توہین رسالتؐ اور آزادیٔ رائے کے حوالہ سے مغرب کا افسوسناک رویہ

ملکۂ برطانیہ ایلزبتھ دوم نے سلمان رشدی کو نائٹ ہڈ (سر) کا خطاب دے کر مسلمانوں کے پرانے زخموں کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے اور اس پر عالم اسلام میں احتجاج کی ایک نئی لہر شروع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ملکۂ برطانیہ نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے نزدیک ایک انتہائی قابل نفرت شخص کو اس اعزاز کے لیے کس بنیاد پر چنا ہے اس کی باقاعدہ وضاحت تو وہی کر سکتی ہیں لیکن ایک عام مسلمان کا دنیا کے کسی بھی خطے میں تاثر یہی ہے کہ اس سے سلمان رشدی کی ان خرافات کی ملکۂ برطانیہ کی طرف سے تائید جھلکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۲۰۰۷ء

ریاستِ مدینہ کیسے وجود میں آئی؟

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب سوسائٹی میں جو تبدیلیاں کی تھیں ان میں سب سے پہلی اصلاح یہ ہے کہ عربوں کو ریاست کا تصور دیا ۔ نبی کریمؐ کے یثرب پہنچتے ہی پہلے سال کے اندر ریاست بن گئی، حضورؐ کو اس کا سربراہ تسلیم کیا گیا اور ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کے نام سے ایک دستور طے ہو گیا۔ میثاق مدینہ میں جناب نبی کریمؐ، مہاجرین، انصار کے دونوں قبیلے بنو اوس اور بنو خزرج، یہود کے تینوں قبیلے بنو قینقاع، بنو قریظہ اور بنو نضیر کے علاوہ اردگرد کے دیگر قبائل بھی شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۸ء

تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کے سلسلہ میں علماء اور وکلاء کی مشترکہ ذمہ داری

اسلام آباد کے بہت سے سرکردہ وکلاء محترم حافظ ملک مظہر جاوید ایڈووکیٹ کی سربراہی میں تحفظ ختم نبوت اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں جو لائقِ تحسین ہے۔ گذشتہ دنوں ان کی محنت و کاوش سے خصوصی عدالت برائے انسدادِ دہشت گردی کے جج راجہ جواد عباسی نے سوشل میڈیا پر توہینِ رسالت کا ارتکاب کرنے والے تین مجرموں کو سزائے موت، جبکہ ایک مجرم کو دس سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ محترم وکلاء کا یہ گروپ ’’انٹرنیشنل لائیرز فورم اسلام آباد‘‘ کے عنوان سے سرگرم عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ فروری ۲۰۲۱ء

اختلاف رائے اور اسوۂ صدیق اکبرؓ

رائے کا اختلاف فطری بات ہے، جہاں علم ہو گا اور عقل ہو گی وہاں اختلاف بھی ہو گا۔ اختلاف کا ہونا کوئی غلط بات نہیں بلکہ اختلاف کا نہ ہونا فطرت کے منافی ہے۔ ہماری امت کے دو سب سے بڑے بزرگوں حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت فاروق اعظمؓ کے درمیان بھی اختلاف ہوتا رہا ہے جو ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے کہ اختلاف کی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔ ہمارے ان دو بڑے بزرگوں کے درمیان متعدد امور میں اختلافات کا ذکر روایات میں ملتا ہے جن میں سے صرف تین واقعات کا ذکر کرنا چاہوں گا جو خلافت صدیق اکبرؓ کے مختصر دور میں پیش آئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۲۱ء

حضرت صدیق اکبرؓ کی خلافت اور اہم کارنامے

سیدنا صدیق اکبرؓ کی حیات مبارکہ، مقام و فضیلت اور خلافت و حکومت کے حوالہ سے گفتگو کے بیسیوں پہلو ہیں اور ہر ایک میں ہمارے لیے سبق اور راہنمائی موجود ہے، مگر آج حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کے عنوان سے تین چار سوالات کا مختصر جائزہ لینا چاہوں گا۔ ایک یہ کہ خلافت کسے کہتے ہیں؟ دوسرا یہ کہ حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ کس نے بنایا تھا؟ تیسرا یہ کہ ان کی خلافت کی نظریاتی بنیاد کیا تھی؟ اور چوتھا یہ کہ بحیثیت خلیفہ انہوں نے کون سے اہم کارنامے سرانجام دیے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ فروری ۲۰۲۱ء

اسلام، مسیحیت اور تھیاکریسی

مسیحی دنیا کی مذہبی پیشوائیت کا حال یہ تھا کہ اسے خدا کے براہ راست نمائندہ کی حیثیت دی جاتی تھی۔ سب سے بڑے مذہبی پیشوا کی رائے ہر معاملہ میں حرف آخر سمجھی جاتی تھی اور اس کی مطلق العنانی اور اختیارات کا یہ عالم تھا کہ بائبل کی آیات اور الفاظ کے تغیر و تبدل اور اس کی تعبیر و تشریح میں بھی اس کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ ان اختیارات اور مطلق العنانی کے ساتھ جب مذہبی پیشوائیت نے سائنسی ترقی اور مشاہدات سے انکار کر کے انہیں کفر ٹھہرایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۲۱ء

غیر مسلموں سے معاہدہ اور اسوۂ صدیق اکبرؓ

سیدنا صدیق اکبرؓ کی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کا واقعہ پوری اہمیت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے اور قرآن کریم نے بھی ’’اذھما فی الغار اذ یقول لصاحبہ‘‘ کے حوالہ سے اس کا تذکرہ کیا ہے جو بلاشبہ ہمارے لیے ایمان کی تازگی کے ساتھ ساتھ زندگی کے بیسیوں معاملات میں راہنمائی کے پہلو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ جبکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ہجرت کا ایک اور سفر بھی ہمارے لیے اسی طرح سبق آموز ہے مگر عام طور مجالس میں اس کا تذکرہ نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جنوری ۲۰۲۱ء

دین میں عُسر اور یُسر کا مفہوم

قرآن کریم کی جس آیت کریمہ میں ماہ رمضان میں قرآن کریم کے نزول اور روزے کی فرضیت کا تذکرہ ہے اور مسافر و مریض کے لیے روزہ دوسرے دنوں میں قضا کر لینے کی سہولت بیان کی گئی ہے، وہاں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’یرید اللّٰہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر‘‘ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتے ہیں اور تنگی کا ارادہ نہیں فرماتے۔ آج قرآن کریم کے اس ارشاد گرامی کے حوالہ سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یُسر اور عُسر کا مفہوم کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے شریعت کے احکام میں تنگی اور آسانی کی کون سی صورتیں بیان فرمائی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جولائی ۲۰۱۴ء

چرچ آف انگلینڈ کی ایک دلچسپ رپورٹ

میں ۵ مئی کو لندن گیا تھا اور ۲۴ مئی کو واپس آ گیا ہوں۔ اس بار بھی حسب معمول مختلف شہروں کے دینی اجتماعات میں شرکت کی اور متعدد تعلیمی اداروں کے اجلاسوں میں حاضری دی۔ لندن، برمنگھم، گلاسگو، مانچسٹر، ایڈنبرا، نوٹنگھم، لیسٹر، آکسفورڈ، دالسال، برنلی، مدرویل، ڈنز اور لیوٹن وغیرہ میں علماء کرام اور دیگر احباب سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اور ورلڈ اسلامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شریک ہوا جس میں آئندہ تین سال کے لیے نئے عہدیداروں کا انتخاب عمل میں لایا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جون ۲۰۰۷ء

امام کعبہ الشیخ عبد الرحمان السدیس کے ساتھ ایک نشست

امام حرم مکہ الشیخ عبد الرحمان السدیس حفظہ اللہ تعالیٰ کی پاکستان تشریف آوری پر زندہ دلان پاکستان نے عقیدت و محبت کا جو اظہار کیا ہے وہ اسلام اور اسلامی شعائر کے ساتھ ان کی گہری وابستگی کی علامت ہے۔ مقامات مقدسہ کے حوالے سے اہل پاکستان نے ہمیشہ محبت و عقیدت اور جوش و جذبے کا اظہار کیا ہے۔ الشیخ السدیس مسجد حرام کے امام و خطیب ہیں اور نہ صرف یہ کہ نماز میں ان کی قراءت لاکھوں نمازیوں کے لیے اطمینان و مسرت کا باعث ہوتی ہے بلکہ ان کا جمعۃ المبارک کا خطبہ بھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جون ۲۰۰۷ء

نیکیوں کی تلقین اور برائیوں سے روکنے کا معاشرتی ماحول

بخاری شریف اور حدیث کی دیگر مستند کتابوں میں روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر صحابہ کرامؓ کو عام راستوں اور گزرگاہوں میں بیٹھنے اور مجلس لگانے سے منع فرما دیا۔ اس پر بعض صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمارا اس کے بغیر گزارہ نہیں کیونکہ کوئی ملنے کے لیے آئے تو بسا اوقات گھر میں بٹھانے کی جگہ نہیں ہوتی اور باہر کھلے راستے میں گفتگو کرنا پڑ جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جنوری ۲۰۲۱ء

’’گلوبل فائرپاور انڈیکس‘‘ میں پاک فوج کی ترقی

اس ہفتے جاری ہونے والی رپورٹ ’’گلوبل فائر پاور انڈیکس ۲۰۲۱ء‘‘ کے مطابق پاک فوج اس سال دنیا کی طاقتور ترین افواج کی فہرست میں دسویں نمبر پر آ گئی ہے، جبکہ گزشتہ سال کی رپورٹ میں یہ پندرہویں نمبر پر تھی۔ رپورٹ میں شامل پہلی دس افواج بالترتیب یوں ہیں: امریکہ، روس، چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، فرانس، برطانیہ، برازیل اور پاکستان، جبکہ ترکی کا نمبر گیارہواں اور اسرائیل کا بیسواں ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مسلح افواج کا یہ اعزاز پاکستانی قوم کے لیے قابل فخر و مسرت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جنوری ۲۰۲۱ء

سیدنا صدیق اکبرؓ اور خلافت راشدہ

حضرت ابوبکر صدیقؓ سب سے افضل صحابی ہیں اس لیے جناب نبی اکرمؐ کی حیات مبارکہ میں ہی ان کے حوالہ سے یہ ماحول بن گیا تھا کہ کم و بیش سبھی حضرات کا یہ اندازہ تھا کہ آنحضرتؐ کی جانشینی کے منصب پر وہی فائز ہوں گے، اس پر بہت سی شہادتیں احادیث و تاریخ میں موجود ہیں جن میں سے تین چار کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ احد کی جنگ میں جب مسلمانوں کے لشکر میں افراتفری مچی جس کا ذکر قرآن کریم میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے اور ایک مرحلہ میں یہ مشہور ہو گیا کہ رسول اللہ شہید ہو گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جنوری ۲۰۲۱ء

’’عشرۂ شیخ الہندؒ‘‘

سالِ رواں کے آغاز میں ’’مولانا ارشد مدنی سوشل میڈیا ڈیسک‘‘ کی طرف سے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی یاد میں ’’عشرۂ شیخ الہندؒ‘‘ کا اہتمام کیا گیا جس کے تحت مسلسل دس روز تک اکابر اہل علم و دانش کے خطابات کا سلسلہ چلتا رہا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں ہزاروں افراد نے اس سے استفادہ کیا۔ اختتامی نشست دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم کی زیرصدارت انعقاد پذیر ہوئی جس میں مہمان خصوصی ندوۃ العلماء لکھنو کے رئیس حضرت مولانا سید رابع ندوی دامت برکاتہم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جنوری ۲۰۲۱ء

فہم قرآن کریم اور مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ

’’قرآن فہمی‘‘ دین کے فہم اور تفہیم دونوں کا بنیادی تقاضہ ہے اس لیے یہ ہر دور کے اہل علم و دانش کی فکری و علمی جدوجہد کا مرکزی نکتہ رہا ہے جس کا تسلسل قیامت تک اسی طرح رہے گا۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل ہونے والی وحی مسلسل کا آخری، حتمی اور مکمل مجموعہ ہے جس کے نزول کے بعد رہتی دنیا تک نسل انسانی کی ہدایت اور رشد و فلاح اسی سے وابستہ ہے۔ قرآن کریم کا اساسی موضوع نسل انسانی کی ہدایت ہے اس کا دائرہ پوری نسل انسانی اور دورانیہ قیامت تک وسیع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جنوری ۲۰۲۱ء

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے سابقہ اساتذہ و طلبہ سے ملاقات

دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کے حسین تصور پر ہم نے گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے عنوان سے گوجرانوالہ میں ایک تعلیمی پروگرام کا آغاز کیا تھا جو اَب جامعۃ الرشید کراچی کے زیراہتمام ’’جامعہ شاہ ولی اللہؒ‘‘ کے نام سے انہی مقاصد اور پروگرام کے مطابق مصروف عمل ہے۔ اس پروگرام کے بانیوں میں حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ، الحاج میاں محمد رفیقؒ، الحاج شیخ محمد اشرفؒ، پروفیسر غلام رسول عدیم، میاں محمد عارف ایڈووکیٹ اور دیگر بزرگوں کے ساتھ میں بھی شامل تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۲۰ء

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں نئی مہم

اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات ایک بار پھر قومی اور بین الاقوامی حلقوں میں زیر بحث ہے اور بعض عرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کے بعد پاکستان سے بھی تقاضہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیل کو معروضی حقیقت سمجھ کر تسلیم کر لے اور اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی طرف پیشرفت کرے۔ اس بار بعض دینی حلقوں کی طرف سے بھی یہ تقاضہ سامنے آیا ہے اور اس کے لیے جو دلائل دیئے جا رہے ہیں ان میں سے ایک دو کا سرسری جائزہ ان سطور میں قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہا ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۲۱ء

درسِ نظامی کا آن لائن کورس

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام درس نظامی کے تین سالہ آن لائن کورس کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہوئے اور اس کی بے پناہ نعمتوں پر اس کی بارگاہ میں سجدۂ شکر بجا لاتے ہوئے دو تین باتیں تعارفی اور تمہیدی طور پر عرض کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی بات یہ کہ آج سے تین عشرے قبل ہم نے جب الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کا آغاز کیا تو بنیادی ہدف دین کی دعوت اور تعلیم و ترویج تھا۔ اس کے تین بنیادی مرحلے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جنوری ۲۰۲۱ء

وقف املاک کا نیا قانون اور اس کا پس منظر

مولانا عبد الرشید انصاریؒ پاکستان شریعت کونسل کے بانی راہنماؤں میں سے تھے اور سالہا سال تک انہوں نے راقم الحروف کے ساتھ مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے طور پر جماعتی خدمات سرانجام دی ہیں۔ ان کے داماد چودھری خالد محمود کامونکی ضلع گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں ،ایک عرصہ تک ملک کے عدالتی نظام میں خدمات سرانجام دینے کے بعد سیشن جج کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ہیں اور قابل قدر دینی و فکری ذوق کے حامل ہیں۔ میری گزارش پر انہوں نے پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی ٹیم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ دسمبر ۲۰۲۰ء

مکالمہ بین المذاہب: اہداف اور دائرے

’’مکالمہ بین المذاہب‘‘ آج کے اہم عالمی موضوعات میں سے ہے جس پر دنیا بھر میں گفتگو کا سلسلہ جاری ہے اور ہر سطح پر اس کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم جناب ٹونی بلیئر کے حوالے سے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ وہ ۲۷ جون ۲۰۰۷ء کو وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کے بعد انٹرفیتھ ڈائیلاگ یعنی بین المذاہب مکالمہ کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ اس سلسلہ میں عالمی سطح پر سنجیدگی کے ساتھ کوئی فورم یا ادارہ کام نہیں کر رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مئی ۲۰۰۷ء

سودی نظام کے خلاف جدوجہد کا نیا مرحلہ

وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام کے خاتمہ کے حوالہ سے رٹ کی سماعت طویل عرصہ کے بعد دوبارہ شروع ہونے سے ملک میں رائج سودی قوانین سے نجات کی جدوجہد نئے مرحلہ میں داخل ہو گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی تحریک انسداد سود پاکستان نے نئی صف بندی کے ساتھ اپنی مہم پھر سے شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم و مغفور نے وفات سے چند ہفتے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان کا معاشی نظام مغربی اصولوں پر نہیں بلکہ اسلامی اصولوں پر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ دسمبر ۲۰۲۰ء

باہمی مشاورت کی اہمیت اور شرعی حیثیت

مشورہ اور شورائی نظام و ماحول اسلام کے امتیازات میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی خصوصیات میں اس بات کا قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے کہ ’’وامرھم شوریٰ بینھم‘‘ ان کے معاملات باہمی مشاورت کے ساتھ طے ہوتے ہیں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا سلسلہ جاری تھا اور آپؐ کو بظاہر مشورہ کی ضرورت نہیں تھی مگر آپؐ کے لیے بھی حکم خداوندی یہ تھا کہ ’’وشاورھم فی الامر‘‘ آپ مسلمانوں سے اپنے معاملات میں مشاورت کرتے رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ دسمبر ۲۰۲۰ء

نفاذِ شریعت اور فقہ جعفریہ

ان دنوں پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے لیے ایک مسودہ قانون علمی حلقوں میں زیر بحث ہے جس میں اہل تشیع کے لیے بعض معاملات میں فقہ جعفریہ کے مطابق قانونی فیصلوں کی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ بِل ایوان بالا میں عنقریب منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ پاکستان میں دستوری طور پر شرعی قوانین کا نفاذ اور لوگوں کو قرآن و سنت کے مطابق ان کے مقدمات، تنازعات اور معاملات طے کرنے کے انتظامات کرنا حکومت کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے اور اس کے لیے وقتاً فوقتاً کچھ نہ کچھ پیشرفت ہوتی رہتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ دسمبر ۲۰۲۰ء

علامہ خادم حسین رضویؒ

علامہ خادم حسین رضویؒ سے کوئی ملاقات تو یاد نہیں ہے مگر ان کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی رہی ہیں اور ان کے خطابات بھی مختلف حوالوں سے سننے کا موقع ملتا رہا ہے۔ وہ بریلوی مکتب فکر کے سرکردہ راہنماؤں میں سے تھے اور مدرس عالم دین تھے۔ دینی تعلیمات و معلومات کا گہرا ذوق رکھنے کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ اور تحریکات کے ادراک سے بھی بہرہ ور تھے، اور مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے کلام کا نہ صرف وسیع مطالعہ رکھتے تھے بلکہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ نومبر ۲۰۲۰ء

فرانس کے تجارتی بائیکاٹ کی شرعی حیثیت

فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کے حوالہ سے بعض دوستوں نے سوال کیا ہے کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں بھی ایسا ہوتا تھا؟ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ ایسا اس زمانے میں بھی ہوتا تھا اور معاشی بائیکاٹ اور ناکہ بندی جنگ و جہاد کا حصہ ہی تصور کی جاتی تھیں۔ اس حوالہ سے چند واقعات کا مختصرًا تذکرہ کرنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ نومبر ۲۰۲۰ء

اسلامی تحقیق و مطالعہ کے حوالہ سے جدید تحدّیات

معزز اساتذہ کرام اور عزیز طلبہ و طالبات! ارباب فکر و دانش کے اس اجتماع میں شرکت اور گفتگو کا موقع فراہم کرنے پر محترم ڈاکٹر دوست محمد صاحب، مولانا ڈاکٹر صالح الدین حقانی اور ان کے رفقاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں، آمین۔ مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ ان طلبہ و طالبات سے مخاطب ہوں جو تعلیم کا ایک دور مکمل کر کے تحقیق، ریسرچ اور مطالعہ کے نئے دور میں داخل ہوئے ہیں اور نسل انسانی کی راہنمائی کا فریضہ سنبھالنے کی تیاری کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ نومبر ۲۰۱۲ء

برما کے مسلمانوں کی حالت زار اور چند دیگر خبریں

گزشتہ سے پیوستہ کالم میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقات کے حوالہ سے میں نے برما کے صوبہ اراکان کے مسلمانوں کی مظلومیت اور کسمپرسی کا ذکر کیا تھا، مولانا نے قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں اس موضوع پر آواز اٹھائی ہے اور حکومت اور میڈیا کو اس اہم مسئلہ کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ برما کے مسئلہ میں دوبئی سے شائع ہونے والے اردو اخبار ہفت روزہ ’’سمندر پار‘‘ کے ۶ تا ۱۲ جولائی ۲۰۱۲ء کے شمارہ میں ایک رپورٹ نظر سے گزری ہے وہ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جولائی ۲۰۱۲ء

قومی خزانے کی غلط تقسیم اور عدالت عظمیٰ

روزنامہ اوصاف لاہور ۲۴ اکتوبر ۲۰۲۰ء کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس محترم جسٹس گلزار احمد نے ایک کیس کی سماعت کے دوران فرمایا ہے کہ حکمرانوں نے قومی خزانے کو ذاتی رقم سمجھ کر بانٹا ہے اور اس وجہ سے حکومت پاکستان مالی مشکلات سے دوچار ہے۔ چیف جسٹس محترم کا یہ ارشاد بظاہر ایک تاثراتی جملہ ہے مگر اس کے پیچھے ہماری پوری قومی تاریخ جھلک رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۲۰ء

دینی تعلیم کے خاتمے کیلئے ماضی کے تین عالمی تجربات

البتہ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ سے یہ سوال کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ عقلمند تو ایک تجربہ کو ہی کافی سمجھتا ہے مگر آپ لوگوں کی تسلی تین خوفناک تجربے کرنے کے بعد بھی نہیں ہوئی اور اب ایک نئے تجربے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔ عالمی استعمار دینی تعلیم کو ختم کرنے، قرآن و سنت کے ساتھ عام مسلمانوں کا ذہنی و فکری تعلق منقطع کرنے، اور دینی مدارس کو منظر سے ہٹانے کے لیے اب تک تین تلخ تجربے کر چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ ستمبر ۲۰۰۲ء

گلاسگو میں دینی اداروں کی سرگرمیاں

گزشتہ چودہ پندرہ برس سے یہ معمول سا بن گیا ہے کہ سال کے ایک دو ماہ برطانیہ میں گزرتے ہیں۔ پہلے گرمیوں کے موسم میں آتا تھا، تین ماہ کے لگ بھگ رہتا تھا اور جولائی اگست میں مختلف دینی جماعتوں کی طرف سے منعقد ہونے والی کانفرنسوں کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سالانہ بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس میں بھی شرکت ہو جاتی تھی۔ اب مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تدریسی مصروفیات کے باعث موسم اور دورانیہ دونوں میں فرق پڑ گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ نومبر ۲۰۰۰ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter