’’نوجوان کیا سوچ رہے ہیں؟ جدید مسائل اور اجتہاد‘‘

اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جسے اس غرض سے تشکیل دیا گیا تھا کہ دستورِ پاکستان میں ملک کے تمام مروجہ قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کی جو ضمانت دی گئی ہے اس کی تکمیل کے لیے حکومتِ پاکستان کی مشاورت کرے۔ اس کی عملی شکل یہ ہے کہ جدید قانون کے ممتاز ماہرین اور جید علماء کرام پر مشتمل ایک کونسل تشکیل دی جاتی ہے جو حکومت کے استفسار پر یا اپنے طور پر ملک میں رائج کسی بھی قانون کا اس حوالے سے جائزہ لیتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جولائی ۲۰۰۶ء

اسلامی نظریاتی کونسل کی علمی اشاعتیں اور ملی مجلس شرعی کا قیام

جامعہ حفصہ کے سانحہ اور دیگر اہم معاملات کے باعث دو علمی مجالس کا تذکرہ مؤخر ہوتا آ رہا ہے، اب اس کا موقع ملا ہے کہ ان کی کچھ تفصیل قارئین کی خدمت میں پیش کر سکوں۔ ایک مجلس کا اہتمام اسلام آباد میں ۲ اگست کو اسلامی نظریاتی کونسل نے کیا، اسی روز بھوربن مری کے مدرسہ تعلیم القرآن میں پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلسِ عاملہ کا اجلاس تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اگست ۲۰۰۷ء

آل پاکستان مینارٹیز الائنس کی ریلی اور چارٹر آف ڈیمانڈ

مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر غیر مسلم اقلیتیں پاکستانی سوسائٹی کا حصہ ہیں اور انہیں وہ تمام سیاسی اور شہری حقوق حاصل ہیں جن کی دستورِ پاکستان میں ان کے لیے ضمانت دی گئی ہے۔ اس لیے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنا، اس کے لیے اجتماع کرنا، اور اپنے مطالبات پیش کرنا ان کا دستوری حق ہے اور اس پر کسی ردعمل یا مخالفانہ تبصرے کا جواز نہیں ہے۔ البتہ چارٹر آف ڈیمانڈ کی بعض باتوں کے بارے میں ہم تحفظات رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اگست ۲۰۰۷ء

جاہلیتِ قدیمہ اور جاہلیتِ جدیدہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ کچھ عرصہ پہلے آسٹریلیا کے ایک سابق وزیر اعظم مسٹر ٹونی ایبٹ کا ایک بیان شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ثقافتیں اور تہذیبیں ایک جیسی نہیں ہوتیں اور مغرب کو آج کی تہذیبی کشمکش میں اپنی برتری ثابت کرنا ہو گی۔ یہ دو جملے ہیں لیکن ان میں ایک طویل داستان ہے، اس حوالے سے میں آپ کے سامنے مجموعی تناظر میں اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے اصولی فرق پر بات کرنا چاہوں گا۔ یہ دونوں تہذیبیں جو اس وقت آمنے سامنے ہیں اور جن کے درمیان انسانی معاشرے میں کشمکش جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۲۳ء

بیت المقدس پر اہلِ اسلام کا استحقاق

کچھ عرصہ سے فلسطین اور بیت المقدس کے حوالے سے گفتگو چل رہی ہے، آج میں اس کے ایک پہلو پر چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔ وہ یہ کہ بیت المقدس پر استحقاق کس کا ہے؟ دعویدار تو یہودی، عیسائی اور مسلمان تینوں ہیں مگر تاریخی حوالے سے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جب تک یہود اہلِ حق تھے اور ’’انی فضلتکم علی العالمین‘‘ کا اعزاز ان کے پاس تھا، بیت المقدس ان کا قبلہ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ نومبر ۲۰۲۳ء

پتنگ بازی پر مستقل پابندی کی سفارش

روزنامہ جنگ لاہور ۲۷ فروری ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق لاہور کی ضلعی حکومت نے صوبہ پنجاب کی حکومت سے سفارش کی ہے کہ لاہور میں پتنگ بازی پر مستقل پابندی لگا دی جائے اور اگر جشن بہاراں یا بسنت کے موقع پر ضروری ہو تو اسے شرائط اور پابندیوں کے ساتھ شہر سے باہر کھلے میدانوں میں محدود کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۴ء

الحاج ابراہیم یوسف باوا کی رحلت

اسلام کے عالمی مبلغ اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ کے خلیفہ مجاز الحاج ابراہیم یوسف باوا گزشتہ روز برطانیہ کے شہر گلاسٹر میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق برما کے دارالحکومت رنگون سے تھا اور وہ ایک عرصہ سے گلاسٹر میں مقیم تھے جہاں وہ ایک دینی ادارہ چلا رہے تھے اور ماہنامہ ’’الاسلام‘‘ کے نام سے جریدہ شائع کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۴ء

پسند کی شادی پر پابندی کا مطالبہ

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۶ ستمبر ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق معروف قانون دان ایم ڈی طاہر نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ دائر کی ہے جس میں عدالتِ عالیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ پسند کی شادی پر پابندی عائد کی جائے اور گھروں سے بھاگ کر والدین کی مرضی کے خلاف شادی کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے قانون سازی کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۴ء

انسانی سوسائٹی میں مذہب کا کردار اور مذہبی راہنماؤں کی ذمہ داری

گزشتہ روز اسلام میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے مذہبی راہنماؤں کا عالمی سطح پر اجلاس ہوا جس میں صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے بھی شرکت کی۔ اس سیمینار کا اہتمام وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے راہنماؤں نے کیا اور اس میں پاکستان کے علاوہ بعض مغربی ممالک سے بھی مختلف مذاہب کے مذہبی پیشواؤں نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۴ء

دینی مدارس میں سرچ آپریشنز کی سرکاری مہم

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۲ اگست ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق تمام مکاتبِ فکر کے دینی مدارس کے وفاقوں پر مشتمل ’’اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ‘‘ نے دینی مدارس اور مساجد پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چھاپوں اور سرچ آپریشنز کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجی مہم منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ملک کے مختلف شہروں میں بھرپور کنونشن منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter