بھٹو مرحوم ۔ مخالفین کا خراجِ عقیدت

گزشتہ روز ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی سالگرہ منائی گئی اور قوم کے مختلف طبقات اور جماعتوں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کی قومی خدمات کو سراہنے والوں میں ان کے سیاسی کارکن اور ساتھی بھی تھے اور ان حضرات نے بھی اس سلسلے میں بخل سے کام نہیں لیا جو ان کی زندگی میں ان کے مخالف سیاسی کیمپ میں رہے ہیں بلکہ انہیں اقتدار سے ہٹانے کی تحریک میں پیش پیش تھے۔ بھٹو مرحوم کے دنیا سے چلے جانے کے ربع صدی سے بھی زیادہ عرصے کے بعد انہیں اس انداز سے یاد کیا جانا جہاں پاکستان کی قومی سیاست میں ان کے انمٹ کردار کا اعتراف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جنوری ۲۰۰۶ء

یاسر عرفات مرحوم

یاسر عرفات کی وفات سے فلسطین کی تحریک آزادی کا ایک دور ختم ہوگیا ہے اور اب یہ ان کے سیاسی جانشینوں پر منحصر ہے کہ وہ آزادیٔ فلسطین کی جدوجہد کو کس انداز سے آگے بڑھاتے ہیں۔ یاسر عرفات نے اس دور میں تحریک آزادیٔ فلسطین کا پرچم اٹھایا جب خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد فلسطین پر برطانیہ نے تسلط جما لیا تھا۔ اور برطانوی حکومت یہودیوں کے ساتھ کیے گئے اس وعدہ کی تکمیل کے لیے سرگرم عمل تھی کہ وہ انہیں فلسطین میں آباد ہونے اور اپنا الگ قومی وطن قائم کرنے میں مدد دے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ نومبر ۲۰۰۴ء

یاسر عرفات مرحوم

یاسر عرفات بھی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انہیں رملہ میں ان کے ہیڈکوارٹر میں امانتاً سپرد خاک کیا گیا ہے اور فلسطینی قیادت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور بیت المقدس کی اس ریاست میں شمولیت کے بعد انہیں بیت المقدس میں دفن کیا جائے گا۔ یاسر عرفات کے جنازے پر فلسطینی عوام اور ان کے عقیدت مندوں کے بے پناہ ہجوم نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ وہ زندگی کے آخری حصے میں متنازعہ ہوجانے کے باوجود فلسطینی عوام کے محبوب ترین رہنما تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ نومبر ۲۰۰۴ء

صدام حسین کا اصل قصور جس کا تذکرہ کہیں نہیں

امریکی ذرائع کے مطابق عراق کے معزول صدر صدام حسین کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ اس وقت اتحادی فوجوں کی تحویل میں ہیں۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ انہیں تکریت کے علاقہ میں زیر زمین پناہ گاہ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ سوئے ہوئے تھے، ان کے پاس دو رائفلیں اور متعدد دستی بم تھے اور لاکھوں ڈالر بھی ان کے پاس تھے، جبکہ ان کی ڈاڑھی بڑھی ہوئی تھی اور چہرے پر تھکن اور مشقت کے آثار تھے۔ ان کی ڈاڑھی سمیت تصویر اخبارات میں آئی ہے جس سے تاثر ملتا ہے کہ وہ حالت جنگ میں تھے اور آخر وقت تک ہتھیار بکف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ دسمبر ۲۰۰۳ء

مولانا اللہ وسایا قاسمؒ

گزشتہ روز گوجرانوالہ گھر فون کیا تو یہ غمناک اطلاع ملی کہ مولانا اﷲ وسایا قاسم ٹریفک کے حادثہ میں شہید ہو گئے ہیں، انا ﷲ و انا الیہ راجعون ۔وہ میرے بہت پرانے اور قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے شاگرد اور عقیدت مند تھے۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان جب درخواستی گروپ اور فضل الرحمن گروپ میں تقسیم تھی ،وہ جمعیۃ علماءاسلام درخواستی گروپ کے نظم میں شریک ہوئے اور اپنی جوانی کا پورا زور جمعیۃ علماءاسلام کی تنظیم و ترقی اور خاص طور پر ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کی اشاعت کو بڑھانے میں صرف کردیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲مئی ۲۰۰۳ء

علامہ محمد اقبالؒ اور پارلیمنٹ کے لیے تعبیر شریعت کا اختیار

دین کی اجماعی تعبیر جو حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف صالحین کے چودہ سو سالہ تعامل کی صورت میں چلی آرہی ہے اس تعبیر و تشریح سے ملت اسلامیہ کو ہٹانے اور قرآن و سنت کو جدید تعبیر و تشریح کی سان پر چڑھانے کے لیے استعماری قوتیں اپنے آلۂ کار عناصر کے ذریعے ایک عرصہ سے مسلم معاشرہ میں سرگرمِ عمل ہیں۔ نصف صدی قبل تک بیشتر مسلم ممالک پر سامراجی قوتوں کے غلبہ و استعلاء کے دور میں سامراجی آقاؤں نے مسلسل سازشوں اور محنت کے باوجود جب یہ دیکھا کہ مسلمانوں کو دین کی بنیاد قرآن و سنت سے برگشتہ کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء

چند باتیں حضرت درخواستیؒ کی یاد میں

گزشتہ کچھ عرصہ سے ہمارا یہ ذوق بڑھتا جا رہا ہے کہ اپنے بزرگوں کا نام تو لیتے ہیں اور ان کے تذکرہ کے فوائد و ثمرات بھی حاصل کرتے ہیں مگر ان کی حیات و خدمات سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے مطالعہ و آگاہی کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اس کا ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہم ان کی راہنمائی سے محروم رہتے ہیں، اور دوسرا نقصان اس سے بھی بڑا یہ ہوتا ہے کہ بار بار ان کا نام لینے سے لوگ انہیں بھی ہم پر قیاس کرنے لگتے ہیں اور ہم ان کی نیک نامی کا ذریعہ بننے کے بجائے ان کے تعارف کو خراب کرنے کا باعث بن جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جنوری ۲۰۱۶ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا فقہی ذوق و اسلوب

اسلام آباد میں ’’دفاع پاکستان و افغانستان کونسل‘‘ کے اجلاس کے موقع پر حافظ محمد ریاض درانی سکیرٹری اطلاعات جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے یہ خوش خبری سنائی کہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کے فتاویٰ کا پہلا حصہ جمعیت پبلی کیشنز لاہور کے زیر اہتمام شائع ہو گیا ہے اور وہ میرے لیے اس کا نسخہ ساتھ لائے ہیں۔ یہ معلوم کر کے بے حد خوشی ہوئی اس لیے کہ مدت سے اس بات کی تمنا تھی کہ مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے فتاویٰ کا جو ریکارڈ موجود ہے وہ کسی طرح اشاعت پذیر ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ ستمبر ۲۰۰۱ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی یاد میں

راقم الحروف کو مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک کارکن اور پھر ایک رفیق کار کے طور پر کم و بیش پندرہ برس تک کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ اور میرے لیے یہ بات بھی سعادت و افتخار کی ہے کہ ۱۹۷۵ء میں جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ نے مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں منعقدہ اجلاس میں جب پہلی بار مجھے جمعیۃ کا مرکزی سیکرٹری اطلاعات منتخب کیا تو میرا نام پیش کرنے والے اور مجلس شوریٰ کو بحث اور دلائل کے ساتھ اس پر قائل کرنے والے خود مولانا مفتی محمودؒ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اکتوبر ۱۹۹۸ء

حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ

آج کی نشست میں تذکرہ ہے حضرت مولانامفتی عبد الواحد نور اللہ مرقدہ کا، ان کے تعارف اور تذکرہ سے پہلے کچھ پسِ منظرعرض کرناچاہتاہوں۔ مرکزی جامع مسجدشیرانوالہ باغ گوجرانوالہ شہر کی قدیمی مساجدمیں سے ہے، اب سے تقریباً ڈیڑھ سوسال پہلے یہاں ایک بزرگ ہواکرتےتھے مولانا سراج الدین احمد جو کہ بڑے عالم اور فقیہ تھے انہیں فقیہِ پنجاب کہا جاتا تھا۔ مسجد کے عقب میں بازار تھانے والا کی گلی مولوی سراج دین اور مسجد مولوی سراج دین ان ہی کےنام پر ہیں اور وہ مسجد شہرکی جامع مسجد ہوا کرتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۷ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter