مولانا عطاء الرحمان شہبازؒ / دورۂ امریکہ اور اردو کی عالمگیریت
۱۶ جولائی جمعرات کو مغرب کے بعد الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں تقریب اسناد کی سالانہ تقریب تھی، تنظیم اہل سنت پاکستان کے سربراہ مولانا عبد الستار تونسوی مدظلہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت فرمانا تھی اور مختلف شعبوں سے فارغ ہونے والے طلبہ اور فضلاء کو ان کے ہاتھوں سندیں دینے کا پروگرام تھا۔ وہ اس سے پہلی رات جامعہ نصرۃ العلوم کے سالانہ جلسہ دستار بندی سے خطاب فرما چکے تھے اور دورۂ حدیث شریف میں شریک ایک سو کے لگ بھگ فضلاء کے سروں پر انہوں نے دستار فضیلت سجائی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ہانگ کانگ میں چار روز
ہانگ کانگ میں چار دن گزار کر آج وطن واپس جا رہا ہوں۔ اس وقت بینکاک کے ایئرپورٹ پر ہوں اور کراچی کے لیے فلائٹ میں دو گھنٹے کے وقفے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں۔ ہانگ کانگ کی مساجد کے بورڈ آف ٹرسٹیز نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں سالانہ اجتماعات میں شرکت کے لیے مجھے دعوت دی تھی اور ’’تذکرۂ خیر الورٰی‘‘ کے عنوان سے ان اجتماعات کا سلسلہ مسلسل چار روز تک جاری رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’وار آن ٹیرر‘‘ کی قانونی و اخلاقی پوزیشن کا سوال
میں امریکہ سے حسب معمول رمضان المبارک کے دوسرے جمعۃ المبارک کو گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا تھا۔ امریکہ میں اپنے چالیس روزہ قیام کے دوران وہاں کے دوستوں کے تاثرات سے اس کالم میں قارئین کو آگاہ کرتا رہا ہوں۔ آخری چار روز میں نیویارک میں رہا، یہ دن وہ تھے جب جناب آصف علی زرداری ملک کے صدر منتخب ہو چکے تھے اور ان کی حلف برداری ہو رہی تھی۔ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے تاثرات بھی اسی طرح کے ہیں جیسے یہاں ہیں، البتہ ایک فرق ہے کہ وہاں ملکی سیاسیات اور اس میں بیرونی دلچسپیوں اور مداخلت کا منظر زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ناسا مصلیٰ
ڈیٹرائٹ امریکہ کے اہم شہروں میں سے ہے اور مشی گن ریاست میں ہے۔ مجھے اب سے بیس برس قبل اس کے ایئرپورٹ سے کئی چکر لگانے کا موقع ملا تھا مگر شہر میں داخل ہونے اور مسلمان دوستوں سے ملاقات کا اتفاق نہیں ہوا۔ اس زمانے میں وزٹ پر آنے والوں کو بعض فضائی کمپنیوں کی طرف سے فضائی سفر کے سستے کوپن مل جایا کرتے تھے جن پر وہ اس فضائی کمپنی کے جہازوں پر کسی بھی روٹ پر سفر کر سکتے تھے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے یہ کوپن لندن سے غالباً ساڑھے تین سو پاؤنڈ میں ساٹھ کی تعداد میں خریدے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ میں رؤیت ہلال کا مسئلہ
حسب سابق اس سال بھی امریکہ میں چاند کا مسئلہ زوروں پر ہے اور علمی و دینی مجالس میں ان دنوں زیادہ تر یہی مسئلہ زیربحث رہتا ہے۔ مسلمانوں کا ایک حلقہ ایسا ہے جو فلکیات کے حساب کی بنیاد پر پہلے سے رمضان المبارک اور عید الفطر کے دن کا اعلان کر دیتا ہے چنانچہ اس سال بہت پہلے سے ان کی طرف سے اعلان کر دیا گیا تھا کہ بروز پیر یکم ستمبر کو یکم رمضان المبارک ہوگی۔ ان حضرات کا موقف یہ ہے کہ چونکہ فلکیات کا حساب اس قدر سائینٹفک ہو چکا ہے کہ اس کے اندازوں میں غلطی کا امکان نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شریعہ بورڈ آف امریکہ
گزشتہ روز شریعہ بورڈ آف نیویارک کے سالانہ اجلاس میں شرکت کا موقع ملا۔ شریعہ بورڈ نیویارک کے دفتر میں اس سے قبل بھی متعدد بار حاضری اور دوستوں کو اس حوالہ سے کام کرتے ہوئے دیکھنے کا موقع مل چکا ہے۔ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے مولانا مفتی جمال الدین اور مولانا مفتی روح الامین جبکہ انڈیا سے تعلق رکھنے والے مولانا مفتی محمد نعمان اس سلسلہ میں زیادہ سرگرم عمل ہیں اور پاکستان کے علماء کرام میں سے مولانا عبد الرزاق عزیز اور مولانا قاری مطیع الرحمان آف آزاد کشمیر بھی ان کے ساتھ شریک کار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ میں قادیانی سرگرمیوں کی ایک جھلک
اگست اتوار سے میں امریکہ میں ہوں۔ گزشتہ سال دارالعلوم نیویارک کے مہتمم بھائی برکت اللہ نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ اگلے سال آپ آئیں گے تو کم از کم ایک ہفتہ ہمارے پاس رہیں گے۔ بھائی برکت اللہ ایک عرصہ سے دارالعلوم نیویارک کے نام سے حفظ قرآن کریم اور درس نظامی کے ایک مدرسہ کا نظام چلا رہے ہیں، بہت باذوق اور زندہ دل دوست ہیں اور برصغیر کے کسی بھی ملک کے علماء کرام کو کسی نہ کسی بہانے دارالعلوم میں لانے کے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکی مسلمانوں کا دین کی طرف رجوع
تقریباً ۴۸ روز کے قیام کے بعد گزشتہ ہفتے امریکہ سے واپسی ہوئی۔ ۱۸ ستمبر کو نیویارک پہنچا تھا اور ۴ نومبر کو شام واشنگٹن کے ڈلس ایئرپورٹ سے روانہ ہو کر ۶ نومبر کو صبح ۹ بجے کے لگ بھگ لاہور واپس پہنچ گیا۔ یہ سفر امریکی دارالحکومت کے نواح میں واقع دارالہدٰی، سپرنگ فیلڈ، ورجینیا کی دعوت پر کیا تھا جہاں سیرت النبیؐ کے مختلف پہلوؤں پر دس لیکچرز کے علاوہ متعدد دینی عنوانات پر سلسلہ وار خطابات کا پروگرام تھا۔ احباب کی فرمائش پر بخاری شریف، مسلم شریف اور مشکوٰۃ کے بعض ابواب کا درس دیا اور نماز تراویح میں چند پارے سنانے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مغرب اور مسلمانوں کے درمیان کشمکش کا فیصلہ کن مورچہ
الحاج عبد الرحمان باوا تحفظ ختم نبوت کے محاذ کے سرگرم اور مشنری رہنما ہیں۔ پہلے برما میں قادیانیت کے خلاف مصروف عمل رہے، پھر مشرقی پاکستان کو اپنی سرگرمیوں کا میدان بنایا، سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان آئے اور کراچی میں مجلس تحفظ ختم نبوت کو منظم کرنے میں دن رات ایک کر دیا۔ لندن میں ختم نبوت مرکز قائم کرنے کا فیصلہ ہوا تو ان کا اور مولانا منظور احمد الحسینی کا انتخاب ہوا۔ دونوں نے مل کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو برطانیہ میں منظم کیا اور اسٹاک ویل کے علاقہ میں ختم نبوت سنٹر کے قیام میں اپنی توانائیاں صرف کر دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آئی تھنک کا فتنہ
حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی ان دنوں امریکہ آئے ہوئے ہیں اور مختلف شہروں میں دینی اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں۔ گزشتہ تین روز سے واشنگٹن ڈی سی اور اس کے قریب ورجینیا کے علاقہ میں ہیں۔ دارالہدٰی سپرنگ فیلڈ میں انہوں نے مسلمانوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا اور مختلف مسائل پر لوگوں کے سوالات کے جوابات دیے۔ اس اجتماع کے لیے دارالہدٰی کے ڈائریکٹر مولانا عبد الحمید اصغر نے خاصی محنت کی تھی جس کی وجہ سے ورکنگ ڈے (منگل) ہونے کے باوجود بھرپور اجتماع ہوا اور مفتی صاحب کے خطاب اور سوال و جواب کی نشست تقریباً دو گھنٹے جاری رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 285
- 286
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »