رمضان المبارک کی آمد اور دینی حلقوں کے تحفظات

اسلام آباد میں پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عبد الرؤف محمدی کی چٹھہ بختاور کی جامع مسجد میں جمعہ پڑھانے کی پاداش میں گرفتاری و رہائی اور بعض دیگر خطباء کے خلاف اسی نوعیت کی کارروائی سے جمعۃ المبارک کے حوالہ سے سرکاری ہدایات کا مسئلہ سنجیدہ غوروفکر کا متقاضی ہو گیا ہے۔ جبکہ رمضان المبارک کی آمد اور مساجد میں نماز باجماعت اور نماز تراویح کی ادائیگی کی متوقع صورتحال دینی حلقوں کی بے چینی اور اضطراب میں اضافہ کا باعث بن رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اپریل ۲۰۲۰ء

مذہبی جماعتیں اور قومی سیاست

سوال: دینی جماعتیں منتشر کیوں ہیں، سیاست اور عوام میں ان کا کردار مؤثر کیوں نہیں ہوا؟ جواب: ہمارے مشرقی معاشرے میں عوام کی مذہب کے ساتھ غیر متزلزل کمٹمنٹ ہے، معاشرے کا فرد عمل میں جیسا بھی ہو مگر خود کو دین و مذہب کے دائروں کا پابند سمجھتا ہے، اس میں بنیادی کردار علماء اور مذہبی جماعتوں کا ہے کہ انہوں نے آسمانی تعلیمات پر خود بھی حتی الوسع عمل کیا ہے اور عوام کو بھی جوڑے رکھا ہے۔ یہ ایک مستقل پہلو ہے کہ ’’کردار مؤثر کیوں نہیں ہوا‘‘ یہ مؤثر اور فیصلہ کن پوزیشن میں بھی ہو سکتا ہے اور ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۰ء

دینی حلقوں کا بڑھتا ہوا اضطراب

کرونا بحران کی سنگینی اور وسعت میں مسلسل اضافہ کے باوجود احتیاطی تدابیر اور علاج و معالجہ کے انتظامات کے ساتھ ساتھ لاک ڈاؤن سے متاثرہ افراد و طبقات کو ضروری کام کاج کی مختلف شعبوں میں سہولت دی جا رہی ہے مگر مسجد و مدرسہ اور نماز باجماعت و جمعۃ المبارک پر پابندیوں کا دائرہ دن بدن تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ حتٰی کہ رمضان المبارک کے بارے میں ابھی سے سرکاری حلقوں کی طرف سے ہدایات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں کہ سابقہ پابندیوں کے ساتھ ساتھ نماز تراویح کے لیے بھی مسجدوں میں گنجائش نہیں دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اپریل ۲۰۲۰ء

پاکستان کے بارے میں امریکی عزائم کے حوالہ سے وزیر اعظم پاکستان کے نام کھلا خط

جناب وزیر اعظم! یہ عرب باشندے دو چار ہفتوں یا چند مہینوں سے پشاور میں قیام پذیر نہیں ہیں بلکہ دس بارہ سال سے اس علاقہ میں رہ رہے ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو افغانستان میں روسی استعمار کے تسلط اور مسلح جارحیت کے خلاف افغان عوام کے جہاد حریت میں شمولیت کے لیے دنیا کے مختلف ممالک بالخصوص عرب ملکوں سے آئے ہیں اور جہاد کے دینی جذبہ کے ساتھ جہاد افغانستان میں عملاً شریک رہے ہیں۔ یہ عرب نوجوان افغانستان یا حکومت پاکستان پر بوجھ نہیں بنے بلکہ انہوں نے اپنے ممالک سے جہاد افغانستان کے لیے بے پناہ مالی امداد فراہم کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۱۹۹۳ء

بین الاقوامی سائنس کانفرنس یا عالم اسلام کے خلاف گھناؤنی سازش؟

استعماری قوتیں عالم اسلام کو ایٹمی توانائی، ٹیکنالوجی اور سائنس میں اعلی مہارت سے محروم رکھنے کے لیے جو جتن کر رہی ہیں وہ کسی ذی شعور مسلمان سے مخفی نہیں ہے، اور ان قوتوں کے پورے وسائل اس کوشش میں صرف ہو رہے ہیں کہ کوئی مسلمان ملک ان معاملات میں اعلی مہارت اور وسائل کسی صورت بھی حاصل نہ کر سکے۔ اس سلسلہ میں استعماری قوتوں کا ایک طریق واردات یہ بھی ہے کہ اپنی مرضی کے سائنسدان مسلمان ممالک کے سائنسی شعبوں پر مسلط کر دیے جائیں تاکہ ان کے ذریعے عالم اسلام کی سائنسی استعداد و صلاحیت پر نظر بلکہ گرفت رکھی جا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۲ء

الجزائر کے عوام کا تاریخی فیصلہ

الجزائر کے عام انتخابات میں اسلامک سالویشن فرنٹ کی شاندار کامیابی کے بعد عوام کے اس تاریخی فیصلہ کو سبوتاژ کرنے کے لیے جو قوتیں سامنے آئی ہیں انہوں نے اپنے طرز عمل کے ساتھ اس حقیقت کا ایک بار پھر اظہار کر دیا ہے کہ مسلم ممالک میں اس وقت جو طبقے حکمران ہیں انہیں نہ اسلام سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی جمہوریت پر ان کا یقین ہے۔ وہ ان ممالک میں صرف اپنے استعماری آقاؤں کے مسلط کردہ نظام کے محافظ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اور اس نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ کے لیے اسلام یا جمہوریت جس راستے سے بھی سامنے آئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۱۹۹۲ء

’’الشریعہ‘‘ کا نیا دور

ماہنامہ الشریعہ نے اپنے سفر کا آغاز اکتوبر ۱۹۸۹ء میں کیا تھا۔ حالات کی نامساعدت کے باوجود محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ جریدہ اپنی زندگی کے سوا چھ سال اور چھ جلدیں مکمل کر چکا ہے اور زیر نظر شمارہ سے ساتویں جلد کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس دوران الشریعہ نے اسلامائزیشن، مغربی میڈیا اور لابیوں کی اسلام دشمن مہم کے تعاقب، اور عالمی استعمار کی فکری اور نظریاتی یلغار کے حوالے سے دینی حلقوں کی آگاہی و بیداری کے لیے اپنی بساط کی حد تک خدمات سرانجام دی ہیں۔ اور اہل علم و نظر کے ہاں پسندیدگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۶ء

جمعیۃ کے ساتھ متحرک وابستگی کے دور کی تکمیل اور آئندہ کے عزائم اور پروگرام

گزشتہ سال جولائی کے دوران جب میں لندن پہنچا تو آتے ہی جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے قائم مقام امیر حضرت مولانا اجمل خان مدظلہ کی خدمت میں عریضہ ارسال کر دیا تھا کہ جمعیۃ میں اب کوئی متحرک کردار ادا کرنا میرے لیے مشکل ہوگا اس لیے مجھے مرکزی ناظم انتخابات کے منصب سے فوری طور پر سبکدوش سمجھا جائے، اور نومبر میں ہونے والے جماعتی انتخابات میں سیکرٹری اطلاعات یا کسی اور منصب کے لیے میرا انتخاب نہ کیا جائے، میرے لیے اسے قبول کرنا مشکل ہوگا۔ اس کے بعد مولانا محمد اجمل خان صاحب اگست کے دوران برمنگھم میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۱۹۹۳ء

جہاد افغانستان اور ہماری ذمہ داریاں

آپ حضرات مختلف علاقوں سے اپنے معمولات، گھر بار، مصروفیات اور مشاغل چھوڑ کر ایک بے آب و گیاہ وادی کی سنگلاخ چٹانوں میں جمع ہیں۔ آپ کے یہاں جمع ہونے کا ایک مقصد ہے، وہ مقصد آپ دلوں میں لیے جوش و جذبہ کے ساتھ اپنے ایمان کو حرارت دے رہے ہیں، اللہ تعالٰی آپ کے اس مقصد میں آپ کو اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو کامیابی عطا فرمائے، آمین۔ وہ مقصد یہ ہے کہ آج کے دور میں جہاد کا فریضہ مسلمانوں کی عملی زندگی سے نکل چکا ہے، وہ فریضہ مسلمانوں کے عملی زندگی میں دوبارہ آ جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۱۹۹۱ء

تحریک خلافت اور اس کے ناگزیر تقاضے

گزشتہ دنوں خلافت اسلامیہ کے احیا کے جذبہ کے ساتھ دو حلقوں کی طرف سے جدوجہد کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایک طرف تنظیم اسلامی پاکستان کے سربراہ محترم جناب ڈاکٹر اسرار احمد نے ’’تحریک خلافت‘‘ بپا کرنے کا عزم کا اعلان کیا ہے اور دوسری طرف مولانا مفتی غلام مسرور نورانی قادری کی سربراہی میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے خلافت کی بحالی کے لیے علماء اور عوام کو منظم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ جہاں تک خلافت اسلامیہ کے احیا اور بحالی کا تعلق ہے یہ ایک انتہائی مبارک اور مقدس جذبہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۱۹۹۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter