دینی مدارس میں عصری علوم

دینی مدارس کے نصاب و نظام میں عصری علوم کو شامل کرنے کے حوالہ سے مختلف اصحابِ دانش نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور اس مفید مباحثہ کے نتیجے میں بہت سے نئے پہلو سامنے آرہے ہیں جن پر غور و خوض یقیناً اس بحث کو مثبت طور پر آگے بڑھانے کا باعث ہوگا۔ اس سلسلہ میں جامعہ دارالعلوم کراچی کے ایک طالب علم محمد افضل کاسی آف کوئٹہ کا خط پیش خدمت ہے، راقم الحروف کے نام اس خط میں انہوں نے اس مسئلہ پر ایک طالب علم کے طور پر اپنے جذبات و تاثرات پیش کیے ہیں جو یقیناًقابل توجہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۳ء

افغان طالبان اور پاکستانی طالبان ۔ مقاصد و اہداف

افغان طالبان نے جہاد افغانستان کے نظریاتی مقاصد کے حصول اور افغانستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے میدان میں قدم رکھا اور کامیابی حاصل کی جسے القاعدہ کی آڑ میں امریکہ اور نیٹو کی فوجوں نے عسکری یلغار کے ذریعہ ختم کر دیا ۔ ۔ ۔ مگر پاکستانی طالبان کا دائرہ اس سے مختلف ہے، انہوں نے پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے ہتھیار اٹھائے اور ان کا آغاز حکومت پاکستان کے ساتھ نفاذ شریعت کے ایسے معاہدات سے ہوا تھا جو ملک کے دستوری فریم ورک کے اندر تھے، مگر ان سے کیے گئے وعدوں کو عمدًا توڑ دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۳ء

میڈیا کا محاذ اور اسوۂ نبویؐ

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ احزاب سے فارغ ہوئے تو آپ نے مسجد نبویؐ میں ایک اعلان فرمایا کہ اب قریشیوں کو ہمارے خلاف جنگ کے لیے یہاں آنے کی ہمت نہیں ہوگی، اب جب بھی جائیں گے ہم ہی جائیں گے۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ اب یہ لوگ ہمارے خلاف زبان کی جنگ لڑیں گے اور خطابت و شاعری کا محاذ گرم کریں گے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم کریں گے، پروپیگنڈہ کریں گے، کردار کشی کریں گے اور عرب قبائل کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جنوری ۲۰۱۳ء

اسلامی نظام کی جدوجہد اور اس کی حکمتِ عملی

ہمارے ہاں پاکستان کی معروضی صورت حال میں نفاذِ اسلام کے حوالہ سے دو ذہن پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ سیاسی عمل اور پارلیمانی قوت کے ذریعہ اسلام نافذ ہو جائے گا، اور دوسرا یہ کہ ہتھیار اٹھائے بغیر اور مقتدر قوتوں سے جنگ لڑے بغیر اسلام کا نفاذ ممکن نہیں ہے۔ ایک طرف صرف پارلیمانی قوت پر انحصار کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف ہتھیار اٹھا کر عسکری قوت کے ذریعہ مقتدر قوتوں سے جنگ لڑنے کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ میری طالب علمانہ رائے میں یہ دونوں طریقے ٹھیک نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۳ء

مولانا محمد اشرف ہمدانی ؒ

۱۶ جنوری کو صبح نماز فجر کے بعد درس سے فارغ ہوا تھا کہ ڈاکٹر حامد اشرف ہمدانی نے فون پر بتایا کہ ان کے والد محترم مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کا فیصل آباد میں انتقال ہوگیا ہے۔ زبان پر بے ساختہ انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہوا اور ڈاکٹر صاحب موصوف سے تعزیت و تسلی کے چند کلمات کہے، مگر جنازے میں شریک نہ ہو سکا۔ مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کے ساتھ میرا پرانا تعلق تھا، وہ اس زمانے میں گوجرانوالہ کی پل لکڑ والا کی مسجد میں خطیب و امام تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۳ء

مولانا عبد الستار تونسویؒ

حضرت مولانا عبد الستار تونسویؒ بھی چل بسے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ابھی دو ہفتے قبل وہ گوجرانوالہ تشریف لائے تھے۔ ایک پروگرام میں شریک ہونے کے بعد جامعہ نصرۃ العلوم میں آرام فرمایا۔ میں صبح اسباق کے لیے مدرسہ میں پہنچا تو طلبہ نے بتایا کہ حضرت تونسویؒ صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں اور مہمان خانے میں آرام فرما رہے ہیں۔ اسباق سے فارغ ہو کر میں مہمان خانے میں گیا تو وہ لحاف اوڑھے لیٹے ہوئے تھے مگر جاگ رہے تھے۔ میں نے سلام عرض کیا، مصافحہ کیا اور دعا کی درخواست کر کے واپس پلٹ گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۳ء

مولانا فضل الرحمان اور پاکستان میں مسیحی ریاست

مولانا فضل الرحمان سے کافی عرصہ کے بعد گزشتہ جمعرات کو اسلام آباد میں ملاقات ہوئی اور مختلف امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ بدھ کی رات ٹیکسلا میں حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینیؒ آف اٹک کے حلقہ مریدین کا اجتماع تھا جس میں مجھے بھی شرکت اور کچھ معروضات پیش کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا صلاح الدین فاروقی اس اجتماع کے منتظم تھے جو حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ کے خصوصی تربیت یافتہ حضرات میں سے ہیں اور انہی کے رنگ میں علاقہ میں دینی و روحانی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مئی ۲۰۰۰ء

پروفیسر غفور احمد مرحوم

پروفیسر غفور احمد اللہ کو پیارے ہوگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اخبارات میں ان کی وفات کی خبر پڑھ کر ماضی کے بہت سے اوراق ذہن کی یادداشت میں کھلتے چلے گئے۔ ان کا نام پہلی بار ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے بعد سنا جب وہ کراچی سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ میرا تعلق جمعیۃ علماء اسلام پاکستان سے تھا اور اس دور میں جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی میں مخاصمت دینی اور سیاسی دونوں محاذوں پر عروج پر تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۳ء

دینی مدارس کا نصاب و نظام ۔ والد محترمؒ اور عم مکرمؒ کے رجحانات

دینی مدارس کے نصاب و نظام کے بارے میں بہت سے دوست مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ اس حوالے سے آپ کے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کا موقف اور طرز عمل کیا تھا؟ یہ سوال بہت سے ذہنوں میں آیا ہوگا، اس لیے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کے تعلیمی رجحانات اور طریق کار کی بابت کچھ معروضات پیش کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۳ء

دینی مدارس کے نصاب ونظام میں اصلاح

دینی مدارس کے نظام تعلیم اور نصاب میں ضروریاتِ زمانہ کے تناظر میں رد و بدل اور حک و اضافہ کے بارے میں ایک عرصہ سے بحث جاری ہے جو اس لحاظ سے بہت مفید اور ضروری ہے کہ جہاں موجودہ نصاب کی اہمیت و افادیت کے بہت سے نئے پہلو اجاگر ہو رہے ہیں، وہاں عصر حاضر کی ضروریات کی طرف بھی توجہ مبذول ہونے لگی ہے۔ اور صرف توجہ نہیں بلکہ بہت سے اداروں میں عصری تقاضوں کو دینی مدارس کے نصاب و نظام کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کا کام بھی خوش اسلوبی سے جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۳ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter