مولانا قاری سعید الرحمٰنؒ
مولانا قاری سعید الرحمٰن کو بھی اللہ تعالیٰ نے علمی، مسلکی اور تحریکی ذوق سے بہرہ ور فرمایا تھا اور راولپنڈی صدر میں کشمیر روڈ پر ان کے قائم کردہ تعلیمی ادارہ جامعہ اسلامیہ کو ان حوالوں سے مرکزیت کا مقام حاصل تھا۔ ایک دور میں شیخ الحدیثؒ حضرت مولانا عبد الحقؒ آف اکوڑہ خٹک راولپنڈی تشریف لانے پر ان کے ہاں قیام کیا کرتے تھے۔ جامعہ اسلامیہ کو مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی فرودگاہ ہونے کا شرف بھی حاصل تھا بلکہ حضرت بنوریؒ کی وفات راولپنڈی میں ہوئی تو ان کی پہلی نماز جنازہ جامعہ اسلامیہ میں ہی ادا کی گئی جس میں شرکت کی مجھے بھی سعادت حاصل ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا سید امیر حسین شاہؒ گیلانی
مولانا سید امیر حسینؒ گیلانی اس وقت پاکستان میں موجود چند گنے چنے فضلائے دیوبند میں سے تھے اور ان کے ساتھ جماعتی زندگی میں میرا طویل رفاقت کا دور گزرا ہے۔ ان کا تعلق مہاجرین کشمیر سے تھا اور ان کے خاندان کے بہت سے افراد گوجرانوالہ میں رہتے تھے اس لیے ان کا گوجرانوالہ اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ انہوں نے جماعتی اور تحریکی زندگی کا آغاز 1953ء کی تحریک ختم نبوت سے کیا اور وہ ملاقاتوں میں اس دور کے حالات اور اپنی سرگرمیاں بتایا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ
17 اگست کو صبح ڈیٹرائٹ کی مسجد بلال میں فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد واشنگٹن واپسی کے لیے ایئرپورٹ جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ مولانا قاری محمد الیاس نے اطلاع دی کہ علامہ علی شیر حیدریؒ کو شہید کر دیا گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ مسجد میں آنے سے پہلے انٹرنیٹ پر جنگ اخبار دیکھ کر آئے تھے جس کی اس دن پہلی خبر یہی تھی۔ واشنگٹن پہنچ کر انٹرنیٹ کے ذریعہ ہی تفصیلات معلوم کیں، بے حد صدمہ ہوا۔ وہ تحفظ ناموس صحابہؓ اور اہل سنت کے عقائد و حقوق کے دفاع کے محاذ کے ایک اہم راہنما تھے جن کی پوری زندگی اسی مشن میں گزری ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ
ہمیں خاندانی طور پر گزشتہ ہفتے کے دوران ایک بڑے صدمہ سے دوچار ہونا پڑا کہ میرے بہنوئی مولانا قاری خبیب احمد عمر کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے بزرگ اور مخدوم حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کے فرزند تھے اور حضرت کی وفات کے بعد گزشتہ گیارہ برس سے جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے مہتمم اور جامع مسجد گنبد والی کے خطیب کی حیثیت سے ان کی جانشینی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ میری چھوٹی بہن ان کی اہلیہ ہیں جو جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام للبنات جہلم میں گزشتہ ربع صدی سے تدریس کی خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا محمد امین اورکزئیؒ اور ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمیؒ کی شہادت
میں ابھی تک اس گومگو کی کیفیت میں ہوں کہ مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ اور ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی شہیدؒ کے حوالے سے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کس کا ذکر پہلے کروں۔ اول الذکر پاک فوج کے جیٹ طیاروں کی بمباری سے شہید ہوئے ہیں اور ثانی الذکر کو ایک خودکش بمبار نے ان کی قیمتی جان سے محروم کر دیا ہے۔ دونوں کا تعلق دینی مدارس سے تھا اور دونوں دینی تعلیم کے ذریعہ ملک و ملت کی خدمت کر رہے تھے۔ مولانا محمد امین اورکزئی ہنگو میں جامعہ یوسفیہ کے استاذ تھے جبکہ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی لاہور میں جامعہ نعیمیہ کے مہتمم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت ابراہیمؑ اور مذاہب عالم
حضرت ابراہیمؑ کا بنیادی پیغام توحید ہی ہے لیکن ان کا یہ امتیاز بھی ہے کہ ان کی توحید صرف فکری اور قولی نہیں بلکہ عملی اور فعلی بھی تھی۔ اس لیے کہ انہوں نے بت پرستی کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ کھلم کھلا پوری قوم کو بت پرستی ترک کر کے ایک اللہ کی بندگی کرنے کی تلقین کی اور بت پرستی کے خلاف عملی کاروائی بھی کی۔ اور جہاں حضرت ابراہیمؑ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ تمام آسمانی مذاہب ان کی طرف اپنی نسبت کرنے پر فخر کرتے ہیں وہاں یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی ذات گرامی اور شخصیت کو اسلام کا راستہ روکنے کے لیے بطور شیلٹر بھی استعمال کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا طارق جمیل کے مدرسے کا دورہ
مولانا طارق جمیل کو گزشتہ روز ایک نئے روپ میں دیکھا تو دل سے دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس مشن اور پروگرام میں کامیابی اور ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں، آمین۔ مولانا موصوف کا تعلق تلمبہ خانیوال کے ایک کھاتے پیتے زمیندار گھرانے سے ہے۔ تبلیغی جماعت سے تعلق قائم ہوا تو اس میں اس رفتار سے آگے بڑھے کہ اسی کے ہو کر رہ گئے۔ مولانا دعوت و تبلیغ کے عمل سے وابستہ ہوئے تو تنہا تھے کہ خاندان میں کوئی اس کار خیر پر شاباش دینے والا نہیں تھا لیکن یہ ان کی استقامت اور جہد مسلسل کا ثمر ہے کہ اب پورا خاندان بلکہ پورا علاقہ اس نیک عمل میں ان کا دست و بازو ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد انظر شاہ کشمیریؒ
27 اپریل کو ہم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی کی یاد میں تعزیتی جلسہ کی تیاریوں میں تھے کہ مجلس احرار اسلام پاکستان کے نومنتخب سیکرٹری جنرل عبد اللطیف خالد چیمہ نے فون پر اطلاع دی کہ خاتم المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے فرزند اور دارالعلوم (وقف) دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ صاحبؒ کا دہلی میں انتقال ہوگیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر ان سے تفصیلات معلوم کرنا چاہیں تو انہوں نے بتایا کہ سردست یہی خبر آئی ہے کہ حضرت شاہ صاحبؒ رحلت فرما گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ مرحوم
قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ روز ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان کے تازہ شمارے میں ان کی وفات کی خبر پڑھی تو دل سے رنج و صدمہ کی ایک لہر اٹھی اور ماضی کے بہت سے اوراق ایک ایک کر کے نگاہوں کے سامنے الٹتے چلے گئے۔ قاری صاحب مرحوم خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان اللہ شجاع آبادیؒ کے داماد تھے اور انہی کے تربیت یافتہ تھے۔ وہ ملتان کی سرگرم دینی اور سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے، وکالت کرتے تھے اور ملتان بار کے فعال ارکان میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی
مولانا ثناء اللہ چنیوٹی نے بتایا کہ جنازہ اور اس کے بعد چنیوٹ کے تعزیتی جلسہ میں میری غیر حاضری کو دوستوں نے بہت زیادہ محسوس کیا اور لوگ بار بار میرے بارے میں پوچھتے رہے۔ آج گوجرانوالہ کی ایک محفل میں بھی دوستوں نے اس بات کا بطور خاص تذکرہ کیا، جن حضرات کو مولانا چنیوٹیؒ کے ساتھ میرے ربط و تعلق کا علم تھا، ان کے لیے یہ بات مزید غم کا باعث بنی کہ ان کی وفات اور جنازہ کے موقع پر میں ہزاروں میل دور امریکہ میں تھا اور بے بسی کے عالم میں ان کی یادیں ذہن میں تازہ کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی وفات ۔ ہم سب کا مشترکہ صدمہ
والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی وفات پر تعزیت کا سلسلہ جاری ہے اور دنیا بھر سے فون آرہے ہیں۔ جن کو موقع ملتا ہے وہ زحمت فرما کر تشریف لاتے ہیں اور ہمارے ساتھ غم و صدمہ کا اظہار کرتے ہیں۔ میں اپنے سب بھائیوں اور بہنوں اور دیگر اہل خاندان کی طرف سے ان تمام دوستوں، احباب، بزرگوں، اور ہمدردوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے کسی بھی ذریعہ سے ہمارے ساتھ ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور حضرت والد محترمؒ کے لیے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ سب کو دنیا و آخرت میں اس کا اجر جزیل دیں، آمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے
بھارت سے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا سہارنپوریؒ کے فرزند مولانا محمد طلحہ اور لکھنؤ سے مولانا سید سلمان ندوی اور مولانا یحییٰ نعمانی مدیر الفرقان کی طرف سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ جبکہ برطانیہ سے مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا محمد یعقوب القاسمی، مولانا اکرام الحق خیری، مولانا محمد قاسم، شیخ عبد الواحد، مولانا محمد اشرف قریشی، حافظ ضیاء المحسن طیب اور دیگر علماء نے فون پر تعزیت کی اور بتایا کہ مختلف شہروں میں مساجد و مدارس میں حضرت شیخ کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور دعائے مغفرت کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
والدِ محترم کے سفر آخرت کا احوال
حضرت والد صاحبؒ کی وفات کے روز ہم سب گکھڑ میں جمع ہوئے تو جنازے کے لیے موزوں وقت اور تدفین کے مقام کے بارے میں باہمی مشورہ ہوا۔ گکھڑ میں سب سے بڑا گراؤنڈ ڈی سی ہائی اسکول کا ہے، ہم نے صبح اسے ایک بار دیکھا تو اندازہ ہوا کہ اس میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد نماز جنازہ ادا کر سکیں گے۔ ہمارا خیال اسی کے لگ بھگ تھا مگر شام کو جنازے کے وقت دیکھا تو ہمارا اندازہ درست نہیں تھا کیونکہ گراؤنڈ اس قدر بھر گیا تھا کہ اندر مزید لوگوں کے آنے کی گنجائش نہیں رہی تھی۔ جبکہ باہر جی ٹی روڈ اور اس کے ساتھ ملحقہ دو سڑکوں پر عوام کا بے پناہ ہجوم تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ
والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ گزشتہ آٹھ نو برس سے صاحب فراش تھے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کی یادداشت آخر وقت تک قائم رہی اور علمی دلچسپی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ نظر کمزور ہوگئی تھی اور کسی کو دیکھ کر نہیں پہچانتے تھے لیکن تعارف کرانے پر ساری باتیں ان کو یاد آجاتیں اور پھر وہ جزئیات تک دریافت کرتے تھے۔ مجھے جمعہ کے دن شام کو تھوڑی دیر کے لیے حاضری کا موقع ملتا، جب طبیعت کچھ بحال ہوتی تو کسی نہ کسی کتاب سے کچھ سنانے کی فرمائش کرتے اور احادیث کی کسی کتاب سے میں انہیں چند احادیث سنا دیتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا عبد الرحیم اشعرؒ
مولانا عبد الرحیم اشعرؒ کا تعلق عقیدۂ ختم نبوت کے محاذ پر قادیانیت کا مقابلہ کرنے والے سرفروش قافلے سے تھا جنہوں نے اس دور میں قادیانیت کو سرعام للکارا جب ملک میں فوج اور سول کے بہت سے کلیدی مناصب پر قادیانیوں کا تسلط تھا، قادیانیوں کے عقائد و کردار پر کسی جلسہ یا رسالے میں تنقید جرم تصور ہوتی تھی، قادیانیت کے ساتھ تعلق کے اظہار کو مختلف محکموں میں ترقی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اور برسرعام ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانے والوں کے سینے گولیوں سے چھلنی ہو جایا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
محمد ظہیر میر ایڈووکیٹ مرحوم
محمد ظہیر میر جمعیۃ طلباء اسلام میں درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری جنرل کے منصب تک جا پہنچے۔ یہ وہ دور تھا جب جے ٹی آئی پورے ملک میں متحرک تھی اور دینی مدارس کے ساتھ ساتھ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی اس کے سینکڑوں یونٹ قائم تھے جو فعال بھی تھے اور ملک بھر میں اس کا نیٹ ورک ہر سطح پر کام کر رہا تھا۔ میں خود جے ٹی آئی کے ابتدائی ارکان میں سے ہوں اور ایک عرصہ تک اس کا متحرک رکن رہا ہوں مگر اب یہ نام زبان پر آتے ہی حسرت کی کیفیت دل و دماغ پر طاری ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آصف علی زرداری ۔ منتخب آ ئینی صدر
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صدارت کے لیے جناب آصف علی زرداری کی نامزدگی اور انتخاب ان حلقوں اور دوستوں کے لیے بہرحال آسانی سے قبول کی جانے والی بات نہیں تھی جن سے میری ملاقاتیں ہوتی رہیں، اس لیے اکثر تاثرات منفی ہی سننے میں آئے۔ ایک مجلس میں دوستوں نے کہا کہ ایجنڈا وہی ہے صرف ٹیم تبدیل ہوئی ہے، امریکہ نے تھکے ہوئے گھوڑے کی بجائے تازہ دم گھوڑے کا اہتمام کر لیا ہے، اس لیے اب وہ ایجنڈا زیادہ قوت کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ ایک محفل میں بحث چل پڑی کہ جنرل پرویز مشرف میں اور آصف زرداری میں کیا فرق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی شہیدؒ
ہمارے ہاں دہشت گردی کا کھیل ایک عرصے سے جاری ہے۔ یہ دہشت گردی زبان کے مسئلے پر بھی ہوئی ہے، قومیت کے مسئلے پر بھی ہوئی ہے، شیعہ سنی تنازع میں بھی اس دہشت گردی کی تاریخ بہت تلخ ہے، اور اب یہ نفاذ شریعت کے نام پر ہو رہی ہے۔ ہمیں دراصل وہ ہاتھ تلاش کر کے اسے بے نقاب کرنا ہوگا جو ہمیں مختلف ناموں سے آپس میں لڑاتا رہتا ہے اور خود ہمارے ہاتھوں ہماری گردنیں کٹوا کر اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے۔ جب تک ہم اس خفیہ ہاتھ کو بے نقاب نہیں کرتے، دہشت گردی کا یہ گھناؤنا کھیل کسی نہ کسی بہانے جاری رہے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بیگم نسیم ولی خان کی یاد دہانی کے لیے
محترمہ بیگم نسیم ولی خان نے ایک خصوصی انٹرویو میں یہ بات فرمائی ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر نہیں بلکہ جمہوریت کے نام پر بنا تھا اور خفیہ اداروں نے مذہبی جنونیت کو تقویت دی ہے۔ محترمہ بیگم نسیم ولی خان ملکی سیاست میں اہم مقام اور کردار رکھتی ہیں اور میرے لیے اس وجہ سے بھی قابل احترام ہیں کہ میں نے 1977ء کی تحریک نظام مصطفیٰ میں ان کی قیادت میں ایک کارکن کے طور پر کام کیا ہے۔ چونکہ محترمہ اور ان کا خاندان تحریک پاکستان کا حصہ نہیں تھے اس لیے اس حوالے سے ان سے کچھ گزارش کرنا شاید مناسب نہ ہو مگر دو حوالے انہیں ضرور یاد دلانا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
توہینِ رسالت کی سزا اور بائبل
بشپ چرچ آف پاکستان جناب ڈاکٹر اعجاز عنایت کے متوازن اور حقیقت پسندانہ خیالات اس حوالے سے حوصلہ افزا ہیں کہ انہوں نے معروضی صورتحال کا بہتر تجزیہ کیا ہے اور اس سازش کو بروقت بھانپ لیا ہے جو پاکستان میں مسلم اکثریت اور مسیحی اقلیت کے درمیان غلط فہمیوں کو فروغ دینے اور اس کے ذریعے لادینیت کے سیکولر ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مفاد پرست عناصر کی طرف سے مسلسل جاری ہے۔ لیکن کیا پاپائے روم عالمی استعمار کی بولی بولنے کی بجائے بائبل اور پاکستانی مسیحی رہنماؤں کی پکار پر توجہ دینے کے لیے تیار ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ
23 مارچ 1947ء کو دارالعلوم دیوبند میں مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ نے اپنے خطاب میں کہا کہ’’۔۔۔امریکہ کو خطرہ ہے کہ اگر ہندوستان کو اسی حالت میں چھوڑ دیا گیا تو ہندوستان کی سوشلسٹ حکومت روس کے ساتھ مل کر ایک زبردست بلاک بنا لے گی جس کی وجہ سے ایشیا میں امریکہ کا ناطقہ بند ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری تھا کہ ہندوستان اور روس کے درمیان ایک ایسی ریاست قائم کر دی جائے جس کی وجہ سے یہ دونوں ملک آپس میں مل کر کوئی مضبوط محاذ نہ بنا سکیں۔ پاکستان کی ضرورت صرف اتنی سی ہے۔ جب تک پاکستان امریکہ کی یہ ضرورت پوری کرتا رہے گا قائم رہے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ
حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ کی جدوجہد کا بنیادی میدان دعوت و تبلیغ تھا اور وہ خود پر اس کے علاوہ کسی اور کام کی چھاپ نہیں لگنے دیتے تھے۔ البتہ دینی جدوجہد کے دیگر شعبوں سے لاتعلق بھی نہیں رہتے تھے بلکہ مشورے اور رہنمائی کی حد تک اس میں ضرور شرکت کرتے تھے۔ فیصل آباد میں دینی تحریکات کو ہمیشہ ان کی سرپرستی اور راہنمائی حاصل رہی ہے۔ خود مجھے جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے متعدد بار ان کی شفقتوں اور مشوروں سے حصہ ملا ہے بلکہ بعض اوقات ان کی سرزنش کے مراحل سے بھی گزرا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دفاع وطن اور اسوۂ حسنہ
نامور مؤرخ و محدث امام ابن سعدؒ کی تحقیق کے مطابق جناب رسول اللہؐ نے مدینہ منورہ کی دس سالہ زندگی میں ستائیس کے لگ بھگ غزوات میں خود شرکت فرمائی۔ ان میں اقدامی جنگیں بھی تھیں اور دفاعی جنگیں بھی شامل تھیں۔ مثلاً (۱) بدر (۲) خیبر (۳) بنو مصطلق اور (۴) فتح مکہ کی جنگیں اقدامی تھیں کہ آنحضرتؐ ان جنگوں میں دشمن پر خود حملہ آور ہوئے تھے۔ جبکہ (۱) احد (۲) احزاب اور (۳) تبوک کی جنگیں دفاعی تھیں کہ حملہ آور دشمنوں سے مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے حضورؐ میدان جنگ میں آئے تھے اور دشمنوں کو اپنے ارادوں میں ناکامی ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ۔ مولانا سید سلمان ندوی کے خیالات
سلمان ندوی نام کے تین بزرگ اس وقت ہمارے معاصر اہل علم و دانش میں معروف ہیں۔ ایک ڈاکٹر سید سلمان ندوی ہیں جو معروف کتاب ’’سیرت النبیؐ‘‘ کے مصنف علامہ سید سلیمان ندویؒ کے فرزند ہیں اور ڈربن یونیورسٹی جنوبی افریقہ میں شعبہ اسلامیات کے سربراہ رہے ہیں۔ دوسرے مولانا سید سلمان الحسینی ندوی ہیں جو رشتہ میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے نواسے لگتے ہیں اور ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ الحدیث ہیں۔ جبکہ تیسرے مولانا سلمان ندوی میرپور ڈھاکہ میں دارالارشاد کے نام سے ایک علمی ادارے کے ذریعے دینی و علمی خدمات میں مصروف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ
میو ہسپتال پہنچا تو بہت زیادہ رش تھا اور بظاہر ان تک رسائی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ کمرے کے دروازے پر گوجرانوالہ کے ایک اہل حدیث نوجوان کی ڈیوٹی تھی جو علامہ شہیدؒ کے ذاتی دوستوں میں سے تھے اور مجھے پہچانتے تھے۔ انہوں نے ہمت کر کے اس قدر رش کے باوجود مجھے ان کے بیڈ تک پہنچایا۔ میں نے علامہ شہیدؒ کے چہرے کی طرف دیکھا، آنکھیں چار ہوئیں، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس حالت میں وہ مجھے پہچان پائیں گے۔ ان کے لبوں کو حرکت ہوئی تو میں نے کان قریب کر لیے، وہ کہہ رہے تھے کہ ’’حضرت صاحب سے میرے لیے دعا کی درخواست کرنا‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ
حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ کی وفات صرف اہل حدیث حضرات کے لیے باعث رنج و صدمہ نہیں بلکہ پاکستان کے اسلامی تشخص کے تحفظ اور ملک میں نفاذ شریعت کی جدوجہد سے تعلق رکھنے والا ہر مسلمان اور ہر پاکستانی ان کی جدائی سے غمزدہ ہے۔ جن بزرگ اہل حدیث علمائے کرام کے ساتھ میرا عقیدت اور نیاز مندی کا تعلق رہا ہے ان میں حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ بھی شامل ہیں۔ میں نے جب اردو لکھنا پڑھنا شروع کی تو بالکل ابتداء میں جو چند کتابیں میرے مطالعہ میں آئیں ان میں آغا شورش کاشمیری مرحوم کی ’’خطبات احرار‘‘ بھی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فاروق ستار کے مغالطے
ایم کیو ایم کے رہنماجناب فاروق ستار نے اس کنونشن میں جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اس کے بارے میں ہم اپنے تحفظات کا اظہار ضروری سمجھتے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق (۱) ان کا کہنا یہ ہے کہ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سے تعلق رکھتا ہے، بیت اللہ محسود جیسے دہشت گردوں سے نہیں۔ یہ ملک سب کا ہے اور یہاں کوئی اکثریت اقلیت نہیں۔ (۲) اس کے ساتھ ہی انہوں نے صدر اور وزیراعظم کے لیے مسلمان ہونے کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ صدر اور وزیراعظم کا انتخاب اقلیتوں میں سے بھی ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نواب محمد اکبر خان بگٹی مرحوم
نواب محمد اکبر خان بگٹی کے افسوسناک قتل نے جہاں ماضی کی بہت سی تلخ یادوں کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے وہاں مستقبل کے حوالہ سے بھی انجانے خدشات و خطرات کی دھند ذہنوں پر مسلط کر دی ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جو کچھ ہوا ہے درست نہیں ہوا اور اس کے نتائج ملک و قوم کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں، اس پر حکومتی پارٹی اور اپوزیشن میں اختلاف نہیں ہے اور متحدہ مجلس عمل اور اے آر ڈی کے ساتھ ساتھ چودھری شجاعت حسین اور میر ظفر اللہ خان جمالی بھی اس پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
محکمہ ڈاک اور پی آئی اے کی ’’حسن کارکردگی‘‘
محکمہ ڈاک اور پی آئی اے کے بارے میں اپنی ان تازہ شکایتوں کا قارئین سے تذکرہ تو کر دیا ہے مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ باضابطہ شکایت کس سے کروں؟ جی چاہتا ہے کہ یہ شکایت امریکی سفیر محترمہ کرسٹینا روکا سے کروں کہ وہ ان دنوں ہماری ’’وزیر امور ہند‘‘ ہیں۔ ان سے یہ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے کہ ہم پر انگریزوں نے بھی ڈیڑھ دو سو برس حکومت کی ہے اور آزادی اور خودمختاری کے لیے ان سے ہماری کشمکش جاری رہتی تھی مگر محکمانہ نظام اور سرکاری ملازمین کی کارکردگی کا معیار انہوں نے قائم رکھا ہوا تھا جسے اب تک یہاں کے لوگ یاد کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بھی رخصت ہوئے
والد گرامیؒ عمر بھر دینی و قومی تحریکات میں حصہ لیتے رہے، تحریک آزادی میں جمعیۃ علماء ہند کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا، 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں کم و بیش دس ماہ اور 1977ء کی تحریک نظام مصطفیٰ میں ایک ماہ تک جیل میں رہے۔ طویل عرصہ تک جمعیۃ علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کے امیر رہے اور نفاذ شریعت کی جدوجہد میں سرگرم حصہ لیتے رہے۔ وہ اہل سنت کے دیوبندی مکتب فکر کے علمی ترجمان سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے مسلکی اختلافات کے حوالہ سے مختلف موضوعات پر پچاس سے زیادہ ضخیم کتابیں لکھی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 123
- 124
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »