ڈاکٹر حمید اللہؒ کی یاد میں ایک نشست

ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے مقررین نے بتایا کہ عالم اسلام کی اس عظیم شخصیت نے یورپ کے دل پیرس میں بیٹھ کر نصف صدی تک اسلام کی جو خدمت کی وہ دعوت اسلامی کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ انہوں نے فرانسیسی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کرنے کے علاوہ فرانسیسی میں اسلامی تعلیمات پر بیش بہا لٹریچر شائع کیا اور ان کے ہاتھ پر ہزاروں افراد نے اسلام قبول کیا۔ وہ آج کے دور میں ایک قابل تقلید نمونہ تھے جس کی ایک مثال یہ ہے کہ انہیں دنیا کے جس حصے سے بھی کوئی شخص خط لکھتا تھا وہ اس کا جواب ضرور دیتے تھے ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ ستمبر ۲۰۰۳ء

قومی و مذہبی خود مختاری کی بحالی

سیکولر حلقوں کی یہ محنت دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کو کمزور کرنے کے حوالہ سے بھی ہے، اور جو قوانین شرعی حوالہ سے موجود ہیں ان پر عملدرآمد میں ہر سطح پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے حوالہ سے بھی ہے۔ اس منصوبہ بندی کا مقابلہ اور پاکستان کے اسلامی تشخص کی حفاظت بلکہ نفاذِ اسلام کی عملی پیش رفت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ جبکہ دوسرا اہم ترین مسئلہ قومی خود مختاری کی بحالی کا ہے کہ ہمارے قومی معاملات میں مغربی اور علاقائی حکومتوں کی مداخلت بڑھتے بڑھتے اب تسلط کے درجہ تک جا پہنچی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ نومبر ۲۰۱۴ء

مطالعۂ قرآن کانفرنس اسلام آباد

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے علامہ اقبالؒ آڈیٹوریم میں اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے ادارہ تحقیقات اسلامی نے ’’پاکستان میں مطالعۂ قرآن کی صورت حال‘‘ کے موضوع پر ۱۱ تا ۱۳ نومبر کو تین روزہ قومی کانفرنس کا اہتمام کیا جس کی دس کے لگ بھگ نشستوں میں مختلف ارباب علم و دانش نے قرآن کریم کی تعلیم و تدریس، تحقیق و مطالعہ اور فہم قرآن کی اہمیت و ضرورت کے بیسیوں پہلوؤں پر اظہار خیال کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ نومبر ۲۰۱۴ء

قانون کو ہاتھ میں لینے کی روایت

اگر قرآن کریم کی توہین کا الزام درست تھا تو بھی اس سے نمٹنے کا یہ طریق کار کسی طرح بھی جائز نہیں تھا۔ کسی تحقیق کے بغیر مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان غلط تھا، پھر لوگوں کے ہجوم کی صورت میں اشتعال کے ماحول میں از خود تشدد کرنا درست نہیں تھا۔ اس پر پولیس کو حرکت میں آنا چاہیے تھا اور علاقہ کے معززین کو مداخلت کر کے معاملہ کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہیے تھا۔ اس کے بعد نذر آتش کر دینا تو ظلم و زیادتی کی انتہا ہے، اور یہ واقعہ اسلام اور پاکستان دونوں کی بدنامی کا باعث بنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ نومبر ۲۰۱۴ء

سنی شیعہ کشمکش کے اسباب و عوامل

’’تحریک جعفریہؒ پاکستان اور سپاہ صحابہؓ پاکستان کے درمیان کشمکش نے مسلح تصادم کی جو صورت اختیار کر لی ہے، اس سے ملک کا ہر ذی شعور شہری پریشان ہے۔ دونوں جانب سے سینکڑوں افراد اب تک اس مسلح تصادم کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اور ارباب اختیار فرقہ واریت کے خاتمہ کے عنوان سے اس کشمکش پر قابو پانے کا بار بار عزم ظاہر کرتے ہیں، مگر اس کی جڑیں معاشرہ میں اس قدر گہرائی تک اتر چکی ہیں کہ بیخ کنی کے لیے ان تک رسائی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۴ء

رائیونڈ کا سالانہ تبلیغی اجتماع

دعوت و تبلیغ کی اس محنت کا بنیادی ہدف مسلمانوں کو دین کی طرف واپس لانا ہے تاکہ مسلم معاشروں میں دین کے اثرات عام ہوں اور ایسا ماحول پیدا ہو جو غیر مسلموں کے اسلام کی طرف متوجہ اور راغب ہونے کے ذریعہ بن سکے۔ تبلیغی جماعت کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ دین کی طرف واپسی، معاشرہ میں دینی ماحول کا فروغ اور خاص طور پر مسجد کے کردار کا دوبارہ زندہ ہونا، نہ صرف یہ کہ ہم مسلمانوں کی ضرورت ہے بلکہ یہ آج کی دکھوں اور مصیبتوں میں سسکتی ہوئی انسانیت کی ضرورت بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ نومبر ۲۰۱۴ء

ختم نبوت کے محاذ پر مولانا سعید عنایت اللہ کی خدمات

26 اکتوبر کو سیالکوٹ چھاؤنی میں سیرت اسٹڈی سنٹر کے ایک پروگرام میں حاضری ہوئی تو وہاں ہمارے محترم دوست جناب محمد اعجاز رتو نے بتایا کہ مولانا سعید احمد عنایت اللہ صاحب مکہ مکرمہ سے تشریف لائے ہوئے ہیں اور وہ ان سے مل کر آرہے ہیں۔ میں نے موقع غنیمت سمجھا اور ان سے عرض کیا کہ پروگرام کے بعد میں بھی مولانا موصوف سے ملنا چاہوں گا۔ انہوں نے رابطہ کیا تو ملاقات کا وقت طے ہوگیا اور ہم اس کے مطابق عصر کے وقت ان کے گاؤں میں حاضر ہوگئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ نومبر ۲۰۱۴ء

مولانا فضل الرحمان پر حملہ / اسلام اور مغرب کی کشمکش

’’اسلام اور مغرب کی کشمکش‘‘ کا عنوان بجائے خود محل نظر ہے، اس لیے کہ مغرب بحیثیت مغرب اسلام دشمن نہیں ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد مغرب میں آباد ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مغرب کی غیر مسلم آبادی میں ایک بڑی تعداد اسلام قبول کر رہی ہے، اور مغرب کی یونیورسٹیوں میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالہ سے بہت سے پہلوؤں پر تحقیقی کام ہو رہا ہے۔ چنانچہ مغرب کو کلیتاً‌ استشراق اور اسلام دشمنی کے ساتھ جوڑنا درست نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم نومبر ۲۰۱۴ء

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور برما وغیرہ پر مشتمل برصغیر کی علمی، دینی، سیاسی، تحریکی اور فکری جدوجہد کے دو عظیم نام ہیں۔ جن کے تذکرہ کے بغیر اس خطہ کے کسی ملی شعبہ کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی، اور خاص طور پر دینی و سیاسی تحریکات کا کوئی بھی راہ نما یا کارکن خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا طبقہ سے ہو ان سے راہ نمائی لیے بغیر آزادی کی عظیم جدوجہد کے خدوخال سے آگاہی حاصل نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اکتوبر ۲۰۱۴ء

پاکستان کو ’’سنی ریاست‘‘ قرار دینے کا مطالبہ

1973ء میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو ’’سنی مطالبات‘‘ کے عنوان سے ایک عرضداشت پیش کی گئی تھی جس پر مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، مولانا عبد الحقؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، مفتی محمد حسین نعیمیؒ ، مولانا عبد القادر روپڑیؒ ، مولانا عبد الستار تونسویؒ ، مولانا سید حامد میاںؒ ، مولانا سرفراز خان صفدرؒ ، ڈاکٹر اسرار احمدؒ ، مولانا اجمل خانؒ ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا تاج محمودؒ ، اور مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ سمیت تمام سنی مکاتب فکر کے ایک ہزار کے لگ بھگ علماء کرام نے دستخط کیے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اکتوبر ۲۰۱۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter