اہم قومی مسائل پر ملی مجلسِ شرعی کا موقف

ملی مجلس شرعی پاکستان تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام کا ایک مشترکہ علمی و فکری فورم ہے جو گزشتہ ڈیڑھ عشرہ سے قومی و دینی مسائل میں سرگرم عمل ہے۔ پاکستان کی نظریاتی شناخت کا تحفظ، ملک میں دستور کے مطابق شرعی قوانین کا نفاذ، مسلم تہذیب و روایات کی پاسداری، قومی خودمختاری اور تعلیمی نظام و نصاب کی پہرے داری اس کے بنیادی اہداف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۲۲ء

امارتِ اسلامی افغانستان کو تسلیم نہ کرنے کی اصل وجہ

افغانستان کی صورتحال یہ ہے کہ امریکہ اور نیٹو کی افواج کو اپنی ناکامی کے اعتراف کے ساتھ وہاں سے واپسی کو کچھ عرصہ گزر چکا ہے، امارتِ اسلامی افغانستان نے اپنی حکومت قائم کر لی ہے جسے پورے افغانستان میں کنٹرول حاصل ہے ،امن و امان کی صورتحال پہلے سے کہیں بہتر ہے، اور نئے حکمران بار بار کہہ رہے ہیں کہ انہیں موقع دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جنوری ۲۰۲۲ء

افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کی مہم

پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے افغان عوام کے ساتھ یکجہتی و ہم آہنگی کے اظہار کے لیے ’’عشرۂ یکجہتی افغانستان‘‘ منانے کا اعلان کیا گیا تھا جو دس جنوری کو مکمل ہو گیا ہے جبکہ امیر محترم مولانا مفتی محمد رویس خان ایوبی نے یہ سلسلہ جنوری کے آخر تک جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس سلسلہ میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی طرف سے جاری کردہ اعلان درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جنوری ۲۰۲۲ء

سورۃ الرحمٰن اور جدید سائنس

سائنس ایک عرصہ تک معقولات اور فلسفہ کا حصہ رہی ہے اور اس کے مباحث عقلیات کے دائرے میں ہوتے رہے ہیں۔ مگر جب سائنس معقولات کے ماحول سے آگے بڑھ کر مشاہدات اور تجربات کے دور میں داخل ہوئی تو اس وقت مغرب کی مذہبی قیادت مسیحیت کے پاس تھی اور پوپ اور چرچ کے ہاتھ میں مذہبیت کی باگ ڈور تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جنوری ۲۰۲۲ء

حلال و حرام کے دائرے اور حکمِ خداوندی

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں عقیدہ اور عبادت کے بعد جس موضوع پر سب سے زیادہ توجہ دلائی ہے وہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے مسائل ہیں۔ حلال و حرام کھا نے پینے اور لباس کے معاملات میں بھی ہے، باہمی تعلقات و حقوق کے حوالہ سے بھی ہے، اور کلام و گفتگو کے دائرہ میں بھی ہے۔ آج اس کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ دسمبر ۲۰۲۱ء

ترک صدر اور سودی نظام

روزنامہ اسلام لاہور ۲۲ دسمبر ۲۰۲۱ء کی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) ترک صدر رجب اردگان اردوان نے شرح سود میں اضافے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں وہ کروں گا جو دین کہے گا۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مجھ سے شرح سود میں اضافے کی کوئی امید نہ رکھی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۲۲ء

’’عشرہ یکجہتی افغانستان‘‘ کا لائحہ عمل

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا مفتی محمد رویس خان ایوبی نے نئے عیسوی سن کا آغاز ’’عشرۂ یکجہتی افغانستان‘‘ کے عنوان کے ساتھ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے لیے کونسل کا اعلامیہ درج ذیل ہے: دنیا کے تمام ممالک، بالخصوص مسلم حکومتیں اور حکومت پاکستان امارت اسلامی افغانستان کی حکومت کو باضابطہ تسلیم کرنے کا فوری اعلان کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ دسمبر ۲۰۲۱ء

خاندانی نظام، سیڈا معاہدہ اور سعودی وزیرخارجہ

سعودی عرب نے (سیڈا) CEDAW سے متعلق اقوام متحدہ کی دستاویز کو مسترد کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا ہے۔ سعودی عرب اسلامی شریعت کی دفعات کو کافی سمجھتے ہوئے سیڈا کے عدمِ تعمیل کا اعلان کرتا ہے۔ بدقسمتی سے کچھ عرب ممالک نے سیڈا سے اتفاق کرنا شروع کر دیا ہے۔ مکمل تحریر

۲۸ دسمبر ۲۰۲۱ء

۲۴ دسمبر کو ’’یومِ افغانستان‘‘ منایا جائے

۲۲ دسمبر کے اجلاس کے حوالہ سے جمعیۃ علماء پاکستان کی جاری کردہ رپورٹ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے، ملک بھر کے دینی احباب سے گزارش ہے کہ اس تسلسل کو قائم رکھنے اور اس میں وسعت کے لیے سرگرمی کے ساتھ ہر سطح پر محنت کریں تاکہ ہم افغان بھائیوں کی بروقت اور مؤثر امداد و حمایت کے لیے اپنی ملی و دینی ذمہ داری صحیح طور پر ادا کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ دسمبر ۲۰۲۱ء

افغانستان کی صورتحال – سنجیدہ توجہ کی ضرورت

افغانستان کی صورتحال اور ہماری دینی و ملی ذمہ داریوں کے حوالہ سے دینی و سیاسی حلقوں کو توجہ دلانے کے لیے پاکستان شریعت کونسل کی رابطہ مہم جاری ہے، اس سلسلہ میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کےتین اجلاسوں کی کارگزاری پیش خدمت ہے۔ تفصیلی گذارشات ۲۲ دسمبرکے اجلاس کے بعد پیش کروں گا ان شاء اللہ تعالیٰ۔ مکمل تحریر

۱۹ دسمبر ۲۰۲۱ء

سری لنکا کے ہائی کمشنر سے علماء کرام کی ملاقات

سات دسمبر منگل کا دن اسلام آباد میں خاصا مصروف گزرا، اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے سیالکوٹ کے سانحہ کے حوالہ سے سرکردہ علماء کرام کی باہمی مشاورت اور سری لنکا کے ہائی کمیشن میں تعزیت اور اظہار یکجہتی کے لیے حاضری کے پروگرام میں شرکت کا پیغام ملا تو اطمینان ہوا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس قسم کے اہم مسائل پر کردار ادا کرنے کا عزم کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ دسمبر ۲۰۲۱ء

افغانستان کا بحران اور ہمارا افسوسناک طرز عمل

روزنامہ اسلام لاہور کی خبر کے مطابق امارتِ اسلامی افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی محمد امیر خان متقی اپنے وفد کے ہمراہ دوحہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ افغانستان کی تازہ ترین صورتحال کے حوالہ سے امریکی حکمرانوں سے مذاکرات کریں گے۔ جبکہ اخبار کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات جناب فواد چوھدری نے اسلام آباد میں اے پی پی کے ملازمین کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلحہ کی جنگ تو ختم ہو گئی اب باتوں کی جنگ جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جنگ ساڑھے تین گھنٹے میں ختم ہو گئی تھی جب کابل کے حکمران بھاگ گئے تھے اور امریکہ جنگ ہار گیا تھا مگر اب باتوں اور بیانیہ کی جنگ جاری ہے۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۲۱ء

نبی آخر الزمانؐ اور اہلِ کتاب

ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’الذین اٰتیناھم الکتاب یعرفونہ کما یعرفون ابنائھم‘‘ جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں۔ یعنی انہیں رسول اللہؐ کو پہچاننے میں کوئی دیر نہیں لگی مگر انکار کر دیا جس کی وجہ قرآن کریم نے یہ بیان کی ہے کہ ’’حسدًا من عند انفسھم‘‘ انہوں نے حسد کی وجہ سے ایمان لانے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ وہ نہ صرف نبی آخر الزمانؐ کا انتظار کر رہے تھے بلکہ ’’کانوا یستفتحون علی الذین کفروا من قبل‘‘ اپنے مخالفوں کے خلاف نبی اکرمؐ کی برکت سے فتح کی دعائیں کیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ نومبر ۲۰۲۱ء

دستور کی عملداری اور وفاداری ۔ تین سوالات

حضراتِ علماء کرام اور قابل صد احترام شرکاء محفل! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ عقیدۂ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالتؐ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت اور عقیدت کے اظہار کے اس محاذ پر عالمی مجلس کی کوششوں سے سرگرمیاں مسلسل جاری رہتی ہیں، اللہ تعالیٰ ترقیات اور برکات نصیب فرمائے۔ دو تین باتیں آپ سے عرض کرنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اکتوبر ۲۰۲۱ء

سیرۃ النبیؐ اور علاج و پرہیز

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں محترم بھائی ڈاکٹر فضل الرحمن (ایم ایس) کا، ان کے رفقاء کا، اور یہاں کی انتظامیہ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہء حسنہ کے حوالے سے محفل کا انعقاد کیا اور مجھے بھی موقع بخشا کہ میں آپ حضرات کے ساتھ اس مبارک محفل میں بیٹھوں اور اس کی برکات حاصل کروں - - - مکمل تحریر

۱۰ اکتوبر ۲۰۲۱ء

قرآن و سنت کے احکام اور ہمارا عدالتی نظام

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ ۲۷ اکتوبر ۲۰۲۱ء کی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’جسٹس فائز عیسیٰ نے سوات میں جائیداد کی تقسیم سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ کوئی عدالت یا جرگہ وراثتی جائیداد کی تقسیم کے شرعی قانون کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ جرگے کے فیصلے کے ذریعے دین الٰہی کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا - - - مکمل تحریر

نومبر ۲۰۲۱ء

تحفظ ناموس رسالت ۔ جدوجہد کی موجودہ صورتحال

کالعدم تحریک لبیک کی طرف سے سڑکوں پر دھرنا اور احتجاج کئی دنوں سے جاری ہے اور کئی دنوں تک چلے گا، اس سلسلہ میں صورتحال اور اپنا موقف عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا اقوام متحدہ، یورپی یونین اور تمام بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ چلا آ رہا ہے کہ جس طرح کسی بھی ملک میں عام شہری کی توہین جرم سمجھی جاتی ہے، حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کو بھی بین الاقوامی سطح پر جرم تسلیم کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اکتوبر ۲۰۲۱ء

مسلم ریاست میں تعلیمی اداروں کی ذمہ داری

پہلی بات تو میں عمومی موضوع کے حوالے سے کہنا چاہوں گا کہ پاکستان اور ریاست مدینہ جسے موجودہ حکومت کا تصور بیان کیا جاتا ہے، جبکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ بھی یہی بات کرتے رہے ہیں، اور مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ بھی یہی بات کرتے رہے ہیں، اس لیے پہلی گزارش یہ کروں گا کہ تحریک پاکستان اور پاکستان کی ریاست کے جو فکری رہنما ہیں، میں سر سید احمد خان سے شروع کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ ستمبر ۲۰۲۱ء

تہذیبی یلغار اور حضرت جعفر بن ابی طالبؓ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ابھی ہمارے شہر کے معروف قاری جناب قاری حماد انور نفیسی نے قرآن کریم کی بہت خوبصورت لہجہ میں تلاوت کی ہے اور ان سے پہلے مولانا ندیم احمد نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی تلاوت کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائش پر کی تھی جبکہ ایک تلاوت قرآن کریم کا میں تذکرہ کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اکتوبر ۲۰۲۱ء

سیدنا حضرت ابوہریرہؓ کے حافظہ کا امتحان

بعد الحمد والصلوٰۃ! حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو احادیث مبارکہ کو یاد کرنے کا خصوصی ذوق تھا، جہاں بیٹھتے حدیثیں بیان کرتے تھے۔ جب انہوں نے بہت زیادہ حدیثیں بیان کرنا شروع کر دیں تو آخر عمر میں کچھ لوگوں کو یہ خدشہ پیدا ہوا کہ وہ بوڑھے ہو گئے ہیں، پتہ نہیں ان کا حافظہ ٹھیک کام کرتا ہے یا نہیں؟ جان بوجھ کر غلط بیان کرنا اور بات ہے لیکن اگر کسی کا حافظہ کمزور ہو تو ممکن ہے کہ بات ادھر کی ادھر بیان کر دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اکتوبر ۲۰۲۱ء

محسنِ ملت ڈاکٹر عبد القدیر خان کی رحلت

محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان بھی ہم سے رخصت ہو گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ایک ایٹمی سائنسدان کے طور پر انہوں نے وطن عزیز اور عالمِ اسلام کی جو خدمت کی وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور اس پر انہیں غیروں کے ساتھ ساتھ اپنا کہلانے والوں کی طرف سے کردارکشی اور حوصلہ شکنی کے جن کربناک مراحل سے گزرنا پڑا وہ بھی تاریخ کے ایک سیاہ باب کی صورت میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اکتوبر ۲۰۲۱ء

تحریک تحفظ مدارس و مساجد پاکستان کو منظم کرنے کا فیصلہ

۱۶ ستمبر کو جامعہ محمدیہ اسلام آباد میں مختلف مکاتبِ فکر کا ایک اہم اجلاس ’’تحریک تحفظ مدارس و مساجد پاکستان‘‘ کی دعوت پر منعقد ہوا، جس میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا، اس فورم کا قیام متنازع اوقاف قوانین کے نفاذ کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف فکر کے سرکردہ علماء کرام کی مشترکہ کاوشوں سے عمل میں لایا گیا تھا اور اس کے تحت اس قانون پر عملدرآمد کو رکوانے کے لیے مؤثر جدوجہد کی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۲۱ء

مسلم حکومتیں اور اسلامی نظام

آج میں آپ حضرات کو موجودہ معروضی حالات میں اسلام کے قانون و نظام کو کسی بھی سطح پر تسلیم کرنے والی مسلم حکومتوں کی صورتحال سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جن کے دستور و قانون میں اسلام کا نام شامل ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اسلامی حکومتیں اور ریاستیں ہیں۔ سعودی عرب، پاکستان اور ایران تو سب کے سامنے ہیں البتہ مراکش میں بھی سربراہ مملکت کو امیر المؤمنین کہا جاتا ہے جس کا پس منظر اس وقت میرے سامنے نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ ستمبر ۲۰۲۱ء

قومی زبان — عدالتِ عظمٰی اور بیوروکریسی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک بار پھر ملک میں اردو کے سرکاری طور پر نفاذ کی صورتحال کا نوٹس لیا ہے اور جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے سے متعلق توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی ہے جس میں اردو کو فوری طور پر رائج نہ کرنے پر وفاقی حکومت جبکہ پنجابی زبان کو صوبے میں رائج نہ کرنے پر پنجاب حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ ستمبر ۲۰۲۱ء

عشرۂ دفاعِ وطن و ختم نبوت کی چند جھلکیاں

ستمبر کا پہلا عشرہ اس سال بھی خاصی گہماگہمی میں گزرا۔ یوم دفاع، یوم فضائیہ اور یوم بحریہ کی رونقوں کے ساتھ ساتھ یوم ختم نبوت کی مصروفیات نے قوم کے تمام طبقات کو مصروف رکھا اور مجھے بھی مختلف تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ ۵ ستمبر کو لاہور میں مجلس احرار اسلام پاکستان کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں حاضری دی اور معروضات پیش کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ ستمبر ۲۰۲۱ء

چھ اور سات ستمبر کی ختم نبوت کانفرنسوں کی اہمیت و ضرورت

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چھ ستمبر کو لیاقت باغ راولپنڈی اور سات ستمبر کو مینارِ پاکستان لاہور کے وسیع میدان میں جو تاریخی ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں ان کی تیاریوں کے سلسلہ میں یہ اجتماعات ہو رہے ہیں اور ان میں شرکت کو باعث سعادت سمجھتے ہوئے چند گزارشات پیش کر رہا ہوں۔ پہلی بات یہ کہ عقیدۂ ختم نبوت، ناموسِ رسالتؐ، خاندانی نظام کے تحفظ اور مسجد و مدرسہ کی آزادی کے لیے جدوجہد کے جو مراحل اس وقت درپیش ہیں ان میں یہ بات سب دوستوں کے پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۲۰۲۱ء

افغانستان کی موجودہ صورتحال اور ہماری ذمہ داری

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کل افغانستان کی صورتحال دینی اور سیاسی حلقوں میں، تقریباً ہر جگہ زیر بحث ہے اس مناسبت سے دو تین گزارشات میں عرض کرنا چاہوں گا۔ (۱) پہلی بات یہ کہ افغان قوم کی عظمت اور حریت پسندی کو سلام ہو کہ اس نے بیرونی دخل اندازی اور غیر ملکی تسلط کو ہمیشہ کی طرح اب بھی مسترد کر دیا ہے۔ افغانستان پر برطانیہ نے قبضہ کی کوشش کی تھی جب انہوں نے متحدہ ہندوستان پر قبضہ کیا تھا تو برطانیہ کو ناکامی ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اگست ۲۰۲۱ء

افغانستان میں طالبان کا نیا دور۔ توقعات و خدشات

کابل میں طالبان کے پُراَمن داخلہ پر اطمینان و مسرت کے اظہار کے لیے آج جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں طلبہ نے قرآن خوانی کا اہتمام کیا، قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کی کلاس میں طلبہ نے مکمل قرآن کریم کی قراءت کی اور جہاد افغانستان کے مختلف مراحل کے شہداء اور مرحوم راہنماؤں کو ایصالِ ثواب کیا گیا۔ اس موقع پر راقم الحروف نے درج ذیل خطاب کیا اور بزرگ استاذ مولانا عبد القیوم گلگتی کی پرسوز دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۲۱ء

آزادی کے اہداف اور درپیش خطرات

آج ہمارا یوم آزادی ہے، ۱۴ اگست کو ہمیں برطانوی استعمار کی غلامی سے آزادی ملی تھی اور اسی روز پاکستان کے نام سے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی خودمختار نظریاتی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس لیے یہ دوہری خوشی کا دن ہے چنانچہ اس روز پاکستانی عوام ملک بھر میں بلکہ دنیا میں جہاں بھی وہ آباد ہیں، آزادی اور نئے وطن کی خوشی میں تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس مناسبت سے ماضی قدیم کی ایک تحریک آزادی کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جس کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے اور جس کی قیادت حضرات انبیائے کرام علیہم السلام نے فرمائی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اگست ۲۰۲۱ء

فرقانِ حمید اور فاروقِ اعظمؓ

قرآنِ کریم نے اپنا دوسرا نام ’’الفرقان‘‘ بتایا ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ’’الفاروق‘‘ کے لقب سے معروف ہیں، دونوں کا معنٰی حق و باطل میں فرق کرنے والا بنتا ہے۔ جبکہ اس لفظی مناسبت کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے حوالہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زندگی بھر کا طرز عمل بھی اس مشابہت و مماثلت کی گواہی دیتا ہے جس کی چند جھلکیاں پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اگست ۲۰۲۱ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter