’’امریکیو! پاکستان سے نکل جاؤ‘‘

گزشتہ روز پشاور میں وکلاء نے امریکہ کے خلاف مظاہرہ کیا۔ ایک قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین ایف بی آئی کے چھاپوں اور گرفتاریوں پر احتجاج کر رہے تھے اور انہوں نے جو بینر اٹھا رکھے تھے ان پر لکھا تھا کہ امریکیو! پاکستان سے نکل جاؤ اور ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرو۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بار کونسل کے صدر شیر اَفگن خٹک نے کہا کہ پاکستان امریکہ کی کالونی بن چکا ہے اور ایف بی آئی کے چھاپے پاکستان کی سالمیت اور آزادی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیرملکی ایجنٹوں کو چھاپے مارنے کا کوئی اختیار نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۰۲ء غالباً

آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد ۔ نئی سفارتی صف بندی کی ضرورت

وزیرخارجہ جناب شاہ محمود قریشی نے پانچ اگست کو کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا ہے اور دیگر پروگراموں کے علاوہ قومی سطح پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کی ترتیب بھی بتائی ہے، جو آج کی دنیا میں جذبات کے اظہار کی ایک صورت سمجھی جاتی ہے۔ ہمیں اس کی ضرورت و افادیت سے انکار نہیں ہے اور ان شاء اللہ تعالٰی اس میں شریک ہوں گے، مگر کیا اس سے مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیریوں کی مظلومیت میں کمی کا کوئی راستہ نکل آئے گا؟ یہ محل نظر بات ہے اور ہم سب کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۲۰۲۰ء

صحابہ کرامؓ و اہل بیتؓ کی عقیدت و احترام کا ناگزیر تقاضہ

خلفائے راشدین اور ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہم کی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بنات مکرمات بھی پوری امت کی عقیدت و ادب کا مرکز ہیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چاروں بیٹیاں حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہن کے ساتھ عقیدت و ادب ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، ان میں سے چونکہ خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ چھوٹی اور لاڈلی بیٹی ہونے کی وجہ سے فطری اور طبعی طور پر محبت و انس زیادہ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۲۰ء

علماء کرام کی محنت کا دائرہ کار

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم و حوا علیھما السلام کو پیدا فرمایا اور زمین کی طرف بھیجا تو دو باتیں ارشاد فرمائیں۔ ایک یہ کہ یہاں ایک عرصہ تک آپ لوگوں کو رہنا ہے، اس لیے یہاں موجود تمام اشیا آپ کے لیے قابل استفادہ ہیں، دوسری بات یہ کہ میری طرف سے وقتاً فوقتاً آنے والی ہدایات کا انتظار کریں اور ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں۔ آدم و حوا علیھما السلام کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا اور حسب ارشاد مختلف اوقات میں انبیاء کرامؑ تشریف لاتے رہے اور انسانیت کی ہدایت کا سامان ہوتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اگست ۲۰۲۰ء

ختم نبوت کانفرنس لاہور اور مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کی یاد میں سیمینار

۱۱ اپریل کو بادشاہی مسجد لاہور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام منعقد ہونے والی قومی ختم نبوت کانفرنس کے لیے ملک بھر میں تیاریاں جاری ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ کانفرنس ملک میں تحریک ختم نبوت کی تاریخ میں ایک نئے دور کے آغاز کا عنوان ثابت ہو گی۔ اس کانفرنس کے حوالے سے ملک کے مختلف حصوں میں جو اجتماعات ہوئے ہیں ان سے علماء کرام اور دینی کارکنوں میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۹ء

گلوبل سوسائٹی میں دینی تعلیم کی ضروریات

اس وقت کے عمومی حالات کے پیش نظر دینی تعلیم کے معروضی تقاضوں کے حوالے سے جو ضروریات محسوس کی جا رہی ہیں ان کا ایک ہلکا سا خاکہ آپ حضرات کے سامنے پیش کر رہا ہوں، اس خیال سے کہ دینی تعلیم کے نظام سے عملی طور پر وابستہ حضرات ان پر غور فرمائیں اور انہیں اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں کسی نہ کسی جگہ ایڈجسٹ کرنے کی عملی صورتیں تلاش کریں، کیونکہ ان ضروریات کو محسوس کرنا اور انہیں پورا کرنے کی عملی شکلیں تلاش کرنا بہرحال ہماری ہی ذمہ داری بنتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جولائی ۲۰۲۰ء

ہم قرآن کس لیے پڑھتے ہیں؟

کراچی سے گزشتہ جمعرات کو گوجرانوالہ واپس پہنچ کر اپنی معمول کی مصروفیات میں محو ہو چکا ہوں مگر دو تین حاضریوں کا تذکرہ باقی ہے۔ سہراب گوٹھ کی جامع مسجد گلشن عمرؓ میں واقع جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کی شاخ کے سامنے سے تو بیسیوں مرتبہ گزر ہوا ہو گا، مگر حاضری پہلی بار ہوئی۔ جامعہ کے اساتذہ کی فرمائش تھی کہ حاضری کی کوئی صورت نکلے اور طلبہ سے کچھ معروضات بھی کی جائیں۔ چنانچہ بدھ کی شب کو مولانا محمد شفیع چترالی کے ہمراہ عشاء کی نماز وہاں ادا کی، عشاء کے بعد طلبہ سے چند گزارشات کیں اور اس کے بعد کھانے پر حضرات اساتذہ کے ساتھ مختلف امور پر تبادلۂ خیالات ہوا۔ مکمل تحریر

۲۱ اپریل ۲۰۱۰ء

تعلیمی سلسلہ کی بحالی اور یکساں نصاب تعلیم

کرونا بحران سے پیدا شدہ صورتحال پوری قوم بلکہ نسل انسانی کے لیے پریشانی اور بے چینی کا باعث ہے جس سے نظام زندگی مختلف شعبوں میں درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے اور اس پر کنٹرول کی کوئی مؤثر صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ اس دوران لاک ڈاؤن اور پھر سمال لاک ڈاؤن یقیناً قومی اور معاشرتی ضرورت ہے جس کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توبہ و استغفار کے ساتھ اپنی بارگاہ میں جھکنے کی توفیق دیں اور اس ابتلا و وبا سے نجات عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جولائی ۲۰۲۰ء

جناب رسول کریمؐ کی دس نصیحتیں

ایک دینی محفل میں جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ان دس نصائح کا قدرے تفصیل کے ساتھ تذکرہ ہوا جو آپؐ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو فرمائی تھیں۔ محفل میں شریک ایک دوست نے خواہش کا اظہار کیا کہ ان نصائح اور ان کے حوالہ سے کی گئی گزارشات کو ضبط تحریر میں بھی آنا چاہیے۔ چنانچہ اسی خیال سے انہیں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مسند احمد میں حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے اور صاحب مشکٰوۃ نے بھی اسے نقل کیا ہے کہ حضرت معاذؓ فرماتے ہیں کہ جناب نبی اکرمؐ نے مجھے دس باتوں کی بطور خاص نصیحت فرمائی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نامعلوم

گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے پیچھے کرنے کی برطانوی روایت

کیبنٹ ڈویژن کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ اپریل کے پہلے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات کو ملک بھر میں گھڑیوں کا وقت ایک گھنٹہ آگے کر دیا جائے گا، اور اکتوبر کے پہلے ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات کو گھڑیوں کا وقت پھر ایک گھنٹہ پیچھے کر لیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدام آزمائشی طور پر ایک سال کے لیے کیا گیا ہے۔ برطانیہ میں بھی ایسا ہوتا ہے جہاں مارچ کے آخری ہفتہ میں گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے کر کے اکتوبر کے آخری ہفتہ میں پھر ایک گھنٹہ پیچھے کر لیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ مارچ ۲۰۰۲ء

توہین رسالت کا قانون اور جرمن پارلیمنٹ کی ہیومن رائٹس کمیٹی کا مطالبہ

جرمن پارلیمنٹ کی ہیومن رائٹس کمیٹی کے ارکان ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں اور انہوں نے گزشتہ روز وفاقی وزیر قانون سے ملاقات کر کے دیگر امور کے ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ توہین رسالت کی سزا کے قانون میں ترمیم کی جائے اور اس جرم کی سزا کو کم کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ فروری ۲۰۰۲ء

ہماری بات مان لیتے تو نہ مارے جاتے

غزوۂ احد میں مسلمانوں کو خاصا جانی نقصان اٹھانا پڑا، اور جب خود جناب نبی اکرمؐ زخمی ہوئے اور آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے تو عام مسلمانوں میں یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا کہ اگر ہم حق پر ہیں اور اللہ تعالٰی ہمارے ساتھ ہیں تو اس جنگ میں ہمیں کفار کے ہاتھوں اس قدر نقصان کیوں اٹھانا پڑا ہے، اور محاذ جنگ پر اس قدر افراتفری کیوں ہوئی کہ جناب نبی اکرمؐ کے دندان مبارک شہید ہوئے؟ حتٰی کہ حضرت حذیفہ بن الیمانؓ کے والد محترم جو خود بھی صحابیؓ تھے، دیکھتے ہی دیکھتے بیٹے کی آنکھوں کے سامنے مسلمانوں ہی کے ہاتھوں شہادت سے ہمکنار ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ نومبر ۲۰۰۱ء

برطانوی پولیس کی کارکردگی کا چشم دید واقعہ

طارق صاحب ہمارے محترم دوست ہیں، ابوبکرؓ مسجد کے پرانے نمازی ہیں، ساؤتھ آل لندن میں رہتے ہیں اور تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا خاندان مشرقی پنجاب کے کسی علاقہ سے یوگنڈا چلا گیا تھا اور وہاں سے وہ لندن آ گئے۔ گزشتہ ہفتے کی بات ہے کہ وہ مغرب کی نماز کے لیے مسجد ابوبکر آئے اور مسجد کے مین گیٹ کے سامنے براڈوے پر گاڑی کھڑی کر دی۔ نماز سے فارغ ہو کر واپس جانے کے لیے دروازے سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ان کی گاڑی حرکت کر رہی ہے اور دو گورے اس میں بیٹھے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نا معلوم

عالمی اسلامی تحریکات کی مجلس عمل سے وابستہ توقعات

پاکستان میں حالیہ انتخابات کے نتائج پر دنیا بھر میں جہاں حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے وہاں مختلف ممالک کے دینی حلقوں اور اسلامی تحریکات میں توقعات اور امیدوں کی ایک نئی لہر بھی ابھری ہے۔ گزشتہ سال افغانستان پر امریکہ کے حملوں اور پاکستان میں طالبان کی حمایت کرنے والی دینی شخصیات اور کارکنوں کی وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ جہادی تحریکات کے خلاف کریک ڈاؤن سے مایوسی اور اضطراب کی جو صورتحال پیدا ہو گئی تھی اس پس منظر میں متحدہ مجلس عمل کی انتخابی کامیابی سے دنیا بھر کی دینی تحریکات کو حوصلہ ملا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ نومبر ۲۰۰۲ء

زکٰوۃ کا نظام اور شہزادہ چارلس

لاہور سے شائع ہونے والے ایک قومی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ چارلس نے گزشتہ دنوں دورہ عمان کے دوران ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ زکوٰۃ کا نظام نہ صرف مسلمانوں کی بلکہ ساری دنیا کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریب سے خطاب کے دوران شہزادہ چارلس نے سامعین کو اس وقت چونکا دیا جب انہوں نے اسلام کے اہم رکن زکوٰۃ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ انسانی مساوات کی ایک شاندار مثال ہے جس کی پیروی ہر انسان کو کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نا معلوم

جہاد اور قومی اتفاق رائے

راجہ صاحب محترم کو جہاد افغانستان کو جہاد تسلیم کرنے میں اشکال ہے، وہ اس کے لیے یہ دلیل دے رہے ہیں کہ جہاد کا یہ فتوٰی کسی مجاز اتھارٹی نے نہیں دیا تھا اور مجاز اتھارٹی ان کے نزدیک صرف ایک اسلامی حکومت ہے، اور اگر اس کا وجود نہ ہو تو قومی اتفاق رائے یا افغانوں کی زبان میں ’’لویہ جرگہ‘‘ کو اس کی جگہ دی جا سکتی ہے، لیکن وہ علماء کو یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ وہ جہاد کا فتوٰی دیں۔ ان کے نزدیک اسلامی حکومت کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ ان سے فتوٰی لینے کے بعد جہاد کا اعلان کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۰ء

جاگیرداری نظام اور علماء کی ذمہ داری

ایٹمی دھماکوں کے بعد وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جس قومی ایجنڈے کا اعلان کیا ہے اس میں زرعی اصلاحات بھی شامل ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ وہ قوم کو جاگیرداری سسٹم سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ ہمارا موجودہ زمیندارہ سسٹم برطانوی تسلط کے نوآبادیاتی دور کی یادگار ہے جو ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد برطانوی استعمار نے اپنا تسلط مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے استوار کیا تھا۔ مغل دور کی زمینداریاں ختم کر دی گئی تھیں اور جاگیریں ضبط کر لی گئی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۸ء

کرونا بحران ۔ خدائی تنبیہ کی ایک صورت

اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں انسانی سوسائٹی پر اپنے عذاب کی مختلف صورتیں، سطحیں اور دائرے بیان فرمائے ہیں، ان میں سب سے بڑا عذاب آخرت کا عذاب اور قبر کا عذاب ہے جس سے تعوذ اور پناہ کے لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل دعائیں مانگنے کی تلقین فرمائی ہے۔ مگر دنیا میں بھی عذاب کے مختلف پہلو اور صورتیں قرآن کریم میں مذکور ہیں جن کا مقصد تنبیہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اس تنبیہ اور وارننگ کے بعد لوگ توبہ کر لیں اور اپنے گناہوں اور نافرمانی سے باز آجائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۲۰ء

قرآن و سنت کی روشنی میں انسانی حقوق کا تصور

سورۃ الذاریات کی چند آیات میں نے تلاوت کی ہیں جن میں اللہ تعالٰی نے اپنے نیک بندوں اور متقین کے اوصاف بیان فرمائے ہیں اور ان میں ایک بات یہ بھی ذکر کی ہے کہ ’’ان کے اموال میں ضرورت مندوں کے حقوق ہوتے ہیں‘‘۔ یعنی وہ اپنے اموال میں سے معاشرہ کے ضرورت مند افراد پر خرچ کرتے رہتے ہیں۔ یہ ان حقوق میں سے ایک ہے جو اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں انسانوں کے باہمی حقوق کے حوالہ سے تفصیل کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ انسانی حقوق کا آج بھی بہت شہرہ ہے اور مختلف حوالوں سے ان کا تذکرہ ہوتا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۰۵ء (غالباً)

مغرب کی نقالی کا ایک افسوسناک پہلو

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’لتتبعن سنن من کان قبلکم حذو النعل بالنعل‘‘ تم پہلی امتوں کی قدم بہ قدم پیروی کرو گے۔ اس حدیث مبارکہ کی تشریح میں محدثین کرامؒ نے مختلف پہلوؤں پر بات کی ہے، ان میں سے ایک پہلو پر آج کچھ معروضات پیش کرنے کا ارادہ ہے۔اس تمہیدی گزارش کے ساتھ کہ انسان بنیادی طور پر اپنی خوبیوں اور کمزوریوں کے حوالہ سے شروع سے کم و بیش یکساں چلا آرہا ہے اور قیامت تک اس نے ایسا ہی رہنا ہے۔ اس کے اندر فطرت نے خیر و شر کی جو صلاحیتیں ودیعت کی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جولائی ۲۰۲۰ء

افتاء کے ساتھ مشورہ اور تحکیم بھی ضروری ہے

معاشرے میں شرعی احکام پر عملداری کا رجحان فروغ دینے کے لیے محنت و کاوش کے مختلف دائرے ہیں جن میں بعض تو حکومت و ریاست سے تعلق رکھتے ہیں مگر زیادہ تر کام وہ ہیں جو حکومت و ریاست کے عمل دخل کے بغیر آزادانہ طور پر بھی کیے جا سکتے ہیں، مگر ہمارا عمومی مزاج یہ بن گیا ہے کہ سارے کام حکومت کے کھاتے میں ڈال کر اپنے حصے کا کام بھول جاتے ہیں اور سوسائٹی میں دینی ماحول کے کمزور ہوتے چلے جانے کی ساری ذمہ داری سرکار پر ڈال دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جولائی ۲۰۲۰ء

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ ایک جید عالم دین

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی وفات کی خبر اس قدر اچانک ملی کہ اس پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ میں اس روز مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر اور حافظ زبیر جمیل کے ہمراہ ڈیرہ اسماعیل خان میں تھا۔ ہم سابق سینیٹر مولانا قاضی عبد اللطیفؒ کی وفات پر تعزیت کے لیے کلاچی گئے تھے اور مولانا نور محمد ؒآف وانا کی تعزیت کے لیے وانا جانے کی خواہش تھی، مگر حالات کی نامساعدت نے اس کی اجازت نہ دی۔ ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں ہم نے جمعیۃ علماء اسلام کے سابق مرکزی قائد خواجہ محمد زاہد شہیدؒ اور شیخ محمد ایازؒ کے اہل خاندان سے تعزیت کی اور بعض مدارس میں حاضری دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اکتوبر ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ

حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ وہ گزشتہ چند برس سے صاحب فراش تھے، ۵ مئی کو ملتان کے ایک ہسپتال میں انہوں نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ سال اسی تاریخ کو میرے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا انتقال ہوا تھا۔ دونوں دارالعلوم دیوبند میں ہم سبق رہے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد تھے۔ ان کا روحانی سرچشمہ بھی ایک ہی تھا کہ موسٰی زئی شریف کی خانقاہ کے فیض یافتہ تھے۔ نقشبندی سلسلے کی اس خانقاہ کے حضرت خواجہ سراج الدینؒ سے حضرت مولانا احمد خانؒ نے خلافت پائی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ مئی ۲۰۱۰ء

سردار عبد القیوم خان سے ملاقات

چند روز قبل راولپنڈی میں شادی کی ایک تقریب کے دوران آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کے والد محترم سردار محمد عبد القیوم خان کی صحت کے بارے میں پوچھا، انہوں نے بتایا کہ وہ خاصے کمزور ہو گئے ہیں اور راولپنڈی میں ہی ہیں۔ اگلے روز میں نے ان کے پاس حاضری کا پروگرام بنا لیا اور تھوڑی دیر ان کے ساتھ گزارنے کا موقع مل گیا۔ مجاہد اول سردار محمد عبد القیوم خان کے ساتھ میرا اس دور سے تھوڑا بہت رابطہ چلا آ رہا ہے جب انہوں نے غالباً ۱۹۶۸ء کے دوران باغ بیرون موچی دروازہ لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ دسمبر ۲۰۱۲ء

انسانی حقوق کا مغربی فلسفہ اور امتِ مسلمہ

آج کا دور انسانی حقوق کا دور کہلاتا ہے اور مغرب کا دعوٰی ہے کہ اس نے دنیا کو انسانی اقدار اور انسانی حقوق سے متعارف کرایا اور نسل انسانی کے مختلف طبقات بالخصوص کمزور طبقوں کو حقوق کا شعور بخشا۔ اس سے قبل انسانی معاشرہ جہالت، جبر، ظلم اور تشدد کی ظلمتوں اور تاریکیوں کا شکار تھا، مغرب نے اس تاریکی اور ظلمت سے نسل انسانی کو نجات دلا کر روشن خیالی اور علم کے نئے دور کا آغاز کیا۔ مغرب کے معاشرتی، سائنسی اور ثقافتی انقلاب سے پہلے کا دور تاریکی، جبر اور جہالت کا دور کہلاتا ہے ، جبکہ انقلاب فرانس کے بعد سے شروع ہونے والا دور روشنی، انصاف اور علم کا دور سمجھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مارچ ۲۰۱۱ء

مذہبی تعلیمی اداروں کے حوالہ سے امریکی سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ

آٹھ دس برس قبل کی بات ہے امریکہ کے ایک سفر کے دوران چند دوست ورجینیا میں ملے جو ایشین امیریکن تھے اور اپنا تعلق اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے بتا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ وہ ایک مسئلہ پر اسٹڈی اور عوامی سروے کر رہے ہیں کہ اگر مذہب سوسائٹی میں واپس آ گیا تو کہیں وہ ریاستی نظم اور اجتماعی معاملات میں دخل اندازی تو نہیں کرے گا؟ میں نے ان کے اس سوال پر عرض کیا کہ اگر تو یہ واقعی مذہب ہوا تو ضرور کرے گا۔ کیونکہ جو مذہب اصل آسمانی تعلیمات پر مشتمل ہے اور اپنے پاس وحی الٰہی کے ذخیرے کے ساتھ صاحب وحی پیغمبرؑ کی ہدایات کو موجود پاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جولائی ۲۰۲۰ء

پاکستان میں نفاذ اسلام کے لیے وفاقی وزارت مذہبی امور کی سفارشات

ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے حکومت کی ہدایت پر وزارت مذہبی امور نے سفارشات پر مبنی تفصیلی رپورٹ مرتب کی ہے جس میں نفاذ شریعت کے لیے دستوری تقاضوں، عدل و انصاف، تعلیم، معیشت، ذرائع ابلاغ، اصلاح جیل خانہ جات، معاشرتی اور دفتری اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ وزارت نے یہ رپورٹ ملک کی مذہبی تنظیموں اور اسلامی نظریاتی کونسل کی مدد سے تیار کی ہے۔ اس رپورٹ کو کابینہ اپنے آئندہ اجلاس میں غور کرنے کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کرے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۱۹۹۴ء

خلافت کے لیے قریشی ہونے کی شرط

میں یہ بات ابھی تک نہیں سمجھ پایا کہ اگر محترم محمد مسکین عباسی کو بالآخر یہی تسلیم کرنا تھا کہ مولانا احمد رضا خان بریلوی ترکوں کی حکومت کو ’’شرعی خلافت‘‘ تسلیم نہیں کرتے تھے تو انہیں اتنی لمبی چوڑی بحث میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ میں نے ایک مضمون میں یہ تذکرہ کر دیا کہ مولانا احمد رضا خانؒ ترکوں کی خلافت کو نہیں مانتے تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے تحریک خلافت سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ اس پر محمد مسکین عباسی صاحب نے مجھ سے اس کا حوالہ طلب کیا جس کے جواب میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ فروری ۲۰۰۱ء

بیت اللہ کی عظمت و حفاظت

ایک معاصر روزنامہ نے خبر دی ہے کہ مکہ مکرمہ پر ایٹم بم گرانے کا مطالبہ کرنے والے امریکی صحافی رچ لوری پر فالج کا شدید حملہ ہوا ہے اور اس کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے۔ اوہایو میڈیکل ہسپتال کے ڈاکٹروں نے رچ لوری کی اچانک بیماری کی اطلاع دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آ رہی۔ خبر کے مطابق مذکورہ امریکی صحافی نے چند روز پیشتر ’’انٹرنیشنل ریویو‘‘ نامی رسالے میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں تمام مسلمانوں کو نیویارک اور واشنگٹن پر ہونے والے حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کعبہ پر ایٹم بم چلانے کا مطالبہ کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۲ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter