ستمبر کا مہینہ اور قادیانی مسئلہ

ستمبر کے پہلے عشرہ کے دوران ملک بھر میں دو حوالوں سے تقریبات ہوتی ہیں۔ 1965ء میں پاک بھارت جنگ کا آغاز اس عشرہ میں ہوا تھا اور ملک کی مسلح افواج نے دفاع وطن کے لیے شاندار خدمات سر انجام دی تھیں جس پر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ 1974ء میں 7 ستمبر کو پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے قادیانی مسئلہ کے حوالہ سے تاریخی فیصلہ صادر کرتے ہوئے مفکر پاکستان علامہ سر محمد اقبالؒ کی تجویز کے مطابق قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا دستوری فیصلہ صادر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ ستمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے مقاصد

’’رائٹر‘‘ نے اسلام آباد کے دھرنوں کے آغاز میں ہی یہ بات کہہ دی تھی کہ اس ساری مہم کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ پرائم منسٹر اور ڈپٹی کمشنر کے درمیان فرق کے احساس کو باقی رکھا جائے جو بعض حلقوں کے خیال میں مدّھم پڑنے لگا ہے۔ یہ مقصد پورا ہوا ہے یا نہیں اس کا اندازہ موجودہ منظر تبدیل ہونے کے بعد ہی ہوگا۔ مگر گزشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے قوم کے سامنے حقائق کا جو منظر نامہ پیش کیا ہے وہ نیا نہ ہونے کے باوجود نیا لگتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ ستمبر ۲۰۱۴ء

موجودہ صورتحال سے جڑے کچھ پرانے قصے

آرمی چیف کی مداخلت سے دھرنوں کے معاملات کچھ صحیح سمت بڑھتے دکھائی دینے لگے ہیں۔ مجھے ان دوستوں سے اتفاق ہے جن کا کہنا ہے کہ سیاسی معاملات کو سیاسی جماعتوں کے ذریعہ حل کرنا ہی بہتر تھا اور فوج کو زحمت نہیں دینا چاہیے تھی، مگر جس طرح کا ڈیڈلاک پیدا ہوگیا ہے، اس کو ختم کرنے کے لیے جنرل راحیل شریف کی دلچسپی پر بہرحال اطمینان محسوس کیا جا رہا ہے۔ یہ سیاسی جماعتوں یا فریقین میں بے اعتمادی بلکہ بد اعتمادی کی اس انتہا کا لازمی نتیجہ ہے جو سامنے آیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اگست ۲۰۱۴ء

مولانا مفتی عبد الشکورؒ

باغ آزاد کشمیر کے ضلع مفتی مولانا عبد الشکور کشمیری گزشتہ روز انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق علاقہ تھب سے تھا اور بزرگ عالم دین حضرت مفتی عبد المتین فاضل دیوبند کے متعلقین میں سے تھے۔ جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل تھے، والد محترم حضرت سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے قریبی شاگردوں میں سے تھے۔ اور جامعہ دارالعلوم کراچی میں تخصص فی الفقہ والافتاء کرنے کے بعد جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں سالہا سال تک تدریس و افتاء کی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اگست ۲۰۱۴ء

جمہوریت کا جمہوریت سے ٹکراؤ

اسلام آباد کے بعد جکارتہ بھی الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف سراپا احتجاج ہے اور ہارنے والوں نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے دارالحکومت پر دھاوا بول کر کاروبار زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ جکارتہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے مسلمان ملک انڈونیشیا کا دارالحکومت ہے اور وہاں بھی احتجاجی سیاست نے اسلام آباد جیسا منظر قائم کر دیا ہے۔ جکارتہ کی صورتحال کیا ہے؟ اس کی تفصیلات تو چند روز تک واضح ہوں گی، مگر اسلام آباد کی صورت حال یہ ہے کہ وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اگست ۲۰۱۴ء

اسلام آباد اور چارسدہ کی سرگرمیاں

اسلام آباد میں جو کچھ ہو رہا ہے پوری قوم کی طرح میں بھی اس کے نتائج کا منتظر ہوں اور مسلسل دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت ملک و قوم کو کسی نقصان سے محفوظ رکھیں، آمین یا رب العالمین۔ اونٹ کسی کروٹ بیٹھے گا تو واضح ہوگا کہ کون کون کہاں کہاں اور کس کس کے لیے کام کر رہا ہے۔ عربی کا ایک شعر ہے کہ فسوف ترٰی اذا انکشف الغبار، افرس تحت رجلک ام حمار یعنی عن قریب جب دھند چھٹ جائے گی تو تم خود دیکھ لو گے کہ تمہارے پاؤں کے نیچے گھوڑا ہے یا گدھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اگست ۲۰۱۴ء

آزادی مارچ اور انقلاب مارچ

ہمارے خیال میں ان تحریکات کا باعث یا بہانہ بننے والے دو مسئلے ہیں جو اہم قومی مسائل میں سے ہیں، اور جو ہر دور میں قومی سیاسی راہ نماؤں کی سنجیدہ توجہ کے طلبگار رہے ہیں۔ ایک مسئلہ ملک کے عمومی نظام کا ہے جو نو آبادیاتی دور کی یادگار ہے اور جس نے قیام پاکستان کے بعد سے اب تک عوام کی مشکلات و مسائل کو حل کرنے کی بجائے انہیں مزید الجھانے اور ان میں اضافہ کرتے چلے جانے کا کردار ہی ادا کیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جمعیۃ علماء اسلام کی قیادت ’’فک کل نظام‘‘ کے نعرہ کے ساتھ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اگست ۲۰۱۴ء

مسئلہ فلسطین اور او آئی سی کا کردار

غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان تین دن کی عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے اور اسرائیلی درندگی کا مسلسل نشانہ بننے والے فلسطینیوں نے وقتی طور پر کچھ سکون کا سانس لیا ہے۔ تین دن کے بعد کیا ہوگا، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کے سیکرٹری جنرل عیاض امین مدنی کے اس بیان کے بعد اس کے بارے میں اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے کہ ’’او آئی سی ایک سیاسی تنظیم ہے، مذہبی نہیں۔ ہم ممبر ممالک کے درمیان تحقیق، تجارت اور دیگر شعبوں میں کام کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اگست ۲۰۱۴ء

حضرت عیسٰیؑ کی تصلیب اور موجودہ مسیحی مذہبی قیادت کا مخمصہ

اسرائیل کی حمایت میں اس وقت یہودی اور مسیحی امتوں میں اتحاد ہے اور اسرائیلی ریاست کو تحفظ فراہم کرنے میں مغرب کی مسیحی حکومتیں یہودیوں سے بھی دو ہاتھ آگے دکھائی دے رہی ہیں۔ حالانکہ گزشتہ دو ہزار برس میں یہودیوں اور مسیحیوں کے مابین کھلی عداوت رہی ہے اور مسیحی حکومتوں کے ہاتھوں یہودیوں کا مسلسل قتل عام ہوتا رہا ہے۔ یہودیوں کے نزدیک حضرت عیسٰی علیہ السلام نہ صرف یہ کہ نبی نہیں ہیں بلکہ بغیر باپ کے جنم لینے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہما السلام دونوں نعوذ باللہ شرمناک الزام کا ہدف چلے آرہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جون ۲۰۰۴ء

مجید نظامی مرحوم

میں اپنے بچپن اور نوجوانی کے دور میں آغا شورش کاشمیری مرحوم کی خطابت و صحافت کا پر جوش سامع و قاری رہا ہوں اور مطالعہ کا ذوق پیدا ہوتے ہی نوائے وقت اور ہفت روزہ چٹان میرے مطالعہ کا ناگزیر حصہ بن گئے تھے۔ آغا شورش کاشمیری مرحوم کی حمید نظامی مرحوم کے ساتھ دوستی بھی تھی اور بعض مسائل میں اختلاف کا اظہار بھی بے تکلفانہ انداز میں ہو جاتا تھا۔ نظامی برادران کے ساتھ میرا تعلق بھی کچھ اسی طرح کا رہا ہے۔ مجید نظامی مرحوم، بڑے نظامی صاحب کی وفات کے بعد لندن سے لاہور منتقل ہوئے اور نوائے وقت کی ادارت سنبھالی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جولائی ۲۰۱۴ء

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کے ان عظیم راہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے برطانوی استعمار کی غلامی کے دورِ عروج میں سورج غروب نہ ہونے والی سلطنت کے غلبہ و استعلا کو نہ صرف یہ کہ خود ذہنی اور شعوری طور پر قبول نہ کیا بلکہ فکر و عمل، جہد و استقامت اور عزم و استقلال کی شمع کو اپنے خون سے روشن کر کے برادرانِ وطن کو آزادی اور استقلال کی اس شاہراہ پر گامزن کر دیا جس پر چلتے ہوئے اس خطہ کے عوام نے غلامی کی ہولناک دلدل کو عبور کر کے حریت کے میدان میں قدم رکھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مارچ ۱۹۸۷ء

ایک کہانی اور سہی!

گورنر سرحد نے گزشتہ ہفتہ مالاکنڈ ڈویژن اور ضلع کوہستان میں ’’شرعی نظامِ عدل آرڈیننس ۱۹۹۹ء‘‘ کے نفاذ کا اعلان کیا ہے اور مختلف اخبارات میں اس سلسلہ میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق اس آرڈیننس کی رو سے ضلع سوات، ضلع دیر، ضلع چترال، ضلع کوہستان اور مالاکنڈ کے وفاق کے زیر اہتمام علاقے پر مشتمل خطے میں عدالتوں کو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے مقدمات کے فیصلے شریعت اسلامیہ کے مطابق کریں گے جبکہ غیر مسلموں کے خاندانی مقدمات کے فیصلے ان کے مذہبی احکام کے مطابق ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جنوری ۱۹۹۹ء

پاکستان کا مروجہ عدالتی نظام

لاہور ہائیکورٹ کے محترم جج جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے روزنامہ جنگ لندن ۱۴ جون ۱۹۹۹ء کی رپورٹ کے مطابق وکلاء کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا عدالتی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور اگر اس نظام کے ساتھ جج صاحبان اور وکلاء کی روزی وابستہ نہ ہوتی تو یہ کبھی کا ختم ہو چکا ہوتا۔ جسٹس موصوف کا کہنا ہے کہ اس نظام سے عام آدمی کو ریلیف اور انصاف نہیں ملتا اور لوگوں کا اس سسٹم پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جولائی ۱۹۹۹ء

حضرت مولانامحمد امین صفدرؒ

اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ وہ ہر زمانے کی ضروریات کے مطابق مختلف شعبوں کے لیے افراد پیدا کرتے ہیں اور انہیں استعداد و صلاحیت سے بہرہ ور کر کے ان سے کام لیتے ہیں۔ یہ معاملہ دین و دنیا دونوں حوالوں سے یکساں چلا آرہا ہے اور بہت سے افراد و شخصیات کی محنت اور عمل کو دیکھ کر اس کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے محترم اور بزرگ دوست حضرت مولانا محمد امین صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کی علمی و دینی جدوجہد بھی اسی کی غمازی کرتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جولائی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

قرآن کریم کے حقوق

8 ،9، 10 جولائی کو دنیا ٹی وی کے سحری و افطاری کے پانچ نشریاتی پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا جنہیں جناب انیق احمد بڑے ذوق و مہارت کے ساتھ چلا رہے ہیں۔ پہلے پروگرام میں مولانا اسعد تھانوی، مولانا شجاع الملک اور مولانا قاری اکبر مالکی کے ساتھ رفاقت رہی۔ موضوعِ گفتگو عمومی طور پر ’’قرآن کریم کے حقوق‘‘ تھا جبکہ سورۃ الانبیاء کی آیت 10 کا یہ جملہ بطور خاص زیر بحث آیا کتاباً فیہ ذکرکم۔ کم و بیش تین گھنٹے پر مشتمل اس پروگرام میں بیسیوں نکات پر بات ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جولائی ۲۰۱۴ء

ہماری کمزوریاں اور ان سے فائدہ اٹھانے والے!

ایک قومی اخبار نے یہ دلچسپ خبر شائع کی ہے کہ سلطنت آف اومان کے وزیر خارجہ کی اہلیہ نے، جو شہزادی نورا کہلاتی ہیں، لندن کے ایک جوا خانے میں بیس لاکھ پاؤنڈ ہار کر عدالت میں جوا خانے کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے کہ اس کے کارندوں نے جان بوجھ کر شہزادی نورا کو ہرانے کی پلاننگ کی۔ محترمہ نے عدالت میں کیس پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب وہ شام کے وقت جوا خانے پہنچی تو کھیلنے کے لیے تیار نہیں تھی مگر اس کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملازمین نے اسے کھیلنے پر آمادہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جولائی ۲۰۱۴ء

اسلامک اسٹیٹ آف عراق و شام

’’آن لائن‘‘ کی ایک خبر کے مطابق عراق و شام میں سنی مجاہدین کے گروپ نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں اسلام خلافت کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ ’’اسلامک اسٹیٹ آف عراق و شام‘‘ کے نام سے کام کرنے والے ان مجاہدین نے مسلح پیش رفت کر کے عراق اور شام کی سرحد پر دونوں طرف کے بعض علاقوں پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے اور بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا قبضہ ختم کرانے میں عراق اور شام دونوں طرف کی حکومتوں کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جولائی ۲۰۱۴ء

رمضان المبارک اور قرآن کریم

عالم اسلام میں رمضان المبارک کا آغاز ہو چکا ہے اور دنیا بھر کے مسلمان عبادات کے نئے ذوق و شوق کے ساتھ رمضان المبارک کی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اور اسی میں لیلۃ القدر بھی ہے، اس رات کو ایک مہینے سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کریم کا نزول اسی ماہ میں ہوا، جو اگرچہ عملاً جناب نبی اکرم ﷺ پر مسلسل ۲۳ سال تک نازل ہوتا رہا مگر لوح محفوظ سے آسمانی دنیا تک منتقل کرنے کا حکم اس رات میں دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جون ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دینی تحریکات کی کامیابی اور ناکامی

مختلف دینی تحریکات میں محنت اور قربانیوں کے باوجود ہم کامیابی حاصل نہیں کر پاتے۔ تو کیا یہ کہہ کر آگے بڑھ جانا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یونہی منظور تھا اور ہمیں نیت اور محنت کا ثواب تو مل ہی جائے گا، یا اس ناکامی کے اسباب کی نشاندہی کرنا اور ان کے ازالہ کی کوشش کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یونہی منظور تھا اور یہ بات بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ مقصد کے حصول میں کامیاب نہ ہونے کے باوجود خلوص نیت اور محنت و قربانی کا ثواب بہرحال ملتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جون ۲۰۱۴ء

الرحمت ٹرسٹ ہاسپٹل، کامونکی، گوجرانوالہ

جامعہ اسلامیہ کامونکی ضلع گوجرانوالہ کے قیام کے بعد سے ایک ڈسپنسری ہفتہ وار ترتیب سے قائم چلی آرہی ہے کہ لاہور سے ڈاکٹر آصف اور کامونکی سے ڈاکٹر محمود الحسن ہر بدھ کو اس ڈسپنسری میں پابندی سے آتے رہے ہیں اور علاقہ بھر سے سینکڑوں مریضوں کو علاج معالجہ کی فری سہولت ملتی رہی ہے۔ جبکہ اب اسے باقاعدہ ہسپتال کی شکل دے دی گئی ہے اور اس کے لیے بلڈنگ تیار ہے۔ ڈاکٹر محمد علی نے اسے مکمل ہسپتال کے طور پر چلانے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور ایک باوقار تقریب میں دعا کے ساتھ اس کا افتتاح ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نا معلوم

ملکی و قومی مسائل ۔ ملی مجلس شرعی کا اجلاس

وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام و قوانین کے خلاف کیس کی از سر نو سماعت شروع ہونے کے بعد عدالت کی طرف سے ملک بھر کے علمی و دینی حلقوں کے لیے جو سوالنامہ جاری کیا گیا ہے، ملی مجلس شرعی نے مختلف مکاتب فکر کی طرف سے اس کا متفقہ جواب بھجوانے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی کئی ماہ تک کام کرتی رہی ہے اور اس نے متفقہ جواب تیار کر لیا ہے۔ کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امین نے اس کی رپورٹ پیش کی جس پر اجلاس میں اس متفقہ جواب کی منظوری دیتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جون ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

بین الاقوامی تعلقات و معاملات

اس وقت دنیا میں بین الاقوامی معاہدات کی حکومت ہے اور اقوام متحدہ اور اس کے ساتھ دیگر عالمی ادارے ان بین الاقوامی معاہدات کے ذریعہ دنیا کے نظام کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ اس لیے ہماری آج کی سب سے بڑی علمی و فکری ضرورت یہ ہے کہ دنیا میں رائج الوقت بین الاقوامی معاہدات کا جائزہ لیا جائے اور اسلامی تعلیمات و احکام کے ساتھ ان کا تقابلی مطالعہ کر کے ان کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل اور حکمت عملی طے کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۱۴ء

مغربی دنیا میں مذہب کا معاشرتی کردار

مغربی دنیا کی مذہب کے معاشرتی کردار سے دستبرداری کو دو صدیاں بیت گئی ہیں۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں انقلاب فرانس سے اس کا آغاز ہوا تھا مگر کئی نسلیں گزر جانے کے بعد بھی مذہب وہاں کے اعلیٰ حلقوں میں گفتگو کا موضوع ہے اور مذہب کی اہمیت و ضرورت کا احساس ابھی تک دلوں اور دماغوں سے کھرچا نہیں جا سکا۔ گزشتہ دنوں امریکہ کی سپریم کورٹ میں یہ کیس آیا کہ دعا مذہب کی علامت ہے اس لیے ریاستی اداروں کے اجلاسوں کا آغاز یا اختتام دعا پر نہیں ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جون ۲۰۱۴ء

پاکستان میں غیر سودی معاشی نظام

غیر سودی بینکاری کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ پاکستان کے قیام کے بعد سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے واضح طور پر کہا تھا کہ ہم اپنے معاشی نظام کی بنیاد مغرب کے معاشی فلسفہ پر نہیں بلکہ اسلام کے اصولوں پر رکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ مغرب کے معاشی نظام نے انسانی سوسائٹی کو جنگوں اور تباہی سے دوچار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قائد اعظمؒ نے ملک کے معاشی ماہرین کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسلامی اصولوں کے مطابق ملک کے معاشی نظام کی تشکیل کی طرف پیش رفت کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ڈیرہ اسماعیل خان کا سفر

خاصے عرصے کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان جانے کا اتفاق ہوا مگر تین دن میں ساری کسر نکل گئی۔ ڈی جی خان روڈ پر بستی ملانہ کے ایک نوجوان مولوی محمد یوسف ثانی اس سال جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث میں شریک تھے اور گزشتہ جمعہ کو جامعہ میں ان کی دستار بندی دوسرے فضلاء کے ساتھ ہو چکی تھی۔ مگر ان کا تقاضہ تھا کہ ان کے گاؤں میں برادری کی موجودگی میں بھی ان کی دستار بندی ہو۔ شاگرد بیٹوں کی طرح ہوتے ہیں اور ان کی بات ماننا پڑتی ہے، اس لیے وعدہ کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ مئی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دینی مدارس کی سالانہ تعطیلات کی سرگرمیاں

شعبان المعظم اور رمضان المبارک دینی مدارس میں درجہ کتب کے طلبہ کے لیے تعطیلات کے ہوتے ہیں۔ اور شوال المکرم کے وسط میں عام طور پر نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس دوران حفاظ اور قراء کا زیادہ وقت قرآن کریم کی منزل یاد کرنے اور رمضان المبارک کے دوران تراویح میں سننے سنانے میں گزرتا ہے۔ جبکہ عام طلبہ کو تعلیمی مصروفیات میں مشغول رکھنے اور ان کے وقت کو مفید بنانے کے لیے مختلف کورسز کے اہتمام کی روایت کافی عرصہ سے چلی آرہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مئی ۲۰۱۴ء

طرز تدریس میں جدت لانے کی ضرورت!

استاذ صرف معلّم نہیں ہوتا بلکہ اس کی حیثیت سوسائٹی کے راہ نما کی بھی ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیں اس بات کی طرف توجہ دینی چاہیے کہ آج کے حالات بالخصوص فکری و علمی تغیرات اور ثقافتی تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور انہیں سامنے رکھ کر اپنے شاگردوں اور سوسائٹی کی صحیح سمت راہ نمائی کا اہتمام کریں۔ اساتذہ کرام سے میری گزارش ہے کہ وہ نئی نسل کی تعلیم اور سوسائٹی کی راہ نمائی میں عالمی سطح پر رونما ہونے والی فکری و تہذیبی تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور اس کے ساتھ سائنسی ارتقا کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مئی ۲۰۱۴ء

نعت رسولؐ کے آداب

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک ہم اپنی نسبت کے اظہار اور شناخت کے لیے کرتے ہیں کہ اس سے انسانی سوسائٹی کی رنگا رنگ تقسیم میں ہمارا تعارف ہو جاتا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت کے اظہار کے بعد مزید کسی تعارف کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ ہم یہ تذکرہ محبت کے اظہار کے لیے بھی کرتے ہیں کہ جس سے محبت ہوتی ہے اس کا ذکر بھی اکثر زبان پر رہتا ہے۔ اور یہ ذکر کرنا نہیں پڑتا بلکہ خود بخود ہو جاتا ہے کہ محبت اپنا اظہار خود کرتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ مئی ۲۰۱۴ء

معاشرے کے خصوصی افراد

اعضا کی صحت بھی بہت بڑی نعمت ہے، لیکن عزم و حوصلہ اور قوت ارادی ان سے بھی بڑی نعمتیں ہیں جنہیں کام میں لا کر جسمانی کمزوریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انسان بہت کمزور بھی ہے اور انسان بہت طاقت ور بھی ہے۔ اگر اس کے عزم و حوصلہ کا رخ کمزوری کی طرف ہے تو اس سے زیادہ کمزور کوئی نہیں ہے۔ اور اگر اس کی قوت ارادی عزم و ہمت کی طرف متوجہ ہے تو اس سے زیادہ طاقت ور بھی کوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزم و حوصلہ کی صورت میں بہت بڑی قوت عطا فرمائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اپریل ۲۰۱۴ء

مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کے داماد کا اغوا

مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی ایک محقق اور نکتہ رس مفتی کے طور پر ملک بھر میں تعارف رکھتے ہیں۔ گزشتہ روز ان کے ساتھ ایک سانحہ پیش آیا ہے جس کی وجہ سے یہ سطور تحریر کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے، وہ یہ کہ رات کے پچھلے پہر خفیہ اداروں کے اہل کاروں نے مولانا حافظ احمد اللہ گورمانی کے گھر میں دروازے توڑ کر گھس جانے کے بعد خوف و ہراس کی فضا قائم کی اور مفتی صاحب محترم کے داماد مولانا حافظ محمد آصف کو اٹھا کر لے گئے جن کے بارے میں مسلسل رابطوں کے باوجود ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

Pages

2016ء سے
Flag Counter