دینی تقریبات میں شرکت
مدارس میں اسباق کا سلسلہ آخری مراحل میں ہے اور بخاری شریف سمیت مختلف بڑی کتابوں کے اختتامی اسباق کے حوالہ سے تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔ میرا ذوق شروع سے چلا آرہا ہے کہ ان تقریبات اور اپنے اسفار کے بارے میں قارئین کو مختصرًا آگاہ کرتا رہتا ہوں جس کے بارے میں دل چسپ تبصرے سننے کو ملتے ہیں۔ ایک دوست نے کہا کہ اس کے ذریعہ تم اپنی ذاتی تشہیر کرتے ہو۔ بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ مختلف مدارس اور مراکز کے بارے میں ہمیں اس سے معلومات ملتی رہتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
الگ بلاک بنانے کی ضرورت
ماضی میں پاکستان، ایران اور ترکی پر مشتمل ’’آر سی ڈی‘‘ کا قیام اسی جذبہ کے ساتھ عمل میں آیا تھا اور اسلامی سربراہ کانفرنس بھی اسی عزم کے ساتھ وجود میں آئی تھی لیکن اس سلسلہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جس کی وجہ سے آر سی ڈی اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکی اور اسلامی سربراہ کانفرنس بھی ایک نمائشی ادارے سے زیادہ کوئی مقام حاصل نہیں کر پائی وہ یہ ہے کہ اس وقت مسلم ممالک میں جو لوگ حکمران ہیں ان کی اکثریت آزادانہ ذہن نہیں رکھتی اور مغرب کے قائم کردہ یک طرفہ بین الاقوامی نظام کے جال اور طلسم سے گلوخلاصی کی ضرورت محسوس نہیں کر رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حدیث نبویؐ ۔ تمام علوم دینیہ کا اصل ماخذ
حدیث کو ہمارے ہاں علوم دینیہ کی ایک قسم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور وہ بلاشبہ دلائل شرعیہ (۱) قرآن کریم (۲) حدیث و سنت (۳) اجماع اور (۴) قیاس میں ایک اہم دلیل شرعی ہے۔ لیکن حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے حدیث کا تعارف اس سے وسیع تناظر میں کرایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ حدیث نبویؐ تمام علوم دینیہ کا اصل ماخذ اور منبع ہے اور اسی سے ہمیں قرآن و سنت سمیت تمام علوم شرعیہ حاصل ہوتے ہیں۔ اس کی مثال کے طور پر میں یہ عرض کرتا ہوں کہ قرآن کریم تک ہماری رسائی کا ذریعہ بھی حدیث ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریک ریشمی رومال میں گوجرانوالہ کا حصہ
کچھ عرصہ قبل لاہور میں شیخ الہند اکادمی کے نام سے ایک علمی و فکری فورم قائم ہوا تھا جس کا مقصد تحریک آزادیٔ ہند کے عظیم راہنما شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی خدمات، تعلیمات اور جدوجہد سے نئی نسل کو متعارف کروانا اور دور حاضر کے ملی و قومی مسائل میں شیخ الہندؒ کے افکار و تعلیمات سے راہنمائی کے پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہے۔ راقم الحروف بھی اس فورم کی مجلس مشاورت میں شامل ہے۔ شیخ الہند اکادمی نے ۱۴۳۳ھ کے سال کو حضرت شیخ الہندؒ کے سال کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے اور طے کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریک ریشمی رومال اور انگریز گورنر پنجاب کی یادداشتیں
سرمائیکل اوڈوائر کی یادداشتوں پر مشتمل خودنوشت کا اردو ترجمہ ’’غیر منقسم برصغیر میری نظر میں‘‘ آج کل میرے مطالعہ میں ہے جو شفیق الرحمان میاں نے کیا ہے اور شبیر میواتی صاحب کے ذریعے مجھے میسر آیا ہے۔ سرمائیکل فرانسس اوڈوائر ۱۹۱۲ء سے ۱۹۱۹ء تک برطانوی حکومت کی طرف سے پنجاب کے گورنر رہے جبکہ انہوں نے برطانوی سول سروس کے تحت ۱۸۸۵ء سے ۱۹۲۰ء تک آئی سی افسر کے طور پر مختلف علاقوں میں خدمات سرانجام دیں۔ ان کی گورنری کا دور اس لحاظ سے بہت زیادہ اہم ہے کہ امرتسر کے جلیانوالہ باغ کا سانحہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مشرق وسطیٰ میں شیعہ سنی کشمکش
مشرق وسطیٰ میں اس کشیدگی کا واقعاتی تناظر یہ ہے کہ شام میں اس وقت حکومت اور باغیوں کے درمیان جو جنگ جاری ہے وہ زیادہ تر سنی شیعہ کشیدگی کا پس منظر رکھتی ہے۔ کویت میں گزشتہ انتخابات میں سنی شیعہ بنیادوں پر پارلیمنٹ میں جو تناسب سامنے آیا اور پھر حکومتی سطح پر جو اقدامات دکھائی دیے وہ اس کشیدگی کی موجودگی اور کویت کی قومی سیاست میں اس کی اثر خیزی کی غمازی کرتے ہیں۔ عراق کو سنی شیعہ بنیادوں پر مختلف ریاستوں میں تقسیم کر دینے کی تجویزیں بین الاقوامی حلقوں میں آگے بڑھ رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اجتماعاتِ مدارس
گزشتہ دنوں مختلف شہروں میں دینی مدارس کے اجتماعات میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔ روڈ و سلطان ضلع جھنگ میں شیخ العلماء حضرت مولانا محمد عبد اللہ بہلوی قدس اللہ سرہ العزیز کے پوتے مولانا عبید اللہ ازہر نے ’’خانقاہ بہلویہ‘‘ کے نام سے روحانی مرکز آباد کر رکھا ہے جہاں حضرت بہلویؒ کے معتقدین اور منتسبین کی آمد و رفت کی رونق قائم رہتی ہے اور ذکر و اذکار کے معمولات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ مولانا موصوف کے ارشاد پر 20 مارچ کو خانقاہ شریف کے سالانہ اجتماع میں حاضری ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس و جامعات میں نئے سال کا آغاز
ملک بھر کی دینی مدارس میں شعبان رمضان کی چھٹیوں کے بعد نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تیاریاں جاری ہیں اور تمام مدارس و جامعات میں نئے آنے والے طلبہ و طالبات کے داخلے جاری ہیں۔ مدارس کے لیے تمام تر نامساعد حالات اور مخالفانہ پروپیگنڈے کے باوجود نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد مدارس کا رخ کر رہی ہے اور بڑے مدارس اور جامعات میں داخلے کی سخت شرائط کے باوجود داخلے کے امیدواروں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علماء کرام کی تربیت
سب سے پہلے تو اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ ’’تربیت علماء کورس‘‘ کا عنوان بہت اہم ہے جو احساس دلا رہا ہے کہ ہم لوگ جو علماء کرام کہلاتے اور سمجھے جاتے ہیں انہیں بھی تربیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہمارے ہاں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم علماء کرام اب مزید تعلیم اور تربیت سے بے نیاز ہیں اور سند فراغت حاصل ہوتے ہی ہم ’’خدائی فوجدار‘‘ بن کر لوگوں پر مسلّط ہونے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ حالانکہ تعلیم و تربیت تو زندگی بھر ساتھ چلتی ہے اور انسان موت تک طالب علم ہی رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سودی نظام پر بحث
4 مارچ کو قومی اسمبلی میں سودی نظام کے حوالہ سے بحث ہوئی اور مختلف ارکان نے اس سلسلہ میں کھل کر اظہار خیال کیا۔ یہ بحث صاحبزادہ محمد یعقوب کی پیش کردہ اس قرارداد کے ضمن میں ہوئی جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں۔ جبکہ وزارت خزانہ کے پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد افضل خان نے قرارداد کی مخالفت کی۔ بحث میں حصہ لینے والوں میں صاحبزادہ طارق اللہ، شیر اکبر خان، عائشہ سید، جمشید دستی، قیصر احمد شیخ، قاری محمد یوسف، علی محمد خان اور نعیمہ کشور خان شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام میں سوشل ورک کی اہمیت
سوشل ورک یا انسانی خدمت اور معاشرہ کے غریب و نادار لوگوں کے کام آنا بہت بڑی نیکی ہے اور اسلام نے اس کی تعلیم دی ہے۔ یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مبارکہ ہے اور آپؐ نے دکھی انسانیت کی خدمت اور نادار لوگوں کا ہاتھ بٹانے کا بڑا اجر و ثواب بیان فرمایا ہے۔ حتیٰ کہ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ آقائے نامدارؐ پر وحی نازل ہونے کے بعد آپؐ کا پہلا تعارف ہمارے سامنے اسی حوالہ سے آیا ہے کہ آپؐ نادار اور مستحق لوگوں کی خدمت میں پیش پیش رہتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فقہ حنفی پر ایک نظر
فقہ حنفی نے عالم اسلام میں طویل عرصہ تک حکومت کی ہے اور وہ عباسی خلافت اور عثمانی خلافت کے علاوہ جنوبی ایشیا میں مغل حکومت کا بھی مدّتوں قانون و دستور رہی ہے۔ امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کو اللہ رب العزت نے یہ اعزاز بخشا ہے کہ ان کی علمی و فقہی کاوشوں کو امت مسلمہ میں سب سے زیادہ قبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اور صدیوں تک کئی حکومتوں کا دستور و قانون رہنے کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں میں بھی اس کے پیروکاروں کی ہمیشہ اکثریت رہی ہے جو آج بھی اپنا تسلسل قائم رکھے ہوئے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
صوفیائے کرام امت کے اجتماعی مسائل سے بے نیاز نہیں تھے
قادیانی پاکستان میں ہمیشہ غیر مسلم ہی شمار ہوں گے اور عالمی سطح پر وہ جس قدر چاہے لابنگ کر لیں پاکستان میں وہ اسلام کے ٹائٹل کے ساتھ اور مسلمان کے عنوان کے ساتھ معاشرتی حیثیت حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان کے لیے صحیح راستہ صرف یہ ہے کہ وہ یا تو باطل عقائد سے توبہ کر کے ملت اسلامیہ کے اجتماعی دھارے میں شامل ہو جائیں، اور اگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں تو غیر مسلم اقلیت کی حیثیت کو ایک حقیقت واقعہ سمجھ کر قبول کر لیں، اس کے سوا قادیانیوں کے لیے کوئی آپشن باقی نہیں رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دستور کی بالادستی اور قومی خودمختاری کا مسئلہ
اسلامی نظریاتی کونسل 1973ء میں دستور کے نفاذ کے بعد قائم ہوئی تھی جس کے ذمہ یہ بات تھی کہ وہ ملک کے تمام قوانین کا جائزہ لے کر خلاف اسلام قوانین کی نشاندہی کرے اور ان کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کے لیے تجاویز مرتب کرے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے ملک میں رائج سات سو سے زیادہ غیر شرعی قوانین کی نشاندہی کر کے انہیں اسلام کے مطابق بنانے کے لیے تجاویز مرتب کر کے حکومت کے حوالے کر رکھی ہیں۔ سارا کام مکمل ہو جانے کے باوجود اب تک قانون سازی کیوں نہیں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دستور پاکستان ۔ اسلامی یا غیر اسلامی؟
پاکستان پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ دستور پاکستان کی کوئی شق غیر اسلامی نہیں ہے جبکہ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کہہ رہے ہیں کہ آئین کی کوئی شق اسلامی نہیں ہے۔ ہمارے خیال میں یہ دونوں موقف انتہا پسندانہ ہیں اور اصل بات ان دونوں کے درمیان درمیان ہے۔ اول تو کسی چیز کو اسلامی یا غیر اسلامی قرار دینے کی اتھارٹی نہ بلاول بھٹو ہیں اور نہ ہی شاہد اللہ شاہد ہیں، بلکہ اس کی اتھارٹی ملک کے جمہور علماء کرام ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریک شیخ الہند سے رہنمائی لینے کی ضرورت
شیخ الہندؒ حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی خدمات اور جدوجہد کے تذکرہ کے لیے اس تقریب کا اہتمام کرنے پر ایبٹ آباد کی جے یو آئی مبارک باد اور شکریہ کی مستحق ہے۔ یہ آج کی ایک اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنے اسلاف اور بزرگوں کی یاد کو تازہ رکھیں اور ان میں حضرت شیخ الہندؒ کی ذات ایک مرکزی اور اہم شخصیت کی حامل ہے۔ شیخ الہندؒ دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم تھے اور پھر دارالعلوم کے صدر مدرس اور استاذ الاساتذہ کے منصب تک پہنچے اور اپنے دور میں علمائے کرام اور اہل دین کے مرجع کی حیثیت حاصل کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کراچی یونیورسٹی کی سیرت کانفرنس میں شرکت
جامعہ کراچی کی سیرت چیئر نے صوبائی وزارت مذہبی امور اور شیخ زاید اسلامک سنٹر کے تعاون سے 12-13 فروری کو دو روزہ عالمی سیرت کانفرنس کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں پاکستان، عراق، بھارت اور بنگلہ دیش وغیرہ سے ممتاز اصحابِ دانش نے سیرت النبی ﷺ کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔ کانفرنس کا عمومی عنوان ’’سیرت نبویؐ اور عصر حاضر‘‘ تھا۔ اس عنوان کے تحت مقررین نے اپنے اپنے ذوق اور خیال کے مطابق سرور کائنات ﷺ کے حضور خراج عقیدت پیش کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام کا نظام کفالت اور سوسائٹی کی اجتماعی انشورنس
جب حالات بہتر ہوئے اور بیت المال میں مختلف انواع کے اموال جمع ہونے شروع ہوگئے تو آنحضرتؐ نے ایک ایسا نظام بنا دیا کہ اگر کسی کو ضرورت کی کوئی چیز درکار ہوتی جسے وہ خود مہیا نہ کر پاتا تو حضورؐ سے درخواست کرتا، اور اس کی ضرورت پوری کر دی جاتی۔ جناب نبی اکرمؐ کا طریقہ یہ تھا کہ کوئی ضرورت مند آتا اور اپنی ضرورت کا اظہار کرتا تو اگر اپنے پاس کچھ موجود ہوتا تو دے دیتے ورنہ کسی ساتھی سے کہہ کر دلوا دیتے، اور بسا اوقات قرض لے کر بھی اس کی ضرورت پوری فرما دیتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دستور کی بالادستی اور حکومتی رویہ
دستور کے حوالہ سے اہلِ دین کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ دستور اسلامی ہے یا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کا منافقانہ رویہ ہے جس نے دستور کی اسلامی دفعات کو عملاً معطل رکھا ہوا ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ سرے سے دستور سے انکار کر دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ تمام اہل دین متحد ہو کر ایک زبردست عوامی تحریک کے ذریعہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنا رویہ تبدیل کرنے اور دستور کی اسلامی دفعات پر عمل درآمد پر آمادہ کریں۔ شریعت کے نفاذ کے خواہاں حلقے اگر اس کا اہتمام کر سکیں تو نفاذِ شریعت کی منزل زیادہ دور نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذ شریعت کی جدوجہد اور حاجی محمد بوستان کا مکتوب
طالبان کے ساتھ مذاکرات کی جو فضا بن رہی ہے اس نے اسلام، ملک اور امن کے بہی خواہوں کے دلوں میں امید کی ایک نئی کرن روشن کر دی ہے، وزیر اعظم پاکستان اور تحریک طالبان کی طرف سے مذاکراتی ٹیموں کی نامزدگی دونوں فریقوں کی سنجیدگی کی غمازی کرتی ہے۔ خصوصًا طالبان کی طرف سے ایک متوازن گروپ کے اعلان نے خوشگوار ماحول کی توقع پیدا کر دی ہے جس پر دونوں فریق مبارک باد اور شکریہ کے مستحق ہیں۔ ہم ان مذاکرات میں مثبت پیش رفت اور ان کی کامیابی کے لیے بارگاہ ایزدی میں دعا گو ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سودی نظام کے خلاف جدوجہد ۔ دینی راہ نماؤں کا اجلاس
اجلاس میں سودی نظام کے سلسلہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں زیر سماعت نظر ثانی کی اپیل کے حوالہ سے صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور ملی مجلس شرعی کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے شرکاء کو بتایا کہ وفاقی شرعی عدالت کے سوال نامہ کا تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کی طرف سے متفقہ جواب بھجوانے کے لیے کام جاری ہے اور مختلف مسوّدات پر سرکردہ علماء کرام کی ایک مشترکہ کمیٹی غور کر رہی ہے اور حتمی جواب کو آخری شکل دی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایوننگ دینی مدرسہ کا تجربہ
گزشتہ روز مولانا محمد ادریس اور حافظ سید علی محی الدین کے ہمراہ راجہ بازار راولپنڈی میں دارالعلوم تعلیم القرآن کے سامنے سے گزرا تو دل سے اک ہوک سی اٹھی اور اس علمی و دینی مرکز کے بارے میں ماضی کی کئی یادیں ذہن میں تازہ ہوتی چلی گئیں۔ اس سے قبل ظہر کے بعد ایف ٹین ٹو اسلام آباد کی مسجد امیر حمزہؓ میں علماء کرام کی ایک فکری نشست تھی، اس مسجد میں مولانا محمد ادریس اور ان کے رفقاء نے منفرد نوعیت کا دینی مدرسہ ’’کلیۃ الدراسات الدینیۃ‘‘ کے نام سے قائم کر رکھا ہے جس میں سرکاری ملازمین تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لاہور اور کراچی کی سرگرمیاں
27-26 جنوری کو لاہور اور کراچی میں مختلف دینی اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا۔ 26 جنوری کو ظہر کے بعد ہمدرد سنٹر لاہور میں ضیاء الامت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ’’مذہبی رواداری اور تعلیمات نبویؐ‘‘ کے موضوع پر سیمینار تھا جس کی صدارت وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور صاحبزادہ پیر سید امین الحسنات نے کی۔ اور پروفیسر عبد الرحمن لدھیانوی، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، حافظ کاظم رضا اور دیگر راہ نماؤں کے علاوہ راقم الحروف نے بھی خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت شیخ الہند اور نظریہ عدمِ تشدد
مولانا فضل الرحمان پشاور میں بھرپور ’’اسلام زندہ باد کانفرنس‘‘ کے انعقاد کے بعد اب ۳۱ مارچ کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں شیخ الہند سیمینار کے عنوان سے مورچہ زن ہو رہے ہیں جبکہ مولانا سمیع الحق ’’دفاع پاکستان کونسل‘‘ کے محاذ کو مسلسل گرم رکھے ہوئے ہیں اور گزشتہ روز پارلیمنٹ کے سامنے دفاع پاکستان کونسل نے نیٹو سپلائی کی ممکنہ بحالی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر کے ارکان پارلیمنٹ کو عوامی جذبات سے آگاہ کرنے کا اہتمام کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عربی زبان، ہماری قومی ضرورت
عربی زبان قرآن و سنت کی زبان ہے اور ایک مسلمان کے لیے اس کی تعلیم اساسی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں قیام پاکستان کے بعد سے ہی اسے وہ درجہ نہیں دیا جا رہا ہے جو اس کا حق ہونے کے ساتھ مسلم سوسائٹی کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔ حتیٰ کہ دینی مدارس میں بھی عربی زبان صرف کتاب فہمی تک محدود ہے اور کتاب فہمی کا دائرہ بھی سمٹ سمٹا کر صرف درس و تدریس کے دائرے میں بند ہو کر رہ گیا ہے۔ معاصر عربی ادب، بول چال، میڈیا اور خطابت و صحافت کے میدان ہماری دسترس سے ابھی تک باہر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت شیخ الہندؒ کا تعلیمی نظریہ
شیخ الہند اکادمی نے ۲۰ دسمبر کو الحمرا ہال لاہور میں ’’شیخ الہند سیمینار‘‘ منعقد کر کے سال رواں ۱۴۳۳ھ کو حضرت شیخ الہند کے سال کے طور پر منانے کے حوالے سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے اور اس موقع پر عزم کا اظہار کیا ہے کہ سال کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں شیخ الہند سیمینار منعقد کر کے نئی نسل کو اہل حق کی جدوجہد سے متعارف کرایا جائے گا اور دور حاضر کے حالات اور مسائل کے تناظر میں حضرت شیخ الہند کے افکار اور تعلیمات کو فروغ دینے کی منظم جدوجہد کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ڈیرہ غازی خان کا سفر
16-15 جنوری کو لیہ، کوٹ ادو، جتوئی اور ڈیرہ غازی خان کے سفر کا اتفاق ہوا۔ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ناظم حافظ محمد عثمان میرے ہمراہ تھے، وہ دار العلوم کراچی کے فاضل اور جتوئی کے علاقہ کے رہنے والے ہیں۔ لیہ میں جمعیۃ علماء اسلام نے ایک شادی ہال میں ’’شیخ الہندؒ سیمینار‘‘ کا اہتمام کر رکھا تھا اور ان کا تقاضہ تھا کہ حالیہ سفر دیوبند اور ’’شیخ الہند امن عالم کانفرنس‘‘ کے کچھ احوال ان کو سناؤں۔ میں نے عرض کیا کہ اس کی تفصیلات اپنے متعدد کالموں میں لکھ چکا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چنیوٹ اور سرگودھا میں داخلہ پر پابندی
چنیوٹ اور سرگودھا کے اضلاع میں میرے ساتھ متعدد بار یہ واقعہ پیش آچکا ہے کہ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں کسی اجتماع میں شرکت کے لیے جاتا ہوں تو پابندی کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ سال سرگودھا شہر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے سرگودھا پہنچ چکا تھا اور مولانا محمد الیاس گھمن کے مرکز اہل سنت میں تھوڑی دیر کے لیے رکا ہوا تھا کہ وہیں پیغام آگیا کہ ضلعی پولیس نے چند مقررین کے خطابات سے منع کر دیا ہے جس میں میرا نام بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ربیع الاول ۱۴۳۵ھ کی سرگرمیاں
ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک تذکرہ کی محافل کا آغاز ہوگیا ہے۔ یہ سلسلہ عام طور پر ربیع الثانی میں بھی جاری رہتا ہے اور مختلف مکاتب فکر کے لوگ اپنے اپنے ذوق کے مطابق جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہیں اور ان کے ساتھ محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں سے اس حوالہ سے جلسوں میں حاضری کے مسلسل تقاضے رہتے ہیں۔ مگر اسباق کی وجہ سے سب دوستوں کی فرمائش پوری کرنا مشکل ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام کا نظام حکومت ۔ تصنیفی کاوشیں
حضرت مولانا محمد میاں المعروف منصور انصاریؒ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے تربیت یافتہ لوگوں میں سے تھے۔ دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے نواسے تھے۔ انہوں نے مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے ساتھ آزادیٔ ہند کی تحریک میں ان کے دست راست کے طور پر کام کیا۔ ہندوستان سے ہجرت کر کے وہ کابل چلے گئے تھے اور وہیں انہوں نے تحریکی جدوجہد کے تانے بانے بُنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 139
- 140
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »