ملی مجلس شرعی کا اجلاس
جس روز محترمہ ہیلری کلنٹن لاہور تشریف لائیں، میں بھی اس روز لاہور میں تھا۔ ظہر کی نماز مسجد خضراء سمن آباد میں پڑھی، جہاں مجھے ورلڈ اسلامک فورم کے احباب کے ساتھ ایک مشاورت میں شریک ہونا تھا۔ پروفیسر عبد الماجد پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ عربی میں استاد ہیں، ملتان کے معروف علمی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، حضرت سید نفیس شاہؒ کے خصوصی متعلقین میں سے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شاہ جی کی خدمت میں
پیر سید عطاء المؤمن شاہ بخاری ہمارے محترم بزرگوں میں سے ہیں، میں نے بحمد اللہ ان کا ہمیشہ بڑے بھائی کی طرح احترام کیا ہے اور اب بھی ان کے بارے میں میرے جذبات یہی ہیں۔ ہم تعلیمی دور کے ساتھی بھی ہیں کہ کچھ عرصہ ہم دونوں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اکٹھے پڑھتے رہے ہیں اور اس دور کی باہمی محفلیں آج بھی ذہن میں تازہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کے تحفظ کے لیے علماء کرام کا اہم فیصلہ (۱)
دینی مدارس کو قومی تحویل میں لینے کے فیصلہ کے بارے میں اخبارات نے گزشتہ دنوں جو خبر شائع کی تھی اس نے ہر دین دار شخص کو دینی اداروں کے مستقبل کے بارے میں تشویش اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ملک کے دوسرے شہروں کی نسبت دینی مدارس کے مرکز ملتان میں زیادہ گہماگہمی رہی۔ قائد جمعیۃ کی پریس کانفرنس: قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحب ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جمعیۃ کی مرکزی مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں اہم فیصلے
جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلسِ عاملہ اور صوبائی امراء و نظماء کا مشترکہ اجلاس ۷ محرم الحرام ۱۳۹۷ھ بروز بدھ صبح ساڑھے دس بجے دارالعلوم حنفیہ عثمانیہ ورکشاپی محلہ راولپنڈی میں منعقد ہوا۔ جس میں ملک کی تازہ ترین سیاسی صورتحال پر غور و خوض کے بعد متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم علالت کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہ ہو سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایک اور آپ بیتی
روزنامہ ”پاکستان“ کے کالم نگار پروفیسر ڈاکٹر قاری محمد طاہر لدھیانوی ہمارے بزرگ دوستوں میں سے ہیں، انہوں نے اپنے ایک حالیہ کالم میں شکوہ کیا ہے کہ راقم الحروف کے کالم میں بسا اوقات آپ بیتی کا عنصر ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے۔ مگر میں اپنے ذوق کے ہاتھوں مجبور ہوں کہ جو کچھ دیکھتا یا بھگتتا ہوں، اس کے تاثرات میں اکیلا نہیں رہنا چاہتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسئلہ رؤیت ہلال اور معمر قذافی کی تقریر کا
آج گفتگو کے لیے دو موضوع سامنے ہیں اور دونوں کے بارے میں کچھ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ایک رؤیت ہلال کا مسئلہ ہے، جس پر رؤیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن اور صوبہ سرحد کی حکمران جماعت اے این پی کے درمیان بحث و مباحثے کا بازار گرم رہا ہے اور دوسرا موضوع اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں لیبیا کے صدر جناب معمر قذافی کا خطاب ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا‘‘
اے پی پی کے حوالے سے ایک خبر اخبارات میں شائع ہوئی ہے کہ امریکی ریاست نیوجرسی نے غلاموں کی تجارت میں اپنے کردار پر معافی مانگنے کے لیے ایک بل پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق نیوجرسی میں دو سو سال قبل غلاموں کی تجارت پر پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم ریاستی حکومت اس تجارت میں اپنے کردار پر بدستور پریشان ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شریعت بل کا مخالف کون ہے اور کس لیے ہے؟
شریعت بل کی مخالفت میں سب سے پیش پیش حکومتی حلقے ہیں۔ جس روز سینٹ میں ’’شریعت بل‘‘ پیش کیا گیا اس وقت کے وزیر قانون اقبال احمد خان نے اسے بحث کے لیے منظور کرنے کی مخالفت کی، لیکن ووٹنگ میں اس وقت تک غیر جماعتی ایوان ہونے کی وجہ سے تین ووٹوں کی اکثریت سے شریعت بل کو بحث کے لیے منظور کر لیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
۱۶ نومبر، قومی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ
۱۶ نومبر کے عام انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے اور یہ سطور قارئین کے سامنے آنے تک انتخابی جوش و خروش انتہائی عروج تک پہنچ چکا ہو گا۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے میدانِ عمل میں آنے سے اس وقت ملک دو واضح کیمپوں میں تقسیم ہو چکا ہے: ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی ہے جو اس ملک کی دینی روایات اور نظریاتی تشخص کے برعکس ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
افغانستان اور روسی فوجیں
روس نے جنیوا گٹھ جوڑ کے ذریعہ یہ منصوبہ بندی کی تھی کہ افغان مجاہدین کو درمیان سے نکال کر افغانستان میں اپنی مرضی کی کوئی اور حکومت قائم ہو جائے، اور پھر عالمی رائے عامہ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اسے افغان عوام کی نمائندہ حکومت تسلیم کرا لیا جائے۔ لیکن روسی فوجوں کی واپسی کے ساتھ ساتھ افغان مجاہدین نے مختلف محاذوں پر جو کامیاب پیش قدمی کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 49
- 50
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »