قومی سلامتی پالیسی اور مدارس
دینی مدارس کے بارے میں عالمی استعمار کے ایجنڈے کا وقتاً فوقتاً حکومتی پالیسیوں کے ذریعہ اظہار ہوتا رہتا ہے اور مدارس کی کردار کشی کی مہم کے ساتھ ساتھ انہیں کسی نہ کسی طرح سرکاری کنٹرول کے دائرے میں لانے کی کوششیں بھی جاری رہتی ہیں۔ دینی مدارس کا موجودہ نظام گزشتہ ڈیڑھ سو برس سے پورے جنوبی ایشیا میں کام کر رہا ہے جس کا بنیادی مقصد مسلم معاشرہ میں قرآن و سنت کی تعلیمات کا فروغ، اسلامی عقائد و افکار کا تحفظ اور دینی اقدار و روایات کی پاسداری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نظام کی تبدیلی ایک ناگزیر قومی ضرورت
قادری صاحب کا کہنا ہے کہ ملک کا موجودہ نظام عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، اسے مکمل طور پر تبدیل کر کے انقلاب لایا جائے جو کہ موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے ممکن نہیں ہے، اس لیے موجودہ حکومت پوری کی پوری مستعفی ہو جائے۔ جبکہ عمران خان صاحب یہ کہتے ہیں کہ انتخابی نظام دھاندلیوں کے سدّباب میں ناکام رہا ہے اور گزشتہ الیکشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے اس لیے وزیر اعظم مستعفی ہو جائیں اور الیکشن کے پورے نظام پر نظر ثانی کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ کی طرف سے قادیانیوں کی ناروا پشت پناہی
روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۹ ستمبر ۲۰۱۴ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق امریکہ نے چناب نگر میں قادیانیوں کے دو کالجوں کو ڈی نیشنلائز کرنے کے لیے حکومت پنجاب سے کہا ہے جبکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ان کالجوں کو ڈی نیشنلائز کرنے سے انکار کر دیا ہے۔انکار کے حوالہ سے محکمہ نے جو تفصیل جاری کی ہے اس کے مطابق گورنمنٹ ٹی آئی کالج اور جامعہ نصرت کالج چناب نگر قادیانی جماعت نے ۱۹۷۲ء میں قائم کیے تھے، اس وقت کی حکومت نے انہیں سرکاری کنٹرول میں لے لیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تہران میں چند روز
تہران یونیورسٹی کے زیر اہتمام ۲۶ جون کو ’’پر امن معاشرہ کے حوالہ سے اسلامی تعلیمات و اقدار کی حکمت عملی‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے بین الاقوامی موتمر میں شرکت کی دعوت ملی تو میں نے اس سلسلہ میں ایران میں اہل سنت کے مرکزی ادارہ دارالعلوم زاھدان کے بزرگوں کے ساتھ مشورہ کو ضروری سمجھتے ہوئے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں اس میں ضرور شریک ہوں اور بتایا کہ وہ بھی اس اجتماع میں شریک ہو رہے ہیں، چنانچہ میں نے دعوت قبول کر لی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پولیس کی محکمانہ کارکردگی عدالت عظمٰی کے ایک محترم جج کی نظر میں
سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ پورے ملک میں پولیس کا نظام فلاپ ہو چکا ہے، ملک میں پولیس نام کی کو کئی چیز نہیں ہے، پولیس آخر کیا کر رہی ہے جو تنخواہ دی جائے؟ انہوں نے یہ ریمارکس پنجاب کے ٹریفک وارڈنز کی تنخواہوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیے۔ اس کیس کی تفصیلات سے قطع نظر یہ بات ملک کے ہر باشعور شہری کے لیے قابل توجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک محترم جج کو یہ بات آخر کیوں کہنا پڑی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قصاص کے قانون پر عملداری کے حوالہ سے افسوسناک صورتحال
روزنامہ پاکستان لاہور میں یکم ستمبر ۲۰۱۴ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نے تھانہ واہ کینٹ کے ایک مقدمہ قتل میں مجرم ثابت ہونے والے قیدی شعیب سرور کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیے ہیں اور سزائے موت کو روکنے کے حوالہ سے حکومتی اختیار کو ختم کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس مقدمہ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نے ۲۲ جولائی ۱۹۹۸ء کو شعیب سرور کو اویس نواز کا قاتل قرار دے کر پھانسی کی سزا کا حکم سنایا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مجھے ڈر لگ رہا ہے…!
آج کچھ ایسے مسائل پر ہلکا پھلکا تبصرہ پیش خدمت ہے جو عام مجلسوں میں زیر بحث رہتے ہیں اور ان پر طرح طرح کے خدشات و تحفظات کا اظہار دیکھنے میں آتا ہے۔ (۱) وزیر اعظم عمران خان کی پالیسیوں کے بارے میں اکثر بات ہوتی ہے جس کے بارے میں میرا خیال یہ ہے کہ وہ ذاتی طور پر قومی مسائل کے حوالہ سے کچھ کرنا چاہ رہے ہیں جس کے لیے وہ مخلص بھی دکھائی دیتے ہیں اور ہر طرح سے ہاتھ پاؤں بھی مار رہے ہیں، ان کے اہداف کے صحیح یا غلط ہونے کی بات اپنی جگہ مگر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مختلف شعبوں میں علماء اور وکلاء کی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت
پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے نائب امیر مولانا قاری عبید اللہ عامر کے ہمراہ ۱۰ جون سے ۱۶ جون تک لکی مروت، ملانہ، ڈیرہ اسماعیل خان، موسٰی زئی شریف، بَن حافظ جی میانوالی، چودھواں، اسلام آباد، دھیر کوٹ، باغ، ہاڑی گیل، بیس بگلہ، ملوٹ، مانگا، مری، چکوال اور دیگر مقامات میں مختلف دینی اجتماعات میں حاضری کا موقع ملا۔ اس دوران ۱۳ جون کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن باغ آزاد کشمیر کی ایک نشست میں بھی حاضری ہوئی، اس موقع پر کی جانے والی گزارشات کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دُلّا بھٹی شہید ۔ اکبر بادشاہ کا ایک غیرت مند باغی
رائے احمد خان کھرل ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے نامور جرنیل تھے جنہوں نے قبولہ، گوگیرہ اور ساہیوال کے علاقہ میں انگریزوں کے خلاف جنگ کا محاذ گرم رکھا اور برطانوی فوجوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ ربع صدی قبل کی بات ہے میں ماہنامہ الرشید ساہیوال کے مدیر مولانا حافظ عبد الرشید ارشدؒ کے ساتھ لندن میں دریائے ٹیمز کے کنارے گھوم پھر رہا تھا کہ ایک جرنیل کے مجسمے پر نظر پڑی، عموماً میں کوئی کتبہ یا مجسمہ دیکھتا ہوں تو اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قصاص کے شرعی قانون کے خلاف مہم
روزنامہ ’’اوصاف‘‘ اسلام آباد میں ۱۹ اگست ۲۰۱۳ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’پاکستان میں سزائے موت کو ختم کرنے اور پھانسی کی سزاؤں پر عملدرآمد کو روکنے کے لیے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کے صدر کی جانب سے حکومت پاکستان کو لکھے جانے والے خط پر وکلاء نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام نے جان کے بدلے جان کا حکم دیا ہے اور قاتل کو سزائے موت دینا فساد فی الارض کو روکنا ہے ،جبکہ اسلام ہمیں جان کے بدلے جان اور خون کے بدلے خون کا قانون دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بھارتی سپریم کورٹ کا ایک افسوسناک فیصلہ
سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی نے ۲۲ جولائی ۲۰۱۳ء کی اشاعت میں بھارتی سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ: ’’عدالت عظمیٰ نے بمبئی کے ان سینکڑوں رقص خانوں کو کھلوا دیا ہے جنہیں مہاراشٹر سرکار نے ۲۰۰۵ء میں یہ کہہ کر بند کروا دیا تھا کہ ان ’’ڈانس بارز‘‘ میں رقص و سرور کے نام پر جنسی ایکٹ (چکلے) چلائے جاتے ہیں، بے ہودہ اور فحش حرکات کی جاتی ہیں، رقاصائیں انتہائی اشتعال انگیز پوشاکوں میں لوگوں کے سامنے آ کر بے شرمی کے مظاہرے کرتی ہیں جن سے تماش بینوں کی اخلاقیات پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
افغانستان میں غیر ملکی تسلط کی مدد کی شرعی حیثیت / سعودی حکومت کا جرأتمندانہ فیصلہ
روزنامہ پاکستان لاہور نے ۲۱ اکتوبر کو آئی این پی کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ: ’’ملک کے ممتاز عالم دین مفتی محمد تقی عثمانی نے افغانستان پر غیر ملکی تسلط میں سرکاری اور ہر طرح کی مدد کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے فتویٰ جاری کیا ہے کہ شرعی نقطۂ نظر سے حکومت پاکستان اس امر کی مجاز نہیں ہے کہ وہ پڑوسی مسلمان ملک پر غیر مسلموں کے قبضے کو مستحکم کرنے میں غیر ملکی جارح قوت کی مدد کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سپریم کورٹ اور سودی نظام
عدالت عظمیٰ میں دس سال کے بعد ۲۱ اکتوبر ۲۰۱۳ء کو ایک بار پھر سود کے مسئلہ پر غور شروع کر دیا گیا ہے اور جو سوالات سود کے بارے میں ازسرِنو بحث کا موضوع بن رہے ہیں ان میں سے چند اہم سوالات یہ ہیں کہ: (۱) کیا قرض اور لون (Loan) دونوں قرآن کریم کے نزدیک ہم معنٰی ہیں؟ (۲) کیا سود کے حرام ہونے کا اطلاق غیر مسلم شہریوں پر بھی کیا جائے گا اور دوسرے ملکوں سے جو قرض لیا گیا ہے اس پر اس قانون کو کیسے لاگو کیا جائے گا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سودی نظام کے خلاف جدوجہد کا فیصلہ
بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے قیام پاکستان کے فورًا بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب میں اپنے خطاب کے دوران واضح کر دیا تھا کہ وہ پاکستان میں مغربی معاشی نظام کی بجائے اسلامی اصولوں کی روشنی میں معاشی نظام کی خواہش رکھتے ہیں، اور انہوں نے اس موقع پر اس بات کا دو ٹوک اظہار کیا تھا کہ مغربی نظام معیشت نسل انسانی کے لیے تباہی کا باعث بنا ہے اور اس سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی کا المناک سانحہ
ملک کے معروف تعلیمی ادارہ دارالعلوم تعلیم القرآن (راجہ بازار، راولپنڈی) میں ۱۰ محرم الحرام کو جو المناک سانحہ پیش آیا اس پر ہر صاحبِ درد شخص کا دل تڑپ اٹھا ہے اور کرب و اضطراب نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کا قائم کردہ یہ دینی مرکز پون صدی سے تعلیمی و دعوتی خدمات سر انجام دینے میں مصروف ہے اور ہزاروں علماء کرام نے یہاں سے تعلیم حاصل کی ہے۔ عاشوراء کے دن نماز جمعۃ المبارک کے وقت وہاں ماتمی جلوس کے گزرنے پر جو قیامت بپا ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے‘‘
ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی ۱۳ فروری ۲۰۱۳ء میں شائع شدہ ایک رپورٹ ملاحظہ فرمائیے: ’’فرانس کی قومی اسمبلی نے ایک ہی جنس کے افراد کے مابین شادی کے بل کی منظوری دے دی ہے۔ ۹۷ کے مقابلہ میں ۲۴۹ ارکان نے بل کے حق میں رائے دیتے ہوئے شادی کی ازسرِنو تشریح کی ہے جس کے تحت شادی صرف ایک مرد اور عورت کے مابین ہی نہیں بلکہ دو افراد کے مابین معاہدے کا نام ہے۔ فرانس کے صدر فرانکوئس اولاند کی سوشلسٹ پارٹی اور ان کی حلیف بائیں بازو کی جماعت نے اس بل کی حمایت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شیخ الازہر کا اعلانِ حق
روزنامہ کائنات اسلام آباد کے ۷ فروری ۲۰۱۳ء کے شمارے میں شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرمائیے کہ: ’’مصر کی معروف تاریخی دینی درسگاہ جامعہ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد پر زور دیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے معاملات میں مداخلت سے گریز کریں اور بحرین کا برادر ہمسایہ عرب ملک کے طور پر احترام کریں، اہل السنۃ والجماعۃ مسلک کے پیر و کار ملکوں میں شیعہ ازم کے فروغ کی کوششیں نا پسندیدہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات
روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۴ ستمبر کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی آئینی تقاضہ ہے اس لیے پارلیمنٹ کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتا یا کہ گزشتہ بارہ سال کے دوران اسلامی نظریاتی کونسل کی منظور کردہ ہزاروں سفارشات ایک بار پھر پارلیمنٹ کو بھجوا دی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
گوجرانوالہ کے دو دینی مدارس کے خلاف پولیس ایکشن
گزشتہ دنوں گوجرانوالہ کے دو دینی مدرسوں مدرسہ انوار العلوم اور مدرسہ مظاہر العلوم کے خلاف پولیس ایکشن سے ملک بھر کے دینی حلقوں میں تشویش و اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بات صرف اتنی تھی کہ رمضان المبارک کے دوران چلاس ضلع دیامر میں ایک حملہ کے دوران ڈسٹرکٹ پولیس افسر ہلال خان اور ان کے رفقاء جاں بحق ہوئے، ہلال خان گوجرانوالہ میں بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں اور اچھے پولیس افسروں میں ان کا شمار ہوتا تھا، ان کی شہادت پر خود ہمیں بھی بہت دکھ ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پشاور کا المناک سانحہ
۲۲ ستمبر کو پشاور کے ایک چرچ میں دو خودکش دھماکوں کے دوران ۸۰ کے لگ بھگ افراد کے جاں بحق اور سینکڑوں شہریوں کے زخمی ہونے پر ملک بھر میں شدید غم و غصہ اور رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے اور قوم کے تمام طبقات کی طرف سے اس کی مذمت اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ اتوار کا دن تھا اور مسیحی برادری کے حضرات اپنی عبادت میں مصروف تھے کہ اچانک خودکش حملوں کے باعث کہرام مچ گیا اور ہر طرف لاشوں اور زخمیوں کے بکھرنے سے پوری قوم غم و اندوہ کا شکار ہو گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علامہ محمد اقبالؒ کا عید الفطر کے اجتماع سے خطاب
وفاقی وزیر سائنسی امور فواد چودھری صاحب کا کہنا ہے کہ پاکستان بنانے والے قائدین مذہبی لوگ نہیں تھے اور نہ ہی مذہبی راہنماؤں کا پاکستان بنانے میں کوئی کردار ہے۔ باقی تمام باتوں سے قطع نظر مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کا ایک خطاب پیش کیا جا رہا ہے جو انہوں نے ۹ فروری ۱۹۳۲ء کو بادشاہی مسجد لاہور میں عید الفطر کے اجتماع میں ارشاد فرمایا تھا اور انجمن اسلامیہ لاہور نے اسے چھپوا کر تقسیم کیا تھا۔ اس خطبہ کا متن عبد الواحد معینی اور عبد اللہ قریشی کے مرتب کردہ ’’مقالات اقبالؒ‘‘ سے لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’موتمر وثیقہ مکہ المکرمہ‘‘ کے لیے ہماری گزارشات
رابطہ عالم اسلامی کے ’’موتمر وثیقہ مکہ المکرمہ‘‘ کی تیسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کویت یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر حمود فہد القشعان نے ایک دلچسپ کہاوت سے گفتگو کا آغاز کیا اور اجتماعی زندگی کے مختلف شعبوں میں اعتدال، وسطیت اور توازن کی اہمیت و ضرورت پر خوبصورت گفتگو کی۔ ان کی زبان سے یہ کہاوت سن کر مجھے اپنے آبائی شہر گکھڑ کے ایک پرانے بزرگ صوفی نذیر احمد کشمیری مرحوم یاد آگئے جن سے میں نے یہ کہانی نصف صدی قبل پنجابی زبان میں متعدد بار سن رکھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
رابطہ عالم اسلامی کا مؤتمر عالمی
بحمد اللہ تعالٰی حرمین شریفین کی حاضری اور رابطہ عالم اسلامی کے عالمی موتمر میں شرکت کے بعد وطن واپس آگیا ہوں۔ رابطہ عالم اسلامی نے مکہ مکرمہ میں ۲۲ تا ۲۴ رمضان المبارک عالمی موتمر کا انعقاد کیا جس کا عنوان ’’الوسطیہ والاعتدال فی نصوص الکتاب والسنہ‘‘ تھا۔ خادم الحرمین الشریفین الملک سلیمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ تعالٰی کے خصوصی پیغام سے کانفرنس کا آغاز ہوا اور مسلسل تین روز جاری رہنے کے بعد ’’وثیقہ مکہ مکرمہ‘‘ کے اعلان پر موتمر اختتام پذیر ہوا۔ دو سو کے لگ بھگ ممالک سے بارہ سو کے قریب سرکردہ علماء کرام کانفرنس میں شریک تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دنیا کی ضرورت خلفاء راشدین والا اسلام ہے
برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ چارلس نے کچھ عرصہ قبل ایک تقریب میں اپنے دانشوروں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ: ’’اسلام کا مطالعہ کریں اور بطور نظام زندگی اور متبادل سسٹم اسے اسٹڈی کریں۔ لیکن اسلام کا مطالعہ کرتے ہوئے دو باتوں کی طرف مت دیکھیں، ایک یہ کہ ہمارے بڑوں نے اسلام کے بارے میں کیا کچھ کہا ہے، دوسرا یہ کہ اس وقت مسلمان کیسے نظر آرہے ہیں۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قیامت کب آئے گی؟
۲۱ دسمبر گزر گیا ہے اور قیامت کی پیشگوئی کرنے والوں کی طرف سے حسبِ سابق یہ عذر سامنے آیا ہے کہ کیلنڈر کا حساب صحیح طور پر نہیں لگایا جا سکا۔ گزشتہ سال کیلیفورنیا کے معمر پادری فادر کیمنبگ کی طرف سے ۱۲ مئی ۲۰۱۱ء کو قیامت واقع ہو جانے کی پیشگوئی کی گئی تھی اور اس روز بھی بہت سے لوگ قیامت کے انتظار میں تھے مگر وہ دن بھی ایسے ہی گزر گیا تھا جیسے ۲۱ دسمبر ۲۰۱۲ء کا دن گزر گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانیوں کی عالمی سر گرمیاں
قومی اسمبلی میں جمعیۃ علماء اسلام کے راہنما مولانا عطاء الرحمٰن نے ایک تحریک کے ذریعے ایوان کو توجہ دلائی ہے کہ کینیڈا میں پاکستانی سفارت خانے کے تعاون سے قادیانیوں نے ایک تقریب منعقد کی ہے جس میں تقریب کے منتظمین کے خیال میں اسلام کی صحیح تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنا مقصود تھا۔ مولانا موصوف نے کہا کہ پاکستان کے دستور کے مطابق قادیانی گروہ مسلمان نہیں ہے اس لیے ان کی کسی تقریب کو اسلام کے حوالہ سے منعقد کرنے میں پاکستانی سفارت خانے کا مبینہ تعاون دستور پاکستان کی خلاف ورزی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاپائے روم اور روایتی مسیحی تعلیمات
سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی میں ۴ دسمبر ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیتھولک فرقہ کے موجودہ سربراہ پاپائے روم پوپ بینیڈکٹ نے ۲۰۱۲ء کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے حساب سے درست ماننے سے انکار کر دیا ہے اور اپنی تازہ تصنیف میں، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سوانح عمری پر مشتمل ہے اور اس کے دس لاکھ نسخے شائع کیے گئے ہیں، کہا ہے کہ رواں سال کو ۲۰۱۲ء کہنا درست نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بیت المقدس کی آزادی اور یہودی سازشیں
روزنامہ دنیا گوجرانوالہ نے خبر شائع کی ہے کہ: ’’مسجد اقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے اسرائیل کی شہریت کو حرام قرار دیا ہے اور اپنے سابقہ فتوے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی شہریت حاصل کرنا شرعی حوالہ سے حرام ہے کیونکہ مقبوضہ بیت المقدس کے حوالہ سے اسرائیل کے ساتھ معرکے کا ایک پہلو یہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنا بھی ہے اور اسرائیل مسجد اقصیٰ کے اطراف میں پھیلے اس با برکت شہر کی آبادی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری
میانمار (برما) کے صوبہ اراکان میں مسلمانوں کے قتل عام کے حوالہ سے ان صفحات پر ہم اپنے جذبات کا اس سے قبل کئی بار اظہار کر چکے ہیں کہ اس خطہ کے مسلمان انتہائی مظلومیت کا شکار ہیں کہ جس ملک میں وہ صدیوں سے رہ رہے ہیں وہاں کی حکومت انہیں اس ملک کا شہری تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری طور پر ان کا مسلسل قتل عام ہو رہا ہے، پڑوس کے ممالک حتٰی کہ بنگلہ دیش بھی ان کے مہاجرین کو با قاعدہ پناہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جھوٹے مقدمات کا گھناؤنا کاروبار
روزنامہ جنگ لاہور میں ۲۳ جنوری ۲۰۱۳ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق گوجرانوالہ کے ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر نثار احمد نے کہا ہے کہ: ’’مخالفین کو پھنسانے کے لیے ناک اور انگلی کی ہڈی ٹوٹنے کی ۸۰ فیصد ضربات خودساختہ ہوتی ہیں اور خود ہڈیاں توڑ کر مخالفین کے خلاف مقدمات درج کروانے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، ہسپتالوں میں خودساختہ ضربات لگانے اور ہڈیاں توڑنے کے ماہر افراد کے ایجنٹ دندناتے پھر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 62
- 63
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »