مکتوب بنام مفتی منیب الرحمٰن: نصاب کمیٹی سے متعلقہ امور کے بارے میں رائے

باسمہ تعالیٰ۔ محترمی حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن صاحب زیدت مکارمکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ ۲۵ اپریل کے اجلاس کا دعوت نامہ مل گیا ہے، ان شاء اللہ حاضری ہو گی۔ قرطاسِ عمل میں نصاب کمیٹی سے متعلقہ امور کے بارے میں اپنی رائے تحریر کر رہا ہوں، کوئی بات قابلِ توجہ ہو تو اپنی گفتگو میں شامل فرما لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اپریل ۲۰۱۷ء

حضرت سرفراز خان صفدرؒ اور مولانا قاضی فضل اللہ کے تفسیری افادات

قرآن کریم کے علوم و معارف ہر دور میں اہلِ علم کی توجہات اور استفادہ کا محور رہے ہیں اور قیامت تک رہیں گے اور نسلِ انسانی بالخصوص امتِ مسلمہ اور اس کے علماء کرام اس بحرِ ناپیدا کنار میں غوطہ زن ہو کر راہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ چونکہ اس کا دور قیامت تک ہے اس لیے اس وقت تک کے ہر دور کی ہدایت کے تقاضے اور علمی و فکری ضروریات اس کے دامن میں موجود ہیں جو وقتاً‌ فوقتاً‌ ظاہر ہوتے رہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۲۶ء

دینی مدارس کا آزادانہ کردار اور بیرونی ایجنڈا

آج آپ نے اخبارات میں پڑھا ہوگا، ہمارے صدرِ مملکت جناب پرویز مشرف نے فرمایا ہے کہ ہمارا دینی مدرسوں کو کنٹرول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، یہ غلط فہمی ہے، ہم مدرسوں کو کنٹرول نہیں کرنا چاہتے، مدرسوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے، البتہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ مدرسے اجتماعی دھارے میں شامل ہوں اور مدرسوں میں جہاں قرآن کریم پڑھایا جاتا ہے وہاں سائنس بھی پڑھائی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۰۱ء

حق و باطل کے معرکوں میں شکست اور فتح

مدینہ منورہ سے شام کی طرف تین ہزار کا لشکر نکلا حضرت زید بن حارثہؓ کی قیادت میں۔ مولانا شبلی نعمانیؒ اپنی تصنیف ’’سیرت النبیؐ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ شرحبیل بن عمرو ایک لاکھ کا لشکر لے کر موطا کے مقام پر انتظار میں کھڑا تھا۔ ایک لاکھ وہ تھے اور قیصرِ روم خود بھی اسی علاقے میں کچھ فاصلے پر ایک لاکھ کے لشکر کے ساتھ موجود تھا کہ ضرورت پڑی تو میں بھی میدان میں آجاؤں گا۔ زید بن حارثہؓ نے جب یہ منظر دیکھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ نومبر ۲۰۰۱ء

جیسا دودھ ویسا مکھن!

آج ہم دنیا بھر کے مسلمان کس چیز کے ضرورتمند ہیں؟ آج ہمارے مانگنے کی چیز یہ ہے کہ یا اللہ! ہمیں تھوڑی سی غیرت دے دے۔ حمیت اور غیرت نام کی کوئی چیز ہم مسلمانوں میں نہیں رہی۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد گرامی کے حوالے سے عرض کروں گا۔ مسلم شریف کی روایت ہے ’’المسلم اخو المسلم لا یظلمہ ولا یسلمہ‘‘ کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ دسمبر ۲۰۰۱ء

ملتِ اسلامیہ کی پستی اور اس کے اسباب

روایت ہے مؤطا امام مالک کی، راوی ہیں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، اور ارشادِ گرامی ہے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ فرمایا کہ یاد رکھو! ’’ما نقض قوم العہد الا سلط اللہ علیہم عدوا‘‘ جو قوم بھی عہد توڑ دے، ایک قوم نے وعدہ کیا ہو اور وہ یہ وعدہ توڑ دے، اُس پر اللہ کی طرف سے دشمن کو مسلط کر دیا جاتا ہے۔ ذرا تھوڑا سا توقف کر کے غور فرمائیے کہ کیا ہم نے بھی بحیثیت قوم کوئی وعدہ کیا تھا یا نہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ نومبر ۲۰۰۱ء

علماء کرام اور جدوجہدِ آزادی

اگست کے دوران ملک بھر میں قومی آزادی اور قیامِ پاکستان کے حوالہ سے عمومی اور خصوصی مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے قومی آزادی کے بارے میں چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔ پہلی بات یہ کہ قوموں کی آزادی اور آزاد ریاست کا قیام صرف سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ دین کا تقاضہ اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کے مقاصد میں بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اگست ۲۰۲۶ء

اسلامی حکومت کی تین بنیادیں

اگست شروع ہو چکا ہے اور ہر طرف ’’یومِ آزادی‘‘ منانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں جو ۱۴ اگست کو ملک بھر میں منایا جاتا ہے۔ ہم قیامِ پاکستان سے پہلے بھی یہ کہتے تھے کہ یہ وطن اسلام کے نام پر اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے قائم کر رہے ہیں جبکہ پاکستان قائم ہو جانے کے بعد بھی آٹھ عشروں سے مسلسل یہی کہے جا رہے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر اور اسلام کے لیے بنایا گیا ہے مگر ابھی تک ہم کہنے کے مرحلے میں ہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۲۰۲۶ء

’’آزادئ وطن اور اس کے مقاصد و تقاضے‘‘

چودہ اگست ہمارا یومِ آزادی ہے اور اس موقع پر ملک بھر میں بیانات، تقریبات اور مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے جو آزادی اور قیامِ پاکستان کی عظیم نعمتِ خداوندی پر رب العزت کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان کے شہداء اور مجاہدین کی یاد تازہ کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں، ان میں قیامِ پاکستان کے مقصد کی تکمیل کے لیے جدوجہد کا نئے سرے سے عزم کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اگست ۲۰۲۴ء

امریکہ کے بارے میں خوش فہمی یا غلط فہمی؟

امریکہ کے حادثات کے بعد صورتحال نے جو رُخ اختیار کیا ہے وہ آپ کے سامنے بھی ہے اور میرے سامنے بھی۔ ہمارے صدرِ محترم نے اُس دن ایک تقریر فرمائی ہے اور قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ہم امریکہ کو اپنے ملک میں آنے کی جو دعوت دے رہے ہیں، یا فرمائش کر رہے ہیں، یا جگہ دے رہے ہیں، یا فضا مہیا کر رہے ہیں، یا سہولتیں دے رہے ہیں، یہ دین کا تقاضا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ ستمبر ۲۰۰۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter