صوبہ سرحد میں شرعی قوانین کے نفاذ میں درپیش مشکلات

صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے اسلامی اصلاحات کے عمل کا آغاز کر دیا ہے اور وزیر اعلیٰ محمد اکرم خان درانی نے گزشتہ روز صوبائی کابینہ کے طویل اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مولانا مفتی غلام الرحمان کی سربراہی میں جو نفاذ شریعت کونسل صوبہ میں نفاذ اسلام کے سلسلہ میں سفارشات اور تجاویز مرتب کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی اس نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے، اور اس رپورٹ کی روشنی میں سرحد اسمبلی میں شریعت ایکٹ لایا جا رہا ہے جس میں صوبائی دائرہ اختیار کی حدود میں تمام اسلامی قوانین اور اقدامات کو شامل کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ مارچ ۲۰۰۳ء

قرآنِ کریم اور ماضی کا سبق

سقوطِ ڈھاکہ اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے عظیم سانحہ کے بارے میں جسٹس حمود الرحمان مرحوم کی سربراہی میں قائم کیے گئے کمیشن کی مبینہ رپورٹ بھارت کے کسی اخبار میں شائع ہوئی اور اس کے بعد پاکستان میں اس کی باضابطہ اشاعت کے مطالبہ نے زور پکڑا تو چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے یہ کہہ کر اس سے دامن چھڑا لیا کہ یہ پرانی بات ہو چکی ہے اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ ماضی کو بھول جائیں اور پچھلے واقعات کی کرید میں پڑنے کی بجائے مستقبل کی فکر کریں۔ ہمارے خیال میں جنرل صاحب کا یہ مشورہ قرین انصاف نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ ستمبر ۲۰۰۰ء

سعودی عرب کا تاریخی پس منظر اور حالیہ شاہی کشمکش

’’المملکۃ العربیۃ السعودیۃ‘‘ میں اس وقت جو صورتحال ہے اسکے بارے میں حرمین شریفین سے عقیدت اور اسکی وجہ سے سعودی عرب سے محبت رکھنے والا دنیا کر ہر مسلمان پریشان بلکہ مضطرب ہے۔ کرپشن کے خاتمہ کے عنوان سے شاہی خاندان میں باہمی کشمکش، گرفتاریوں، کم از کم ایک شہزادہ کے شہید ہو جانے اور متعدد سرکردہ علماء کرام کے زیر حراست ہونے کی خبریں اس پریشانی اور اضطراب میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔ مگر اس حوالہ سے کچھ عرض کرنے سے قبل سعودی سلطنت کے قیام اور اسکے پس منظر کے بارے میں چند زمینی حقائق کو پیش نظر رکھنا ضروری دکھائی دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ نومبر ۲۰۱۷ء

میاں نواز شریف کی جلا وطنی اور سی ٹی بی ٹی پر دستخط کے لیے امریکی دباؤ

آج ہم دو امریکی عہدے داروں کی پریس بریفنگ کے حوالہ سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں سے ایک وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جیک سیورٹ ہیں جنہوں نے اپنی پریس بریفنگ میں میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کی جلاوطنی کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے اور دوسرے جنوبی ایشیا کے امور کے امریکی ماہر اسٹیفن پی کوہن ہیں جنہوں نے اسلام آباد کے امریکی مرکز اطلاعات میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدارت ڈیموکریٹ صدر بل کلنٹن سے ری پبلکن صدار جارج ڈبلیو بش کو منتقل ہونے کے بعد امریکی پالیسوں میں متوقع تبدیلیوں کا جائزہ لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جنوری ۲۰۰۱ء

گوجرانوالہ، ہنر مندوں اور کاریگروں کا شہر

گوجرانوالہ میں بننے والی اشیاء اور مصنوعات کی نمائش ۱۵ فروری سے ۴ مارچ تک گلشن اقبال پارک میں ’’میڈ اِن گوجرانوالہ صنعتی نمائش‘‘ کے نام سے جاری رہی۔ مطبوعہ پروگرام میں ۵ مارچ کا دن بھی شامل تھا اور میں نے اسی کے مطابق آخری روز نمائش میں جانے کا پروگرام اپنے شیڈول میں شامل کر لیا تھا کہ نمائش دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی مجموعی سرگرمیوں سے بھی آگاہی ہو جائے گی اور اس کے بعد آسانی سے کچھ گزارشات اپنے قارئین کے لیے قلمبند کر سکوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ مارچ ۲۰۰۱ء

اراکان کے نئے قوانین اور مسلمانوں کی مشکلات

اراکان کے بارے میں دائرہ معارف اسلامیہ (پنجاب یونیورسٹی) کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ ’’زیریں برما کا انتہائی مغربی حصہ جو کوہستان اراکان، یوما اور خلیج بنگال کے درمیان واقع ہے۔ ۱۱۹۹ھ (۱۷۸۴ء) تک اراکان ایک خودمختار مملکت تھی اس کے بعد یہ برطانوی حکومت کے تحت ۱۸۲۶ء سے برما کا حصہ بن گئی۔‘‘ اراکان مسلم اکثریت کا صوبہ ہے لیکن برما میں شامل ہونے کے بعد اس خطہ کے مسلمانوں کو کسی دور میں بھی امن اور سکون میسر نہیں آیا اور اب بھی وہ برما (میانمار) کی حکومت کے مظالم کا نشانہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۰۰ء

ایک اور ’’زاہد الراشدی‘‘

مرزا غلام نبی جانباز مرحوم تحریک آزادی کے ان کارکنوں میں سے تھے جنہوں نے فرنگی استعمار کے تسلط کے خلاف جدوجہد آزادی میں اپنا بہت کچھ قربان کر دیا اور اپنے خون سے آزادی کی شمع روشن کی۔ ان کا تعلق مجلس احرار اسلام سے تھا، وہ ایک انقلابی شاعر کےطور پر کاروانِ آزادی کے حدی خوان تھے اور انہوں نے ایثار و قربانی کے دیگر کٹھن مراحل کے علاوہ اپنی جوانی کے تقریباً چودہ برس آزادی کی خاطر جیلوں کی نذر کیے۔ عام حلقوں میں جانباز مرزا کے نام سے متعارف تھے اور ماہنامہ تبصرہ کے نام سے لاہور سے ایک رسالہ شائع کیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ ستمبر ۲۰۰۰ء

مسلم خواتین: حجاب اور رد عمل

جرمنی میں حجاب کے مسئلہ پر شہید ہونے والی خاتون مروی شیربینی کا تذکرہ امریکہ سے شائع ہونے والے اخبارات میں مختلف حوالوں سے جاری ہے: ہفت روزہ ’’ایشیا ٹریبیون‘‘ نیویارک نے ۳۱ جولائی کے شمارہ میں اس کی تفصیلات یوں بیان کی ہیں: جرمنی کی عدالت میں قتل کی گئی ایک مسلم خاتون کی لاش ان کے آبائی وطن مصر لائی گئی ہے جسے حجاب کے لیے شہید قرار دیا گیا تھا۔ اسے ایک اٹھائیس سالہ جرمن شخص نے عدالت میں چاقو مار کر ہلاک کر دیا تھا جسے عدالت نے خاتون کے مذہب کی توہین کرنے کا قصور وار پایا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اگست ۲۰۰۹ء

مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی پاکستان آمد

مولانا محمد عیسیٰ منصوری کا تعلق انڈیا کے صوبہ گجرات سے ہے، فاضل اور دانش ور عالم دین ہیں، صاحب قلم ہیں اور عالم اسلام کے اجتماعی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں، گزشتہ ۲۵ سال سے لندن میں مقیم ہیں۔ ۱۹۹۲ء میں راقم الحروف اور مولانا منصوری دونوں نے مل کر دوسرے رفقاء کے ہمراہ ورلڈ اسلامک فورم کی بنیاد رکھی تھی، پانچ سال تک راقم الحروف چیئرمین اور مولانا موصوف سیکرٹری جنرل رہے، اب دو سال سے وہ چیئرمین ہیں اور میں ان کی مجلس عاملہ کا رکن ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ نومبر ۱۹۹۹ء

مسئلہ ختم نبوت: حالیہ بحران کے چند پہلو اور علامہ محمد اقبالؒ کا مکتوب

ملک کے انتخابی قوانین میں ترامیم کا بل پاس ہونے پر اس میں ختم نبوت سے متعلق مختلف دستوری و قانونی شقوں کے متاثر ہونے کی بحث چھڑی اور قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ دینی حلقوں اور سوشل میڈیا میں بھی خاصی گرما گرمی کا ماحول پیدا ہوگیا تو حکومت نے عقیدۂ ختم نبوت کے حلف نامہ کو سابقہ پوزیشن میں بحال کرنے کا بل اسمبلی میں پاس کر لیا۔ مگر دفعہ ۷ بی اور ۷ سی کے بارے میں مطالبہ جاری ہے اور حکومتی حلقے یقین دلا رہے ہیں کہ ان کو بھی عوامی مطالبہ کے مطابق صحیح پوزیشن میں لایا جائے گا۔ اس حوالہ سے اپنے احساسات کو تین چار حوالوں سے عرض کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ نومبر ۲۰۱۷ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter