حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی کا دورۂ گوجرانوالہ

اخبارات میں اعلان ہو چکا تھا کہ حضرت مولانا ہزاروی مدظلہ ۱۹ جنوری ۱۹۷۰ء کو بذریعہ کوئٹہ ایکسپریس گوجرانوالہ کے چار روزہ دورہ پر تشریف لا رہے ہیں۔ گاڑی کے وقت پر کافی تعداد میں جماعتی کارکن، کالج سٹوڈنٹس اور اخباری رپورٹرز اسٹیشن پر پہنچے۔ مگر مولانا مدظلہ کسی وجہ سے اس گاڑی پر نہ پہنچ سکے اور بعد میں تیزگام پر تشریف لائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۱۹۷۰ء

حالات و واقعات

صوابی سے صوبائی اسمبلی کی سیٹ کے ضمنی الیکشن میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی دلچسپی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ مرکزی اور صوبائی وزراء کی ایک بڑی کھیپ نے الیکشن پر اثر انداز ہونے کے لیے صوابی میں ڈیرہ جمائے رکھا، اور گزشتہ دو ہفتوں سے تو مرکزی وزیر داخلہ عبد القیوم خاں کے داخلی امور بھی صوابی کے حلقہ میں مرکوز ہو کر رہ گئے تھے، اور الیکشن سے ایک روز قبل خان موصوف نے اس الیکشن کو ریفرنڈم قرار دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جون ۱۹۷۳ء

ایک بار پھر سوچ لیجئے!

جمعیۃ علماء اسلام کے متوازی گروپ کے ساتھ مصالحت کے سلسلہ میں مولانا حبیب گل صاحب کی زیر قیادت ہونے والی سرگرمیوں کی ایک سرسری رپورٹ زیر نظر شمارہ میں آپ ملاحظہ فرمائیں گے۔ جہاں تک جماعتی اختلافات سے ہونے والے نقصانات اور اس کے مضمرات کا تعلق ہے، اس سے دونوں اطراف کے کسی ذی شعور کو انکار نہیں ہو سکتا، اور انہی نقصانات و مضمرات کو سامنے رکھتے ہوئے مصالحت و مفاہمت کے اس عمل کو تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اگست ۱۹۸۳ء

قوتِ اتحاد کا تحفظ کیجئے!

مشرق وسطیٰ میں عرب عوام سامراج اور اس کے پروردہ غنڈے اسرائیل کے خلاف فیصلہ کن جنگ میں مصروف ہیں۔ سینا کے محاذ پر مصر کی بہادر افواج دشمن کو دھکیلتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہیں۔ تاریخ میں ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ بھی اسی میدان میں اسرائیل کے عبرتناک حشر کی یادگار بن چکی ہے۔ گولان کے محاذ پر شام، عراق، سعودی عرب، اردن اور مراکش کے غیور مجاہدین اسرائیل سے نبرد آزما ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء

جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں قائد جمعیۃ مفتی محمود کا خطاب

قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحب نے جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں یکم دسمبر کو صبح ۹ بجے کارکنوں، علماء اور طلبہ کے ایک بھرپور اجلاس سے خطاب کیا۔ اجلاس کی صدارت ضلعی امیر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان نے فرمائی۔ قائد جمعیۃ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کارکنوں پر زور دیا کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ دسمبر ۱۹۷۴ء

تشدد ناکام ہو گا / بلوچستان میں ایرانی فوج؟

موجودہ حکومت نے سیاسی انتقام اور مخالفین پر تشدد کی جو نئی روایات قائم کی ہیں ان کی مثال سیاسی دنیا میں نہیں ملتی۔ اکثریت کو اقتدار سے محروم کر دینا، بنیادی حقوق سے عوام کی محرومی، سیاسی راہنماؤں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ، اپوزیشن کے جلسوں میں مسلح غنڈہ گردی، سیاسی مخالفین کو راشن کی فراہمی میں رکاوٹ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ ستمبر ۱۹۷۳ء

اسلام کے اقتصادی نظام میں صنعتی مزدوروں کی حیثیت کیا ہے؟

صنعتی مزدور کو پیش آمدہ مسائل اور معاشی تحفظ کے فقدان کو دور کرنے کے لیے مختلف حضرات اور پارٹیاں اپنے اپنے پروگرام پیش کر رہی ہیں، اور صنعتی مزدور کے لیے مختلف مراعات اور سہولتوں کا اعلان کر رہی ہیں۔ دین پسند عوام اور علماء حق کی نمائندہ تنظیم ’’جمعیۃ علماء اسلام‘‘ کے مرکزی قائدین بھی اس سلسلہ میں کسی نتیجہ پر پہنچنے کے لیے سوچ بچار کر رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اپریل ۱۹۶۹ء

شہیدِ حریت مولانا سید شمس الدین شہیدؒ

مولانا سید شمس الدین شہیدؒ بلوچستان کے نامور سپوت اور تحریکِ ولی اللہی کے ایک جرأت مند رہنما تھے جنہوں نے ۲۹ سالہ مختصر زندگی میں قومی و دینی جدوجہد کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے بلوچستان کی سیاست میں ایک اہم مقام حاصل کیا اور قومی منظر پر عزیمت و استقامت کا عنوان بن کر ابھرے۔ سید شمس الدین شہیدؒ کی ولادت بلوچستان کے مقام ژوب میں ۲۱ جمادی الاول ۱۳۶۴ھ کو ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ مارچ ۱۹۸۲ء

انسانی حقوق اور قادیانی مسئلہ

روزنامہ جنگ لندن ۹ ستمبر ۱۹۸۷ء کی ایک خبر کے مطابق جنیوا میں انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں حال ہی میں جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں گزشتہ دسمبر میں کمیشن کے ارکان کے دورۂ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے اقلیتوں کے بارے میں امتیازی قوانین کا ذکر کیا گیا اور خاص طور پر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۱۹۸۷ء

اسلامیانِ پاکستان کو ربوہ کا چیلنج

پشاور سے آنے والی بارہ ڈاؤن چناب ایکسپریس پر آج ربوہ ریلوے اسٹیشن پر قادیانی فرقہ کے تقریباً پانچ ہزار افراد نے حملہ کر دیا۔ یہ حملہ اس بوگی پر کیا گیا جس میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے ۱۶۰ طالب علم سوار تھے۔ حملہ آور خنجروں، ہاکیوں، تلواروں اور لاٹھیوں سے مسلح تھے۔ اس حملہ میں ۳۰ طالب علم شدید زخمی ہو گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۷۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter