امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز
اللہ تعالٰی کا بے حساب شکر ہے کہ اس نے ہم سب کو اپنے گھر میں نماز ادا کرنے کے بعد دین کی کچھ باتیں کہنے سننے کے لیے مل بیٹھنے کی توفیق عطا فرمائی، اللہ رب العزت کچھ با مقصد باتیں عرض کرنے کی توفیق دیں اور ان پر عمل کی توفیق سے بھی نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ میرے میزبان دوست جناب سلیمان قاضی نے فرمائش کی ہے کہ ’’ملت اسلامیہ کو درپیش چیلنجز‘‘ کے عنوان پر کچھ معروضات پیش کی جائیں، یہ ایک وسیع اور متنوع موضوع ہے جس کے مختلف پہلوؤں پر ایک مجلس میں بات کرنا مشکل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور دعوتِ اسلام
سرورِ کائنات، فخرِ موجودات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت ملنے پر اللہ تعالٰی کی طرف سے توحید اور دین کا پیغام پہنچانے کا حکم موصول ہونے کے بعد جب اپنی دعوت اور محنت کا آغاز کیا تو کہاں سے کیا اور کیسے کیا؟ حضورؐ کو حکم ملا ’’فاصدع بما تؤمر‘‘ جو کچھ آپ سے کہا گیا ہے اب اس کا اعلان کیجیے۔ تو آپؐ نے سب سے پہلے صفا پہاڑی سے عمومی دعوت کا آغاز کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور مہمانوں کے حقوق
آج کا ہمارا موضوع ہے کہ مہمان نوازی کے حوالے سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہدایات فرمائی ہیں اور حضورؐ کی سنت مبارکہ کیا تھی؟ آپؐ کا نبوت کے بعد جو پہلا تعارف ہے وہ مہمان نوازی کے حوالے سے ہے۔ جناب نبی اکرمؐ پر جب غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تو آپؐ نے یہ واقعہ ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ سے ذکر کیا اور فرمایا ’’خشیت علٰی نفسی‘‘ مجھے اپنے بارے میں ڈر لگنے لگا ہے۔ آپؐ کو تشویش تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور غلاموں کے حقوق
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جناب نبی کریمؐ سے پہلے بھی غلاموں کا سلسلہ جاری تھا، غلام جانوروں کی طرح خریدے اور بیچے جاتے تھے اور ان سے کام لیا جاتا تھا۔ ہمارے ہاں تو یہ سلسلہ اسلام کے آغاز سے کچھ عرصہ بعد ہی کنٹرول ہو گیا تھا لیکن باقی دنیا میں یہ سلسلہ جاری رہا، مثلاً امریکہ میں اب سے ایک صدی پہلے ۱۹۲۴ء، ۱۹۲۵ء تک غلاموں کی منڈیاں لگتی تھیں اور انہیں خریدا اور بیچا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت عمرؓ اور انسانی سوسائٹی کو درپیش چیلنجز
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ صرف ملت اسلامیہ نہیں بلکہ انسانی تاریخ کی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور ان سے ہر دور میں امت مسلمہ اور انسانی سوسائٹی نے استفادہ کیا ہے جو قیامت تک جاری رہے گا۔ حضرت فاروق اعظمؓ کے بیسیوں فضائل و مناقب میں سے ایک یہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ اگر نبوت کا سلسلہ منقطع نہ ہو جاتا اور میرے بعد کسی کے نبی کے منصب پر فائز ہونے کی گنجائش ہوتی تو عمرؓ نبی ہوتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس اور محکمہ تعلیم
عشرہ محرم الحرام کے دوران ایک اہم خبر گزارشات کا عنوان نہ بن سکی جو اگست کے اواخر میں اس صورت میں سامنے آئی تھی کہ ’’سندھ حکومت نے صوبے میں موجود مدارس کو تعلیمی اداروں کے طور پر رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان وزیر اعلٰی کے مطابق سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں نیشنل ایکشن پلان سمیت معاملات پر بریفنگ دی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور معاشی حقوق
معاشی حقوق کیا ہوتے ہیں اور معیشت کیا ہوتی ہے؟ انسان جب زندگی گزارتا ہے تو اسے اخراجات کے لیے اسباب کی ضرورت پڑتی ہے، پیسوں کی اور چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچہ پیدا ہوتے ہی اس کی ضروریات شروع ہو جاتی ہیں اور اس کو جتنی بھی زندگی ملے آخر وقت تک یہ ضروریات باقی رہتی ہیں۔ یہ ضروریات اسباب سے ہی پوری ہوتی ہیں، جیب میں پیسے ہوں گے، خرچہ ہو گا تو ضروریات پوری ہوں گی۔ اللہ تبارک و تعالٰی نے اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مختلف دائرے بتائے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور غیر مسلموں کے حقوق
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی گفتگو کا عنوان ہے سیرۃ النبیؐ اور غیر مسلموں کے حقوق۔ نبوت سے پہلے تو مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہیں تھا، البتہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تئیس سالہ نبوی زندگی، یعنی تیرہ سالہ مکی اور دس سالہ مدنی زندگی میں آپؐ کا تین قسم کے کافروں کا سامنا ہوا اور تینوں کے ساتھ آپؐ کا معاملہ الگ الگ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور قیدیوں کے حقوق
آج ہماری نشست کا موضوع ہے ’’سیرۃ النبیؐ اور قیدیوں کے حقوق‘‘ کہ حضورؐ قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا کرتے تھے۔ قیدی اس زمانے میں مختلف قسموں کے ہوتے تھے۔ ایک تو جنگی قیدی ہوتے تھے۔ جنگی قیدیوں کے بارے میں قرآن کریم نے مختلف صورتیں بیان فرمائی ہیں اور حضورؐ نے بھی ان کے بارے میں وہ صورتیں اختیار کی تھیں۔ مثلاً قرآن کریم میں جنگی قیدیوں کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے ’’امّا منا بعد وامّا فداءً حتٰی تضع الحرب اوزارھا‘‘۔ جنگی قیدیوں کے بارے میں چار پانچ آپشن ہوتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مساجد کمیٹیوں کو رفاہی اور مصالحتی کردار بھی ادا کرنا چاہیے
عاشوراء کے روز دیگر بہت سے معمولات کے ساتھ ایک ایسے کارِ خیر میں شریک ہونے کا موقع مل گیا جس طرح کے کاموں کی مجھے تلاش رہتی ہے۔ واپڈا ٹاؤن گوجرانوالہ کے سامنے کنگ مال کے عقب میں ایک نئی مسجد روڈ پر بنی ہے جس کے سامنے سے کئی بار گزر ہوا اور اب یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ مسلم روڈ کے حاجی محمد طارق بشیر صاحب نے یہ مسجد تعمیر کرائی ہے ، وہ مسجد اقدس کے سابق خطیب مولانا حافظ محمد عارفؒ کے حلقہ احباب میں سے ہیں جو ہمارے مہربان اور بزرگ دوست تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور معاشرتی حقوق
بعد الحمد والصلٰوۃ۔ انسان دنیا کی جاندار چیزوں میں سے وہ مخلوق ہے جو اکٹھے مل جل کر زندگی گزارتے ہیں۔ تمدن، محلے، بستیاں، مکانات، شہر، ریاستیں، حکومتیں کسی اور مخلوق میں نہیں ہیں۔ یہ سسٹم نہ شیروں میں ہے، نہ ہاتھیوں میں ہے۔ تمدن یعنی مل جل کر رہنا، ایک دوسرے کی ضروریات پوری کرنا، یہ صرف انسانوں میں ہے، اگرچہ دوسرے جاندار بھی یہ کرتے ہیں لیکن محدود دائرے میں۔ تمدن کو معاشرت بھی کہتے ہیں اور یہ انسان کا خاصہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور مسافروں کے حقوق
مسافروں کے حوالے سے آج میرا جی چاہتا ہے کہ آپ کو جناب نبی کریمؐ کے زمانے کے چند مسافروں کے قصے سناؤں۔ حضرت ابوذر غفاریؓ بنو غفار قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، بہت بڑے صحابی ہوئے ہیں۔ ان کا قصہ بخاری شریف میں مذکور ہے، وہ خود بیان کرتے ہیں، قصہ سفر کا بھی ہے اور قبول اسلام کا بھی ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں انہیں دیگر بہت سے حضرات کی طرح بت پرستی سے نفرت تھی، موحد تھے، اللہ کی عبادت پسند تھی اور اپنے طور پر عبادت کرتے رہتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور پڑوسیوں کے حقوق
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسیوں کے جو حقوق بیان فرمائے وہ اس طرح ہیں کہ ان کی خوشی غمی میں شریک ہوا جائے، ان کی بیمار پرسی کی جائے، حال احوال کی خبر رکھی جائے، ان کو نفع پہنچایا جائے، گھر میں کوئی چیز زیادہ پک گئی ہے یا زیادہ پکا لی جائے تو پڑوسیوں کو بھی اس میں شریک کیا جائے وغیرہ۔ جناب نبی اکرمؐ کا ارشاد گرامی ہے ’’لیس المؤمن الذی یبیت شبعان وجارہ جائع فی جنبہ وھو یعلم‘‘ وہ آدمی مومن نہیں ہے جو خود تو پیٹ بھر کر سویا ہے مگر اس کا پڑوسی بھوکا سویا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور سیاست و حکومت
(۱) اس عنوان سے متعلق پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا سیاست کا نبی سے اور نبی کا سیاست سے کوئی تعلق ہوتا ہے؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ ہاں ہوتا ہے بلکہ دینی سیاست کی بنیاد ہی نبوت ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی نے بنی اسرائیل کا ذکر کیا اور فرمایا، ہم نے ان کو نبوت بھی دی تھی، بادشاہت بھی دی تھی اور حکمت بھی دی تھی، چنانچہ انبیائے بنی اسرائیل علیہم السلام حضرت موسٰیؑ کے بعد یوشع بن نونؑ سے لے کر حضرت زکریاؑ تک اکثر انبیاء حاکم اور قاضی بھی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور افسروں کے حقوق
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اس سال کی ہماری نشستوں کا موضوع یہ چلا آ رہا ہے کہ مختلف طبقات کے ساتھ (مسافروں، قیدیوں، غلاموں، مہمانوں، مزدوروں کے ساتھ) حضورؐ کی سنت مبارکہ کیا تھی؟ آج کی نشست کا عنوان ہے کہ افسروں کے ساتھ حضورؐ کا طرزعمل کیا تھا۔ جناب نبی کریمؐ جن لوگوں کو ڈیوٹی پر مقرر فرماتے، وقتی طور پر یا مستقل طور پر، اس زمانے میں عامل اور والی کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بزرگوں کے تذکرہ کا اصل مقصد
ذی الحجہ میں سیدنا حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی عظمت اور قربانیوں کے ذکر اور ان کے ساتھ عقیدت و محبت کے اظہار کے بعد امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا تذکرہ ہوتا ہے۔ جبکہ محرم الحرام کے آغاز میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسلمان اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور خانوادہ نبوت کے دیگر عظیم سپوتوں کے تذکرہ میں محو ہو جاتے ہیں۔ اور اس طرح اللہ تعالٰی کے ان نیک بندوں کے تذکرہ سے ثواب و اجر کمانے کے ساتھ ساتھ اپنی نسبتوں کا اظہار کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرۃ النبیؐ اور انسانی حقوق
بعد الحمد والصلٰوۃ۔ گزشتہ سال کی فکری نشستوں میں وہ نمایاں شخصیات جن کے ساتھ میں نے وقت گزارا ان کا تذکرہ ہوا، اس سال ان فکری نشستوں کا موضوع یہ ہے کہ انسانی معاشرت، سوسائٹی اور سماج کے حوالے سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ کیا ہے؟ حضورؐ کی سیرتِ طیبہ کیا ہے؟ حضورؐ کا معمول کیا رہا ہے؟ اس کے مختلف پہلوؤں پر بات ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تزکیہ و تربیت اور اسوۂ رسولؐ
سیالکوٹ کے تاجر اور صنعتکار حضرات کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اس کار خیر کے ذریعے اپنے ذخیرۂ آخرت میں ہی اضافہ نہیں بلکہ ملک کے دوسرے شہروں کے تاجروں اور صنعتکاروں کے لیے بھی ایک لائق تقلید نمونہ پیش کیا ہے، خدا کرے کہ دوسرے شہروں کے ایوان ہائے صنعت و تجارت بھی اس طرح کے کار خیر کر کے سیالکوٹ چیمبر کے نقش قدم پر چلیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نیکی اور اس کی حفاظت
میں نے آپ کے سامنے سورۃ الکہف کے آخری رکوع کی ایک آیت کریمہ تلاوت کی ہے جس میں اللہ تعالٰی نے ایک اہم مسئلہ کی طرف ہمیں توجہ دلائی ہے، وہ یہ کہ دنیا میں ہر مسلمان کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمائے اور ثواب والے کام کرے تاکہ یہ ثواب اور نیکیاں آخرت میں اسے کام آئیں، لیکن جس طرح نیکیاں کمانا ضروری ہے اسی طرح ان کی حفاظت بھی ضروری ہے کیونکہ بسا اوقات کمائی ہوئی نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں اور کیے ہوئے نیک اعمال غارت ہو جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد عبد اللہؒ درخواستی کی یاد میں
’’حافظ الحدیث نمبر‘‘ کے حوالہ سے ہمارے بزرگ حضرات مولانا مجاہد الحسینی جو تبصرہ کر چکے ہیں میں اس میں کسی اور اضافے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، البتہ اس حوالہ سے کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ اس خصوصی نمبر کی اشاعت سے جہاں نئی نسل کے علماء اور کارکنوں کو حضرت درخواستیؒ اور ان کی جدوجہد سے روشناس ہونے کا موقع ملے گا وہاں میرے جیسے پرانے کارکنوں کے لیے بھی یہ خصوصی نمبر بہت سی یادوں کو تازہ کرنے کا باعث ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ کی موجودہ صورتحال سابق صدر جمی کارٹر کی نظر میں
جمی کارٹر امریکہ کے سابق صدر ہیں اور صدارت کے منصب سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی امریکہ کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ امریکہ کے شہر اٹلانٹا (جارجیا) میں ’’دی کارٹر سینٹر‘‘ کے نام سے ایک مرکز ہے جس کے ذریعے وہ اور ان کی اہلیہ روزالن امریکی قوم کی علمی و فکری راہنمائی کے لیے مختلف موضوعات پر تحقیقی و مطالعاتی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ امریکہ میں سابق صدور وائٹ ہاؤس سے تو ریٹائر ہوتے ہیں لیکن عملی زندگی میں بقیہ زمانہ ’’شو پیس‘‘ کے طور پر نہیں گزارتے بلکہ علمی اور فکری محاذ پر متحرک ہو جاتے ہیں اور قوم کو راہنمائی فراہم کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
روزنامہ وزارت لاہور کا انٹرویو
دینی جماعتیں وقتی ایجنڈے اور دباؤ کے تحت متحد ہوتی ہیں، مثلاً انتخابات یا کسی دینی ایشو، خاص طور پر ختم نبوت جیسے خاص اور حساس معاملات پر دینی جماعتوں کا اتحاد وجود میں آتا ہے لیکن انہوں نے کبھی کسی سنجیدہ اور مثبت ایجنڈے پر اتحاد نہیں بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی خاص ضرورت کے لیے معرض وجود میں آنے والا اتحاد وقت گزرنے کے ساتھ شکست و ریخت کا شکار ہو جاتا ہے۔ حالانکہ قیام پاکستان کے بعد تمام مکاتب فکر کے اکابرین اور علماء کرام نے بائیس نکات کی صورت میں اپنا ایک ایجنڈا طے کیا تھا، وہ ایجنڈا آج بھی دینی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک مثالی اتحاد کی معقول ترین بنیاد بن سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حدیث و سنت کی اہمیت اور امام بخاری کا اسلوبِ استدلال
عزیز طلبہ اور طالبات سے گزارش ہے کہ مدرسہ کے ماحول میں چند سال گزارنے کے بعد اب وہ عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو انہیں ایک نئے ماحول کا سامنا کرنا ہو گا، بہت سی نئی باتیں دیکھنے میں آئیں گی اور تغیرات محسوس ہوں گے۔ وہ مدرسہ کے محدود ماحول سے نکل کر سوسائٹی کے وسیع ماحول میں داخل ہو رہے ہیں جسے میں یوں تعبیر کیا کرتا ہوں کہ وہ جزیرہ سے نکل کر سمندر میں کود رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علماء کرام کی تین اہم ذمہ داریاں
مجھے یہ کہا گیا ہے کہ آج کے حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے عنوان پر آپ حضرات سے کچھ عرض کروں۔ میرے نزدیک یہ دو الگ الگ موضوع ہیں، آج کے حالات مستقل گفتگو کے متقاضی ہیں اور اپنے اندر اس قدر وسعت اور تنوع رکھتے ہیں کہ اگر ان پر بات شروع ہو گئی تو دوسرے عنوان پر کچھ کہنے کا وقت باقی نہیں رہے گا۔ جبکہ علماء کرام کی ذمہ داریاں ایک الگ موضوع ہے اور اس کا تقاضہ بھی یہ ہے کہ اس پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قربانی کے بارے میں چند شبہات کا ازالہ
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ بخاری شریف میں حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے روز نماز عید کے لیے عید گاہ میں تشریف لائے، نماز پڑھائی، اس کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا، اور اس میں یہ فرمایا کہ جس نے نماز کے بعد قربانی کی اس نے ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے نماز عید سے قبل قربانی کر لی اس نے عام دنوں کی طرح گوشت کھایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی و عصری تعلیم کے حوالہ سے چند ضروری گزارشات
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ دینی مدارس کے تعلیمی سال کا اس عشرہ میں آغاز ہو رہا ہے اور پورے جنوبی ایشیا میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں دینی مکاتب و مدارس سالِ رواں کے تعلیمی دورانیہ کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں، اس لیے میں اس موقع پر دینی مدارس کے حوالہ سے کچھ سوالات کا جائزہ لینا چاہوں گا تاکہ دینی مدارس کے تعلیمی کام کی اہمیت کا آج کے تعلیم یافتہ لوگوں کو تھوڑا بہت اندازہ ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نسل انسانی کا امتیاز و اعزاز اور اس کی شکر گزاری
اللہ تعالٰی نے انسان کو باقی مخلوقات پر جو امتیاز بخشا ہے، قرآن کریم میں اس کا مختلف مقامات پر مختلف حوالوں سے تذکرہ کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک جگہ فرمایا کہ ہم نے انسان کو ’’احسن تقویم‘‘ میں پیدا کیا ہے یعنی سب سے اچھے سانچے میں ڈھالا ہے۔ یہ احسن تقویم جسمانی ساخت کے حوالہ سے بھی ہے اور صلاحیتوں اور استعداد کے دائرے میں بھی ہے، جس کا مشاہدہ ہم روزمرہ کرتے رہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ ہم اسے ’’اسفل سافلین‘‘ کے درجے میں بھی اتار دیتے ہیں، یعنی وہ سب سے نچلے درجے میں چلا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حرمین شریفین کی حاضری ۔ احساسات و تاثرات
بعد الحمد والصلٰوۃ۔ آج کی نشست میں سفرِ حج کے کچھ تاثرات بیان کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ پورے بیان کرنا تو مشکل ہے، ہلکی پھلکی گفتگو ہو گی۔ پہلی گزارش یہ ہے کہ حج اور اللہ تعالٰی کے گھر کی حاضری اللہ تعالٰی کی عنایت سے ہوتی ہے، طلبی ہوتی ہے تبھی حاضری ہوتی ہے۔ اور میں تو اس کا عینی شاہد ہوں کہ طلبی ہو تو اچانک ہو جاتی ہے، نہ ہو تو بندہ جا کے بھی رک جاتا ہے۔ میں دونوں کا شاہد ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ناموس صحابہ کرامؓ و اہل بیت عظامؓ‘‘
ہر ملک میں قومی شخصیات کی عزت و احترام کے تحفظ کے قوانین موجود ہیں لیکن جب سے مذہب کو ریاستی اور قومی معاملات سے باہر کی چیز سمجھا جانے لگا ہے، مذہبی شخصیات کی حرمت و ناموس کے تحفظ کا مسئلہ بھی قانون کے دائرہ سے خارج کر دیا گیا ہے اور اسے غیر ضروری امر قرار دیا جا رہا ہے۔ حتٰی کہ عالمی سطح پر مقدس مذہبی شعائر و شخصیات کے ناموس کے تحفظ کے لیے قانون سازی کے مسلسل مطالبہ کے باوجود اقوام متحدہ اور اس کے متعلقہ ادارے اس کی طرف متوجہ نہیں ہو پا رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
الحاج سید امین گیلانی کے ساتھ ایک شام
پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمان اختر نے ۱۸ مارچ ۲۰۰۳ء کو باغبانپورہ لاہور میں اپنی رہائشگاہ پر تحریک آزادی کے نامور شاعر الحاج سید امین گیلانی کے ساتھ ایک شام کا اہتمام کیا۔ قاری صاحب نے نیا مکان تعمیر کیا ہے جس میں وہ منتقل ہوئے ہیں، اس سے قبل وہ مسجد کی رہائشگاہ میں رہتے تھے، یہ تقریب نئے مکان کی خوشی میں بھی تھی اور الحاج سید امین گیلانی کے اعزاز میں بھی تھی، جس میں لاہور کے سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 49
- 50
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »