عام انتخابات کے نتائج اور دینی حلقوں کا مستقبل

ملک میں ایک بار پھر عام انتخابات کا انعقاد ہوا ہے اور اس دفعہ پاکستان مسلم لیگ (ن) واضح اکثریت کے ساتھ مرکز میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے، پنجاب میں بھی نون لیگ کی حکومت بنے گی جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مخلوط حکومت بنانے کی تیاریوں میں ہیں، خیبر پختون خواہ میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے حکومت سازی کے لیے معاہدہ کر لیا ہے جبکہ بلوچستان میں بھی نون لیگ کی قیادت میں مخلوط حکومت کے قیام کے امکانات دکھائی دینے لگے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۳ء

بم دھماکوں کے پس پردہ کیا کچھ ہے؟

روزنامہ پاکستان لاہور میں شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’وارث پورہ سے ملحقہ بلال ٹاؤن گلی نمبر ۷ میں بم دھماکے میں ملوث تین میں سے ۲ ملزمان کو پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر گرفتار کر لیا جبکہ تیسرا ملزم ذیشان عرف ببلو مسیح بم دھماکہ میں شدید زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گیا تھا۔ سی پی او رفعت مختار راجہ ایس ایس پی آپریشنز گوہر نفیس نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ گزشتہ روز منگل کی رات ۹ بجے کے قریب بم دھماکہ کے ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۳ء

انتخابات اور دینی جماعتیں

ملک بھر میں انتخابات کی گہماگہمی ہے اور بہت سی پارٹیاں ملک میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے مہم جوئی میں مصروف ہیں، ان سطور کی اشاعت تک انتخابی مہم عروج پر ہو گی اور سیاسی پارٹیاں اور ان کے امیدوار قسمت آزمائی کی جدوجہد میں مگن ہوں گے۔ بہت سی مذہبی جماعتیں بھی حسبِ معمول انتخابی میدان میں ہیں اور ان کے سینکڑوں امیدوار ملک کے مختلف حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۳ء

جنرل (ر) پرویز مشرف کی واپسی

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف گزشتہ روز کراچی واپس پہنچ گئے ہیں اور عام انتخابات میں حصہ لینے کا عزم رکھتے ہیں۔ ملک میں ان کی آمد پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ عالمی قوتوں اور حکومت پاکستان سے اپنے تحفظ کی گارنٹی لے کر وطن واپس آئے ہیں اور عام انتخابات میں اہم کردار ادا کریں گے۔ عام انتخابات میں حصہ لینا ملک کے ہر شہری کا حق ہے اور یہ فیصلہ کرنا ووٹروں کا کام ہے کہ وہ کسے اپنی نمائندگی کے لیے چنتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۳ء

افغان طالبان اور پاکستانی طالبان: نئی حکومت کی ذمہ داریاں

انتخابات میں مرکزی حکومت اور صوبہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو جو مینڈیٹ ملا ہے وہ خود اس کی اپنی توقعات سے بڑھ کر ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری بھی دوسروں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس وقت نئی حکومت کو جن چیلنجوں کا سامنا ہے ان میں ڈرون حملوں کے ماحول میں ملکی خود مختاری کی بحالی، خود کش حملوں کے حوالہ سے ملک میں بد امنی اور قتل و غارت کے روز افزوں واقعات، لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کا عذاب سر فہرست ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۳ء

لال مسجد کا سانحہ اور جنرل (ر) پرویزمشرف

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس نور الحق قریشی نے غازی عبد الرشید شہیدؒ کے فرزند ہارون الرشید کی درخواست پر اسلام آباد کی پولیس کو حکم دیا ہے کہ جامعہ حفصہؓ کے المناک سانحہ میں فوجی آپریشن کے نتیجہ میں جاں بحق ہونے والے غازی عبد الرشید شہید ؒ،ان کی والدہ محترمہ ؒ اور دیگر شہداء کے قتل کا کیس جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف درج کیا جائے کیونکہ لال مسجد کے بارے میں عدالتی انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اس فوجی آپریشن کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۳ء

سودی نظام اور سپریم کورٹ آف پاکستان

روزنامہ اسلام ، اسلام آباد میں ۲۶ جون ۲۰۱۳ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’سپریم کورٹ میں ہاؤس بلڈنگ کے حوالے سے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ۳ رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے فیصلے کے لیے بینکنگ کورٹ کوئٹہ کو کیس واپس بھجواتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ سودی نظام ابھی تک چل رہا ہے، مذہب کے نام پر بے ایمانی کی جا رہی ہے، سود پر لفظوں کا غلاف چھڑا دیا گیا ہے، سود وصول کرنے والے مذہب سے مذاق کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۳ء

کیسا اسلام اور کون سی جمہوریت؟

پاکستان کے قیام کے بعد اسلام کے نام پر بننے والی اس ریاست کے ارباب حل و عقد کو سب سے پہلا اور اہم مسئلہ یہ درپیش تھا کہ اس کا دستور اور نظامِ حکومت کیا ہو گا اور حکمرانی کا حق کسے حاصل ہو گا؟ طاقت کے بل پر کسی کو حکمرانی کا حق دینے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، برطانوی استعمار کے تسلط سے ملک کی آزادی اور پاکستان کا قیام دونوں جہادِ آزادی کے ساتھ ساتھ سیاسی عمل، رائے عامہ اور جمہوری جد و جہد کا نتیجہ تھے اور اس تسلسل سے انحراف سرے سے ممکن ہی نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مئی ۲۰۱۹ء

قومی اداروں میں بالادستی کی کشمکش

اس وقت ہمارے قومی اداروں میں بالا دستی کی کشمکش کا عجیب سا ماحول بن گیا ہے۔ (۱) پارلیمنٹ کو بالادستی حاصل ہے یا سپریم کورٹ آخری اتھارٹی ہے؟ (۲) دستور کی تعبیر و تشریح اور تطبیق میں پارلیمنٹ بالاتر ہے یا سپریم کورٹ کی بیان کردہ تعبیر و تشریح حتمی ہے؟ (۳) فوج اور خفیہ ادارے عدالت کے سامنے جواب دہ ہیں یا نہیں؟ (۴) اور اس کشمکش میں ایوان صدر کا مقام کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۲ء

لڑکیوں کا مبینہ قتل اور این جی اوز

گزشتہ دنوں کوہستان ہزارہ میں رقص و سرور کی کسی محفل میں پانچ لڑکیوں کے قتل کی ایک خبر عام ہوئی اور اس پر بنائی گئی ویڈیو کو مختلف حلقوں میں وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا جس کا سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوٹس لیا۔ روزنامہ اسلام لاہور کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ نے لڑکیوں کے قتل کی خبر کو جھوٹی خبر قرار دے کر اس کیس کو نمٹا دیا ہے۔ اس سلسلہ میں جسٹس منیرہ عباسی نے اپنی رپورٹ میں عدالت عظمٰی کو بتایا کہ لڑکیاں زندہ ہیں اور قتل کی خبر جھوٹی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۲ء

مسلم ممالک میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد

روزنامہ نوائے وقت لاہور کی خبر کے مطابق مصر کی سپریم کورٹ نے مصر کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا حکم دے دیا ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی انتخابات غلط قوانین کے تحت ہوئے تھے اور ایک تہائی نمائندے پارلیمنٹ کا رکن بننے کے اہل نہیں تھے۔ جبکہ کویت کی دستوری عدالت نے بھی ایک فیصلے میں، جسے کسی جگہ بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا، کویت کے حالیہ انتخابات کو کالعدم قرار دے کر ماضی کی پارلیمنٹ بحال کرنے کا حکم صادر کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۲ء

یہ آزادیٔ رائے نہیں ہے

امریکی مندوب نے جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی ممالک کی جانب سے توہین مذہب اور توہین رسالت ؐ کو غیر قانونی قرار دینے کے مطالبات پر رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ جب دنیا نے مذہب اور اظہار رائے کی آزادی کو ایک ساتھ فروغ دینے کی اجازت دی تو مذہبی یگانگت اور معاشی خوشحالی اور ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا اور جب بھی دونوں آزاد یوں کو محدود کیا گیا تو تشدد غربت اور مایوسی کے جذبات پروان چڑھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۲ء

ملالہ یوسف زئی اور میڈیا

ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ کے بعد ورلڈ اور قومی میڈیا نے جو ہاہاکار مچائے رکھی اس نے چند دنوں تک تو اچھے بھلے ارباب دانش کو پریشان کیے رکھا ہے لیکن اب جوں جوں میڈیا اور لابیوں کا اڑایا ہوا غبار بیٹھتا جا رہا ہے لوگوں کو اصل حقیقت کا کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا ہے اور بہت سے سوالات جو زیرلب تھے اب سامنے آتے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۲ء

مسیحیت اور سیکولرزم کی کشمکش

مسیحی ماہنامہ ’’شاداب‘‘ لاہور کے اکتوبر ۲۰۱۲ء کے شمارے میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ: ’’عیسائیت کے پیروکاروں میں کمی اور سیکولرزم سے مقابلہ کے لیے دنیا بھر کے بشپس کا اجلاس ویٹی کن سٹی میں ہو گا، یہ اجلاس تاریخی مگر متنازعہ دوسری ویٹی کن سٹی کونسل کی ۵۰ ویں سالگرہ کے موقع پر کیا جا رہا ہے جس سے عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینڈکٹ خطاب کریں گے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۲ء

برما میں مسلمانوں کی حالت زار

دوبئی سے شائع ہونے والے اردو اخبار ہفت روزہ ’’سمندر پار‘‘ کے شمارہ ۶ تا ۱۲ جولائی ۲۰۱۲ء کی ایک رپورٹ ملاحظہ فرمائیے: ’’برما میں بوزی قبائل کے دہشت گرد گروپ ’’ماگ‘‘ کی جانب سے مسلمان آبادی پر مسلط کی گئی جارحیت میں اب تک کم سے کم ۲۵۰ مسلمان شہید، ۵۰۰ زخمی اور لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہو گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے ایک برمی مندوب محمد نصر نے عرب ٹی وی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ مسلمانوں پر مسلط کی گئی جارحیت میں تین سو افراد تاحال لاپتہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۲ء

جامعہ دار العلوم کراچی کا محاصرہ اور سرچ آپریشن

گزشتہ جمعۃ المبارک کے روز رینجرز اور پولیس نے جامعہ دار العلوم کورنگی کراچی کا محاصرہ کر کے تین گھنٹے تک سرچ آپریشن کیا اور کچھ بھی برآمد نہ ہونے پر فورسز واپس چلی گئیں۔ جامعہ دار العلوم کراچی ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں سے ہے جس کی تعلیمی و تحقیقی سر گرمیوں اور خدمات کا دائرہ عالمی سطح تک پھیلا ہوا ہے اور خاص طور پر افتاء میں اسے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۲ء

حقوقِ انسانی اور امریکہ

دوبئی سے شائع ہونے والے اردو اخبار ہفت روزہ ’’سمندر پار‘‘ نے ۶ تا ۱۲ جولائی ۲۰۱۲ء کے شمارہ میں یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ: ’’امریکی شہر نیویارک میں ایک معروف نیلام گھر کے تحت سابق امریکی صدر کا دستخط شدہ امریکہ میں غلاموں کی آزادی کے قانون کا نایاب و تاریخی مسودہ ۲۰ لاکھ (۲ ملین ڈالر) سے زائد رقم میں نیلام ہو گیا ہے۔ ۱۸۶۴ء میں پیش کیے جانے والے Emancipation Proclamation نامی اس قانونی مسودہ کو اس وقت کے امریکی صدر ابراہام لنکن نے منظور کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۲ء

سیدنا حضرت عیسٰی علیہ السلام اور عیسائی مصنف

روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ جدہ میں شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’امریکی ریاست ایوا کی لوتھر یونیورسٹی میں مذاہب اور عقائد کے شعبہ کے سربراہ عیسائی اسکالر ڈاکٹر روبرٹ شیڈنگر نے ایک کتاب تصنیف کر کے امریکی عیسائیوں کو برہم کر دیا ہے۔ کتاب کا عنوان ہے ’’ کیا حضرت عیسٰیؑ مسلمان تھے؟ ‘‘ امریکی اسکالر آسمانی کتابوں کے مسلسل مطالعہ اور دنیا بھر کے علمائے دینیات کی آرا جمع کر کے اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ حضرت عیسٰیؑ صحیح معنوں میں ’’مسلم‘‘ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۲ء

مغربی فلسفہ حیات کی مذاہب اور ثقافتوں کے ساتھ کشمکش

روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ جدہ میں ۱۴ جولائی ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ جمہوریت میں پنچایت یا فتوے کے ذریعے بندشوں کے نفاذ اور کسی کی نجی آزادی سلب کرنے کے اقدام کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بات وزیر داخلہ نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہی، ان سے دہلی سے ملحق باغپت کی ایک پنچایت کے فیصلے کے بارے میں پوچھا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۲ء

جارج بش اور ٹونی بلیئر کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ

روزنامہ پاکستان میں نیویارک سے جناب قمر علی عباسی ’’اور پھر بیان اپنا ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں، انہوں نے ۱۰ ستمبر ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والے اپنے کالم میں انکشاف کیا ہے کہ: ’’برطانیہ کے نوبل انعام یافتہ آرچ بشپ نے برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر اور امریکہ کے سابق صدر جارج بش پر عراق جنگ میں ان کے کردار پر بین الاقوامی کریمینل کورٹ ہیگ میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۲ء

حجاب اور اطالوی وزیر داخلہ

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۶ ستمبر ۲۰۱۲ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق اٹلی کے وزیر داخلہ روبرٹو میرونی نے مسلم خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی سے متعلق مسودہ قانون پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ جب حضرت مریم علیہا السلام کی ہر تصویر حجاب کے ساتھ ہے تو وہ کس طرح مسلمان خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کر سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۲ء

توہینِ رسالت ؐ کو عالمی سطح پر جرم قرار دیا جائے

توہین رسالت ؐ پر مبنی بدنام زمانہ حالیہ امریکی فلم کے خلاف عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیا میں جس شدید ردعمل کا اظہار ہوا ہے وہ بلاشبہ اس حقیقت کا ایک بار پھر اظہار ہے کہ اس گئے گزرے دور میں بھی جناب نبی اکرم ؐ کے ساتھ مسلمانوں کی محبت و عقیدت اور جذباتی وابستگی پوری شدت کے ساتھ قائم ہے اور اس میں خدانخواستہ کمی یا کمزوری کی جو امید عالمی سیکولر لابیوں نے ایک عرصہ سے اپنے ذہنوں میں بسا رکھی ہے اس کا کوئی امکان ابھی تک پیدا نہیں ہو سکا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۲ء

’’سودی نظام‘‘ پر اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار

مفتیان کرام سے میں نے مختصرًا چند باتیں عرض کریں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ تفسیر قرطبیؒ میں مذکور ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے کسی شخص نے پوچھا کہ کیا قاتل کے لیے توبہ کی گنجائش ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں ہے۔ یہ سن کر وہ چلا گیا۔ اس پر مجلس کے حضرات نے عرض کیا کہ حضرت! توبہ کی گنجائش تو ہر گنہگار کے لیے ہوتی ہے اور آپ نے بھی اس سے قبل فرمایا تھا کہ قاتل کے لیے توبہ کی گنجائش ہے، جبکہ اس سائل کو آپ نے اس کے خلاف بات کہہ دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ مئی ۲۰۱۹ء

کراچی کے دو بڑے جامعات کے خلاف کاروائیاں

رمضان المبارک کے دوران جامعہ دار العلوم کورنگی کراچی پر رینجرز کے چھاپے اور تلاشی کے افسوسناک واقعات پر ہم نے عرض کیا تھا کہ یہ معمولی واقعہ نہیں ہے اور بالادست قوتیں اس قسم کی کاروائیاں کر کے دینی مدارس کو خوف و ہراس کا شکار بنا نے کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی طرف نئی نسل کی روز افزوں رغبت کو روکنے کی خواہاں ہیں۔ لیکن ہمیں افسوس ہے کہ اس پر ملک بھر میں جس ردعمل کے اظہار کی توقع کی جا رہی تھی وہ سامنے نہیں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۲ء

روہنگیا مسلمانوں کی داستان مظلومیت

میانمار (برما) کی سرحدوں کے اندر اراکان نام کا خطہ جو ایک دور میں مسلمانوں کی خودمختار ریاست ہوا کرتا تھا ان دنوں بدھ دہشت گردوں کی وحشت و بربریت کا شکار ہے اور مسلم اکثریت کا یہ صوبہ اس ظلم و جبر اور وحشیانہ تشدد کے باعث مسلمانوں کے وجود سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ اس خطہ کے مسلمانوں کا جرم یہ بتایا جاتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۲ء

قومی خود مختاری، ملک کا اسلامی تشخص اور بین الاقوامی معاہدات

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۰ نومبر ۲۰۱۲ء کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ’’ریکوڈک معاہدہ‘‘ کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور آبزرویشن دی ہے کہ بلوچستان حکومت کو معاملہ اسمبلی میں لے جانا چاہیے تھا، اگر کوئی بین الاقوامی معاہدہ ملک کے قوانین کے خلاف ہے تو اسے تحفظ حاصل نہیں ہوتا، پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور اس کے ساتھ عالمی معاہدوں میں ملک کے قوانین کا پورا پورا خیال رکھا جانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۲ء

علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کی المناک وفات

گزشتہ شمارہ کے ادارتی صفحات میں ہم نے لاہور کی اہل حدیث کانفرنس میں بم کے دھماکے کی المناک واردات پر تبصرہ کرتے ہوئے اس میں زخمی ہونے والے دو اہل حدیث راہنماؤں علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا حبیب الرحمان یزدانی کے لیے دعائے صحت کی اپیل کی تھی لیکن مشیت ایزدی سے دونوں راہنما زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مکمل تحریر

۳ اپریل ۱۹۸۷ء

قرآن و سنت کی تعلیم و تدریس میں حکومتی ذمہ داری

پنجاب اسمبلی نے گزشتہ دنوں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومت سے سفارش کی ہے کہ قرآن کریم کو سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب تعلیم کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے اور اس کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں۔ روزنامہ اسلام لاہور ۹ مارچ ۲۰۱۲ء کی خبر کے مطابق یہ قرار داد ایک خاتون رکن اسمبلی محترمہ عاصمہ ممدوٹ نے پیش کی ہے جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۲ء

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۱۹ مارچ ۲۰۱۲ء میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ ’’اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے پارلیمنٹ کو بھجوائی گئی ۹۵ ہزار کے قریب سفارشات اور ۷۰ کے لگ بھگ رپورٹیں قانون سازی کا حصہ بننے کی بجائے کاغذوں کی نذر ہو کر رہ گئی ہیں اور ان رپورٹوں کو اب تک کسی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۲ء

نو مسلم خواتین کے مسائل اور تحفظات

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۸ مارچ ۲۰۱۲ء کی ایک خبر کے مطابق نو مسلم خواتین کے حقوق اور مسائل کے حوالہ سے کام کرنے والے ادارہ ’’شرکت گاہ‘‘ کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن فوزیہ وقار اور عورت فاؤنڈیشن لاہور ریجن کی نسرین زہرہ اور ممتاز نے کہا ہے کہ: ’’پاکستان میں مذہب تبدیل کرنے والی خواتین کو مکمل تحفظ اور حقوق حاصل نہیں ہو سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۲ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter