مولانا منظور احمد الحسینیؒ

سیالکوٹ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کے حوالہ سے ایک احتجاجی جلسہ میں شریک تھا، مولانا اللہ وسایا صاحب نے یہ خبر دی کہ مولانا منظور احمد الحسینی کا سعودی عرب میں گزشتہ روز انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے حجاز مقدس آئےہوئے تھے کہ بلاوا آگیا اور وہ اپنی زندگی کی سانسیں پوری کر کے خالق حقیقی کے حضور پیش ہوگئے۔ حرم پاک میں نماز جمعۃ المبارک کے بعد ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور پھر انہیں بے شمار صالحین کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۰۵ء

مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ

مولانا مفتی نظام الدین شامزئی کی عمر کچھ زیادہ نہ تھی، باون برس کی عمر میں عروس شہادت سے ہمکنار ہوئے۔ مگر اس مختصر عمر میں انہوں نے جو خدمات سرانجام دیں اور علمی و دینی حلقوں میں جو مقام حاصل کیا وہ بلاشبہ قابل رشک ہے۔ ان کی تیز رفتاری کی وجہ اب سمجھ میں آتی ہے کہ وقت تھوڑا اور کام زیادہ تھا اور جسے تھوڑے وقت میں زیادہ کام کرنے کی ڈیوٹی سونپ دی جائے اس کی رفتار یہی ہوتی ہے۔ مفتی صاحبؒ سے پہلی ملاقات مجھے یاد نہیں کہ کب ہوئی تھی مگر آخری ملاقات تبلیغی اجتماع کے رائے ونڈ کے گزشتہ سال کے سالانہ اجتماع میں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۰۴ء

پاک امریکہ تعلقات ۔ جبر و مکر کی داستان

پاکستان کے پہلے وزیرخارجہ چودھری ظفر اللہ خان اس خارجہ پالیسی کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ جبکہ وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان مرحوم کو اس مہارت کے ساتھ اس ’’دام ہمرنگ زمین‘‘ میں پھنسایا گیا کہ ان کے تمام تر خلوص و دیانت کے باوجود ایک تلخ سوال ان کی سیاسی بصیرت و فراست کے اس باب کا ہمیشہ کے لیے عنوان بن گیا ہے۔ وہ یہ کہ جب انہیں امریکہ اور روس دونوں کی طرف سے دورے کی دعوت ملی تھی تو انہوں نے یہ دونوں دعوتیں قبول کر کے توازن قائم رکھنے کی بجائے صرف امریکہ کی دعوت قبول کر کے اپنے ملک کو امریکی کیمپ کے ساتھ وابستہ کیوں کر لیا تھا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ دسمبر ۲۰۱۶ء

فہم قرآن کریم کی اہمیت اور اس کے تقاضے

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور ہمارے لیے ہے۔ جب یہ بات بطور عقیدہ ہمارے ذہن میں آجاتی ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے اس پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ کسی بھی پیغام کا پہلا حق یہی ہوتا ہے کہ اسے پڑھا جائے، سمجھا جائے اور پیغام بھیجنے والے کے مقصد سے آگاہی حاصل کی جائے۔ پیغام کسی دوست کا ہو، دفتری خط ہو، عدالتی سمن ہو، کاروباری لیٹر ہو حتیٰ کہ کسی دشمن کا پیغام بھی ہو تو منطقی طور پر اسے وصول کرنے والے کی پہلی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ اسے پڑھے اور سمجھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۰۴ء

’’مقام حضرت معاویہؓ‘‘

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان جلیل القدر صحابہ کرامؓ میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کی طویل عرصہ تک خدمت کا موقع عنایت فرمایا۔ ان کا شمار امت کے بڑے لوگوں میں ہوتا ہے اور وہ عرب کے ممتاز دانشوروں اور مدبرین میں سے ہیں جن پر اسلام اور عرب کی تاریخ کئی حوالوں سے فخر کرتی ہے۔ وہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے برادر نسبتی تھے اور سلطنت اسلامیہ کے باب میں انہیں امیر المؤمنین حضرت عمرؓ اور امیر المؤمنین حضرت عثمانؓ جیسے بزرگوں کا اعتماد حاصل تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۷ء

این جی اوز کے مثبت اور منفی پہلو

وفاقی وزیرداخلہ جناب معین الدین حیدر نے گزشتہ دنوں ’’فاطمید فاؤنڈیشن‘‘ کی ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے این جی اوز کے بارے میں کہا ہے کہ ساری این جی اوز ایک جیسی نہیں ہیں اور ان میں کچھ فاطمید جیسی اچھا کام کرنے والی این جی اوز بھی ہیں اس لیے سب این جی اوز کی مخالفت کرنا درست نہیں ہے۔ اس سے قبل حکمران کیمپ کے بعض دیگر حضرات بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں لیکن دوسری طرف دینی جماعتیں بالخصوص مولانا فضل الرحمان نے این جی اوز کی مخالفت میں دن رات ایک کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اکتوبر ۲۰۰۰ء

حضرت مولانا حافظ محمد عابدؒ، مولانا حافظ محمد نعیم الحق نعیمؒ

خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی کے سجادہ نشین حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ کے رفیق خاص حضرت مولانا حافظ محمد عابدؒ گزشتہ ہفتے انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔ معروف اہل حدیث عالم دین اور ہفت روزہ الاعتصام لاہور کے مدیر مولانا حافظ محمد نعیم الحق نعیمؒ گزشتہ روز ریل کے ایک حادثہ میں جاں بحق ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ فروری ۱۹۹۹ء

قرآن کریم کا معجزہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں نے سورۃ العنکبوت کی دو آیات تلاوت کی ہیں جو اکیسویں پارے کے پہلے رکوع کی آخری آیتیں ہیں، ان میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے ایک سوال کا جواب دیا ہے۔ مشرکین مکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اکثر و بیشتر نشانیوں اور معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب نبی اکرمؐ کو سینکڑوں معجزات عطا فرمائے ہیں جن میں سے بعض معجزات ایسے ہیں جو مشرکین کی فرمائش پر دیے گئے اور ایسے معجزات بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کسی فرمائش کے بغیر اپنی حکمت سے عطا فرمائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۱۹۹۹ء

’’سیدنا معاویہؓ ۔ گمراہ کن غلط فہمیوں کا ازالہ‘‘

امیر المؤمنین حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما تاریخ اسلام کی ان عظیم شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے اسلامی ریاست کی توسیع و ترقی اور دنیا میں اسلام کے غلبہ و استحکام کے لیے شاندار خدمات سرانجام دی ہیں۔ اور ان کا بیس سالہ دور خلافت جہاں ملت اسلامیہ کی وحدت کی علامت ہے وہاں اسلام کی دعوت اور دائرۂ اثر کو دنیا کے مختلف اطراف میں پھیلانے کا ذریعہ بھی ہے۔ وہ صحابی رسولؓ ہیں، کاتب وحی ہیں، جناب نبی اکرمؐ کے برادر نسبتی ہیں اور ان کا شمار دنیائے عرب کے ممتاز دانشوروں اور سیاستدانوں میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۶ء

صاحبزادہ شمس الدین آف موسیٰ زئی

موسیٰ زئی شریف ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی معروف خانقاہ احمدیہ سعیدیہ کے بزرگ اور پاکستان شریعت کونسل صوبہ سرحد کے امیر حضرت صاحبزادہ شمس الدینؒ گزشتہ ہفتے انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا شمار علاقہ کے سرکردہ دینی و سماجی راہنماؤں میں ہوتا تھا۔ گزشتہ ماہ وہ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی اور سیکرٹری جنرل (راقم الحروف) کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے دو روزہ دورہ کے موقع پر ہمارے ساتھ شریک رہے اور موسیٰ زئی شریف میں ہماری اعزاز میں پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا مگر اس کے چند روز بعد وہ اس دارِ فانی سے رحلت کر گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۹ء

یہ بھی امریکی ایجنڈے کا حصہ ہے!

دہشت گردی کی موجودہ لہر کے بارے میں وفاقی وزیرداخلہ کے اس بیان کے بعد صورتحال کچھ کچھ واضح ہوتی جا رہی ہے کہ یہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور دیگر بین الاقوامی ایجنسیوں کی کارستانی ہے جس کا مقصد پاکستان کے داخلی امن کو تباہ کر کے جنوبی ایشیا کی معروضی صورتحال میں اس کی مشکلات میں اضافہ کرنا ہے۔ اس دہشت گردی میں بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں، خود ہمارے شہرے گوجرانوالہ میں تحریک جعفریہ کے ڈویژنل صدر اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر اعجاز حسین رسول نگری کا قتل ایک شریف شہری اور امن پسند راہنما کا قتل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اکتوبر ۱۹۹۹ء

وراثت کے مسائل اور وفاقی شرعی عدالت

گزشتہ کالم میں وفاقی شرعی عدالت کے دو فیصلوں کے بارے میں مختصرًا کچھ گزارشات پیش کی تھیں، آج کی صحبت میں انہی میں سے ایک فیصلہ کے ایک اور حصہ کے بارے میں چند معروضات پیش کی جا رہی ہیں۔ ۶ جنوری ۲۰۰۰ء کے اخبارات میں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس میاں محبوب احمد، جسٹس اعجاز یوسف اور جسٹس فدا محمد پر مشتمل فل بینچ کے جس فیصلے کی خبر شائع ہوئی ہے اس میں یتیم پوتے کو دادا کی وراثت میں شریک کرنے کا حکم بھی شامل ہے۔ خبر کے مطابق فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’’یتیم پوتے کو جائیداد میں حصہ دیا جائے چاہے دادا نے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جنوری ۲۰۰۰ء

عمر شیخ کے بارے میں برطانوی اخبار کا تبصرہ

بہت سے دوستوں نے مجھے مشورہ دیا کہ ابھی لندن کا سفر نہ کروں اور کچھ دن مزید انتظار کر لوں مگر اپنے شیڈول میں اس کی گنجائش نہ پا کر اللہ توکل چل پڑا اور ۲۲ ستمبر کو صبح ۹ بجے پی آئی اے کی لاہور سے لندن کی پرواز کے ذریعے ۳ بجے تک لندن پہنچ گیا۔ مفتی محمد جمیل خان کے تجربہ کے پیش نظر ذہن میں کسی حد تک خدشہ تھا کہ کہیں سوال و جواب کے لمبے چکر میں نہ ڈال دیا جاؤں لیکن ایسا نہیں ہوا اور ایئرپورٹ کے امیگریشن کاؤنٹر پر خاتون آفیسر نے صرف یہ سوال کیا کہ کتنا عرصہ رہوں گا اور اس جواب کے بعد انٹری کی مہر لگا دی کہ سات آٹھ ہفتے رہنے کا ارادہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اکتوبر ۲۰۰۱ء

امریکی ایجنڈا اور جنرل پرویز مشرف

امریکی نائب وزیرخارجہ مسٹر انڈرفرتھ گزشتہ دنوں اسلام آباد آئے اور چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف اور دیگر مقتدر شخصیات سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انتباہ کیا کہ پاکستان کو اپنی سرحدی حدود میں کام کرنے والے انتہا پسند اسلامی گروپوں پر پابندی عائد کرنا ہوگی جو بین الاقوامی برادری کے لیے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مسٹر انڈر فرتھ نے کہا کہ حرکۃ المجاہدین سمیت بہت سے مسلح اسلامی گروپ دہشت گردی کر رہے ہیں اس لیے ان پر پابندی لگائی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۰ء

کیا امریکہ واقعی اسلام مخالف نہیں؟

امریکہ کے صدر محترم جناب بل کلنٹن جنوبی ایشیا کا دورہ کر کے واپس چلے گئے ہیں۔ اس دورہ کے اختتام پر وہ چند گھنٹوں کے لیے پاکستان بھی آئے اور صدر محمد رفیق تارڑ اور چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کے ساتھ گفت و شنید کے علاوہ پاکستانی عوام سے ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے جمہوریت کی بحالی اور انتہاپسندی و دہشت گردی کی روک تھام کے حوالہ سے اپنے روایتی موقف کا اعادہ کیا، اور اپنے خطاب میں قرآن کریم کا حوالہ دے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ان کی مہم اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۰ء

چیچنیا کے مشیر سلیم خان کی گرفتاری

چیچنیا کے سابق صدر اور موجودہ حکومت کے مشیر سلیم خان کی اسلام آباد میں گرفتاری کی خبر پڑھی تو سناٹے میں آگیا۔ میں توقع کر رہا تھا کہ سلیم خان اسلام آباد پہنچیں گے تو انہیں ایک مجاہد اور مجاہدوں کے غیور نمائندہ کے طور پر پروٹوکول دیا جائے گا، جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان میں مجاہدین کی پشت پناہی کرنے والے ادارے جہادِ چیچنیا کے سرکاری سفیر سے وہاں کے حالات معلوم کر کے انہیں تعاون کا یقین دلائیں گے، اور روسی جارحیت کا دلیرانہ سامنا کرنے والے غیور مسلمانوں کی پشت پر ہاتھ رکھیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۲۰۰۰ء

جنید جمشیدؒ

جنید جمشیدؒ کی جدائی پر وسیع پیمانے پر محسوس کیا جانے والا یہ غم دراصل ہمارے اس قومی اور معاشرتی جذبہ و احساس کا عکاس ہے کہ اپنے اللہ کی طرف رجوع، عیش و عشرت کے ماحول سے واپسی، اور آخرت کی تیاری کے لیے ہر مسلمان کے دل میں تڑپ کسی نہ کسی درجہ میں ضرور موجود ہے۔ اس تڑپ کو بے ثبات دنیا کی رنگا رنگ آسائشوں نے گھیر رکھا ہے، اسے صرف صحیح راہنمائی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، یہ کام اگر سلیقے سے کیا جا سکے تو جنید جمشید کا غم محسوس کرنے والے لاکھوں افراد خود بھی جنید جمشید بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ دسمبر ۲۰۱۶ء

ذرائع ابلاغ اور سنت نبویؐ

قرآن کریم کا پیغام فطری جبکہ اسلوب فصاحت و بلاغت کے کمال کا تھا، اس لیے مخالفین کو اس کا اثر کم کرنے کے لیے طعن و تشنیع اور کردار کشی کے سوا کوئی بات نہیں سوجھتی تھی۔ کبھی مجنون کہتے، کبھی شاعر، کبھی ساحر اور کبھی کاہن کے طعنے کا سہارا لیتے۔ ایک مرحلہ میں قریشی سردار نضر بن حارث کو قرآن کریم کے مقابلہ میں محفلیں بپا کرنے کی سوجھی تو اس نے ناچ گانے، موسیقی اور قصے کہانیوں کو ذریعہ بنایا جس کا ذکر قرآن کریم نے ’’لھو الحدیث‘‘ کے عنوان سے کیا ہے اور ’’لیضل عن سبیل اللە‘‘ کے ارشاد کے ساتھ گمراہی پھیلانے کا اہم سبب قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ دسمبر ۲۰۱۶ء

دینی مدارس اور وفاقی وزیر داخلہ کی خوش آئند باتیں

دستور کی بالادستی کے نام پر ووٹ لینے والے حکمران بھی دستور کی اسلامی دفعات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کے بارے میں اس عالمی سیکولر ایجنڈے کے لیے مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں جس کے بارے میں اب کوئی ابہام باقی نہیں رہا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ دستور پاکستان کی اسلامی بنیادوں کو خدانخواستہ سرے سے ختم کر دیا جائے یا کم از کم انہیں غیر موثر بنا دیا جائے، اور پاکستان میں دین کی سربلندی اور دینی اقدار و روایات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے حلقوں اور افراد کو مسلسل خوف و ہراس کے ماحول میں رکھا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۶ء

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے مغربی ثقافت اور اس کے پیداکردہ نظریاتی و علمی فتنوں کے تعاقب کو اپنی زندگی کا مشن بنا رکھا تھا۔ وہ بلاشبہ اس دور میں اسلامی تہذیب و ثقافت اور تاریخ و روایات کے بے باک نقیب تھے۔ انہوں نے اس حوالہ سے دنیائے اسلام کے اربابِ فکر و دانش کے ایک بڑے حصے کو ادراک و شعور کی منزل سے ہمکنار کیا اور مغرب کے سیکولر فلسفہ اور فری سوسائٹی کے تار و پود بکھیر کر ذہنی مرعوبیت کی فضا کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۰ء

حضرت جی مولانا انعام الحسنؒ

تبلیغی جماعت کے امیر حضرت مولانا انعام الحسن ۹ جون کو دہلی میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی وفات کی خبر آناً فاناً دنیا بھر کے تبلیغی مراکز میں پہنچ گئی اور دنیا کے کونے کونے میں دعوت و تبلیغ کے عمل سے وابستہ لاکھوں مسلمان رنج و غم کی تصویر بن گئے۔ مولانا انعام الحسن کو تقریباً تیس برس پہلے تبلیغی جماعت کے دوسرے امیر حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ کی وفات کے بعد عالمگیر تبلیغی جماعت کا امیر منتخب کیا گیا تھا۔ ان کی امارت میں دعوت و تبلیغ کے عمل کو عالمی سطح پر جو وسعت اور ہمہ گیری حاصل ہوئی وہ ان کے خلوص و محنت کی علامت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۱۹۹۵ء

حاجی عبد المتین چوہان مرحوم

عبد المتین مرحوم کے ساتھ راقم الحروف کا تعلق حفظ قرآن کریم کے دور سے تھا جب ہم دونوں مدرسہ نصرۃ العلوم میں استاذ محترم حضرت قاری محمد یاسین صاحب مرحوم سے پڑھتے تھے۔ یہ غالباً سن 1958ء یا 1959ء کی بات ہے۔ عبد المتین مرحوم قرآن کریم یاد نہ کر سکے لیکن علماء کرام اور جماعتی امور کے ساتھ ان کا تعلق آخر دم تک قائم رہا۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ، اور حضرت سید نفیس شاہ صاحب کے ساتھ عقیدت و محبت کا خصوصی تعلق تھا اور جمعیۃ علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے کاموں میں بطور خاص دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری مارچ ۱۹۹۶ء

حضرت مولانا عزیر گلؒ

مولانا عزیر گلؒ کون تھے؟ آج کی نسل اس سے باخبر نہیں ہے اور نئی نسل کو اس کے ماضی اور اقدار و روایات سے باخبر رکھنے کی ذمہ داری جن حضرات پر ہے انہیں نہ اس کی ضرورت کا احساس ہے اور نہ ہی اس کی اہمیت ان کے ذہنوں میں موجود ہے۔ مولانا عزیر گلؒ اس قافلۂ حریت کے فرد تھے جس نے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف عسکری، تہذیبی، تعلیمی اور سیاسی جنگ لڑی اور بالآخر اسے شکست دے کر اس خطۂ زمین کی آزادی کی راہ ہموار کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۸۹ء

دفاعی بجٹ میں کمی، قومی خودکشی کے مترادف

ان دنوں عالمی طاقتوں اور اداروں کی طرف سے پاکستان کو مسلسل یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات میں کمی کرے اور جدید ہتھیاروں کی تیاری سے گریز کرنے کے علاوہ فوج کی تعداد بھی گھٹائے۔ خود ہمارے بعض دانشور بھی اسی خیال کا اظہار کر رہے ہیں اور دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے دفاعی اخراجات کو کم سے کم کرنا ضروری ہے۔ لیکن ایسا کرنے والے حضرات دو باتوں کو بھول جاتے ہیں یا جان بوجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۱۹۹۵ء

تحریک ولی اللہ کا موجودہ دور اور معروضی حالات میں کام کی ترجیحات

علماء حق کی وہ جماعت جس نے گزشتہ دو صدیوں کے دوران برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں دین اسلام کے تحفظ و بقا اور ترویج و اشاعت کی مسلسل جدوجہد کی ہے اور اسلامی عقائد و نظریات اور مسلم معاشرہ کو بیرونی اثرات سے بچانے کے لیے صبر آزما جنگ لڑی ہے، آج پھر تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے اور عالمی سطح پر اسلام اور اسلامی معاشرت کے خلاف منظم اور ہمہ گیر انداز میں لڑی جانے والی ثقافتی جنگ علماء حق کی اس جماعت سے نئی صف بندی، ترجیحات اور حکمت عملی کا تقاضا کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۵ء

مولانا قاری محمد حنیفؒ ملتانی / مولانا قاری محمد اظہر ندیم شہیدؒ

ملک کے دینی حلقوں میں یہ خبر بے حد رنج و الم کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ معروف خطیب مولانا قاری محمد حنیفؒ ملتانی کا عید الاضحیٰ کے روز ملتان میں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ قاری صاحبؒ ملک کے مقبول خطباء اور واعظین میں شمار ہوتے تھے اور ایک عرصہ تک مذہبی اسٹیج پر ان کی خطابت کا طوطی بولتا رہا ہے۔ جامعہ قاسم العلوم ملتان کے فاضل اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے شیدائی تھے۔ آواز میں سوز و گداز تھا، وہ اپنے مخصوص انداز میں مصائب صحابہؓ اور قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے تو بڑے بڑے سنگدل لوگوں کی آنکھیں بھیگ جاتی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۵ء

کھاریاں فائرنگ کیس ۔ ارباب حل و عقد کی خدمت میں عرضداشت

مقدمہ کی تفتیش میں گرفتار شدگان کو انصاف کے معروف تقاضوں سے محروم رکھنے کے لیے مبینہ طور پر گورنر پنجاب انتظامیہ و پولیس پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس صورتحال کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔ اس سلسلہ میں میری تجویز یہ ہے کہ ہائی کورٹ کے کسی جج کے ذریعے اس کیس کی کھلی تحقیقات کرائی جائے اور گورنر پنجاب کے خلاف جہلم کے شہریوں کے الزامات کی غیر جانبدارانہ انکوائری کے ذریعے اصل حقائق کو منظر عام پر لا کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۱۹۹۵ء

ڈاکٹر مہاتیر محمد کی فکر انگیز باتیں

ملائیشیا میں اسلامی سربراہ کانفرنس جاری ہے جو ان سطور کی اشاعت تک اختتام پذیر ہو چکی ہوگی۔ اس کانفرنس کا دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک مدت سے انتظار تھا اور ملت اسلامیہ منتظر تھی کہ مسلم ممالک کے حکمران عالم اسلام کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مشترکہ طور پر کیا رائے قائم کرتے ہیں اور کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔ کانفرنس کے فیصلوں اور اعلانات کے حوالہ سے تو ہم اگلے کالم میں کچھ عرض کر سکیں گے البتہ کانفرنس کے میزبان اور ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جو کچھ کہا ہے اس کے بارے میں چند گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۳ء

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا قیام

پاکستان کا اسلامی تشخص اور اس کے دستور کی نظریاتی بنیادیں ان عالمی قوتوں کو مسلسل کھٹک رہی ہیں جو کمیونزم کے خاتمہ کے بعد اسلام کو ویسٹرن سولائزیشن اور مغرب کی بالادستی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتی ہیں اور اسلامی قوتوں کو بنیاد پرست اور دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ ان قوتوں کی خواہش اور کوشش یہ ہے کہ عالم اسلام بھی کھلے دل کے ساتھ مغرب کے مادہ پرستانہ فلسفہ، اجتماعیات سے مذہب کی لاتعلقی، اباحت مطلقہ پر مبنی فری سوسائٹی اور بے قید معاشرت کو قبول کر لے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۱۹۹۵ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter