دینی مدارس اور محکمہ تعلیم: فوری توجہ کا مستحق اہم مسئلہ

گزارش ہے کہ محکمہ تعلیم کے تحت دینی مدارس کی الگ سے رجسٹریشن کا سلسلہ کچھ عرصہ سے جاری ہے جس کے بارے میں عام طور پر کہا جا رہا ہے کہ دینی مدارس کے وفاقوں کو اعتماد میں لے کر کی جا رہی ہے۔ جبکہ محکمہ تعلیم کے ذمہ داران افسران کے بقول اب تک پندرہ ہزار کے لگ بھگ مدارس رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، اس دوران چند تحفظات سامنے آئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ مارچ ۲۰۲۳ء

مرکز مطالعہ خلافتِ راشدہ گوجرانوالہ کا قیام

نئی نسل بالخصوص نوجوان علماء میں مطالعہ و تحقیق کا ذوق بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے جو یقیناً ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے اور دینی مراکز و مدارس کو اس پر سنجیدہ توجہ دینی چاہیے۔ اسی ضرورت کے تحت مرکزی جامع مسجد (شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ) میں ’’مرکز مطالعہ خلافتِ راشدہ‘‘ کے عنوان سے ایک مطالعاتی حلقہ قائم کر کے اس کے لیے الگ دفتر مخصوص کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اپریل ۲۰۲۲ء

’’وحدتِ امت کانفرنس‘‘ جامعۃ العروۃ الوثقٰی لاہور

قابلِ صد احترام شرکاءِ ’’وحدتِ امت کانفرنس‘‘ منعقدہ ۲۴ اکتوبر ۲۰۲۱ء بمقام جامعۃ العروۃ الوثقٰی لاہور۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ مزاج گرامی؟ جامعۃ العروۃ الوثقٰی کے سربراہ محترم جناب آغا سید جواد نقوی نے گزشتہ دنوں آج کی کانفرنس میں شرکت کی دعوت کے لیے خود گوجرانوالہ تشریف لا کر مجھے ممنون کیا جس پر ان کا شکرگزار ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اکتوبر ۲۰۲۱ء

سرکردہ علماء و زعماء کرام کے نام مکتوب

’’تحریک تحفظ مساجد و مدارس پاکستان‘‘ کی دعوت پر مجھے ۱۶ ستمبر ۲۰۲۱ء کو جامعہ محمدیہ اسلام آباد میں مختلف مکاتب فکر کے راہنماؤں کے ایک مشترکہ اجلاس میں شرکت کا موقع ملا جس میں (۱) متنازعہ اوقاف قوانین (۲) گھریلو تشدد کی روک تھام کا بل (۳) اسلام قبول کرنے میں مختلف رکاوٹوں کا بل (۴) بچوں پر تشدد کی روک تھام کا بل اور ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ ستمبر ۲۰۲۱ء

وزیر تعلیم افغانستان حضرت مولانا عبد الباقی حقانی کے نام مکتوب

افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا، امارت اسلامی افغانستان کی حکومت کے قیام، اقتدار کی پراَمن منتقلی اور آنجناب کے نئے منصبی ذمہ داریاں سنبھالنے پر پاکستان شریعت کونسل کے امیر محترم مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی و دیگر ارکان کی طرف سے پرخلوص مبارکباد قبول فرمائیے۔ یہ دنیا بھر کے اہلِ دین کی دیرینہ آرزوؤں کی تکمیل کی طرف اہم پیش رفت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ ستمبر ۲۰۲۱ء

اساتذہ جامعہ نصرۃ العلوم کے نام مکتوب

گزارش ہے کہ بحمد اللہ تعالٰی جامعہ نصرۃ العلوم میں اسباق کا آغاز ہو چکا ہے۔ اللہ تعالٰی خیر و عافیت کے ساتھ ہم سب کو یہ خدمت توجہ اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ میں اس موقع پر بطور خاص سب اساتذہ سے گزارش کرنا چاہ رہا ہوں کہ کرونا بحران کی وجہ سے کم و بیش دو ماہ کی تاخیر پہلے ہی ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اَگست ۲۰۲۰ء

وفاقی وزیر مذہبی امور صاحبزادہ پیر نور الحق قادری صاحب کے نام مکتوب

یہ معلوم کر کے اطمینان ہوا ہے کہ اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر کے حوالہ سے اسلامی نظریاتی کونسل سے باقاعدہ استفسار کیا گیا ہے۔ ہماری رائے میں ایسے مسائل پر دستوری اداروں وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ذریعے ہی کوئی متوازن، قابل قبول اور قابل عمل حل تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جولائی ۲۰۲۰ء

’’یومِ آزادی اور اس کا پیغام‘‘

چودہ اگست ہمارا یومِ آزادی ہے اور اس موقع پر ملک بھر میں بیانات، تقریبات اور مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے جو آزادی اور قیامِ پاکستان کی عظیم نعمتِ خداوندی پر رب العزت کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان کے شہداء اور مجاہدین کی یاد تازہ کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ ان میں قیامِ پاکستان کے مقصد کی تکمیل کے لیے جدوجہد کا نئے سرے سے عزم کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اگست ۲۰۲۴ء

دین کی تبلیغ اور جدید ذرائع ابلاغ

کوہِ طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے شرف سے نوازا اور فرعون کی طرف یہ پیغام دے کر بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی چھوڑ دو اور بنی اسرائیل کو آزادی کے ساتھ اپنے وطن واپس جانے دو تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس موقع پر اللہ رب العزت سے دو درخواستیں کیں۔ ایک یہ کہ میرے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو نبی بنا کر میرا شریک کار بنا دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جنوری ۲۰۱۳ء

میسج ٹی وی کے عبد المتین اسحاق کا انٹرویو

میرا مکمل نام محمد عبد المتین خان زاہد ہے۔ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں بھی یہی ہے۔ ہمارے خاندان میں حروف ابجد کے حساب سے ایک بزرگ نام رکھا کرتے تھے۔ آپ میرے نام محمد عبد المتین خان زاہد کے ابجد کے حساب سے اعداد نکالیں گے تو اس کا مجموعہ ۱۳۶۷ بنے گا، جو ہجری اعتبار سے میرا سن پیدائش ہے۔ ہم سب بہن بھائیوں کے اور میری اولاد کے نام بھی ایسے ہی ہیں۔ اس کے بعد وہ بزرگ فوت ہو گئے اور وہ رسم بدل گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جولائی ۲۰۲۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter