کیا ہمارے فیصلے ہمیشہ دباؤ کے تحت ہوتے رہیں گے؟

میں اس وقت دارالہدٰی (سپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ) میں ہوں، یہاں مجھے ۱۸ ستمبر کو پہنچنا تھا مگر طوفان کی آمد کے باعث واشنگٹن کے ایئرپورٹس بند کر دیے گئے اور میں لندن سے واشنگٹن براہ راست آنے کی بجائے نیویارک کے راستہ سے ایک دن تاخیر کے ساتھ پہنچا۔ دارالہدٰی نے روزانہ مغرب کے بعد سیرت نبویؐ پر لیکچرز کا اہتمام کر رکھا ہے جو میرے یہاں قیام کے دوران جاری رہیں گے اور اس کے علاوہ چند احباب نے بخاری شریف کی کتاب العلم اور مسلم شریف کی کتاب الفتن کے خصوصی درس کا بھی تقاضا کیا ہے جو آج شام سے ان شاء اللہ العزیز شروع ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ ستمبر ۲۰۰۳ء

سانحہ نائن الیون کے بعد امریکہ میں مقیم مسلمانوں کا احوال

امریکہ حاضری کا ایک مقصد ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے سانحہ کے بعد یہاں کے مسلمانوں کے حالات اور تاثرات کا جائزہ لینا بھی ہے اس لیے جہاں بھی موقع ملتا ہے دوستوں سے اس کا تذکرہ کر دیتا ہوں اور ان کے تاثرات معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مختلف محافل میں اس کا ذکر ہوا اور کئی دوستوں سے الگ بھی گفتگو ہوئی۔ اس ضمن میں جو باتیں سامنے آئیں تحقیق و تمحیص کی چھلنی سے گزارے بغیر عوامی تاثرات کے طور پر ان میں سے بعض باتوں کو قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مئی ۲۰۰۳ء

امریکہ میں چند روز

میں اس وقت امریکی ریاست ورجینیا کے علاقہ سپرنگ فیلڈ (واشنگٹن ڈی سی کے قریب) کے ایک ادارہ ’’دارالہدٰی‘‘ میں بیٹھا یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں۔ یہ ادارہ مولانا عبد الحمید اصغر نے قائم کیا ہے جو پیر طریقت حضرت مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندیؒ کے خلفاء میں سے ہیں اور ایک عرصہ سے اس علاقہ میں دینی و تعلیمی خدمات کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ مجھے تیرہ سال کے بعد امریکہ آنے کا اتفاق ہوا ہے، اس سے قبل ۱۹۸۷ مکمل تحریر

۱۹ مئی ۲۰۰۳ء

موجودہ عالمی صورتحال میں علماء کرام کی ذمہ داریاں

علماء کرام میری برادری ہے اس لیے ان سے گفتگو کرنے اور بہت سی گزارشات پیش کرنے کو جی چاہتا ہے لیکن ڈر بھی لگتا ہے کہ کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو ان کے شایان شان نہ ہو، اور یہ خوف بھی دامن گیر ہوتا ہے کہ کوئی بات کسی نازک مزاج پر گراں گزر گئی تو پھر وہی کچھ نہ ہو جائے جو ایسے مواقع پر ہوجایا کرتا ہے۔ اس لیے پیشگی معذرت خواہی کے ساتھ ڈرتے ڈرتے کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں جو موجودہ عالمی صورتحال میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے ہوں گی اور جن میں تین امور کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ نومبر ۲۰۰۱ء

حافظ قرآن کریم کا ایک اور بڑا اعزاز

اس سال برطانیہ سے واپسی سے ایک روز قبل لیسٹر کی اسلامک دعوہ اکیڈمی کی سالانہ تقریب میں شرکت کا موقع ملا اور اکیڈمی کی تعلیمی پیش رفت دیکھ کر خوشی ہوئی۔ یہ اکیڈمی لیسٹر کے نوجوان عالم دین مولانا محمد سلیم دھورات نے قائم کی ہے اور نو سال قبل ایک گھر میں قائم ہونے والا یہ ادارہ اب ایک خوبصورت بلڈنگ میں منتقل ہو چکا ہے جو پہلے بوڑھوں کی دیکھ بھال کے کام آتی تھی مگر مولانا سلیم دھورات نے اسے خرید کر مسلم نوجوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے مرکز میں تبدیل کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۰ء

جنوبی افریقہ کے علماء کرام کی سرگرمیاں

جنوبی افریقہ کے ایک عالم دین مولانا ابراہیم سلیمان بھامجی گزشتہ ہفتے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر سے ملاقات کے لیے گوجرانوالہ تشریف لائے اور دو تین روز قیام کیا۔ اس دوران جہلم کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کی وفات پر ان کے جنازے میں شرکت کے لیے حضرت شیخ الحدیث کے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا تو مولانا ابراہیم سلیمان بھامجی بھی رفیق سفر تھے۔ ان سے جنوبی افریقہ کے حالات اور وہاں مسلمانوں کی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہوئی اور بہت سی معلومات حاصل ہوئیں جن کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مئی ۱۹۹۸ء

حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ

جامعہ اشرفیہ کے بانی حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کا شمار برصغیر کے ان نامور علماء کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان بنانے میں حصہ لیا اور قیام پاکستان کے بعد اسے ایک اسلامی جمہوریہ بنانے میں بھی سرگرم کردار ادا کیا۔ حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ ایک بلند پایہ عالم دین اور نامور صوفی تھے۔ انہوں نے حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ کی صحبت میں فیض حاصل کیا اور پھر اس فیض کو زندگی بھر بانٹتے رہے۔ ان سے ایک دنیا نے سلوک واحسان کی تربیت حاصل کی اور اس بھٹی سے کندن بننے والوں نے لاکھوں افراد کو رشد وہدایت کا راستہ دکھایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اپریل ۲۰۰۷ء

مولانا حمید الرحمان عباسیؒ

مولانا حمید الرحمان عباسیؒ کا تعلق ہزارہ کے علاقہ گڑھی حبیب اللہ سے تھا اور ان کی زندگی کا بیشتر حصہ مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے ہوئے بسر ہوا۔ اپنے اساتذہ میں ضلع اٹک کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا نور محمدؒ آف ملہوالی کا نام کثرت سے لیا کرتے تھے، انہی سے حضرت مولانا نور محمدؒ کا نام بار بار سن کر میرے دل میں ان کی زیارت کا شوق پیدا ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ نومبر ۲۰۰۹ء غالباً

حضرت مولانا حسن جانؒ

حضرت مولانا حسن جان کی شہادت کی المناک خبر میں نے دار الہدیٰ واشنگٹن ڈی سی میں سنی۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے حافظ محمد عرفان قریشی صاحب واشنگٹن میں کنسٹرکشن کا کام کرتے ہیں اور اس سال دار الہدیٰ میں تراویح میں قرآن کریم سنا رہے ہیں۔ انہوں نے فون کر کے مجھے بتایا کہ ایک انتہائی افسوس ناک خبر سنا رہا ہوں کہ ابھی نصف گھنٹہ قبل پشاور میں حضرت مولانا حسن جان صاحب کو شہید کر دیا گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۷ء

مولانا خورشید احمد گنگوہیؒ

مولانا خورشید احمد گنگوہیؒ سے میرا پہلا تعارف گکھڑ میں ہوا جہاں ان کا ننھیال ہے۔ ان کے نانا مرحوم حضرت حافظ احمد حسن لدھیانویؒ میرے اساتذہ میں سے ہیں اور مولانا خورشید احمد گنگوہیؒ میرے حفظ قرآن کریم کے استاذ حضرت قاری محمد انور مدظلہ کے شاگردوں میں سے ہیں۔ مولانا گنگوہیؒ کی رہائش لاہور میں تھی اور وہ چوبرجی کے قریب پونچھ ہاؤس کی جامع مسجد میں خطیب کی حیثیت سے خدمات سرانجام د یتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ نومبر ۲۰۰۹ء غالباً

Pages


2016ء سے
Flag Counter