حضرت سرفراز خان صفدرؒ کے دروس قرآن کی اشاعت کا آغاز

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ کے درس قرآن کریم کے چار الگ الگ حلقے رہے ہیں۔ ایک درس بالکل عوامی سطح کا تھا جو صبح نماز فجر کے بعد مسجد میں ٹھیٹھ پنجابی زبان میں ہوتا تھا۔ دوسرا حلقہ گورنمنٹ نارمل سکول گکھڑ میں جدید تعلیم یافتہ حضرات کے لیے تھا جو سالہا سال جاری رہا۔ تیسرا حلقہ مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں متوسط اور منتہی درجہ کے طلبہ کے لیے ہوتا تھا اور دوسال میں مکمل ہوتا تھا۔ جبکہ چوتھا مدرسہ نصرۃ العلوم میں ۷۶ء کے بعد شعبان اور رمضان کی تعطیلات کے دوران دورۂ تفسیر کی طرز پر تھا جو پچیس برس تک پابندی سے ہوتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۲ء

شرعی احکام و معاملات میں سورج اور چاند کی گردش کا اعتبار

دنیا میں سورج اور چاند کی گردش کے حساب سے دو قسم کے سن رائج ہیں۔ سورج کی گردش کے لحاظ سے جو سن رائج ہے وہ شمسی کہلاتا ہے اور جنوری، فروری اور مارچ وغیرہ مہینے اسی سن کے مہینے ہیں۔ جبکہ چاند کی گردش کے حساب سے جو سن مروج ہے وہ قمری کہلاتا ہے اور محرم، صفر، ربیع الاول وغیرہ اس سن کے مہینے ہیں۔ ہجری سن قمری حساب سے ہے۔ مروجہ شمسی سن عیسوی اور میلادی سن بھی کہلاتا ہے جس کا آغاز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے ہوتا ہے اور ۱۹۹۹ء کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسٰیؑ کی ولادت کو اتنے سال گزر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۱۹۹۹ء

سود کے بارے میں چند گزارشات

شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان کے قابل صد احترام سربراہ اور معزز ارکان سے گزارش ہے کہ سودی نظام کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے تاریخی فیصلے پر نظر ثانی کا فیصلہ کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات، جناب نبی اکرمؐ اور خلفاء راشدین کے تعامل، امت کے ہر دور کے جمہور علما وفقہا کے فیصلوں‘ قیام پاکستان کے نظریاتی مقاصد اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ارشادات وتصریحات کو سامنے رکھیں اور نوآبادیاتی استحصالی نظام کے منحوس شکنجے سے مظلوم پاکستانی قوم کو نجات دلانے والے تاریخی فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۲ء

تحریک ختم نبوت کے مطالبات

امریکی کانگریس کی طرف سے قادیانیوں کو مسلمان تسلیم کرنے کے مطالبہ کے فوراً بعد مسلم اور غیر مسلم ووٹروں کے الگ الگ اندراج اور ووٹر فارم میں مذہب کا خانہ اور عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو عملاً قادیانیوں کو مسلمانوں میں شامل کرنے اور سرکاری ریکارڈ میں مسلمانوں اور قادیانیوں کا فرق ختم کر دینے کے مترادف ہے جو اسلامیان پاکستان کے لیے قطعی طور پر ناقابل برداشت ہے جبکہ یہ حلف نامہ اور مذہب کا خانہ نیز مسلم اور غیر مسلم ووٹروں کا الگ الگ اندراج بھٹو حکومت کے دور سے چلا آ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۲ء

سیرت نبویؐ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم

باطل مذاہب پر حق مذہب کی بالادستی کے لیے عسکری جنگ لڑنے کا آغاز حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا بلکہ جہاد کا یہ عمل آسمانی ادیان میں پہلے سے تسلسل کے ساتھ چلا آ رہا ہے، اور جناب نبی اکرم نے اس حوالے سے تاریخ میں کسی نئے عمل اور اسلوب کا اضافہ کرنے کے بجائے آسمانی مذاہب کی ایک مسلسل روایت کو برقرار رکھا ہے۔ چنانچہ جس طرح قرآن کریم میں جہاد اور مجاہدین کا تذکرہ پایا جاتا ہے، اسی طرح بائبل میں بھی ان مجاہدین اور مذہبی جنگوں کا ذکر موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مئی ۲۰۰۲ء

امریکی مطالبات اور پاکستان کی پوزیشن

مغربی ممالک اور اداروں کا موقف یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور کی یہ شقیں بین الاقوامی قوانین کا درجہ رکھتی ہیں اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے ممبر کی حیثیت سے اس منشور پر دستخط کر کے اس کی پابندی کی ذمہ داری قبول کر رکھی ہے۔ اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور توہین رسالت پر موت کی سزا کے قوانین ان شقوں میں بیان کردہ آزادیوں اور حقوق کے منافی ہیں، اس لیے پاکستان کو اپنے حلف اور دستخط کے مطابق ان قوانین پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور انہیں بین الاقوامی قوانین سے ہم آہنگ کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۲ء

جمہوریت، مسلم ممالک اور امریکہ

امریکہ مسلم ممالک میں جمہوریت کو فروغ دینے میں ناکامی کا ذمہ دار ہے، بلکہ دنیا میں جمہوریت کے فروغ کی راہ میں امریکہ خود سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اور اس کی حتی الوسع یہ کوشش ہے کہ دنیا کے کسی بھی مسلمان ملک میں جہاں کے عام مسلمان اسلام کے ساتھ کمٹ منٹ رکھتے ہیں اور اپنی اجتماعی زندگی میں اسلامی احکام وقوانین کی عمل داری کے واضح رجحان سے بہرہ ور ہیں، وہاں جمہوریت کا راستہ روکا جائے، عوام کو حکومتوں اور ان کی پالیسیوں کی تشکیل سے دور رکھا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ فروری ۲۰۰۲ء

قرآن فہمی میں سنتِ نبویؐ کی اہمیت

قرآن کریم کے درس کے حوالہ سے قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ غلط فہمی آج کل عام ہو رہی ہے کہ قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے صرف عربی زبان جان لینا کافی ہے اور جو شخص عربی زبان پر، گرامر پر اور لٹریچر پر عبور رکھتا ہے وہ براہِ راست قرآن کریم کی جس آیت کا جو مفہوم سمجھ لے وہی درست ہے۔ یہ گمراہی ہے اور قرآن فہمی کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے اس لیے اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مئی ۱۹۹۹ء

تدریس فقہ کے چند ضروری تقاضے

سب سے پہلے فقہ کے مفہوم و مقصد کے حوالے سے کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ قرن اول میں ’’فقہ‘‘ اور ’’تفقہ‘‘ کا لفظ جس مقصد کے لیے اور جس معنٰی میں بولا جاتا تھا وہ آج کے اس مفہوم سے بہت زیادہ وسیع تھا جس پر ہمارے اِس دور میں فقہ کا اطلاق ہوتا ہے۔ ’’التوضیح والتلویح‘‘ میں حضرت امام ابوحنیفہؒ کے حوالے سے فقہ کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے ’’معرفۃ النفس ما لہا و ما علیہا‘‘ کہ ایک انسان اپنے حقوق و فرائض کی پہچان حاصل کرے۔ حقوق و فرائض کا یہ دائرہ دین کے تمام شعبوں کو محیط ہے اس لیے فقہ اس دور میں دین کے مجموعی فہم کو کہا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ فروری ۲۰۰۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter