غلامی کے مسئلہ پر ایک نظر
غلامی کا رواج قدیم دور سے چلا آ رہا ہے۔ بعض انسانوں کو اس طور پر غلام بنا لیا جاتا تھا کہ وہ اپنے مالکوں کی خدمت پر مامور ہوتے تھے، ان کی خرید و فروخت ہوتی تھی، انھیں آزاد لوگوں کے برابر حقوق حاصل نہیں ہوتے تھے اور اکثر اوقات ان سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا تھا۔ جدید دنیا میں بھی ایک عرصے تک غلامی کا رواج رہا۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں، جسے جدید دنیا کی علامت کہا جاتا ہے، غلامی کو باقاعدہ ایک منظم کاروبار کی حیثیت حاصل تھی۔ افریقہ سے بحری جہازوں میں افراد کو بھر کر لایا جاتا تھا اور امریکہ کی منڈیوں میں فروخت کیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حدود آرڈیننس اور تحفظ حقوق نسواں بل
مغربی معاشرہ اور قوانین میں رضامندی کا زنا سرے سے جرم ہی تصور نہیں ہوتا اور اس سلسلے میں کوئی بھی امتناعی قانون انسانی حقوق کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ اسلام اسے سنگین ترین جرم قرار دیتا ہے اور سنگسار کرنے اور سو کوڑوں کی سخت ترین سزا اس جرم پر تجویز کرتا ہے۔ اس واضح تضاد کو مغربی سوچ کے مطابق دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حدود آرڈیننس کے اس حصے کو یا تو بالکل ختم کر دیا جائے، اور اگر اسے کلیتاً ختم کرنا ممکن نہ ہو تو اسے ایسے قانونی گورکھ دھندوں میں الجھا دیا جائے کہ ایک ’’شو پیس‘‘ سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت باقی نہ رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
محترم جاوید احمد غامدی اور ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی کی توضیحات
حدود آرڈیننس ہوں یا کوئی بھی مسئلہ اور قانون، مسلمات کے دائرے میں رہتے ہوئے بحث و مباحثہ ہمارے نزدیک نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ وقت کا ایک ناگزیر تقاضا اور ضرورت بھی ہے جس کی طرف ہم روایتی علمی حلقوں کو مسلسل توجہ دلاتے رہتے ہیں، اور مختلف حوالوں سے بعض دوستوں کی ناراضی کا خطرہ مول لیتے ہوئے بھی اس کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ البتہ اس کے ساتھ ہم پورے شعور کے ساتھ اس بات کی بھی کوشش کرتے ہیں کہ ہماری زبان اور قلم سے کوئی ایسا جملہ نہ نکلنے پائے جو اسلامی تعلیمات کی نفی کرنے والوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عقل کی حدود اور اس سے استفادہ کا دائرہ کار
آج مغرب کے پاس اپنے فکر وفلسفہ کو دنیا سے منوانے کے لیے سب سے بڑی دلیل یہی ’’عقل عام‘‘ اور ’’کامن سینس‘‘ ہے۔ لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ جس عقل عام اور کامن سنس کو واحد عالمی معیار قرار دے کر دنیا سے منوانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ صرف مغرب کی عقل عام ہے اور اسی کا کامن سنس ہے۔ اس کے معلومات و مشاہدات کا دائرہ باقی دنیا سے مختلف ہے، اس کے مدرکات ومحسوسات کی سطح باقی دنیا سے الگ ہے اور اس کے تاریخی پس منظر اور تجربات کا ماحول دوسری دنیا سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام کا قانون ازدواج اور جدید ذہن کے شبہات
جناب نبی اکرم ﷺ کی گیارہ شادیاں اور قرآن کریم میں مسلمانوں کو چار تک شادیاں کرنے کی اجازت ایک عرصہ سے مغربی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اعتراض وطعن کا عنوان بنی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی سامنے آجاتاہے کہ جب ایک مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے تو عورت کو بیک وقت چارشادیاں کرنے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟ حدود آرڈیننس پر گزشتہ دنوں چھیڑی جانے والی بحث کے دوران مختلف حلقوں کی طرف سے یہ سوالات میڈیا کے ذریعے اٹھائے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حدود آرڈیننس اور اس پر اعتراضات
یہ بات درست ہے کہ حدود آرڈیننس کا وہ حصہ جس کا تعلق تطبیق ونفاذ کی عملی صورتوں سے ہے، حرف آخر نہیں ہے اور موجودہ عدالتی نظام کے پس منظر میں ان میں سے بعض باتوں پر نظر ثانی ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ یکطرفہ بات ہے۔ اس لیے ’’حدود‘‘ کے نفاذ کو جس عدالتی نظام کے رحم وکرم پر چھوڑ دیاگیاہے، وہ بجائے خود محل نظر ہے اور نیچے سے اوپر تک اس کی ہر سطح اور ماحول چیخ چیخ کر نظر ثانی کا مطالبہ کر رہاہے۔ حدود آرڈیننس کے نفاذ سے جو مشکلات اور شکایات عملی طور پر سامنے آئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام، جمہوریت اور پاکستانی سیاست
۱۹۴۷ء میں جب پاکستان وجود میں آیا تھا تو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اسلام اور جمہوریت کو پاکستان کی بنیاد قرار دیا تھا۔ اور اس عزم اور وعدے کے ساتھ قیام پاکستان کی جدوجہد کو منزل مقصود تک پہنچایا تھا کہ پاکستان ایک جمہوری ریاست ہوگی جو اسلامی اصولوں کے دائرے میں کام کرے گی اور نئے دور میں دنیا کو اسلامی اصولوں کے تحت ایک جمہوری ریاست اور فلاحی معاشرے کا عملی نمونہ دکھائے گی۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد سے اب تک اسلام اور جمہوریت دونوں کے ساتھ مسلسل گلی ڈنڈا کھیلا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تہذیبی چیلنج ۔ سیرت طیبہؐ سے رہنمائی لینے کی ضرورت
اس وقت عالمی سطح پر فکرو فلسفہ اور تہذیب وثقافت کے مختلف رویوں کے درمیان کشمکش اور تصادم کے بڑھتے ہوئے امکانات کی جوصورت حال پید اہوگئی ہے اور جس میں اسلام ایک واضح فریق کے طور پر سامنے آرہاہے، اس کے پیش نظر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت وتعلیمات کے زیادہ سے زیادہ تذکرہ کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے۔ اس لیے کہ اس تہذیبی اور فکری کشمکش میں قرآن کریم اور سنت نبویؐ ہی سے ہم صحیح سمت کی طرف رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس: علمی وفکری دائرے میں وسعت کی ضرورت
معلومات کی وسعت، تنوع اور ثقاہت کا مسئلہ بھی غور طلب ہے۔ کسی بھی مسئلہ پر بات کرتے ہوئے ہم میں سے اکثر کی معلومات محدود، یک طرفہ اور سطحی ہوتی ہیں۔ الاّ یہ کہ کسی کا ذوق ذاتی محنت اورتوجہ سے ترقی پاجائے اور وہ ا س سطح سے بالا ہو کر کوئی کام کر دکھائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تحقیق، مطالعہ اور استدلال واستنباط کے فن کو ایک فن اور علم کے طور پر دینی مدارس میں پڑھایا جائے اور طلبہ کو اس کام کے لیے باقاعدہ طور پر تیار کیاجائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مغرب، توہین رسالت اور امتِ مسلمہ
جہاں تک مغرب کا تعلق ہے تو وہ اپنے ذہن سے وحی اور پیغمبر دونوں کو اتار چکاہے ۔اور اس کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ مغرب کے پاس نہ وحی اصل حالت میں موجود ہے اور نہ ہی پیغمبروں کے حالات وتعلیمات کاکوئی مستند ذخیرہ اسے میسر ہے، اس لیے اس نے سرے سے ان دونوں سے پیچھا ہی چھڑا لیا ہے۔ اور اب وہ مسلمانوں سے یہ توقع اور پر زور مطالبہ کررہا ہے کہ وہ بھی وحی اور پیغمبر کو اپنے ذہن سے اتار دیں اور اپنے جذبات اور احساسات کے دائرے میں انہیں کوئی جگہ نہ دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ڈاکٹر یوگندر سکند کے خیالات
بھارت کے معروف دانشور ڈاکٹر یوگندرسکند گزشتہ دنوں پاکستان آئے، چند روز لاہور میں قیام کیا، حیدر آباد اور دیگر مقامات پر بھی گئے، دو دن ہمارے ہاں گوجرانوالہ میں قیام کیا، الشریعہ اکادمی کی ایک نشست میں سرکردہ علماء کرام اور اساتذہ و طلبہ سے بھارت کی مجموعی صورتحال خاص طور پر مسلمانوں کے حالات پر گفتگو کی اور مختلف حضرات سے ملاقاتوں کے بعد بھارت واپس چلے گئے۔ ڈاکٹر یوگندرسکند کے والد سکھ تھے، والدہ کا تعلق ہندو خاندان سے تھا اور خود اپنے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ خدا کی ذات پر یقین رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ماہنامہ الشریعہ کی سترہویں جلد کا آغاز
ہماری بھرپور کوشش رہی ہے کہ پیش آمدہ مسائل پر دینی حلقوں میں بحث ومباحثہ کاماحول پیدا ہو اور کسی بھی مسئلہ پر اپنا موقف پیش کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے فریق کا موقف اور دلائل بھی حوصلہ اور اطمینان کے ساتھ سننے اور پڑھنے کا مزاج بنے ۔ ۔ ۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تحقیق، مطالعہ، مباحثہ اور مکالمہ کی روایت ابھی تک جڑ نہیں پکڑ سکی اور چند شخصیات کے استثنا کے ساتھ عمومی ماحول یہی ہے کہ دلائل کی روشنی میں رائے قائم کرنے کے بجائے رائے قائم کر کے اس کے لیے دلائل تلاش کیے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
برطانیہ اور امریکہ کے حالیہ سفر کے چند تاثرات
۱۱ ستمبر کو میں نے ان دوستوں سے عرض کیا کہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے علاقے میں جانا چاہتا ہوں اور وہاں کے مناظر کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے تاثرات بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ شام کو وہاں یادگاری تقریب ہوگی، ا س موقع پر یا اس سے قبل وہاں جانا مناسب نہیں ہوگا۔ رات نو بجے کے بعد وہاں چلیں گے اور جو دیکھنا ہوگا، دیکھ لیں گے۔ چنانچہ رات کو نو بجے کے بعد وہاں پہنچے تو ہزاروں افراد مختلف ٹولیوں کی صورت میں اس علاقے میں گھوم رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
متاثرین زلزلہ اور ہماری مذہبی واخلاقی ذمہ داری
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ یہ تھی کہ ایسے مواقع پر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پریشانی کا اظہار فرماتے اور کثرت سے استغفار کرتے تھے، اس لیے ہمارے لیے بھی اسوۂ نبوی یہی ہے کہ توبہ واستغفار کا اہتمام کریں اور اپنے اعمال وکردار پر نگاہ کرتے ہوئے ان کی اصلاح کی کوشش کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ اور استغفار کو اجتماعی طور پر اپنا معمول بنائیں۔ زلزلہ سے متاثر ہونے والے بھائیوں کی مدد ہماری دینی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے جس کے لیے ہمیں تمام ممکن ذرائع اختیار کرنے چاہئیں اور ان کی بحالی و آبادی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
الشریعہ اکادمی: اہداف اور کارکردگی
۲۷ اگست کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی سالانہ تقریب میں بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے صدارت کی، جبکہ جامعہ اسلامیہ ٹرسٹ کامونکی کے مہتمم مولانا عبد الرؤف فاروقی مہمان خصوصی تھے اور ان کے ساتھ گوجرانوالہ بار ایسوسی ایشن کے سینئر رکن چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ بھی خصوصی مہمانوں کی نشست پر تشریف فرما تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سوشل گلوبلائزیشن کا ایجنڈا اور علماء کرام کی ذمہ داریاں
یہ گلوبلائزیشن انسانی معاشرے کے ارتقا کا نام ہے جسے سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے عروج تک پہنچا دیا ہے اور نسل انسانی کے معاشرتی ارتقا اور سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی کے امتزاج نے پوری انسانی آبادی کو ایک دوسرے کے نہ صرف قریب کر دیا ہے بلکہ ذہنوں اور دلوں کے فاصلے بھی کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس گلوبلائزیشن کا اپنا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ یہ صرف ارتقا کا ایک عمل ہے جو اپنی انتہا کی طرف فطری رفتار سے بڑھ رہا ہے، البتہ گلوبلائزیشن کے حوالے سے دنیا میں مختلف ایجنڈوں پر کام ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا کامیاب کنونشن
جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کا خطاب ’’دینی مدارس کنونشن‘‘ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے دینی مدارس کے مقصد قیام کی وضاحت کی اور بتایا کہ ان دینی مدارس کا قیام معاشرے میں دینی راہ نمائی فراہم کرنے اور مسجد ومدرسہ کا نظام باقی رکھنے کے لیے رجال کار کی فراہمی کی غرض سے عمل میں آیا تھا اور دینی مدارس اپنا یہ کام خیر وخوبی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دینی مدارس سے کوئی اور تقاضا کرنا، نا انصافی کی بات ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خدمت حدیث: موجودہ کام اور مستقبل کی ضروریات
پہلے سنجیدگی کے ساتھ یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم مستقبل کی طرف بڑھنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں؟ کیا ہم نے زمانے کے سفر میں اسی مقام پر ہمیشہ کے لیے رکنے کا تہیہ کر لیا ہے جہاں ہم اب کھڑے ہیں؟ اور اگر ہم واقعی مستقبل کی طرف سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں اور اس کی زمام کار اپنے ہاتھ میں لینے کے دعوے میں بھی سنجیدہ ہیں تو اس کے لیے ہمیں آگے بڑھنا ہوگا اور آگے بڑھنے کے وہ تمام منطقی تقاضے پورے کرنا ہوں گے جو ہمارے بزرگ اور اسلاف ہر دور میں پورے کرتے آ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کی اسناد اور رجسٹریشن کا مسئلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس سے قبل عبوری فیصلے میں دینی مدارس کی اسناد رکھنے والوں کو بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی مگر الیکشن کے پہلے مرحلے سے صرف دو روز قبل حتمی فیصلہ صادر کر کے یہ قرار دے دیا کہ دینی مدارس کے وفاقوں سے شہادۃ ثانیہ رکھنے والے افراد نے چونکہ مطالعہ پاکستان، انگلش اور اردو کے لازمی مضامین کا میٹرک کے درجے میں امتحان نہیں دیا، اس لیے اس سند کو میٹرک کے مساوی تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور اس سند کے حاملین بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ڈاکٹر مہاتیر محمد کے فکر انگیز خیالات
ہم اکیسویں صدی عیسوی میں رہ رہے ہیں، ساتویں صدی میں جو چیزیں تھیں وہ قطعی طور پر تبدیل ہو گئی ہیں۔ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو آج روز مرہ کا معمول ہیں لیکن چودہ سو سال پہلے ان کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ہم میں سے بعض لوگ اسلام کی پہلی صدی کے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف اسی ماحول میں سچے مسلمان بن سکتے ہیں۔ ایسا کرکے وہ اسلام کی تکذیب کر رہے ہیں۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ اسلام کا قانون اور تعلیمات صرف چودہ سو سال پہلے کے معاشرے کی مناسبت سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عالم اسلام اور مغرب: متوازن رویے کی ضرورت
آج مغرب اور عالم اسلام میں مکالمہ کی جو ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور جس ڈائیلاگ کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کو سمجھنے میں کہیں نہ کہیں غلطی ضرور کی ہے۔ مغرب ہمیں سمجھنے میں مغالطوں کا شکار ہوا ہے اور ہم نے مغرب کو سمجھنے میں فریب کھائے ہیں۔ اگر یہ مکالمہ اور ڈائیلاگ ان غلطیوں کی نشان دہی اور فریب کے دائروں سے نکلنے کے لیے ہوں تو اس کی ضرورت، اہمیت اور افادیت سے انکار کی کوئی گنجایش نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ماہنامہ آب حیات کا انٹرویو
مختلف طبقات اور گروہ اپنے اپنے مفادات کی سیاست کر رہے ہیں اور اجتماعی وقومی سیاست کا کوئی ماحول آج تک قائم نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے قومی معاملات پر سیاست دانوں کی گرفت نہیں ہے اور وہ دیگر طاقت ور قوتوں کے آلہ کار سے زیادہ کوئی کردار اپنے لیے حاصل نہیں کر سکے۔ سیاست دانوں کی اپنی نااہلی کے ہاتھوں ہم قومی خود مختاری سے محروم ہو چکے ہیں اور ہمارے معاملات کا کنٹرول ہمارے پاس نہیں رہا۔ دینی سیاست کی علم بردار جماعتیں بھی اصولی اور نظریاتی سیاست کے بجائے معروضی سیاست پر آگئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بھارت میں غیر سرکاری شرعی عدالتوں کا قیام
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی کوششوں میں یہ بات بھی شامل رہتی ہے کہ مسلمان اپنے نکاح وطلاق کے تنازعات اور دیگر باہمی معاملات شرعی عدالتوں کے ذریعے سے حل کرائیں۔ اسی مقصد کے لیے پرائیویٹ سطح پر شرعی عدالتوں کے قیام کا تجربہ کیا جا رہا ہے جہاں تحکیم کی صورت میں دونوں فریق مقدمہ لاتے ہیں اور شرعی عدالتیں ’حکم‘ کی حیثیت سے ان کا فیصلہ صادر کرتی ہیں۔ صوبہ بہار میں امارت شرعیہ کے نام سے یہ پرائیویٹ نظام بہت پہلے سے قائم ہے جس میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سنی شیعہ کشیدگی۔ چند اہم معروضات
ہم جمہور علماء اہل سنت کے اس موقف سے متفق ہیں کہ جو شیعہ تحریف قرآن کریم کا قائل ہے، اکابر صحابہ کرام کی تکفیر کرتا ہے اور حضرت عائشہؓ پر قذف کرتا ہے، وہ مسلمان نہیں ہے ۔نیز ہم امت کی چودہ سو سالہ تاریخ کے مختلف ادوار میں شیعہ کے سیاسی کردار کے حوالے سے بھی ذہنی تحفظات رکھتے ہیں، لیکن اس کی بنیاد پر ان کے خلاف کافر کافر کی مہم، تشدد کے ساتھ ان کو دبانے اور کشیدگی کا ماحول پیدا کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ہمارا اس حوالہ سے موقف یہ ہے کہ عقائد اور تاریخی کردار کے حوالہ سے باہمی فرق اور فاصلہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سنی شیعہ کشیدگی: فریقین ہوش کے ناخن لیں
سنی شیعہ مسلح کشمکش میں بیرونی عوامل کی کارفرمائی سے انکار نہیں اور ہم اس کی کئی بار اپنی معروضات میں نشان دہی کر چکے ہیں، لیکن بنیادی طور پر یہ مسئلہ اہل سنت اور اہل تشیع کی محاذ آرائی کا ہے اور خارجی عوامل کے لیے بھی آلہ کار اور ایندھن کا کام ہر دو طرف کے جذباتی نوجوان سرانجام دیتے ہیں۔ اس لیے دیگر عوامل ومحرکات سے سردست صرف نظر کرتے ہوئے اہل سنت اور اہل تشیع کے رہنماؤں، بالخصوص جذباتی نوجوانوں سے دو گزارشات کرنے کو جی چاہ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عالمی استعمار اور مسلم حکومتوں کا موقف
اگر مسلم حکومتیں ان جہادی تحریکات کے بارے میں امریکی بولی بولنے اور انھیں ریاستی جبر کا نشانہ بنانے کے بجائے صرف یہ اعتماد دلا دیں کہ عالم اسلام کی آزادی، مسلم ممالک کی خود مختاری، اور اسلامی اقدار کی سربلندی کے بارے میں وہ ان کے موقف کو اصولی طور پر درست سمجھتے ہوئے ان کے ہتھیار بکف ہونے کے طریق کار کو غلط قرار دیتی ہیں، اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو وہ ان کے اصولی موقف کی حمایت اور ترجمانی کرنے کے لیے تیار ہیں تو بہت سی جہادی تحریکوں کو ہتھیار ڈالنے اور اپنی جدوجہد کو پرامن طریقہ سے آگے بڑھانے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جہاد، مستشرقین اور مغربی دنیا
جہاد کا مقصد کافروں کو زبردستی اسلام قبول کرانا نہیں بلکہ انہیں اس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ وہ بے شک اپنے مذہب پر قائم رہیں، اس پر آزادی کے ساتھ عمل کریں، اور اپنے دائرے میں اس کی تعلیم بھی دیں، لیکن انسانی سوسائٹی پر ’’آسمانی تعلیمات‘‘ کی بالادستی اور فروغ میں رکاوٹ نہ بنیں اور ان کے مقابل نہ ہوں۔ کیونکہ آسمانی تعلیمات کا یہ حق ہے کہ ان کا انسانی آبادی میں کسی روک ٹوک کے بغیر فروغ ہو اور ان کی دعوت وتعلیم کی راہ میں کوئی مزاحم نہ ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس میں تحقیق وتصنیف کی صورت حال
دینی مدارس کی قیادت کو آج کے اس خوفناک چیلنج کا ادراک واحساس کرنا چاہیے جو عالمی تہذیبی کشمکش کے حوالے سے مسلم امہ کو درپیش ہے اور جس میں انسانی حقوق اور گلوبلائزیشن کے عنوان سے مسلمانوں کے عقائد وافکار، تہذیب وثقافت، خاندانی نظام، معاشرتی اقدار اور مسلم ممالک کے اسلامی تشخص کو پامال کر دینے کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔ اس کشمکش کے علمی، اعتقادی اور ثقافتی پہلوؤں کو اجاگر کرنا، فکر وفلسفہ اور علم وتحقیق کے جدید ہتھیاروں کے ساتھ اس یلغار کا سامنا کرنا اور مسلمانوں کو اس سیلاب بلا سے محفوظ رکھنے کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جدید معاشرے میں مذہبی طبقات کا کردار ۔ ڈاکٹر یوگندر سکند کا سوالنامہ
پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے دینی مدارس کا ماحول، اہداف، طریق کار اور اسلوب کم وبیش یکساں ہے اور تمام خوبیوں اور خامیوں میں وہ برابر کے شریک ہیں۔ البتہ بھارت میں ندوۃ العلماء کی طرز پر جو کام ہو رہا ہے، پاکستان میں وہ کام اس سطح پر نہیں ہو رہا۔ اس کی اپنی افادیت اور ضرورت ہے اور پاکستان میں بھی اس طرز کے ادارے قائم ہونے چاہئیں۔ خود ہم نے چند برس قبل گوجرانوالہ میں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے نام سے جو پروجیکٹ شروع کیا تھا، اس میں ہمارے پیش نظر ندوۃ العلماء ہی تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کیا موجودہ عالمی کشمکش تہذیبی نہیں ہے؟
اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کا کمیشن اور دیگر بہت سے بین الاقوامی ادارے اس چارٹر کے حوالے سے دنیا بھر کی صورت حال کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور ہر سال مختلف رپورٹیں منظر عام پر آتی ہیں جن میں یہ بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے کون کون سے ممالک میں ان حقوق کی کس حد تک خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ان رپورٹوں کی بنیاد پر بیشتر ممالک اور عالمی ادارے متعلقہ ملکوں کے بارے میں اپنی پالیسیوں کی ترجیحات قائم کرتے ہیں اور ان کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 149
- 150
- اگلا صفحہ ›
- آخر »