تحفظِ حقوقِ نسواں بل: سسٹم کو درست کیا جائے

حدود آرڈیننس اور تحفظ حقوق نسواں بل کی بحث پھر سے قومی حلقوں میں شدت اختیار کرنے والی ہے، اس لیے کہ ۱۰ نومبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، جس کے بارے میں وفاقی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ اس میں تحفظ حقوق نسواں بل کو سلیکٹ کمیٹی کی تجویز کردہ صورت میں منظور کر لیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ نومبر ۲۰۰۶ء

پاکستانی معاشرے میں عورت کی مظلومیت کی معروضی صورتحال

مذاکرات کی تفصیلی کہانی تو آئندہ ایک دو کالموں میں ان شاء اللہ تعالیٰ بیان کروں گا، مگر اس کے پہلے مرحلے کے طور پر علمائے کرام کی ان تجاویز اور سفارشات کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں، جو انہوں نے تحفظ حقوق نسواں بل پر متحدہ مجلس عمل کے تحفظات کے حوالے سے حکمران جماعت اور وزارت قانون کے ذمہ دار افراد کے ساتھ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ ستمبر ۲۰۰۶ء

یومِ آزادی ۱۴ اگست یا رمضان المبارک کی ستائیسویں شب

حکیم محمد سعید شہید رحمہ اللہ کی بات میرے ذہن سے اتر چکی تھی، مگر مولانا عبد المجید لدھیانوی نے پھر یاد دلا دی۔ بیسویں صدی عیسوی کے اختتام پر ہم نے اس حوالے سے کچھ پروگرام بنانا چاہے اور اس عنوان سے کچھ فکری اور نظریاتی پروگراموں کی ترتیب کرنا چاہی تو اس سلسلے میں مشاورت اور رہنمائی کے لیے مختلف ارباب دانش کو خطوط لکھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اگست ۲۰۰۶ء

یہودی مصنوعات کا بائیکاٹ، جہاد کا ایک اہم شعبہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ گوجرانوالہ کا شکر گزار ہوں کہ ایک اہم موضوع پر اس سیمینار کا اہتمام کیا جس میں جمعیۃ کے سیکرٹری جنرل مولانا حافظ گلزار احمد آزاد نے عمرہ اور بحرین کے حالیہ سفر کی کچھ تفصیلات بیان کی ہیں اور وہاں کے دوستوں کے جذبات سے ہمیں آگاہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اپریل ۲۰۲۴ء

وفاقی وزیرخزانہ سے ایک اہم گزارش

روزنامہ اسلام ملتان میں ۲۴ اپریل کو وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب صاحب کے دو بیان الگ الگ شائع ہوئے ہیں جن میں انہوں نے ملکی معاشی صورتحال اور حکومت کی پالیسی کے حوالے سے وضاحت کی ہے۔ ایک خبر کے مطابق انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سودی نظام کے خاتمے کا مرحلہ وار سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۲۴ء

مغرب سے مکالمہ کی ضرورت، ترجیحات اور تقاضے

ماہ رواں کے آغاز میں کراچی حاضری کے موقع پر جامعۃ الرشید میں اساتذہ کرام کی ایک نشست میں ”مغرب سے مکالمہ کی ضرورت، ترجیحات اور تقاضے“ کے عنوان سے تفصیلی گفتگو کا موقع ملا، اس کے علاوہ جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نارتھ، کراچی میں درجہ تخصص کے طلبہ کے سامنے دو نشستوں میں اس عنوان پر اظہار خیال کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ و ۲۸ مارچ ۲۰۰۶ء

مطالعہ مذاہب: مسلم سکھ تعلقات کا ایک جائزہ

۱۲، ۱۳، ۱۴ فروری ۲۰۰۶ء کو جامعہ اسلامیہ کامونکی میں مطالعہ مذاہب کے سلسلے میں بدھ مت اور سکھ مذہب کے بارے میں سیمینار تھا، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ دعوۃ اکیڈمی کے تعاون سے جامعہ اسلامیہ کامونکی نے یہ روایت رکھی ہوئی ہے کہ تین چار ماہ کے وقفہ سے کسی مذہب کے حوالے سے ایک مطالعاتی اور معلوماتی سیمینار کا اہتمام ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ فروری ۲۰۰۶ء

تحفظ حقوق نسواں بل: قرآن و سنت سے متصادم دفعات عوام کو منظور نہیں

قومی اسمبلی نے ”تحفظ حقوقِ نسواں بل“ منظور کر لیا ہے، جس کے بارے میں وفاقی وزیر قانون جناب وصی ظفر کا کہنا ہے کہ یہ سلیکٹ کمیٹی کا منظور کردہ نہیں ہے، جبکہ قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن کا ابتدائی تبصرہ یہ ہے کہ یہ بل نہ سلیکٹ کمیٹی والا ہے اور نہ ہی علماء کی سفارشات والا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ نومبر ۲۰۰۶ء

اپریل ۲۰۲۴ء کی رپورٹس

حفظِ قرآن کی سعادت حاصل ہونا بہت بڑی خوش نصیبی ہے۔ گکھڑ منڈی (محمد گلشاد سلیمی) حفظِ قرآن کی سعادت حاصل ہونا بہت بڑی خوش نصیبی ہے۔ حافظ قرآن ہونا ایسا اعزاز ہے جو دنیا و آخرت میں ہمیشہ رہنے والا ہے۔ قرآن کتابِ ہدایت بھی ہے، کتابِ شفا بھی، اور کتابِ انقلاب بھی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان سب پر خوشی منانے کا کہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اپریل ۲۰۲۴ء

شرعی سزائیں اور موجودہ بائبل

حدود آرڈیننس کے حوالے سے گزشتہ کالم میں ہم نے گزارش کی تھی کہ (۱) موت کی سزا (۲) سنگسار کرنا (۳) کوڑوں کی سزا (۴) جسمانی اعضا کاٹنے کی سزا اور (۵) کھلے بندوں سزا دینے کا طریقہ، آج کے دور میں ان سزاؤں کو تشدد، اذیت اور تذلیل کی سزائیں قرار دے کر انسانی حقوق کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ دراصل یہ صرف قرآن کریم کی طے کردہ سزائیں نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اکتوبر ۲۰۰۶ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter