حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ گزشتہ نشست میں ہم نے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات اور ان کے دینی جدوجہد میں کردار کے حوالے سے بات کی تھی، آج کی گفتگو حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ہوگی۔ ان دو بزرگوں کا نام جب بھی تاریخ میں آتا ہے تو اکٹھا ہی آتا ہے۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا نام لیں تو حضرت گنگوہی کا تذکرہ ضروری ہو جاتا ہے اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کا نام لیں تو حضرت نانوتویؒ کا تذکرہ بھی ضروری ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ
بعد الحمد و الصلوٰۃ۔ گزشتہ سال ہماری ماہانہ نشستوں کا یہ عنوان تھا کہ ہم اپنے بزرگوں میں سے کسی بزرگ کا تعارفی انداز میں تذکرہ کرتے تھے۔ بزرگوں سے مراد ہمارے قریب کے زمانے کے بزرگ ہیں، جنہیں ہم عام اصطلاح میں اکابر علماء دیوبند کہتے ہیں۔ ہمارا قریبی نسب نامہ یہی ہے۔ ویسے تو جتنی شاخوں کے جتنے بزرگ گزرے ہیں سب ہمارے بزرگ اور اکابر ہیں, لیکن ہمارے قریبی نسب نامے کے بزرگوں میں سے ایک ایک شخصیت کا ایک ایک نشست میں تذکرے کا پروگرام ہم نے رکھا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
میڈیا کا مثبت کردار
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا شعبہ ”دعوۃ اکیڈیمی“ اسلام کی دعوت و تبلیغ اور اسلامی علوم کی ترویج و اشاعت کے لیے طویل عرصے سے سرگرم عمل ہے۔ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ اور ڈاکٹر خالد علویؒ جیسے ممتاز اہلِ علم اپنے اپنے دور میں اس کی سربراہی کا فریضہ سرانجام دے چکے ہیں۔ آج کل صاحبزادہ ڈاکٹر ساجد الرحمٰن اس ذمہ داری کو بحسنِ و خوبی سنبھالے ہوئے ہیں۔ مجھے وقتاً فوقتاً دعوۃ اکیڈیمی کی سرگرمیوں میں شریک ہونے کا موقع ملتا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تنقید اور استہزا میں بہت فرق ہے
میں نے وہ فلم نہیں دیکھی جس پر دنیا بھر کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں، نہ دیکھنا چاہتا ہوں اور نہ ہی شاید دیکھ سکوں۔ گزشتہ روز ایک عزیز نے پوچھا کہ استاد جی! آپ کو وہ فلم دکھا دوں؟ میں نے کہا کہ برخوردار! میں نہیں دیکھ پاؤں گا، اس لیے کہ ایک عام انسان کی توہین پر بھی میرے دل میں کچھ نہ کچھ کسک ضرور پیدا ہوتی ہے، کائنات کی سب سے محترم شخصیت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کا منظر کیسے دیکھ سکوں گا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سپریم کورٹ کا فیصلہ اور دینی حلقوں کا اضطراب
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کل پورے ملک میں قادیانیوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ زیرِ بحث ہے۔ تمام دینی جماعتیں اور تمام مکاتب فکر اپنے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں اور تقریباً یہ سب کے ہاں قدر مشترک ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ دینی تقاضوں اور عوام کی امنگوں کے مطابق نہیں ہے۔ میں سادہ سے لہجے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ دینی حلقے مطمئن کیوں نہیں ہیں، مسئلہ کیا ہے اور دینی حلقوں کا موقف کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ: شخصیت و افکار‘‘
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ العزیز کو متحدہ ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں ایک سنگم اور سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جنہوں نے تحریکِ آزادی کا رخ عسکری جدوجہد سے سیاسی جدوجہد کی طرف موڑا، حکومتِ الٰہیہ کے عنوان سے تحریکِ آزادی کا نظریاتی اور تہذیبی ہدف متعین کیا، قوم کے تمام طبقات کو تحریکِ آزادی میں شریک کرنے کی روایت ڈالی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’صحابیاتؓ کے اسلوبِ دعوت و تربیت کی روشنی میں پاکستانی خواتین کی کردار سازی‘‘
خواتین کی علمی و تبلیغی سرگرمیاں اسلام کی شاندار تاریخ کا اہم ترین باب ہیں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں امہات المومنین رضوان اللہ علیہن کو امت کی علمی راہنمائی میں مرکزی مقام حاصل تھا۔ اور نہ صرف قرآن و حدیث کی تشریح و تعبیر میں وہ مراجع کی حیثیت رکھتی تھیں بلکہ فقہ و افتاء کے دائرہ میں بھی ان کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے جس سے امت نے ہر دور میں استفادہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ٹیکس کے دو اسلامی اصول
بعد الحمد الصلوٰۃ۔ آج کل پورا ملک مصائب کا شکار ہے لیکن دو تین مسئلے بڑی اہمیت کے ساتھ ہر طبقے اور ماحول میں ڈسکس ہو رہے ہیں۔ ٹیکسوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، بجلی کے بل ناقابل برداشت ہو گئے ہیں اور مہنگائی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔ آج ہمارے ہاں جامع مسجد میں تاجربرادری اور علماء کرام کی میٹنگ تھی ، مشاورت کا آغاز ہوا ہے کہ اس کو روکنے کی، اس پر احتجاج کی کوئی صورت ہو سکتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اخلاقی ادب اور قیامِ امن کا چیلنج
۱۲ اپریل جمعرات کو پنجاب یونیورسٹی کے شیخ زاید اسلامک سینٹر میں عالمی رابطہ ادب اسلامی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے ایک روزہ قومی سیمینار میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی، جو ”اخلاقی ادب اور قیامِ امن کا چیلنج“ کے عنوان پر منعقد ہوا اور جس کی مختلف نشستوں سے سرکردہ علمائے کرام اور اربابِ فکر و دانش نے خطاب کیا۔ صبح نو بجے سے شام ساڑھے چھ بجے تک سیمینار کی مختلف نشستیں ہوئیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی سزاؤں کی منسوخی مناسب نہیں
وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ پاکستان میں سزائے موت ختم کی جا رہی ہے اور اس کے لیے مسودۂ قانون کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ جرائم کی سزاؤں میں سے سزائے موت کو ختم کر دینے کی مہم ایک عرصے سے عالمی سطح پر جاری ہے اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بھی ایک قرارداد کے ذریعے سفارش کر چکی ہے کہ سزائے موت کو سرے سے سزاؤں کے زمرے سے نکال دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 32
- 33
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »