قانون سازی کا اختیار اور غامدی صاحب

جس طرح بہت سی دواؤں کا سائیڈ ایفیکٹ ہوتا ہے اور ماہر معالجین اس سے تحفظ کے لیے علاج میں معاون دوائیاں شامل کر دیتے ہیں، اسی طرح بہت سی باتوں کا بھی سائیڈ ایفیکٹ ہوتا ہے اور سمجھدار لوگ جب محسوس کرتے ہیں کہ ان کی کسی بات سے کوئی غلط فہمی پیدا ہو رہی ہے تو وہ اس کا ازالہ بھی اپنی اسی گفتگو میں کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ دسمبر ۲۰۰۵ء

شرعی سزائیں اور مغربی فلسفہ

گزشتہ ہفتے بریڈ فورڈ، برطانیہ کے ’’ریڈیو رمضان‘‘ کے ذمہ دار حضرات کی طرف سے فرمائش ہوئی کہ ان کے سامعین سے ٹیلیفون کے ذریعے ’’اسلام کی مقرر کردہ سزائیں اور ان پر شکوک و اعتراضات‘‘ کے حوالے سے گفتگو کروں۔ یہ گفتگو سوالات و جوابات سمیت ایک گھنٹہ سے زیادہ جاری رہی جو براہ راست نشر کی گئی۔ اس کے اہم حصوں کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اکتوبر ۲۰۰۵ء

انسانی حقوق کے خودساختہ نظام کی ناکامی

۱۰ دسمبر اتوار کو دنیا بھر میں ’’انسانی حقوق کا عالمی دن‘‘ منایا گیا، اس روز ۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا وہ عالمی منشور منظور کیا تھا جسے باہمی انسانی حقوق کے لیے معیار سمجھا جاتا ہے، اور تمام ممالک و اقوام سے اس کی پابندی اور اس کے مطابق اپنے ممالک کے قانونی و معاشرتی نظام کو ڈھالنے کا نہ صرف تقاضہ کیا جاتا ہے بلکہ اس پر عملدرآمد کے لیے دباؤ اور بازپرس کے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ دسمبر ۲۰۲۳ء

فہمِ قرآن کے تقاضوں کے حوالے سے ایک بحث

فہمِ قرآن کریم کے تقاضوں کے حوالے سے ان دنوں دو علمی حلقوں میں ایک دلچسپ بحث جاری ہے۔ ایک طرف غلام احمد پرویز صاحب کا ماہنامہ ’’طلوعِ اسلام‘‘ ہے اور دوسری طرف جاوید احمد غامدی صاحب کے شاگرد رشید خورشید احمد ندیم صاحب ہیں۔ طلوعِ اسلام کے ماہِ رواں کے شمارے میں خورشید ندیم صاحب کا ایک مضمون، جس میں انہوں نے پرویز صاحب کی فکر پر تنقید کی ہے، شائع ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ فروری ۲۰۰۵ء

دینی مدارس کے نصاب و نظام میں اصلاحی تدابیر

۳، ۴، ۵ فروری ۲۰۰۷ء کو جامعہ سید احمد شہیدؒ لکھنؤ (انڈیا) میں برصغیر کے دینی نصاب و نظام کے حوالے سے منعقد ہونے والے بین الاقوامی سیمینار کے موقع پر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ (پاکستان) میں اس سیمینار کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ یہ نشست ممتاز ماہرِ تعلیم پروفیسر غلام رسول عدیم کی زیر صدارت ۳ فروری ۲۰۰۷ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں منعقد ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ فروری ۲۰۰۷ء

’’روشن خیالی‘‘ پر ایک نظر

افضال ریحان صاحب ہمارے محترم اور دانشور کالم نویس ہیں جو وسیع تر مطالعہ کی روشنی میں اپنے تاثرات اور خیالات سے قارئین کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ میں بھی ان کے کالموں کا اکثر مطالعہ کرتا ہوں اور بہت سی باتوں سے استفادہ کرتا ہوں، جبکہ بعض امور سے اختلاف بھی ہوتا ہے جو فطری امر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ فروری ۲۰۰۷ء

انسانی حقوق: اسلامی اور مغربی نقطہ ہائے نظر کے بنیادی فرق

انسانی حقوق آج کی دنیا کا ایک اہم موضوع ہے جس پر غالباً سب سے زیادہ گفتگو ہوتی ہے، اور اسلامی تعلیمات کے حوالے سے انسانی حقوق پر گفتگو کے بہت سے پہلو ایسے ہیں جن پر گفتگو ضروری ہے۔ مگر آج کی مجلس میں صرف ایک پہلو پر کچھ گزارشات پیش کرنا چاہوں گا، وہ یہ کہ انسانی حقوق کے آج کے فلسفہ اور حقوقِ انسانی کے اسلامی فلسفہ میں کیا فرق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اکتوبر ۲۰۰۵ء

’’حرمتِ مسجدِ اقصیٰ اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری‘‘ : تین اہم سوالات

مجلسِ اتحادِ امت پاکستان کے زیر اہتمام ۶ دسمبر ۲۰۲۳ء کو اسلام آباد کنونشن سینٹر میں ’’حرمتِ مسجدِ اقصٰی اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری‘‘ کے عنوان پر قومی سیمینار سے خطاب کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں اس اجتماع میں ایک کارکن کے طور پر اپنا نام شمار کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں، اللہ تعالیٰ ہم سب کی حاضری قبول فرمائیں۔ میں بس دو تین سوالات عرض کرنا چاہوں گا، باقی قائدین جو خطاب فرمائیں گے وہ ہمارا ایجنڈا ہوگا ان شاء اللہ تعالیٰ اور اس پر عمل کیا جائے گا۔ مکمل تحریر

۶ دسمبر ۲۰۲۳ء

مسلم معاشروں میں خواتین کے حقوق ۔ مسٹر ڈیوڈ کے سوالات

مسٹر ڈیوڈ نیویارک کے رہنے والے ہیں، امریکہ کے معروف جریدے ’’کرسچین مانیٹر‘‘ سے وابستہ ہیں اور پاکستان میں اس کی نمائندگی کرتے ہیں۔ محترمہ ظل ہما عثمان کے افسوسناک قتل کے حوالے سے مختلف حلقوں کے تاثرات کا جائزہ لینے کے لیے گزشتہ دنوں گوجرانوالہ آئے ہوئے تھے۔ ہمارے محترم دوست راشد بخاری اور عبد الحفیظ طاہر اُن کے ہمراہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ مارچ ۲۰۰۷ء

’’پاکستان کے مذہبی اچھوت‘‘

بعض مذہبی رہنماؤں کی طرف سے ’’پاکستان کے مذہبی اچھوت‘‘ نامی ایک کتاب کے مندرجات پر سخت غم و غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے، جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ دو قادیانی مصنفین تنویر احمد میر اور مرتضیٰ علی شاہ کی مشترکہ کاوش ہے، اور اس میں پاکستان میں قادیانیوں پر ہونے والے مبینہ مظالم کا رونا روتے ہوئے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اصلی اور کھرے مسلمان صرف قادیانی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جولائی ۲۰۰۳ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter