ترکی ایک بار پھر دنیا کی نگاہوں کا مرکز!

یورپ سو سال قبل ترکی اور مشرق وسطیٰ میں خلافت عثمانیہ کے خاتمہ اور عالم اسلام پر نئی جغرافیائی تقسیم مسلط کرنے کی راہ ہموار کر رہا تھا جس میں وہ کامیاب ہو گیا، جبکہ برصغیر پاک و ہند کی گلیاں اور بازار تحریک خلافت کے پرہجوم جلسوں اور پرجوش نعروں سے گونج رہے تھے۔ یہ عجیب تاریخی منظر ہے کہ جن دنوں ایک طرف ترک نیشنلزم اور عرب قومیت کا ہتھیار عالم اسلام کے حصے بخرے کرنے اور خلافت عثمانیہ کو بکھیر دینے کے لیے پوری قوت کے ساتھ استعمال کیا جا رہا تھا، دوسری طرف انہی دنوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جون ۲۰۱۸ء

دینی شعبوں میں کام کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت

دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ میں ان دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام طلبہ، طالبات اور شہریوں کے لیے ایک تربیتی کورس شروع ہے جس میں تھوڑی دیر کے لیے مجھے بھی حاضری کا موقع ملا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا فقیر اللہ اختر اور مولانا محمد ایوب خان ثاقب اس کورس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے تعاقب کے حوالہ سے دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ کی اپنی ایک تاریخ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ فروری ۲۰۱۲ء

فرانس ایک بار پھر مذہب دشمنی کے محاذ پر

فرانس ایک بار پھر آسمانی تعلیمات اور مذہب کے خلاف محاذ جنگ پر ہے اور نہ صرف وحی الٰہی کے معاشرتی کردار کی نفی کرنے والوں کی قیادت کر رہا ہے بلکہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور دینی حوالہ سے مقدس شخصیات کی توہین اور استہزاء کا پرچم بھی اس نے اٹھا رکھا ہے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات میں اللہ تعالٰی نے انبیاء کرامؑ کے ساتھ طنز و استہزاء کا طرز عمل اختیار کرنے والی قوموں کی اس نوع کی حرکات اور پھر ان قوموں کے انجام کا ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اکتوبر ۲۰۲۰ء

علامہ شبیر احمد عثمانیؒ

علامہ شبیر احمد عثمانیؒ مادر علمی دارالعلوم دیوبند کے وہ مایۂ ناز سپوت ہیں جنہوں نے علمی، دینی و سیاسی محاذ پر ملّت اسلامیہ کی بھرپور راہنمائی کی اور خداداد علمی و فکری صلاحیتوں سے ملّت اسلامیہ کو فیضیاب کیا۔ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ممتاز ماہر تعلیم مولانا فضل الرحمان کے فرزند تھے، آپ نے تعلیم شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ جیسے عالم دین کے زیرسایہ مکمل کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ فروری ۱۹۸۰ء

شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ

شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کا شمار تاریخ کی ان نابغہ روزگار ہستیوں میں ہوتا ہے جو اپنے علم و فضل، جہد و عمل اور ذہانت و بصیرت کے باعث معاصرین میں ممتاز اور نمایاں حیثیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تاریخ میں اپنے لیے ایک روشن باب کی بنیاد فراہم کر جاتے ہیں اور آنے والی نسلیں ان کی بصیرت و تجربات سے بہت دیر تک فیضیاب ہوتی رہتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ دسمبر ۱۹۸۷ء

عرب اور ترک — خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد

خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد عربوں اور ترکوں کے کیمپ الگ الگ ہو گئے اور گزشتہ ایک صدی سے وہ اپنے اپنے ایجنڈے کے مطابق آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جبکہ حالیہ تناظر میں عالمِ اسلام اور خاص طور پر بیت المقدس اور فلسطین کے حوالہ سے ترک قوم اور حکومت کے کردار نے پورے عالم اسلام کو پھر سے اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے، چنانچہ موجودہ صورتحال میں اس تبدیلی کے پس منظر اور اسباب پر بحث و تمحیص کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۲۰۲۰ء

دنیا کو حقوق کا شعور کس نے عطا کیا؟

آج کی نشست میں، جو اس موضوع پر اس سلسلہ کی آخری نشست ہے، اسلامی تعلیمات اور سنت نبویؐ میں انسانی حقوق کی پاسداری کے حوالہ سے کچھ واقعات عرض کرنا چاہوں گا تاکہ مغرب کے اس پروپیگنڈا اور دعوے کی حقیقت واضح ہو سکے کہ دنیا کو اس نے حقوق کا شعور عطا کیا ہے اور انسانی حقوق کی پاسداری کا دور مغرب کے تہذیبی انقلاب سے شروع ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۱۱ء

بیک وقت دو عوامی تحریکیں

اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے ’’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ‘‘ کے عنوان سے متحدہ محاذ بنا کر مولانا فضل الرحمان کو اس کا سربراہ منتخب کیا ہے اور حکومت کے خلاف عوامی تحریک کا اعلان کر دیا ہے جس سے ملک بھر میں سیاسی گہماگہمی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی باہمی محاذ آرائی کا ایک اہم راؤنڈ شروع ہو گیا ہے۔ سولہ اکتوبر کو گوجرانوالہ میں جلسہ عام کا انعقاد کر کے اس تحریک کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کے بعد مختلف شہروں میں اس قسم کے اجتماعات ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اکتوبر ۲۰۲۰ء

حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ

حضرت مولانا سمیع الحق کی المناک شہادت کی اچانک خبر دل و دماغ پر بجلی بن کر گری، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میں نے جمعہ کے روز عشاء کی نماز گرجاکھ گوجرانوالہ کی جامع مسجد عثمانیہ میں ادا کی جس کے بعد مجھے وہاں اعلان کے مطابق درس دینا تھا اور پھر جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ گوجرانوالہ کے راہنما مولانا شوکت نصیر کے طلب کردہ علاقائی اجلاس میں شریک ہونا تھا۔ فرض نماز سے فارغ ہوتے ہی ایک دوست نے موبائل فون کے حوالہ سے یہ خبر پڑھائی جس نے دل و دماغ کو ماؤف کر دیا اور ذہن ایک دم سناٹے میں آگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ نومبر ۲۰۱۸ء

دینی اقدار کو درپیش حالیہ خطرات کے حوالہ سے مشاورتیں

یکم اکتوبر کو لاہور میں مصروف دن گزارا۔ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اسباق سے فارغ ہو کر ساڑھے گیارہ بجے لاہور پہنچا جہاں لارنس روڈ پر علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ کے قائم کردہ مرکز اہل حدیث میں کل جماعتی مجلس تحفظ ناموس علماء کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مشاورتی اجلاس تھا جس کی صدارت علامہ شہیدؒ کے فرزند علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے کی اور مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کے علاوہ مجلس عمل کے کنوینر مولانا عبد الرؤف فاروقی، حاجی عبد اللطیف خالد چیمہ اور مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر بھی شریک تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اکتوبر ۲۰۲۰ء

مساجد و مدارس اور وقف اداروں کے بارے میں نیا قانون

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت کی مساجد و مدارس اور وقف املاک کے حوالہ سے جو قانون منظور کیا گیا ہے اس پر ملک بھر میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف النوع تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کا اصل محرک مالیاتی حوالہ سے بین الاقوامی اداروں کے مطالبات ہیں جنہیں پورا کرنے کے لیے اس قانون کے فوری نفاذ کو ضروری سمجھا گیا ہے۔ جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے درجہ میں اسلام آباد میں اور وہاں یہ تجربہ کامیاب ہونے کے بعد ملک بھر میں اس قانون کا دائرہ پھیلایا گیا تو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اکتوبر ۲۰۲۰ء

فہم قرآن کے دو صحیح راستے

فہم قرآن کے حوالہ سے بیسیوں پہلو ہیں جن کے بارے میں عرض کیا جا سکتا ہے اور ان کی ضرورت بھی ہے لیکن آج میں صرف اس ایک پہلو پر گزارش کروں گا کہ قرآن کریم کا ترجمہ پڑھتے ہوئے کسی تفسیر کا مطالعہ کرتے ہوئے یا درس سنتے ہوئے قرآن کریم کی کسی آیت کے مفہوم کے بارے میں ذہن الجھ جائے، مغالطہ لگ جائے، غلط فہمی پیدا ہو جائے، کنفیوژن ہو جائے، کوئی اشکال سامنے آجائے تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جنوری ۲۰۱۰ء

حدیث نبوی ؐ کی تین نمایاں حیثیتیں

آج مجھے حدیث نبویؐ کے بارے میں کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں۔ حدیث لغوی طور پر گفتگو اور بات چیت کو کہتے ہیں مگر شریعت میں اسے جناب نبی اکرمؐ کے حوالہ سے گفتگو کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے، اور حدیث نبویؐ میں جناب نبی اکرمؐ کے ارشادات اور افعال و اعمال کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے ایسے اقوال و اعمال کو بھی شمار کیا جاتا ہے جو نبی اکرمؐ کے علم و مشاہدہ میں آئے اور آپؐ نے ان پر خاموشی اختیار کر کے ان کی تصویب و توثیق فرما دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ فروری ۲۰۱۰ء

ماں اور بچے کی صحت

ماں اور بچے کی صحت کے حوالہ سے اس سیمینار میں باخبر حضرات کی طرف سے جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں اور صورتحال کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے، حاملہ خواتین کو بروقت طبی امداد مہیا نہ ہونے کے باعث ہزاروں خواتین کی زچگی کی حالت میں موت، اور نوزائیدہ بچوں کو ضروری طبی سہولتیں میسر نہ آنے کی وجہ سینکڑوں بچوں کی اموات کے بارے میں یہ اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جولائی ۲۰۱۰ء

مسئلہ سود پر دو اہم باتیں

مختلف مکاتب فکر کے ارباب علم و دانش سود اور سودی نظام کے حوالہ سے موجودہ معروضی صورتحال اور اس سلسلہ میں مشکلات و مسائل کے حل کے موضوع پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ میں اس مرحلہ میں اس موضوع پر کوئی تفصیلی بات نہیں کرنا چاہتا اور مختلف الخیال ارباب دانش کے خیالات سننے کی نیت سے حاضر ہوا ہوں، مگر مجھ سے پہلے ایک فاضل دوست نے اپنے خطاب میں کچھ اہم نکات کی طرف توجہ دلائی ہے جن میں سے دو نکات پر مختصرًا کچھ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جون ۲۰۱۰ء

علماء اور جدید دور کے تقاضے

آپ حضرات دعوت و ارشاد کے حوالہ سے تخصص کا دو سالہ کورس مکمل کر کے چند دنوں میں فارغ التحصیل ہونے والے ہیں جبکہ آپ میں سے بیشتر حضرات اپنا تعلیمی دورانیہ مکمل کر کے عملی زندگی کا آغاز کر رہے ہیں، اس لیے آپ کے استاذ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی صاحب کا ارشاد ہے کہ میں آپ حضرات کے سامنے اس موضوع پر گفتگو کروں کہ رسمی تعلیم کے دور سے فارغ ہونے کے بعد عملی زندگی میں داخل ہونے پر آپ حضرات کو کس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا اور ان سے نمٹنے کے لیے آپ کیا تدابیر اختیار کریں گے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۱۰ء

تحقیق کی اسلامی روایت اور اسلاف کا طرز عمل

تحقیق، روایت اور ہمارے اسلاف کا طرز عمل، اگر میں اس موضوع کو تھوڑا سا تقسیم کروں تو یہ تین بنیادی نکتے ہیں: (۱) تحقیق کیا ہے؟ (۲) ہماری روایت کیا ہے؟ (۳) اور آج کے دور میں اس کے تقاضے کیا ہیں؟ اس عنوان سے مزید شاخیں بھی نکلتی ہیں اور نئے عنوان بنتے ہیں لیکن میں انہی دو تین نکات کے گرد اپنی گفتگو مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔ تحقیق حق سے ہے، حق معلوم کرنا، حق تک رسائی حاصل کرنا، حق کو سمجھنا، حق کی وضاحت کرنا، حق کو پیش کرنا، حق کو ثابت کرنا، حق کی حجت قائم کرنا، یہ سارے تحقیق کے مراحل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۲۰۱۲ء

زندگی کی حقیقت اور اس کیلئے فائدہ مند کام

زندگی میں پہلی بار ہانگ کانگ میں حاضری کا موقع ملا ہے، ہانگ کانگ کی مساجد کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا شکرگزار ہوں جس کی دعوت پر یہ حاضری ہوئی ہے، اور مولانا قاری محمد طیب کا شکرگزار ہوں جنہوں نے اپنے اس مرکز میں آپ حضرات کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کا اعزاز بخشا ہے اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر سے نوازیں، ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائیں، کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مارچ ۲۰۰۹ء

قرآن کریم اور حضرت عمرؓ کا ذوق

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میری مادر علمی ہے اور تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں کی جولانگاہ بھی ہے۔ اس کا قیام ۱۹۵۲ء میں عمِ مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم اور ان کے رفقاء کی مساعی سے عمل میں آیا تھا، اور اپنے برادر گرامی مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے ساتھ مل کر انہوں نے کم و بیش نصف صدی تک اس گلشن علم کی آبیاری کی ہے۔ گزشتہ پانچ چھ برس سے دونوں بھائی معذور اور صاحب فراش ہیں اور ان کے حکم اور ہدایت پر ان کی جگہ یہ خدمت سرانجام دینے کی ہم ناکارہ لوگ کوشش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اکتوبر ۲۰۰۷ء

آسمانی مذاہب میں قربانی کا تصور

آج عید کا دن ہے، قربانی کی عید جس میں دنیا بھر کے مسلمان اللہ تعالی کی بارگاہ میں نذرانہ پیش کرنے کے لیے جانور ذبح کرتے ہیں اور اللہ تعالی کی رضا کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ یہ قربانی نسلِ انسانی کے آغاز سے چلی آرہی ہے، قرآن کریم نے سب سے پہلی قربانی کا حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔ ان کا رشتے پر جھگڑا ہو گیا تھا، فیصلے کے لیے انہیں قربانی پیش کرنے کو کہا گیا، دونوں نے قربانی پیش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ نومبر ۲۰۰۹ء

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی ؒ

حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ ہمارے دور کے اکابر علماء میں سے تھے جن کی امارت و سیادت کو ملک بھر کے علماء تسلیم کرتے تھے۔ بزرگ تھے، بڑے تھے، وہ ہم سب کے رہنما اور سربراہ تھے۔ سیاسی میدان میں بھی، روحانی دائرے میں بھی اور علمی ماحول میں بھی۔ ضلع رحیم یار خان میں خانپور کٹورہ کے ساتھ ایک بستی ہے دینپور شریف، جو ہمارے بڑے علمی اور روحانی مراکز میں سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۶ء

اہلِ سنت کے تمام مکاتب فکر کی مشترکہ جدوجہد

جامع مسجد خلفاء راشدینؓ کھیالی دروازہ گوجرانوالہ کے منتظمین کا گزشتہ چار عشروں سے معمول چلا آ رہا ہے کہ وہ محرم الحرام کے آخری عشرہ کے دوران تحفظ ناموس صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عنوان سے دو روزہ کانفرنس منعقد کرتے ہیں جس میں اہل سنت کے تینوں مکاتب فکر دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کے سرکردہ علماء کرام کا خطاب ہوتا ہے اور ہزاروں عوام اس میں شریک ہوتے ہیں۔ بحمد اللہ تعالٰی میں اس کانفرنس کے بانیوں میں سے ہوں اور مسلسل شریک ہو رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۲۰۲۰ء

حدیثِ نبویؐ کی ضرورت و اہمیت

’’حدیث‘‘ عربی زبان میں بات چیت اور گفتگو کو کہتے ہیں، لیکن جب ہم مذہبی حوالہ سے حدیث کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے مراد ہر وہ بات ہوتی ہے جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول و منسوب ہو، یا ان کے بارے میں کسی روایت میں مذکور ہو۔ گویا کسی قول، عمل یا واقعہ میں جناب نبی اکرمؐ کا ذکر آجائے تو وہ حدیث بن جاتا ہے اور حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کے بقول حدیثِ نبویؐ تمام دینی علوم کا سر چشمہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۱ء

علومِ حدیث: امام بخاریؒ، امام طحاویؒ اور شاہ ولی اللہؒ کا اسلوب

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم اس وقت سب حدیث نبویؐ کے طلبہ بیٹھے ہیں اور حدیث نبویؐ کے حوالہ سے گفتگو کر رہے ہیں، حدیث نبویؐ اپنے عمومی مفہوم میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و اعمال اور احوال و واقعات پر مشتمل ہے اور تمام علوم دینیہ کا سر چشمہ اور ماخذ ہے۔ ہمیں قرآن کریم حدیث نبویؐ کی وساطت سے ملا ہے، سنت نبویؐ کے حصول کا ذریعہ بھی یہی ہے، اور فقہ کا استنباط بھی اسی سے ہوتا ہے۔ اسی لیے حدیث نبویؐ کو ہمارے نصاب میں سب سے زیادہ مقدار میں اور تفصیل کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اپریل ۲۰۱۰ء

نئے مورچے،پرانے ہتھیار ۔ لمحہ فکریہ!

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ المرکز الاسلامی بنوں میں حاضری کی ایک عرصہ سے خواہش تھی مگر ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ حضرت مولانا سید نصیب علی شاہ الہاشمیؒ ہمارے پرانے ساتھیوں میں سے تھے، ہم نے جمعیۃ طلباء اسلام اور پھر جمعیۃ علماء اسلام میں ایک عرصہ تک اکٹھے کام کیا ہے، ان کا یہ کام تو خود میرے ذوق کا کام ہے کہ آج کے جدید مسائل کا علمی حل اجتماعی طور پر تلاش کیا جائے اور علمی مسائل میں باہمی مشاورت اور علمی مذاکرہ کو ذریعہ بنایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ مارچ ۲۰۱۰ء

ملک کی جغرافیائی، نظریاتی اور تہذیبی سرحدوں کا تحفظ

ایک خوش آئند اور فطری تسلسل قائم ہو گیا ہے کہ چھ ستمبر کو ہم نے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کا دن منایا ہے، سات ستمبر ملک کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے جذبہ سے منایا گیا ہے، جبکہ آٹھ ستمبر نے ملک کی تہذیبی سرحدوں کے دفاع کا عنوان اختیار کر لیا ہے۔ یہ تینوں آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور ملک و قوم کے بہتر مستقبل کی صورت گری کے لیے ان کا تسلسل یقیناً نیک فال ثابت ہو گا، ان شاء اللہ تعالٰی۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۲۰۲۰ء

الطاف حسین اور سلمان تاثیر کے بیانات پر ایک نظر

میں آج آپ حضرات کی وساطت سے جناب الطاف حسین (قائد ایم کیو ایم) اور جناب سلمان تاثیر (گورنر پنجاب) سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے گزشتہ دنوں (۱) تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون، (۲) قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے، (۳) اور اسلام کے نام پر انہیں اپنے مذہب کی تبلیغ سے روکنے کے قوانین پر اعتراض کیا ہے اور ان قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اکتوبر ۲۰۰۹ء

بخاری شریف کے چند امتیازات

بخاری شریف علم حدیث کی سب سے مستند کتاب ہے جسے ’’اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کہا جاتا ہے، حدیث نبویؐ کا علم بہت مہتم بالشان علم ہے، جسے حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ نے تمام علوم دینیہ کی اصل اور اساس کہا ہے، اس لیے کہ تمام علوم دینیہ کے چشمے اسی سے پھوٹتے ہیں حتٰی کہ قرآن کریم بھی ہمیں حدیث نبویؐ کے ذریعے ملا ہے۔ قرآن کریم کا معنٰی و مفہوم تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں مگر ہمیں تو قرآن کریم کے الفاظ بھی آنحضرتؐ کے ارشادات کے ذریعے حاصل ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۴ء

سیرۃالنبیؐ اور مزدوروں کے حقوق

ہماری آج کی نشست کا عنوان ہے ’’سیرۃ النبیؐ اور مزدوروں کے حقوق‘‘ اس حوالے سے دو تین اصولی باتیں عرض کروں گا۔ پہلی بات یہ کہ مزدور کسے کہتے ہیں۔ شاہ ولی اللہؒ کہتے ہیں کہ ہم آپس میں اشیا اور صلاحیتوں کا تبادلہ کرتے ہیں تو ہمارا نظام چلتا ہے۔ ہر آدمی اپنی ساری ضروریات خود پوری نہیں کر سکتا، کوئی ضرورت کوئی بندہ پوری کرتا ہے، دوسری ضرورت کوئی اور پوری کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۸ء

۸ ستمبر ― یومِ قومی زبان

قومی زبان تحریک نے ۸ ستمبر کو قومی زبان کے دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق اس روز ملک کے مختلف حصوں میں تقریبات کے علاوہ لاہور میں ’’قومی زبان کانفرنس‘‘ کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے جو تین بجے کینال روڈ پر واقع مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ آڈیٹوریم میں ہو گی اور اس میں ممتاز ارباب فکر و دانش اظہار خیال کریں گے، ان شاء اللہ تعالٰی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ ستمبر ۲۰۲۰ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter