تھوڑی دیر امریکہ کی ایک جیل میں
محترم ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن صاحب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی نورااللہ مرقدہ کے خلفاء میں سے ہیں اور ایک عرصہ سے کینیڈا اور پھر امریکہ میں دینی و تعلیمی خدمات میں مصروف ہیں۔ نیو یارک سٹیٹ میں کینیڈا کی سرحد پر نیا گرا آبشار کے قریب ایک شہر بفیلو میں ’’دارالعلوم المدینہ‘‘ کے نام سے ایک دینی درسگاہ انہوں نے قائم کی ہے اور اپنے لائق فرزندوں اور مخلص رفقاء کی ایک ٹیم کے ہمراہ اس کی بہتری اور ترقی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ نیاگرا آبشار اس سے قبل بھی آچکا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آکسفورڈ میں ملائیشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر عبد اللہ احمد البداوی کا خطاب
آکسفورڈ آج کی دنیا کا بڑا تعلیمی و تہذیبی مرکز ہے، مجھے کبھی کبھی وہاں جانے کا موقع ملتا ہے اور اپنے تاثرات میں قارئین کو بھی ہر بار شریک کرتا ہوں۔ بھارت کے ممتاز مسلم دانش ور اور محقق و مصنف پروفیسر ڈاکٹر خلیق احمد نظامی مرحوم کے فرزند ڈاکٹر فرحان احمد نظامی نے آکسفورڈ میں ایک علمی و فکری مرکز قائم کر رکھا ہے جس کے سرپرستوں میں برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس اور سلطان آف برونائی کے علاوہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن ندویؒ اور پروفیسر ڈاکٹر خلیق احمد نظامی مرحوم و مغفور بھی شامل رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
برطانیہ کے چند دینی اداروں میں حاضری
۳۱ مئی کی شام باٹلی سے برمنگھم پہنچا کیونکہ یکم جون کا دن جامعہ الہدٰی کے پرنسپل مولانا رضاء الحق سیاکھوی کے ساتھ تعلیمی مشاورت کے لیے مخصوص تھا۔ میرے برطانیہ کے ہر سفر میں ایک دن اس کام کے لیے مقرر ہوتا ہے۔ مولانا موصوف اپنی تمام مصروفیات ترک کر دیتے ہیں اور میں بھی اس روز کوئی اور مصروفیت نہیں رکھتا، اس کام میں اکثر اوقات مولانا اکرم ندوی بھی ہمارے ساتھ شریک ہو جاتے ہیں لیکن اس سال وہ نہ آسکے البتہ مولانا سعید یوسف خان اور مولانا قاری خبیب احمد عمر دن کا اکثر حصہ ہمارے ساتھ اس مشاورت میں شریک رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ، جہاں وسائل زندگی کی فراوانی ہے مگر ۔۔۔
۱۹ جون کو لاہور سے پی آئی اے کے ذریعے نیویارک آتے ہوئے راستہ میں جہاز دو گھنٹے کے لیے مانچسٹر میں رکا تو روزنامہ جنگ لندن دیکھنے کا موقع ملا۔ اس میں ایک چھوٹی سی خبر تھی کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی گزشتہ دنوں جب امریکہ کے صدر بش سے ملے تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ امریکہ میں رہنا چاہتے ہیں اور وہاں قیام کو پسند کرتے ہیں مگر صدر بش نے انہیں بے ساختہ جواب دیا کہ وہ افغانستان جا کر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ اس سوال جواب کے پیچھے ماضی کی ایک پوری دنیا آباد ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ میں رؤیت ہلال کا مسئلہ
رؤیت ہلال کا مسئلہ امریکہ میں بھی اسی طرح الجھن کا شکار ہے جیسے ہمارے ہاں پاکستان میں یا برطانیہ میں ہوتا ہے۔ میں ۱۱ کتوبر کو امریکہ پہنچا تھا اور اس وقت دارالہدٰی (سپرنگ فیلڈ، ورجینیا) میں ہوں۔ دارالہدٰی کے سربراہ مولانا عبد الحمید اصغر بہت محبت کرتے ہیں اور احترام سے نوازتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ان کا یہ اصرار بھی ہوتاہے کہ جتنے دن امریکہ میں رہوں دارالہدٰی ہی میں رہوں۔ اس سال ۱۱ اکتوبر سے ۲۲ اکتوبر تک امریکہ میں رہنے کا پروگرام تھا، میں نے لندن سے نیویارک کے لیے ٹکٹ کروا لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تاشقند اور سمرقند کے پانچ روزہ سفر کی سرگزشت
تاشقند وسطی ایشیا کی ایک اہم ریاست ازبکستان کا دارالحکومت ہے اور ہماری کئی تاریخی اور قومی یادیں اس سے وابستہ ہیں۔ وسطی ایشیا کا یہ خطہ، جسے علمی حلقوں میں ماوراء النہر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، صدیوں تک علومِ اسلامیہ بالخصوص فقہ حنفی کا مرکز رہا ہے اور اسے امام بخاریؒ، امام ترمذیؒ، صاحب ہدایہ امام برہان الدین مرغینائیؒ اور فقیہ ابواللیث سمرقندیؒ جیسے اساطینِ علم وفضل کی علمی جولانگاہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ پھر پاکستان کی قومی تاریخ میں بھی تاشقند کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مجھے قرآن میں روحانی سکون ملا، ایک نومسلم کنیڈین خاتون کے تاثرات
گزشتہ روز امریکہ سے ایک نومسلم خاتون ڈاکٹر مجاہدہ کے ہرمینسن گوجرانوالہ تشریف لائیں، ان کا سابقہ نام مارسیا ہے اور امریکی ریاست کیلی فورنیا میں سن ڈیگوسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ مذہبی امور کی پروفیسر ہیں۔ان کے خاوند ملک محمد علوی ان کے ہمراہ تھے۔ علوی صاحب وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے ہیں اور پندرہ سال سے امریکہ میں قیام پذیر ہیں۔ ڈاکٹر مجاہدہ پیدائشی طورپر کنیڈین ہیں اور ایک عرصہ سے امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ موصوفہ نے کم وبیش دس سال قبل اسلام قبول کیا، عربی زبان سیکھی، ار دو اور فارسی سے بھی آشنائی حاصل کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مدینے کا ایک اور سفر
چھ سال کے وقفہ کے بعد آج پھر مدینہ منورہ میں ہوں اور جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر پر حاضری کی سعادت حاصل کر چکاہوں۔پہلی بار ۱۹۸۴ء میں یہاں حاضری ہوئی تھی اس کے بعد وقتاً فوقتاً اس شرف باریابی سے بہرہ ور ہوتا رہا مگر گزشتہ چند سالوں میں سعودی حکومت کی نئی عمرہ پالیسی کی وجہ سے بریک لگ گئی۔ اور اصل بات تو بلاوے کی ہے، اﷲ تعالیٰ اور ان کے آخری رسولؐ کی بارگاہ میں یہ حاضری بلاوے پر ہی ہوتی ہے اور بحمد اﷲ یہ بلاوا آگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اجتہاد کے حوالہ سے نوجوان نسل کے ساتھ ایک مذاکرہ کی روئیداد
اسلامی نظریاتی کونسل نے ۲۶ جون کو اسلام آباد میں اجتہاد کے حوالہ سے نوجوان نسل کے ساتھ ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا جس کی صدارت جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب نے کی اور اس میں نوجوانوں کے سوالات کا جائزہ لینے اور ان پر رائے کااظہار کرنے کے لیے ماہرین کے پینل میں راقم الحروف کو بھی شامل کیا گیا۔ جبکہ پینل میں محترم جاوید احمد غامدی اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائریکٹر محترم ڈاکٹر منظور احمد شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
متحدہ عرب امارات میں دو دن
میں اس وقت متحدہ عرب امارات میں ہوں اور شارجہ میں بیٹھا یہ سطور قلم بند کر رہا ہوں۔ یکم جنوری ۲۰۰۴ء کو میر پور ڈھاکہ کے مدرسہ دارالرشاد میں منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں مجھے ’’نئی صدی میں علماء کرام کی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر گزارشات پیش کر نے کی دعوت دی گئی اور مدرسہ کے مہتمم مولانا محمد سلمان ندوی کا اصرار ہے کہ میں اس کے لیے ضرور حاضری دوں۔ مدرسہ میں اسباق کے دوران مجبوری کی اکا دکا چھٹیوں کے علاوہ زیادہ غیر حاضری کا عادی نہیں ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خواتین کی دینی تعلیم اور اسلامی معاشیات کا بڑھتا ہوا رجحان
چند روز سے برطانیہ میں ہوں اور مزید چند روز رہنے کا پروگرام ہے، ارادہ ہے کہ ۲۴ جون تک گوجرانوالہ واپس پہنچ جاؤں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ دو روز قبل اتوار کو جامعہ الہدٰی نو ٹنگھم میں ایک خصوصی نشست تھی جس میں جامعہ میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کے والدین کو بلایا گیا تھا اور جامعہ کے پرنسپل مولانا رضاء الحق سیاکھوی نے مجھے طالبات کے والدین سے گفتگو کے لیے کہا۔ میں نے اس موقع پر دو امور کی طرف بطور خاص توجہ دلائی: ایک یہ کہ دینی ذمہ داریوں میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شریک ہیں اور فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ سزا و جزا میں بھی ان کا برابر کا حصہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس میں جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ دینی مدارس سے تعلیم پانے والے فضلاء کو ایک بین الاقوامی زبان اور عالمی ذریعہ اظہار کے طور پر انگلش زبان کی مہارت حاصل کرنی چاہیے جو مضمون نویسی اور فی البدیہہ گفتگو اور تقریر کے معیار کی ہو۔ اسی طرح انہیں کمپیوٹر کے استعمال پر قدرت ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ لابنگ اور بریفنگ کی جدید ترین تکنیک بھی ان کی دسترس میں ہونی چاہیے۔ اس سے کوئی باشعور شخص انکار نہیں کرسکتا اور ہم گزشتہ بیس سال سے اسی احساس کو اجاگر کرنے کے لیے مصروف عمل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دارالعلوم تعلیم القرآ ن پلندری کا سالانہ جلسہ
سات جولائی کو دارالعلوم تعلیم القرآن پلندری کے سالانہ جلسہ میں شرکت کا موقع ملا۔ اس دینی درسگاہ کو ریاست آزاد جموں و کشمیر کے دینی مدارس میں مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اس کی وجہ شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف خان دامت برکاتہم کی ذات گرامی ہے جو گزشتہ ساٹھ برس سے زیادہ عرصہ سے اس خطے میں دینی رہنمائی اور علمی قیادت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور اپنے علمی مقام و مرتبہ اور مسلسل دینی خدمات کے باعث نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پورے ملک میں دینی حلقوں کے لیے مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بنگلہ دیش کا قیام اور وطن واپسی
دبئی میں دو روزہ قیام کے حوالہ سے اپنے تاثرات کے کالم میں قارئین سے گزارش کی تھی کہ بقیہ حصہ اگلے کالم میں پیش کر وں گا۔ خیال تھا کہ واپسی دبئی کے راستے سے ہو گی اور کچھ دیگر حضرات سے ملاقات کا ارادہ بھی تھا اس طرح ایک قسط اور پیش کر سکوں گا مگر پروگرام میں تبدیلی ناگزیر ہو گئی۔ ڈھاکہ کے نواح میں ’’مدھوپور‘‘ نامی ایک بستی میں ہمارے احباب کا ایک دینی ادارہ ’’جامعہ حلیمیہ‘‘ کے نام سے کام کر رہا ہے۔ اس کا سالانہ جلسہ تقسیم اسناد ۹ جنوری کو ہو رہا تھا اور مدرسہ کے مہتمم حضرت مولانا عبد الحمید کا اصرار تھا کہ میں اس پروگرام میں شرکت کے لیے ضرور رکوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
افغانستان میں پانچ دن
حرکۃ الجہاد الاسلامی پاکستان کی دعوت پر مجھے ملک کے سرکردہ علماء کرام کے ایک وفد کے ہمراہ ۳۱ مئی سے ۴ جون تک پانچ روز افغانستان کی سرزمین پر گزارنے کا موقع ملا۔ اس سے قبل بھی چودہ سالہ افغان جہاد کے دوران حرکۃ الجہاد الاسلامی اور حرکۃ المجاہدین کی دعوت اور پروگرام کے مطابق ارگون، باڑی، راغبیلی، ژاور اور خوست کے دیگر محاذوں پر کئی بار گیا ہوں لیکن جہاد افغانستان کی کامیابی اور مجاہدین کی باقاعدہ حکومت کے قیام کے بعد یہ میرا پہلا دورۂ افغانستان تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ختم نبوت کی جدوجہد کا ایک اور سنگِ میل
حکومت اور تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کے درمیان معاہدہ اور اس کے نتیجے میں دھرنے کے اختتام پر پوری قوم نے اطمینان کا سانس لیا ہے کہ ختم نبوت جیسے نازک اور حساس مسئلہ پر ملک سنگین بحران او رخلفشار سے نکل گیا ہے اور تحریک ختم نبوت کے ایک بڑے تقاضے کی بھی بحمد اللہ تکمیل ہوگئی ہے، فالحمد للہ علٰی ذلک۔ اس میں جس نے بھی کسی مرحلہ میں کوئی کردار ادا کیا ہے وہ تحسین و تبریک کا مستحق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’شریعت بل‘‘ میں مسلم لیگی ارکان کی پیش کردہ ترامیم
سینٹ آف پاکستان میں مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف کے پیش کردہ ’’شریعت بل‘‘ کی پہلی خواندگی مکمل ہو چکی ہے اور سینٹ کے آئندہ اجلاس کے موقع پر پرائیویٹ دن کی کارروائی میں اس کی دوسری خواندگی کا آغاز ہونے والا ہے۔ اس مرحلہ پر شریعت بل میں ترامیم کے دو نوٹس سینٹ کے سیکرٹریٹ کو دیے گئے ہیں۔ ایک نوٹس سینیٹر قاضی حسین احمد، سینیٹر پروفیسر خورشید احمد اور سینیٹر عبد الرحیم میردادخیل کی طرف سے جن کا تعلق متحدہ شریعت محاذ سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان کے لیے امریکی امداد کی شرائط یا ریموٹ کنٹرول غلامی کا امریکی منصوبہ؟
پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب استعماری قوتوں کے قویٰ مضمحل ہونے لگے اور نوآبادیاتی مقبوضات پر ان کی گرفت قائم رہنے کے امکانات کم ہوگئے تو ان غلام ملکوں کے رہنے والے عوام کی اس دیرینہ خواہش کی تکمیل کے آثار پیدا ہوگئے کہ وہ آزاد قوم کی حیثیت سے آزاد فضا میں سانس لے سکیں اور استعماری قوتوں کے مقبوضہ ممالک یکے بعد دیگرے آزاد ہونے لگے۔ لیکن سامراجی طاقتوں نے نوآبادیاتی مقبوضات پر تسلط سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کی بجائے ایسی حکمتِ عملی اختیار کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
متحدہ شریعت محاذ اور حکومت کے مذاکرات
ماہِ رواں کے آغاز میں حکومت کے ساتھ متحدہ شریعت محاذ کے راہنماؤں کے مذاکرات کا ایک دور ہوا جس میں سات گھنٹے تک دونوں فریقوں نے ’’شریعت بل‘‘ کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیالات کیا مگر اخباری اطلاعات کے مطابق اتفاقِ رائے کی منزل تک نہ پہنچا جا سکا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکی امداد کی شرائط اور قادیانیت کی سرپرستی
پاکستان کو دی جانے والی امریکی امداد کی شرائط میں اسلامی قوانین کے نفاذ کو روکنے اور قادیانیوں کو تحفظ دینے کی شرائط بھی شامل ہیں اور اس قسم کی شرطوں کے ساتھ امداد کو قبول کرنا قومی غیرت اور دینی حمیت کے منافی ہے۔ امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے پاکستان کو امداد دینے کی سفارش جس قرارداد کے ذریعے کی ہے اس میں امداد کو جمہوری عمل، انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی تین شرطوں کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ
مولانا محمد یوسف خانؒ آزاد کشمیر کے نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے بڑے علماء میں سے تھے جنہوں نے تعلیم، سیاست، تحریک آزادیٔ کشمیر اور نفاذِ اسلام کی جدوجہد کے محاذوں پر نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک بھرپور خدمات سرانجام دیں اور گزشتہ روز (۱۳ ستمبر) کئی برس صاحب فراش رہنے کے بعد کم و بیش ۹۰ برس کی عمر میں پلندری آزاد کشمیر میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا محمد یوسف خانؒ کا تعلق ضلع پونچھ کے علاقہ منگ سے تھا جو اب آزاد کشمیر میں ہے۔ دینی تعلیم سے فراغت کے بعد پلندری ان کی زندگی بھر کی تگ و تاز کا مرکز رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
راولپنڈی میں تخریب کاری کی نئی واردات
لاہور کی اہل حدیث کانفرنس میں بم کے دھماکے سے علامہ احسان الٰہی ظہیر مرحوم سمیت دس افراد کی شہادت اور ایک سو کے قریب زخمی ہونے کی افسوسناک واردات کے مجرموں کو بے نقاب کرنے میں ابھی پنجاب پولیس کامیاب نہیں ہو پائی تھی کہ ۹ اپریل کو راولپنڈی میں تخریب کاری کی ایک اور افسوسناک واردات نے ۱۵ شہریوں کی جان لے لی ہے جبکہ ستر افراد زخمی ہوئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مالکم ایکس شہبازؒ اور لوئیس فرخان
لندن کے بعض اخبارات نے رائٹر کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ نیویارک میں مالکم ایکس شہبازؒ کی بیوہ گزشتہ روز اپنے فلیٹ میں بے ہوش پائی گئیں، وہ آگ میں جھلس گئی تھیں، انہیں ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے۔ نیویارک پولیس اس واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس کے اتفاقیہ واقعہ ہونے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مالکم ایکس شہیدؒ امریکہ کے سیاہ فام مسلمانوں کے ایک مقبول عام لیڈر تھے جنہیں ۱۹۶۵ء میں نیویارک کے علاقہ مین ہیٹن میں اس وقت گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اقوامِ متحدہ کا اجلاس ’’بیجینگ پلس ۵‘‘
جون ۲۰۰۰ء سے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ایک خصوصی اجلاس ’’بیجینگ پلس ۵‘‘ کے عنوان سے شروع ہے جو ۹ جون تک جاری رہے گا اور اس میں خواتین کے حقوق کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے پروگرام کا اعلان کیا جائے گا۔ اس کانفرنس کا موضوع ’’خواتین کی صنفی مساوات اور اکیسویں صدی‘‘ بتایا جاتا ہے اور یہ ان عالمی کانفرنسوں کے تسلسل کا حصہ ہے جو خواتین کے حقوق اور مساوات کو اجاگر کرنے کے لیے اس سے قبل مختلف اوقات میں کوپن ہیگن، نیروبی، قاہرہ اور بیجنگ میں منعقد ہو چکی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وزیر اعلیٰ میاں محمد نواز شریف اور موجودہ عدالتی نظام کی رکاوٹیں
جولائی ۱۹۸۷ء کو صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے دورِ اقتدار کے گیارہویں سال کا آغاز لاہور میں بموں کے تین دھماکوں کے ساتھ ہوا جن میں اخباری اطلاعات کے مطابق سات افراد جاں بحق اور ستر سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکوں کا یہ سلسلہ کافی عرصہ سے جاری ہے اور سرحد و بلوچستان میں بے شمار شہریوں کی جان لینے کے بعد اب اس کا رخ پنجاب کی طرف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسئلہ ختم نبوت: ترامیم کا خفیہ ہاتھ بے نقاب کیا جائے
اسلام آباد میں ’’تحریک لبیک یا رسول اللہؐ‘‘ کا دھرنا تا دمِ تحریر جاری ہے، گزشتہ روز ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد نے رات بارہ بجے تک فیض آباد چوک کو خالی کرنے کا حتمی نوٹس دے دیا تھا اور بعض اطلاعات کے مطابق دھرنے والوں کے انکار کی صورت میں فورسز کی کارروائی کسی بھی وقت متوقع ہے۔ اللہ تعالیٰ ملک و قوم کو کسی نئی آزمائش سے محفوظ رکھیں، آمین یا رب العالمین۔ گزشتہ روز ’’درسِ قرآن ڈاٹ کام چینل‘‘ پر ایک نشری گفتگو میں اس سلسلہ میں راقم الحروف نے کچھ گزارشات پیش کی ہیں جن کا کچھ حصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
برطانیہ کے دو دینی ادارے: دارالعلوم ہولکمب بری اور مدینۃ العلوم الاسلامیہ کڈر منسٹر
برطانیہ میں بیس دن گزارنے کے بعد پاکستان واپس آتے ہوئے ۲۳ ستمبر کو رات دس بجے جدہ ایئرپورٹ پر اترا اور بحمد اللہ تعالیٰ ایک بجے شب عمرہ کی ادائیگی کے لیے مسجد حرام کے دروازے تک پہنچ گیا۔ برطانیہ میں قیام کے دوران ۲۰ ستمبر کو ویمبلے سنٹر لندن میں منعقد ہونے والی تیسری سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے علاوہ دو اور تقریبات میں بھی حاضری کی سعادت حاصل ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چند روز حرمین شریفین کی فضاؤں میں
لندن کی عالمی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے بعد واپسی پر عمرہ کا ارادہ تھا، سعودی عرب کے سفارت خانہ سے رابطہ قائم کیا تو معلوم ہوا کہ ابھی عمرہ کے ویزا پر پابندی ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک وفد نے مولانا سید عبد القادر آزاد کی سربراہی میں سفارتخانہ کے حکام سے ملاقات کی تو ختم نبوت کانفرنس کے شرکاء میں سے واپسی پر عمرہ ادا کرنے کے خواہشمند حضرات کو وزٹ ویزا دے دیا گیا۔ چنانچہ ۲۳ ستمبر کو KLM کی فلائٹ سے پہلے لندن سے ایمسٹرڈیم اور پھر وہاں سے جدہ کا سفر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مہدی سوڈانی کا تعارف اور امام سراج وہاج سے ایک ملاقات
میرے نیویارک کے سفر کے مقاصد میں بلیک مسلم تحریک کے مختلف گروپوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا اور کسی صحیح العقیدہ گروپ کے ساتھ رابطہ کی کوشش کرنا بھی تھا۔ چنانچہ اس میں اس حد تک کامیابی حاصل ہو سکی کہ حلقہ اسلامی شمالی امریکہ کے امیر جناب عبد الشکور کی وساطت سے بلیک مسلم تحریک کے ایک اہم راہنما امام سراج وہاج کے ساتھ ایک تفصیلی نشست ہوئی۔ اور ’’انصار اللہ‘‘ کے نام سے کام کرنے والے ایک اور بلیک مسلم گروپ کے بارے میں عربی زبان میں ایک کتابچہ میسر آگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نیویارک میں پاکستان کا قومی دن ۔ عوامی پریڈ، راگ و رنگ اور نظریۂ پاکستان
۲۲ اگست کو صبح نماز کے بعد فندق الاسلامی ہوٹل سے قاہرہ ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا تو سورج نکل رہا تھا اور ایئرپورٹ پر پہنچنے تک پوری آب و تاب کے ساتھ افق پر جلوہ گر ہو چکا تھا۔ آٹھ بجے کے ایل ایم ایئرلائن کی ایمسٹرڈیم (نیدرلینڈ کا دارالحکومت) کے لیے فلائٹ تھی جو ساڑھے بارہ بجے وہاں پہنچی، وہاں بھی وقت ساڑھے بارہ ہی تھا۔ یہاں سے نیویارک کے لیے دوسری فلائیٹ کا وقت شام چھ بجے کا تھا جس نے آٹھ گھنٹہ کی پرواز کے بعد نیویارک پہنچنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 95
- 96
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »