گھریلو تشدد کی روک تھام کے قانون پر ہمارے تحفظات

ہماری آج کی گفتگو کا موضوع ایک نیا قانون ہے جو صوبوں میں نافذ ہو گیا ہے اور مرکز میں نافذ ہونے جا رہا ہے، جس کو ”گھریلو تشدد کی روک تھام کا قانون“ کہتے ہیں۔ اس پر ملک بھر کے دینی حلقوں نے اعتراض کیا ہے کہ یہ شرعی احکام کے خلاف ہے ، ہماری تہذیبی روایات کے خلاف ہے، دستور کے خلاف ہے اور مسلمہ انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ اس پر بحث چل رہی ہے اور مختلف مکاتب فکر کے دینی حلقے اپنے اپنے ذوق کے مطابق بات کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۲۰۲۱ء

دینی جدوجہد کے ناگزیر تقاضے اور ہمارا اصل محاذ

بعد الحمد والصلوٰة۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کا شکر گزار ہوں کہ مختلف دینی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سرکردہ حضرات کے اس اجتماع میں شرکت اور کچھ عرض کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ اجتماع سات ستمبر کو مینار پاکستان لاہور کے وسیع میدان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلہ میں منعقد ہوا ہے اور اس میں کانفرنس کو بھرپور کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے مختلف پروگرام تشکیل دیے جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جولائی ۲۰۲۱ء

دینی مدارس کی اسناد کا توجہ طلب مسئلہ

ہری پور ہزارہ کے حضرت مولانا حکیم عبد السلامؒ ہمارے محترم بزرگوں میں سے تھے، تحریک آزادی کے نامور راہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا ہے، میری ان سے نیازمندی رہی ہے اور کئی بار ان کی خدمت میں حاضری اور شفقتیں سمیٹنے کی سعادت ملی ہے۔ ان کے فرزند میجر (ر) محمد طارق مرحوم محکمہ تعلیم سے وابستہ رہے ہیں اور ایک دور میں ثانوی تعلیمی بورڈز کی کسی مشترکہ کمیٹی کے سیکرٹری کے طور پر انہوں نے خدمات سر انجام دی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۲۱ء

چھ اگست – یومِ تحفظِ نظامِ خاندان

ملی مجلس شرعی پاکستان کی طرف سے گھریلو تشدد کی روک تھام کے قوانین کے حوالے سے جاری کیے گئے سرکلر کا متن قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ گھریلو تشدد کی روک تھام کا قانون مختلف صوبوں میں اس سے قبل متعلقہ اسمبلیوں سے منظور ہو کر نافذ ہو چکا ہے جبکہ اسلام آباد کی حدود کے لیے اس قانون کا بل ابھی منظوری کے مراحل میں ہے ۔اس قانون کا مقصد گھر کی چار دیواری کے اندر ہونے والے مبینہ تشدد کو روکنا اور اسے قابل سزا جرم قرار دینا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اگست ۲۰۲۱ء

تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا پس ِ منظر اور نئی حکومت سے توقعات

ریاست آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات مکمل ہو گئے ہیں اور حسبِ روایت پاکستان میں برسراقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن میں واضح پوزیشن حاصل کر کے آئندہ مدت کے لیے حکومت سازی کا محاذ سنبھال لیا ہے، جبکہ اپوزیشن نے حسبِ روایت دھاندلی کے الزامات کے ساتھ نتائج قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، لیکن اگر باقی سب کچھ بھی حسبِ روایت ہوا تو اگلی ٹرم میں آزاد جموں و کشمیر کے حکمران تحریک انصاف کے عنوان سے ریاست میں حکومت کے فرائض سرانجام دیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جولائی ۲۰۲۱ء

سوویت یونین، افغانستان اور امریکی اتحاد

یہ اس دور کی بات ہے جب افغانستان سے سوویت یونین کی افواج کی واپسی کے بعد امریکہ ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے ’’ابھی اسلام باقی ہے‘‘ کا نعرہ لگا کر اپنی جنگ کے اگلے راؤنڈ کی نشاندہی کر دی تھی اور جنوبی ایشیا کے حوالہ سے نئے علاقائی ایجنڈے مختلف عالمی حلقوں میں تشکیل پا رہے تھے۔ اسلام آباد میں لیفٹ کے کچھ دانشوروں کے ساتھ ایک نشست میں یہ بات زیربحث آگئی کہ افغانستان میں جو جنگ لڑی گئی ہے وہ امریکہ کی جنگ تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جولائی ۲۰۲۱ء

متنازعہ اوقاف قوانین اور گھریلو تشدد کی روک تھام کا بل

متنازعہ اوقاف قوانین کا مسئلہ ابھی چل رہا ہے کہ گھریلو تشدد کی روک تھام کے نئے بل نے ملک بھر کے دینی اور تہذیبی حلقوں کو ایک نئی پریشانی سے دوچار کر دیا ہے اور ان دونوں حوالوں سے بحث و مباحثہ کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ دنوں دو اہم محافل میں شرکت کا موقع ملا جن کی روشنی میں اس بارے میں تازہ ترین صورتحال قارئین کے علم میں لانا چاہتا ہوں۔ ۱۸ جولائی کو اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام سیمینار تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جولائی ۲۰۲۱ء

حدیث و سنت کی قانونی حیثیت

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کل سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان کا ایک انٹرویو گردش کر رہا ہے جس میں انہوں نے قرآن مجید اور سنت و حدیث کی قانونی حیثیت پر گفتگو کی ہے۔ طویل انٹرویو ہے، انہوں نے کیا کہا ہے اور کیا کہنا چاہتے ہیں وہ ایک طرف، مگر اس سے جو کچھ سمجھا گیا ہے اور جو سمجھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں قانون کی بنیاد قرآن کریم ہے، حدیث و سنت کی کچھ چیزیں ہیں، لیکن عموماً حدیث و سنت قانون کی بنیاد نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جون ۲۰۲۱ء

موجودہ حالات میں ملی مجلس شرعی کا موقف

پاکستان کے اسلامی تشخص، تہذیب و تمدن اور دستور و قانون کے اسلامی پہلوؤں کے حوالہ سے بین الاقوامی سیکولر حلقوں کا دباؤ اور ملک کے اندر سیکولر لابیوں کی سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ اہل دین کے ارباب شعور و دانش میں اس کا احساس و ادراک پوری طرح دکھائی نہیں دے رہا اور ملی و دینی معاملات میں جدوجہد کا ماحول کمزور پڑتا جا رہا ہے ۔ اس سلسلہ میں ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ کے جملہ ارباب ان دنوں تشویش اور سوچ بچار میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جون ۲۰۲۱ء

مسلم حکمرانوں کی ایک اہم ذمہ داری

قرآن کریم کو زیر زبر پیش اور دیگر علامات کے بغیر عرب لوگ تو صحیح پڑھ لیتے ہیں مگر غیر عربوں کے لیے یہ ممکن نہیں ہے، جبکہ تلفظ اور اعراب کی غلطی کی وجہ سے بسا اوقات قرآن کریم کے الفاظ کا معنی الٹ ہو جاتا ہے اور ایسا پڑھنے والے کی بے خبری میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۲۱ء

دینی جدوجہد کیلئے عوامی بیداری کی ضرورت

۳ جون کو لاہور میں ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ اور ۵ جون کو ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے اجلاسوں میں شرکت ہوئی اور مختلف دینی راہنماؤں اور احباب کے ساتھ پیش آمدہ امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ اہم عنوانات کم و بیش ملک بھر کے دینی حلقوں میں مشترکہ طور پر درپیش ہیں اور آراء و خیالات میں بھی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، البتہ اجتماعی جدوجہد کے لیے علماء کرام اور دینی کارکن ہر جگہ کسی متحرک قیادت کے سامنے آنے کے منتظر ہیں بلکہ بعض حلقوں میں اس سلسلہ میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۲۱ء

اسلامی نظریاتی کونسل اور جمعہ کے خطبات

مسجد و مدرسہ کو ہر حال میں کنٹرول کرنے کے عالمی استعماری ایجنڈے کے سائے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا کوئی بھی ادارہ کسی بھی حوالہ سے کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اسے اسی نظر سے دیکھا جاتا ہے جیسے شکار اپنے شکاری کو دیکھتا ہے اور یہ کوئی غیر فطری بات نہیں، اس لیے کہ اس بے اعتمادی بلکہ بد اعتمادی کی یہ فضا خود ریاستی اداروں کے مسلسل اقدامات کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے جو اس قدر شدید اور گہری ہے کہ اسے اعتماد کے ماحول میں واپس لانے کیلئے خاصا وقت اور محنت درکار ہو گی۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۲۱ء

دینی جدوجہد کے چند ضروری دائرے

بعد الحمد والصلوٰة ۔ مجھے یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی ہے کہ سرگودھا کے مختلف حلقوں کے دوست اور علماء کرام آج ایک جگہ جمع ہیں، یہ بڑی اچھی بات ہے، علماء کرام اور ہم خیال دوستوں کو وقتاً فوقتاً کسی نہ کسی عنوان پر اور کسی نہ کسی بہانے اکٹھے بیٹھتے رہنا چاہئے، اس سے ایک تو لوگوں کو سہارا ہوتا ہے کہ علماء میں وحدت ہے، جبکہ آپس میں تبادلۂ خیالات، ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ بھی ہو جاتا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کا یہ اجتماع قبول فرمائیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۲۱ء

سر سید احمد خان، قائد اعظم اور مسلم اوقاف

متنازعہ اوقاف قوانین کا نفاذ وفاق اور صوبوں میں بتدریج شروع ہوا اور انتہائی خاموشی کے ساتھ ان قوانین نے پورے ملک کا احاطہ کر لیا، حتٰی کہ نئے اوقاف قوانین کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں مساجد و مدارس کی نئی رجسٹریشن کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا، مگر جوں جوں عوامی اور دینی حلقوں میں ان قوانین کی نوعیت اور ان کے اثرات سے آگاہی بڑھتی گئی اضطراب اور بے چینی میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا اور حکومت کو شدید عوامی احتجاج پر یہ عملدرآمد روکنا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ مئی ۲۰۲۱ء

دینی جدوجہد کی موجودہ صورتحال اور چند ضروری تقاضے

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مولانا قاری امتیاز احمد کا شکرگزار ہوں کہ عید کے موقع پر علاقہ کے علماء کرام اور اپنے جامعہ کے فضلاء کا اجتماع کرتے ہیں اور مجھے بھی یاد کر لیتے ہیں، دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے، جامعہ کی تعلیمی پیشرفت سے آگاہی اور علاقہ کے حالات معلوم ہو جاتے ہیں۔ میرے نزدیک اس قسم کے اجتماعات کی بہت ضرورت و افادیت ہے اور میں ہر علاقہ کے دوستوں سے عرض کرتا رہتا ہوں کہ علاقہ کے علماء کرام کے درمیان اس درجہ کا میل جول ضرور ہونا چاہیے کہ سال میں دو تین دفعہ وہ مل بیٹھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مئی ۲۰۲۱ء

نئے تعلیمی بورڈ ’’مجمع العلوم الاسلامیہ‘‘ کا قیام

جامعہ الرشید کراچی اور جامعہ بنوریہ کراچی نے مل کر ’’مجمع العلوم الاسلامیہ‘‘ کے نام سے دینی مدارس کے نئے تعلیمی کے قیام کا اعلان کر کے ’’وفاق المدارس العربیہ پاکستان‘‘ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور وفاقی وزارت تعلیم کی طرف سے نئے بورڈ کو تسلیم کرنے کی خبریں بھی اخبارات میں آ رہی ہیں۔ نئے بورڈ کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ دینی و عصری تعلیم کے امتزاج پر مبنی مشترکہ تعلیمی نظام و نصاب کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مئی ۲۰۲۱ء

دہشت گردی، مساجد و مدارس اور نئے اوقاف قوانین

بعض حضرات کی طرف سے نئے اوقاف قوانین کے حوالہ سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ یہ قوانین عالمی معاشی دباؤ کی وجہ سے حکومت کو مجبورًا نافذ کرنا پڑ رہے ہیں اور یہ ایک طرح سے قومی ضرورت بن چکے ہیں۔ اس کا پس منظر یہ بتایا جاتا ہے کہ عالمی سطح پر یہ مفروضہ قائم کر لیا گیا ہے کہ مبینہ دہشت گردی کے فروغ میں زیادہ کردار دینی تعلیم اور دینی مدارس کا ہے اس لیے بین الاقوامی ادارے یہ اطمینان چاہتے ہیں کہ پاکستان میں دینی مدارس، مساجد اور اوقاف کے وسیع ترین نیٹ ورک میں وقف کا کوئی ادارہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مئی ۲۰۲۱ء

نسبتوں کا سفر

چند روز قبل رمضان المبارک کے دوران ہی حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ سے خواب میں ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے مجھے ذاتی استعمال کی دو چیزیں مرحمت فرمائیں۔ تعبیر رویا کی ایک دو کتابوں کے متعلقہ حصوں پر نظر ڈالنے کے بعد تعبیر یہ سمجھ میں آئی کہ کسی سفر اور مہم جوئی کی طرف اشارہ ہے۔ رمضان المبارک کے دوران سفر سے حتی الوسع گریز کرتا ہوں اور عام طور پر اس کے تقاضوں پر معذرت ہی کر دیتا ہوں مگر خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے رمضان المبارک کے ماحول کے بارے میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مئی ۲۰۲۱ء

قومی نصابِ تعلیم میں نا قابلِ قبول تبدیلیاں

قومی نظام تعلیم میں ایک طرف دینی و عصری تعلیمی نظاموں کو ’’یکساں نصاب تعلیم‘‘ کے عنوان سے کانٹ چھانٹ کے وسیع تر عمل سے گزارا جا رہا ہے، دوسری طرف اوقاف کے نئے قوانین کے ذریعہ مسجد و مدرسہ کی آزادی کو محدود تر کرنے کا عمل جاری ہے، جبکہ تیسری طرف اس وقت ملک کے رائج ریاستی نظام تعلیم کے نظریاتی پہلو کو کمزور کرنے اور نصابِ تعلیم سے اسلامی مواد کو کم سے کم کرنے کے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۲۱ء

امریکہ کی عالمی چودھراہٹ کا نیا راؤنڈ

اخباری اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے صدارتی دفتر کے سو دن مکمل ہونے پر کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ دنیا کی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کا یہی وقت ہے، ہمیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد بحال کرنا ہے، ہم چین کے ساتھ تصادم اور روس کے ساتھ کشیدگی نہیں بڑھانا چاہتے وغیرہ وغیرہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مئی ۲۰۲۱ء

تعلیمی نظام میں تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت

ابھی نئے متنازعہ اوقاف قوانین کا سلسلہ چل رہا ہے کہ پنجاب حکومت نے تعلیمی نصاب سے اسلامی مواد کم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر کے ایک نیا مسئلہ کھڑا کر دیا جس سے ملک میں بے چینی کی نئی لہر دوڑ گئی۔ سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے مطالبہ پر تعلیمی نصاب کے حوالہ سے جناب شعیب سڈل پر مشتمل یک رکنی کمیشن قائم کر کے رپورٹ اور تجاویز طلب کی گئیں تو انہوں نے اپنی رپورٹ میں تجویز کر دیا کہ نصاب تعلیم میں اسلامیات سے متعلقہ مواد صرف اسلامک اسٹڈی کے دائرہ میں محدود کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اپریل ۲۰۲۱ء

کرونا کی تیسری لہر

کرونا کی تیسری لہر کی تباہ کاریاں بڑھتی جا رہی ہیں اور دنیا کے بہت سے ممالک اس کی لپیٹ میں ہیں، بھارت سب سے زیادہ متاثر بتایا جاتا ہے اور پاکستان میں بھی اس کے دائرہ اثر میں روز افزوں وسعت پریشان کن ہے۔ یہ وائرس قدرتی ہے یا مصنوعی، اس پر بحث جاری ہے مگر بہرحال موجود ہے اور اپنا کام کر رہا ہے۔ ایک مجلس میں اس پہلو پر گفتگو چل نکلی تو میں نے عرض کیا کہ اگر واٹر سپلائی کی ٹینکی میں کوئی بدبخت زہر گھول دے تو اس کی تلاش ضرور کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اپریل ۲۰۲۱ء

تحریک لبیک پاکستان کا مطالبہ اور سرکاری رویہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں پر پرسوں لاہور میں ہونے والے تشدد پر ملک بھر میں جو اجتماعی ردعمل کا اظہار ہوا ہے وہ اطمینان بخش ہے، اور اس بات کی علامت ہے کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا مسئلہ اور دینی شعائر کا تحفظ ملک بھر کے تمام مکاتب فکر اور تمام طبقات کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ سب نے اس درد کو محسوس کیا ہے اور سب نے اس پر اپنے جذبات، ردعمل اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے حوالے سے، ختم نبوت کے حوالے سے بات ہو یا ناموس رسالت کے حوالے سے بات ہو، ہمیشہ امت نے اور پاکستانی قوم نے یکجہتی کا اظہار کیا ہے، اس یکجہتی کا ایک بار پھر ر مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۲۱ء

معاہدات – ذمہ داری یا ہتھیار؟

امریکہ کے صدر مسٹر جوبائیڈن نے افغانستان سے فوجوں کے انخلا میں یکطرفہ طور پر چار ماہ کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ معاہدہ کی مدت کے دوران انخلا مشکل ہے اس لیے اب افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا مئی کی بجائے ستمبر کے دوران مکمل ہو گا اور وہ بھی چند شرائط کے ساتھ مشروط ہو گا۔ اس کے ساتھ جرمنی کے وزیردفاع نے بھی کہا ہے کہ افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا ستمبر میں ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اپریل ۲۰۲۱ء

نئے اوقاف قوانین ۔ تمام مکاتب فکر کے راہنماؤں کا مشترکہ اعلامیہ

دس اپریل کو منصورہ لاہور میں ’’ملی مجلس شرعی پاکستان ‘‘کے زیر اہتمام ’’کل جماعتی تحفظ مساجد و مدارس کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس میں وفاقی دارالحکومت سمیت تمام صوبوں میں نافذ ہونے والے اوقاف کے نئے قوانین کا جائزہ لیا گیا اور ان قوانین کو شرعی احکام، دستوری دفعات، قومی خودمختاری اور مسلمہ شہری حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے اور اس سلسلہ میں عوامی آگاہی و بیداری کی ملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اپریل ۲۰۲۱ء

ڈیرہ اسماعیل خان میں دو روز

تین اپریل کو دو روز کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان جانے کا اتفاق ہوا۔ اہل حدیث دوستوں نے مسجد قاضیاں ڈیرہ شہر میں عصر کے بعد مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے سرکردہ حضرات کے اجتماع کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں ممتاز اہل حدیث راہنما مولانا محمد یوسف طیبی اور راقم الحروف نے خطاب کیا۔ اس موقع پر جو گزارشات پیش کیں ان کا اہم نکتہ یہ تھا کہ ہماری نئی نسل کا میٹرک سے پہلے کا دائرہ دینی تعلیمات سے بے خبری کا شکار ہے جبکہ کالج اور یونیورسٹی کا دائرہ شکوک و شبہات اور تذبذب کے حصار میں دکھائی دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اپریل ۲۰۲۱ء

اسٹیٹ بینک کے بارے میں مجوزہ قانونی ترامیم کا جائزہ

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالہ سے ملکی قوانین میں مجوزہ ترامیم ان دنوں قومی حلقوں میں زیربحث ہیں اور انہیں قومی خودمختاری کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ریٹائرڈ سیشن جج چودھری خالد محمود نے ان کا جائزہ لیا ہے جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مکمل تحریر

یکم اپریل ۲۰۲۱ء

وقف املاک کے نئے قوانین اور ہماری ذمہ داری

ملک بھر میں نافذ کیے جانے والے وقف املاک کے نئے قوانین کے بارے میں دینی حلقوں میں آگاہی اور بیداری کا ماحول بحمد اللہ تعالیٰ بنتا جا رہا ہے اور مختلف شہروں میں اس سلسلہ میں اجتماعات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ یہ قوانین جس عجلت میں منظور کرائے گئے ہیں اور جس طرح خاموشی کے ساتھ ان پر عملداری کی راہ ہموار کی جا رہی ہے وہ بجائے خود محل نظر ہے اور پس پردہ عزائم کی غمازی کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مارچ ۲۰۲۱ء

نیا اوقاف ایکٹ اور مساجد کی رجسٹریشن

مختلف شہروں میں مساجد کی رجسٹریشن کے حوالہ سے محکمہ اوقاف کی طرف سے مساجد کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں اور محکمہ اوقاف کا عملہ ہر سطح پر خلاف معمول متحرک دکھائی دے رہا ہے۔ اسلام آباد کے لیے نئے اوقاف ایکٹ کے نفاذ سے جو صورتحال پیدا ہو گئی ہے اس کے تناظر میں محکمہ اوقاف کی یہ نقل و حرکت خصوصی طور پر لائق توجہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مارچ ۲۰۲۱ء

مساجد و اوقاف کا نیا قانون اور دینی قیادتوں کی ذمہ داری

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں نئے اوقاف ایکٹ کے نفاذ کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے مشترکہ طور پر احکام شریعت اور انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قانون کو واپس لیا جائے۔ جبکہ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کی قیادت کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اور دیگر ذمہ دار حکومتی راہنماؤں نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں اعتماد میں لے کر قانون میں ترامیم کرتے ہوئے اسے دینی حلقوں کے لیے قابل قبول بنائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۲۱ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter