست مدینہ: تعارف، پس منظر اور ضرورت و اہمیت‘‘

جناب سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے کے بعد جو ریاستی نظام قائم کیا تھا اور اس نے خلافت راشدہ کے دور میں پورے جزیرۃ العرب کو ایک آئیڈیل اور مثالی ریاست کو حکومت کی صورت میں تبدیل کر دیا تھا، وہ آج دنیا بھر کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے اور دنیا کی ہر قوم کے منصف مزاج دانش وروں نے ہر دور میں اس کا اظہار کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۹ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter