مقالات و مضامین

حالات حاضرہ ۔ علمائے دیوبند کا اجتماعی موقف

ہمارے ملک کے بہترین وسائل ان عوامی امنگوں کو دور کرنے اور ان کے اسباب کا ازالہ کرنے کی بجائے امریکہ کی مسلط کی ہوئی جنگ میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے خرچ ہو رہے ہیں۔ جبکہ امریکہ کی طرف سے ہماری سرحدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر کے ان ڈرون حملوں کا سلسلہ برابر جاری ہے جن میں ہمارے بے گناہ شہریوں، عورتوں او ر بچوں کی بہت بڑی تعداد شہید ہو کر بستیاں اجڑ چکی ہیں۔ اور یہ بات واضح ہے کہ امریکہ نے اپنی بالادستی قائم کرنے اور عالم اسلام کے وسائل پر قبضہ کرنے اور اسلام اور امت مسلمہ کے تہذیب و تمدن کو تباہ کرنے کی کاروائیوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۰ء

دستوری ترامیم اور حکمران طبقے کا رویہ

ستم بالائے ستم یہ کہ ہماری رولنگ کلاس کے اوپر ایک اور ’’رولنگ کلاس‘‘ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کی صورت میں مسلط ہے جو پہلے ان دیکھی اور خفیہ ہوتی تھی، اب کھلم کھلا ملک کے ہر شہری کو دکھائی دے رہی ہے۔ اور صورتحال یہ ہے کہ دستور و قانون کی جو صورت ان دونوں کے مفاد میں ہوتی ہے اور اس پر عملدرآمد سے ان میں سے کسی کا مفاد مجروح نہیں ہوتا، وہ کسی درجے میں عمل میں آجاتی ہے۔ لیکن جمہوریت، رائے عامہ اور دستور وقانون کی جو تعبیر ان میں سے کسی کی ترجیحات کے لیے رکاوٹ بنتی ہے، وہ ان دیکھے فریزر میں منجمد ہو کر رہ جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۰ء

مسلکی اختلافات اور امام اہل سنتؒ کا ذوق ومزاج

آج کی نشست میں، میں مسلکی اختلافات ومعاملات کے حوالے سے والد محترم، امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور ان کے دست راست حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمہما اللہ کے ذوق وفکر اور طرز عمل کا ایک سرسری خاکہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں، اس لیے کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران پورے برصغیر میں حضرت والد محترمؒ کو علماء دیوبند کے مسلکی ترجمان کی حیثیت حاصل رہی ہے اور پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے دیوبندی علما انھیں اپنا مسلکی اور علمی راہ نما سمجھتے آ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۰ء

دینی جدوجہد کے عصری تقاضے اور مذہبی طبقات

انقلاب ایران کے بعد مجھے علماء کرام اور وکلا کے ایک وفد کے ساتھ ایران جانے کا موقع ملا جس میں مولانا منظور احمد چنیوٹی اور حافظ حسین احمد بھی شامل تھے۔ یہ ۱۹۸۷ء کی بات ہے۔ اس موقع پر ایک مجلس میں یہ سوال سامنے آیا کہ کیا پاکستان میں کوئی عالم دین اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ خمینی صاحب کی طرح ایک عوامی انقلاب کی قیادت کر سکے؟ میں نے عرض کیا کہ ایک نہیں بلکہ ہمارے پاس دو شخصیات ایسی موجود تھیں جو خمینی بن سکتی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۰ء

مساجد ومدارس کے ملازمین کے معاشی مسائل

مساجد و مدارس کے ملازمین کو تنخواہیں اور دیگر مراعات ان کے معاشرتی مقام سے بہت کم ملتی ہیں اور ان کی بنیادی ضروریات کے حوالے سے یہ بہت ہی کم ہیں۔ یہ ایک معروضی حقیقت ہے جس کا چند بڑے اور معیاری اداروں کو چھوڑ کر، جن کا تناسب مجموعی طور پر شاید پانچ فیصد بھی نہ ہو، ملک میں ہر جگہ مشاہدہ کیا جا سکتا ہے- لیکن امام، خطیب، مدرس، مفتی، حافظ، قاری اور موذن قسم کے لوگ اپنی تربیت کے لحاظ سے تنخواہ اور معاشی مفادات کے لیے احتجاج، ہڑتال، جلوس، مظاہرہ اور بائیکاٹ وغیرہ کے عادی نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۰ء

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علماء

علماء کرام سے ملک کے بعض حلقوں کا یہ مسلسل مطالبہ ہے کہ وہ خود کش حملوں کے خلاف اجتماعی فتویٰ جاری کریں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومتی پالیسی کی حمایت کا دو ٹوک اعلان کریں، لیکن موجودہ صورت حال میں یہ بات بہت مشکل ہے کہ علماء کرام حکومت کی پالیسیوں کی آنکھیں بند کر کے حمایت کریں اور نہ ہی حکومت کو اس کی توقع کرنی چاہیے، اس لیے کہ جو بات جس حد تک درست ہوگی، اس کی ضرور حمایت کی جائے گی، لیکن جو بات درست نہیں ہوگی، اس کی حمایت نہیں کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۰ء

مذہبی طبقات، دہشت گردی اور طالبان ۔ ڈاکٹر یوگندر سکند کا سوالنامہ

جو دینی جماعتیں اور افراد پر امن طور پر اور سیاسی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے کام کر رہی ہیں، وہ بھی انہی دینی مدارس کے تعلیم یافتہ ہیں اور جو لاکھوں علماء کرام، مدرسین اور خطبا و ائمہ ملک بھر میں امن و سلامتی کے ماحول میں دینی خدمات کی انجام دہی میں مصروف ہیں انہوں نے بھی انہی مدارس میں تعلیم پائی ہے۔ یہ حضرات نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں پر امن طور پر تعلیمی اور دعوتی خدمات بجا لا رہے ہیں۔ جبکہ وہ لوگ جو مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں، ان کا تناسب آٹے میں نمک کا بھی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۹ء

ارباب علم ودانش کی عدالت میں ماہنامہ الشریعہ کا مقدمہ

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے آرگن ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ کا شکر گزار ہوں کہ اس کے گزشتہ شمارے میں ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی عمومی پالیسی پر نقد وتبصرہ کرتے ہوئے کچھ ایسے امور کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جن کی وضاحت کے لیے قلم اٹھانا ضروری ہو گیا ہے۔ چنانچہ ’’وفاق المدارس‘‘ کے تفصیلی تبصرہ کے جواب کے طور پر نہیں، بلکہ توجہ دلانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اہم امور کی وضاحت کے لیے یا ’’ارباب علم ودانش کی عدالت میں ’الشریعہ‘ کامقدمہ‘‘ کے طورپر کچھ معروضات پیش کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۹ء

مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ

گزشتہ دنوں میرے بہنوئی مولانا قاری خبیب احمد عمر کا انتقال ہو گیا ہے جو ایک متحرک دینی جماعت ’’تحریک خدام اہل سنت‘‘ کے صوبہ پنجاب کے امیر اور ملک کے معروف دینی ادارہ’’ جامعہ تعلیم الاسلام‘‘ جہلم کے مہتمم تھے۔ وہ ایک ماہ قبل برطانیہ کے تبلیغی دورے پر گئے اور نوٹنگھم میں اپنی بیٹی کے ہاں قیام پذیر تھے کہ انھیں نمونیہ کی تکلیف ہوگئی۔ اسی حالت میں تکلیف کے باوجود انہوں نے بریڈ فورڈ کی ایک مسجد میں جمعہ پڑھایا جس سے تکلیف بڑھ گئی۔ انہیں برمنگھم کے ایک ہسپتال میں لے جایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۹ء

حدیث وسنت ۔ غامدی صاحب کا موقف

اگر صرف اتنی سی بات ہے تو اصطلاحات و تعبیرات کے اس فرق میں یہ پہلو ضرور ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ نئی اصطلاح اور جداگانہ تعبیر سے کیا نئی نسل کے ذہن میں کوئی کنفیو ژن تو پیدا نہیں ہو رہا ہے۔ کیونکہ اس وقت ہماری نئی نسل مختلف اطراف سے پھیلائے جانے والے کنفیوژنز کی زد میں ہیں، اسے اس ماحول سے نکالنا ایک مستقل دینی ضرورت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ایسے ماحول میں سنجیدہ اہل علم کو نئی نسل کی ذہنی اور فکری الجھنوں میں اضافہ کرنے کی بجائے ان میں کمی کرنے کا اسلوب اختیار کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۹ء

چند روز ہانگ کانگ میں

ہانگ کانگ کی مساجد کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی دعوت پر ’’تذکرہ خیر الوریٰ‘‘ کے عنوان سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالے سے منعقد ہونے والے متعدد اجتماعات میں شرکت کے لیے ۵ مارچ سے ۹ مارچ تک ہانگ کانگ میں وقت گزارنے کا موقع ملا۔ شجاع آباد ضلع ملتان میں ہمارے ایک بزرگ دوست مولانا رشید احمد تھے جن کا قائم کردہ مدرسہ جامعہ فاروقیہ ایک عرصہ سے تعلیمی ودینی خدمات سرانجام دے رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ مارچ ۲۰۰۹ء

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ

مالاکنڈ ڈویژن میں یہ مطالبہ گزشتہ دو عشروں سے جاری تھا کہ وہاں مروجہ عدالتی سسٹم کی بجائے شرعی عدالتوں کا نظام قائم کیا جائے اور اس کے لیے مولانا صوفی محمد کی سربراہی میں ’’تحریک نفاذ شریعت محمدی‘‘ نے ایک عوامی تحریک منظم کر رکھی تھی جس کے نتیجے میں ایک مرحلے میں کم وبیش تیس ہزار کے لگ بھگ مسلح افراد مینگورہ کی سڑکوں پر کئی دنوں تک دھرنا دیے بیٹھے رہے تھے اور ان کا مطالبہ یہ تھا کہ انھیں شرعی عدالتی نظام فراہم کیا جائے جہاں قاضی حضرات قرآن وسنت کے مطابق ان کے مقدمات کے فیصلے کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۹ء

خودکش حملہ ۔ ڈاکٹر محمد فاروق خان کے ارشادات

خود کش حملہ ایک جنگی ہتھیار ہے جو مظلوم قومیں ہمیشہ سے استعمال کرتی آرہی ہیں۔ یہ ہتھیار جاپانیوں نے بھی استعمال کیا تھا، جنگ عظیم میں برطانیہ نے بھی استعما ل کیا تھا، اور ۱۹۶۵ء کی جنگ میں پاک فوج نے بھی چونڈہ کے محاذ پر استعمال کیا تھا۔ دوسرے جنگی ہتھیاروں کی طرح یہ بھی میدان جنگ میں استعمال ہو تو جائز ہے، لیکن پرامن ماحول میں ا س کا استعمال ناجائز ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۹ء

غامدی صاحب کے تصور سنت کے حوالہ سے بحث ومکالمہ

مجھے اس امر پر اصرارنہیں ہے کہ غامدی صاحب کی عبارات سے سنت کا جو مفہوم میں نے سمجھا ہے، وہی غامدی صاحب کی مراد بھی ہے۔ اور اسی لیے میں نے ان سے وضاحت کی درخواست کی ہے، لیکن یہ وضاحت غامدی صاحب کو خود کرنی چاہیے۔ ان سے ہٹ کر کسی اور دوست کی وضاحت ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ اگر محترم جاوید غامدی صاحب بذات خود اس بحث میں شریک ہوتے ہیں تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے اور ان کے پورے احترام کے ساتھ اس بحث کو آگے بڑھائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۹ء

جہاد وقتال کے شرعی احکام اور بین الاقوامی قانون

ایک طرف ایک منظم عالمی نظام ہے جسے دنیا کے اکثر ممالک کی حمایت اور پشت پناہی حاصل ہے اور اس بین الاقوامی چھتری کے نیچے بین الاقوامی قوانین، عالمی معاہدات اور معاملات کاایک مربوط سسٹم موجود ومتحرک ہے جسے مسلم دنیا کی کم وبیش سب حکومتیں تسلیم کرتی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف عالم اسلام کے وہ دینی، فکری اور علمی حلقے ہیں جو دنیا پر اسلام کے غلبہ اور مسلم معاشروں میں اسلامی شریعت کے نفاذ و ترویج کے لیے کوشاں ہیں اور پورے خلوص کے ساتھ اس کے لیے ہر نوع کی قربانی پیش کرتے چلے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۹ء

’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف جنگ اور پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد

ملک میں امن وامان کی صورت حال کے حوالے سے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ’’ دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ‘‘ کے عنوان سے سرفہرست ہے اور اس جنگ کا پھیلاؤ جوں جوں بڑھتا جا رہا ہے، عوام کے اضطراب میں اضافے کے ساتھ ساتھ قومی خود مختاری اور ملکی سا لمیت کے بارے میں سوالات میں بھی شدت پیدا ہو رہی ہے۔ یہ ’’دہشت گردی ‘‘ کیا ہے اور اس کے خلاف جنگ کے اہداف ومقاصد کیا ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۸ء

اسلامی شریعت کی تعبیرو تشریح: علمی وفکری سوالات

آج کے نوجوان اہل علم جو اسلام کے چودہ سو سالہ ماضی اور جدید گلوبلائزیشن کے ثقافتی ماحول کے سنگم پر کھڑے ہیں، وہ نہ ماضی سے دست بردار ہونا چاہتے ہیں اور نہ مستقبل کے ناگزیر تقاضوں سے آنکھیں بند کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ اس کوشش میں ہیں کہ ماضی کے علمی ورثہ کے ساتھ وابستگی برقرار رکھتے ہوئے قدیم و جدید میں تطبیق کی کوئی قابل قبول صورت نکل آئے۔ مگر انھیں دونوں جانب سے حوصلہ شکنی کا سامنا ہے اور وہ بیک وقت ’قدامت پرستی‘ اور ’تجدد پسندی‘ کے طعنوں کا ہدف ہیں۔ مجھے ان نوجوان اہل علم سے ہمدردی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۸ء

امریکہ میں مسلمانوں کی دینی سرگرمیاں

میں ۲ اگست کو نیو یارک پہنچا تھا۔ ۹ اگست تک کوئنز کے علاقے میں واقع دینی درس گاہ دار العلوم نیو یارک کے سالانہ امتحانات میں مصروف رہا جہاں درس نظامی کا وہی نصاب پڑھایا جاتا ہے جو ہمارے ہاں کے مدارس میں مروج ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں بیسیوں مدارس اس نصاب کے مطابق نئی نسل کی دینی تعلیم وتدریس میں سرگرم عمل ہیں۔ طلبہ کے مدارس بھی ہیں اور طالبات کے مدارس بھی ہیں۔ بنیادی ڈھانچہ اور اہداف وہی ہیں کہ دینی تدریس وتعلیم اور امامت وخطابت کے لیے رجال کار تیار کیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۸ء

سزائے موت کے خاتمے کی بحث

دستور پاکستان میں اسلام کو ملک کا سرکاری دین قرار دیا گیا ہے، قرآن وسنت کے احکام وقوانین کے مکمل نفاذ کی ضمانت دی گئی ہے اور قرآن وسنت کے منافی کوئی قانون نافذ نہ کرنے کا واضح طور پر وعدہ کیا گیا ہے۔ دستور پاکستان کی ان دفعات کی موجودگی میں ملک کے کسی بھی ایوان میں پیش کیا جانے والا ایسا بل دستور سے متصادم ہوگا جس میں سزاے موت ختم کرنے کی بات کی گئی ہو، کیونکہ قرآن وسنت میں بہت سے جرائم کے لیے موت کی سزا مقرر کی گئی ہے اور اسے ایک اسلامی ریاست کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۸ء

اسلام اور شہری حقوق و فرائض: غیر مسلم معاشرے کے تناظر میں ۔ ایک سوالنامہ

دنیا کے مختلف ممالک سے جو مسلمان نقل مکانی کر کے مغربی ممالک میں گئے ہیں اور انھوں نے ان ممالک کو اپنا وطن بنا لیا ہے تو جہاں وہ ان ممالک کے وسائل اور سہولتوں سے استفادہ کر رہے ہیں، وہاں اس سوسائٹی کا بھی ان پر حق ہے کہ وہ اسے کچھ دیں۔ اس ملک اور سوسائٹی نے مسلمانوں کو بہت کچھ دیا ہے اور وہ اسے بھرپور طریقے سے وصول کر رہے ہیں، لیکن صرف لینا اور لیتے ہی چلے جانا انصاف کی بات نہیں ہے اور اس سوسائٹی کو کچھ دینا بھی ان کی ذمہ داری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۸ء

غامدی صاحب کا تصور سنت

محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے تصور سنت کے بارے میں ’الشریعہ‘ کے صفحات میں ایک عرصے سے بحث جاری ہے اور دونوں طرف سے مختلف اصحاب قلم اس سلسلے میں اپنے خیالات پیش کر رہے ہیں۔ راقم الحروف نے بھی بعض مضامین میں اس کا تذکرہ کیا تھا اور یہ عرض کیا تھا کہ غامدی صاحب نے سنت نبوی کے بارے میں جو انوکھا تصور پیش کیا ہے، اس کے جزوی پہلوؤں پر گفتگو کے ساتھ ساتھ اس کی اصولی حیثیت کے بارے میں بھی بحث و مکالمہ ضروری ہے تاکہ وہ جس تصور سنت سے آج کی نسل کو متعارف کرانا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۸ء

مسلمانوں کے اختلافات: ایک نو مسلم کے تاثرات

مورس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ کسی مسلمان کی دعوت پر مسلمان نہیں ہوا اور نہ ہی کسی مسلمان کو دیکھ کر اور اس سے متاثر ہو کر مسلمان ہوا ہے، وہ صرف اور صرف قرآن کریم کے مطالعہ سے مسلمان ہوا ہے۔ بلکہ دوسرے جن نومسلموں کو وہ جانتا ہے، ان میں سے کوئی بھی کسی مسلمان کی دعوت پر یا اس سے متاثر ہو کر مسلمان نہیں ہوا، سب کے سب قرآن کریم پڑھ کر مسلمان ہوئے ہیں۔ البتہ مسلمان ہونے کے بعد مسلمانوں نے ان نومسلموں کو الجھایا ضرور ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۸ء

اک مرد حر تھا خلد کی جانب رواں ہوا

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی قدس اللہ سرہ العزیز کی وفات اور ان کے جنازے میں شریک نہ ہو سکنے کے صدمہ نے بے ساختہ چند اشعار کا روپ دھار لیا تھا جو بعض جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ اور اب ایک طویل عرصہ کے بعد عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کی وفات پر ان کے ساتھ عقیدت ومحبت مندرجہ ذیل اشعار کی شکل میں نوک قلم پر آگئی ہے۔ ’’اشعار موزوں ہو گئے‘‘ کا جملہ عمداً استعمال نہیں کر رہا کہ وزن، قافیہ اور ردیف کے فن سے قطعی طو رپر نا آشنا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۸ء

حضرت صوفی عبد الحمیدؒ سواتی

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے بانی حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی نور اللہ مرقدہ ۶ اپریل ۲۰۰۸ء کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے چھوٹے بھائی اور راقم الحروف کے چچا محترم تھے۔ انھوں نے ہجری اعتبار سے ۹۴ برس کے لگ بھگ عمر پائی اور تمام عمر علم کے حصول اور پھر اس کے فروغ میں بسر کر دی۔ وہ اس دور میں ماضی کے ان اہل علم وفضل کے جہد وعمل، زہد وقناعت اور علم وفضل کا نمونہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۸ء

اسلامی سربراہ کانفرنس کا مایوس کن اجلاس

اسلامی کانفرنس تنظیم کے مذکورہ سربراہی اجلاس میں عالم اسلام کے دیگر مسائل بھی زیر بحث آئے جن میں فلسطین کی صورت حال کو بطور خاص زیرغور لایا گیا۔ لیکن ان مسائل میں بھی رسمی خطابات اور قراردادوں سے ہٹ کر کوئی سنجیدہ پیش رفت اور لائحہ عمل سامنے نہیں آیا جس سے مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔ اور ہمارے خیال میں مسلم حکومتوں سے دنیا بھرکے مسلم عوام کی اسی مایوسی سے اس ردعمل نے جنم لیا ہے جسے انتہا پسندی، دہشت گردی اور بنیاد پرستی قرار دے کر اس کے خلاف عالمی سطح پر باقاعدہ جنگ لڑی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۸ء

عام انتخابات کے نتائج اور متحدہ مجلس عمل کا مستقبل

عوام کے دینی جذبات کی ترجمانی، دینی حلقوں کے درمیان مفاہمت وتعاون کو وسعت دینے اور ان کی احتجاجی قوت کو منظم و استعمال کرنے کے لیے متحدہ مجلس عمل جو کچھ کر سکتی تھی وہ نہیں ہوا، اور متحدہ مجلس عمل کی پالیسی ترجیحات میں آہستہ آہستہ معروضی اور روایتی سیاست کا غلبہ ہوتا چلا گیا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر متحدہ مجلس عمل اور دینی جماعتوں نے بھی معروضی سیاست ہی کو اوڑھنا بچھونا بنانا ہے تو اس کے لیے دوسری روایتی سیاسی جماعتیں ہی کافی ہیں اور وہ ان سے زیادہ اچھے انداز میں معروضی سیاست کے تقاضے پورے کر رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۸ء

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی عدالت

ہمیں مولانا صوفی محمد اور مولانا فضل اللہ کی تحریکوں کے طریق کار سے اتفاق نہیں ہے اور ہم اس ملک میں نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔ لیکن ہمیں ان کے اس موقف سے اتفاق ہے کہ باقی پاکستان میں اسلامی قوانین کانفاذ جب بھی عمل میں آئے، مگر ان کی سا بقہ ریاست سوات کی حدود میں جہاں پاکستان کے ساتھ اس کے الحاق سے پہلے تک شرعی قوانین اور قاضی عدالتیں موجود تھیں، کم از کم وہاں تو حسب سا بق شرعی عدالتوں کی عمل داری قائم کر دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۸ء

مسئلہ فلسطین اور مغربی ممالک کا کردار

امریکہ اور اس کی قیادت میں مغربی حکمران مشرق وسطیٰ میں صرف ایسا امن چاہتے ہیں جس میں اسرائیل کے اب تک کے تمام اقدامات اور اس کے موجودہ کردار کو جائز تسلیم کر لیا جائے اور اس کی بالادستی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے فلسطینی عوام خود کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔ اور اسرائیل جو کچھ بھی کرے فلسطینی عوام اس کے خلاف کسی بھی قسم کی مزاحمت سے ہمیشہ کے لیے دست برداری کا اعلان کر دیں۔ اگر صدر بش فلسطینیوں کو امن وسلامتی کے اسی نکتے پر لانا چاہتے ہیں تو ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۸ء

لاہور میں ایک چرچ کا انہدام

۱۸ دسمبر ۲۰۰۷ء کو روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق لاہور چرچ کونسل کے سیکرٹری جناب مشتاق سجیل بھٹی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گارڈن ٹاؤن لاہور کے ابوبکر بلاک میں ۱۹۶۳ء سے قائم ایک چرچ کو، جو ’’چرچ آف کرائسٹ‘‘ کے نام سے مسیحیت کی مذہبی سرگرمیوں کا مرکز تھا، ایک بااثر قبضہ گروپ نے ۱۱ دسمبر کو اس پر زبردستی قبضہ کرنے کے بعد ۱۶ دسمبر کو مسمار کر دیا ہے اور اسے ایک کمرشل پلاٹ کی شکل دے دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۸ء

وکلا تحریک کے قائدین کی خدمت میں چند معروضات

ہم چودھری اعتزاز احسن صاحب کے اس عزم اور اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور دستور کی بالادستی اور عدلیہ کے محترم ججوں کی بحالی کے لیے وکلا کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ اسی حوالے سے ہم دو گزارشات وکلا کی اس تحریک کی قیادت، بالخصوص چودھری اعتزاز احسن صاحب کی خدمت میں پیش کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ ایک یہ کہ قوم کے دوسرے طبقات کو ساتھ لیے بغیر صرف وکلا کے فورم پر اس تحریک کو منظم کرنے اور آگے بڑھانے کی حکمت عملی ہمارے نزدیک محل نظر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۸ء

عام انتخابات ۲۰۰۸ء اور متحدہ مجلس عمل کا مستقبل

بادی النظر میں قبائلی علاقوں میں دینی مدارس اور مجاہدین کے خلاف امریکی آپریشن، حدود آرڈیننس میں کی جانے والی خلاف شریعت ترامیم، جامعہ حفصہ و لال مسجد کے سانحہ کے بارے میں متحدہ مجلس عمل کی مصلحت آمیز روش، اور صوبہ سرحد میں نفاذ اسلام کے حوالے سے کوئی نظر آنے والی پیش رفت نہ کر سکنے کی صورت حال نے دینی جماعتوں کے اس متحدہ محاذ کے بارے میں دینی حلقوں میں مایوسی کو جنم دیا ہے۔ جبکہ سیاسی حلقوں میں سترہویں آئینی ترمیم کی منظوری میں متحدہ مجلس عمل کا کردار ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۸ء

محترمہ بے نظیر بھٹو کا الم ناک قتل

پاکستان پیپلز پارٹی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے سیاسی افکار ونظریات، اہداف ومقاصد اور پالیسیوں سے ملک کے بہت سے لوگوں کو اختلاف تھا اور خود ہمیں بھی ان کی بہت سی باتوں سے اختلاف رہا ہے۔ لیکن اختلاف کے اظہار کا یہ طریقہ کہ مخالف کی جان لے لی جائے اور اس طرح کے خودکش حملوں کے ذریعے اسے راستے سے ہٹا دیا جائے، نہ صرف یہ کہ سراسر ناجائز اور ظلم ہے بلکہ ملک وقوم کے لیے بھی انتہائی خطرناک اور تباہ کن ہے اور اس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۸ء

جامعہ حفصہ کا سانحہ ۔ کچھ پس پردہ حقائق

ہماری رائے میں افغانستان سے روسی استعمار کے انخلا کے بعد سے ہی پاکستان کے ان ہزاروں نوجوانوں کی فہرستوں کی تیاری اور ان کی درجہ بندی شروع ہو گئی تھی جنھوں نے افغانستان کی جنگ میں حصہ لیا تھا اور ٹریننگ حاصل کی تھی۔ اسی وقت سے یہ حکمت عملی بھی طے کر لی گئی تھی کہ مرحلہ وار مختلف علاقوں میں ان مجاہدین کو کسی نہ کسی طرح اشتعال دلا کر سامنے لایا جائے اور ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ یہ ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو جائیں اور پھر فوجی آپریشن کے ذریعے ان کی قوت کو ختم کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم دسمبر ۲۰۰۷ء

پاکستانی حکمرانوں اور دانش وروں کے لیے لمحہ فکریہ

جمہوریہ ترکی کے نومنتخب صدر عبد اللہ گل نے ۵۵۰ رکنی ترک پارلیمنٹ میں ۳۳۹ ووٹ لے کر منتخب ہونے کے بعد اپنے اسلامی ایجنڈے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کا کوئی اسلامی ایجنڈا نہیں ہے۔ وہ کمال اتاترک کی تعلیمات کے مطابق سیکولر روایات سے مخلص رہیں گے۔ بی بی سی کے مطابق عبد اللہ گل نے کہا کہ انھوں نے سیاسی اسلام سے اپنے تمام رشتے توڑ لیے ہیں۔ ایک اور خبر کے مطابق ترکی کے نومنتخب صدر عبد اللہ گل کو فوج کی طرف سے سرد مہری کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۷ء

مذہب کا ریاستی کردار اور مغربی دانش ور

اقوام متحدہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سفیر زلمے خلیل زاد نے آسٹریا کے ایک اخبار ’’آئی پریس‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے ابتر ہوتی ہوئی صورت حال تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال ابتری کے حوالے سے ایسے نقطے پر پہنچ چکی ہے جس نقطے پر بیسویں صدی کے پہلے نصف حصے میں یورپ کی صورت حال تھی اور یہ صورت حال دو عالمی جنگوں کا باعث بنی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۷ء

سانحہ لال مسجد اور شریعت وحکمت کے تقاضے

پچیس برس قبل افغانستان کو روسی استعمار کی مسلح مداخلت اور معاشرہ میں لادینیت کے فروغ کے سنگین مسئلہ کا سامنا تھا، جس کا حل افغان علما اور عوام نے مسلح جدوجہد کی صورت میں نکالا اور روس مخالف بین الاقوامی حلقوں کے تعاون سے اس میں کامیابی حاصل کر کے ایک مرحلے میں طالبان کی حکومت کے نام سے اسلامی امارت بھی قائم کر لی۔ لیکن اس مرحلے تک پہنچنے میں بھرپور تعاون کرنے والے بین الاقوامی حلقوں نے اس سے آگے ان کی کسی بھی پیش رفت کو خود اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے ان کا راستہ بزور قوت روک دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۷ء

مذہبی شدت پسندی، حکومت اور دینی جماعتیں

جامعہ حفصہ اور لال مسجد اسلام آباد کے خلاف سرکاری فورسز کے مسلح آپریشن نے پورے ملک کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک عرصہ سے مختلف حلقوں کی طرف سے یہ کوشش جاری تھی کہ کسی طرح یہ تصادم رک جائے اور خونریزی کا وہ الم ناک منظر قوم کو نہ دیکھنا پڑے جس نے ملک کے ہر فرد کو رنج و صدمہ کی تصویر بنا دیا ہے، لیکن جو ہونا تھا وہ ہوا، بہت برا ہوا اور بہت برے طریقے سے ہوا۔ اس سے کچھ لوگوں کو ضرور تسکین حاصل ہوئی ہوگی جو حکومت کی رٹ بحال کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت اور رعب ودبدبہ مسلط کرنا بھی ضروری سمجھ بیٹھے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۷ء

جہاد کے بارے میں پوپ بینی ڈکٹ کے ریمارکس

اس کے ساتھ ساتھ پوپ بینی ڈکٹ نے قرآن کے تصور جہاد کو بھی گفتگو کا موضوع بنایا اور چودھویں صدی کے ایک بازنطینی مسیحی حکمران عمانویل دوم پیلیو لوگس کے ایک مکالمہ کے حوالے سے ایسی باتیں کہہ دیں جو نہ صرف یہ کہ جہاد کے جذبہ وتصور کو غلط رنگ میں پیش کرنے کے مترادف ہیں۔ مذکورہ مکالمے میں مسیحی حکمران نے کہا تھا: ’’مجھے دکھاؤ کہ محمد نے نئی چیز کیا پیش کی ہے؟ تمھیں صرف ایسی چیزیں ملیں گی جو بری اور غیر انسانی ہیں، جیسا کہ محمد کا یہ حکم کہ جس مذہب کی انھوں نے تبلیغ کی ہے، اسے تلوار کے ذریعے سے پھیلایا جائے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

کتوبر ۲۰۰۶ء

منکرات وفواحش کا فروغ اور ارباب دانش کی ذمہ داری

مساج پارلروں کا معاملہ ہی سامنے رکھ لیا جائے جن میں نوجوان اور نوعمر لڑکیاں مردوں کو مساج کرتی ہیں اور مساج کے نام پر بدکاری کا ایک وسیع نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں اس قسم کے بدکاری کے اڈوں کی موجودگی، ان کا فروغ اور ان پر حکومتی اداروں، دینی وسیاسی جماعتوں کی خاموشی اور سماجی اداروں کی لا تعلقی اور بے حسی کا ایک انتہائی افسوس ناک منظر سامنے ہے۔ اس صورت حال میں اگر ہمارے دانش ور صرف لال مسجد کی انتظامیہ کو ہی کوستے چلے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۷ء

عالمی تہذیبی کشمکش کی ایک ہلکی سی جھلک

جب لندن پہنچا تو روزنا مہ جنگ لندن میں ۷ مئی کو یہ رپورٹ پڑھنے کو ملی جس کے مطابق چرچ آف انگلینڈنے دعویٰ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے حکومت کی تباہ کن پالیسیوں نے برطانوی مسلمانوں کو انتہا پسند بنا دیا ہے۔ برطانوی اخبار آبزرور کے مطابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے والی رپورٹ میں چرچ نے عراق میں کی جانے والی غلطیوں کی مذمت کی اور کہا کہ دنیا بھر میں برطانیہ کا چہرہ مسخ ہو چکا ہے اور یورپ میں وہ تنہا کھڑاہے اوراس کی وجہ امریکہ کے ہر حکم کی بجا آوری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۷ء

امت مسلمہ اور مغرب کے علوم وافکار

مغرب کے بارے میں یہ تصور رکھنا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکار ہے، خود مغرب کی ذہنی سطح، نفسیاتی ماحول اور تحلیل وتجزیہ کی استعداد وصلاحیت سے بے خبری کے مترادف ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کے بارے میں تو یہ سوچا جا سکتا ہے کہ وہ علم و خبر کے ذرائع اور ذوق کی کمی کے باعث مغرب کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکار ہیں اور تحلیل و تجزیہ، باریک بینی اور مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت کی کمزوری کی وجہ سے مغرب کے مقاصد اور عزائم کو پوری طرح نہیں سمجھ پا رہے ہیں، لیکن کیا مغرب بھی مسلمانوں کے حوالے سے اسی سطح پر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۷ء

عدالتی بحران اور وکلاء برادری کی جدوجہد

کیونکہ وہ ملک کا بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ چرچ آف انگلینڈ کا بھی سربراہ ہوتا ہے اور چرچ آف انگلینڈ کیتھولک نہیں ہے، اس لیے اس کا سربراہ کیتھولک نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ بادشاہت کے قواعد وضوابط میں یہ بات باقاعدہ طور پر شامل ہے کہ چونکہ برطانیہ کا بادشاہ چرچ کا بھی سربراہ ہوتا ہے، اس لیے اس کا تعلق کیتھولک فرقہ سے نہیں ہوگا۔ اگر اس نزاکت کا برطانیہ کے نظام میں لحاظ رکھا گیا ہے اور وہاں اس پابندی کا اہتمام ضروری سمجھا گیا ہے تو ہمارے ہاں بھی اس اصولی موقف کے احترام میں کوئی حجاب محسوس نہیں کیا جانا چاہیے، مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۷ء

اسلام کی تشکیل نو کی تحریکات اور مارٹن لوتھر ۔ مولانا سید سلیمان ندویؒ کا مکتوب

بہت سے مسلم دانشوروں نے مارٹن لوتھر کی اس تحریک کے پس منظر اور نتائج کی طرف نظر ڈالے بغیر اس کے نقش قدم پر چلنے کو ضروری خیال کرلیا اور اب جب کہ مغرب اس کے تلخ نتائج کی تاب نہ لاتے ہوئے واپسی کے راستے تلاش کر رہا ہے، ہمارے یہ دانشور اب بھی اسی کی پیروی میں اسلام کی تعبیر وتشریح کے روایتی فریم ورک کو توڑدینے کی مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں ۔ ۔ ۔ ’’اسلامی تہذیب وثقافت‘‘ کی جلد اول میں اس حوالے سے مولانا سید سلیمان ندویؒ کا ایک مکتوب گرامی ہے جس سے ہماری مذکورہ بالا گزارشات کی تائید ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۷ء

تجدد پسندوں کا تصور اجتہاد

ہمارے بعض دانشور دوستوں کے دل میں بھی یہ خیال آیا کہ ہم آخر کیوں ایسا نہیں کرسکتے کہ دین کی تعبیرو تشریح کے اب تک صدیوں سے چلے آنے والے فریم ورک کو چیلنج کرکے اس کی نفی کریں اورمارٹن لوتھر کی طرح قرآن وسنت کی نئی تعبیرو تشریح کی بنیاد رکھیں۔ چنانچہ انہوں نے بھی ’’ری کنسٹرکشن‘‘ کے جذبہ کے ساتھ مارٹن لوتھر کی ’’قدم بہ قدم‘‘پیروی کا راستہ اختیار کیا اور قرآن وسنت کی تعبیر نو کے کام کا آغاز کر دیا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا کام مارٹن لوتھر کی وفات کے فوراً بعد اکبر بادشاہ کے دور میں شروع ہوگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۷ء

اقبالؒ کا تصور اجتہاد

علامہ محمد اقبالؒ ایک عظیم فلسفی، مفکر، دانشور اور شاعر تھے جنہوں نے اپنے دور کی معروضی صورت حال کے کم وبیش ہر پہلو پر نظر ڈالی اور مسلمانوں کو ان کے مستقبل کی صورت گری کے لیے اپنی سوچ اور فکر کے مطابق راہ نمائی مہیا کی۔ ۔ ۔ ۔ علامہ محمد اقبالؒ فکری اور نظری طور پر اجتہاد کی ضرورت کا ضرور احساس دلا رہے تھے اور ان کی یہ بات وقت کا ناگزیر تقاضا تھی، لیکن اس کے عملی پہلوؤں کی تکمیل کے لیے ان کی نظر ان علمائے کرام پر تھی جو قرآن وسنت کے علوم سے گہری واقفیت رکھتے تھے اور اجتہاد کی اہلیت سے بہرہ ور تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۶ء

غلامی کے مسئلہ پر ایک نظر

غلامی کا رواج قدیم دور سے چلا آ رہا ہے۔ بعض انسانوں کو اس طور پر غلام بنا لیا جاتا تھا کہ وہ اپنے مالکوں کی خدمت پر مامور ہوتے تھے، ان کی خرید و فروخت ہوتی تھی، انھیں آزاد لوگوں کے برابر حقوق حاصل نہیں ہوتے تھے اور اکثر اوقات ان سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا تھا۔ جدید دنیا میں بھی ایک عرصے تک غلامی کا رواج رہا۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں، جسے جدید دنیا کی علامت کہا جاتا ہے، غلامی کو باقاعدہ ایک منظم کاروبار کی حیثیت حاصل تھی۔ افریقہ سے بحری جہازوں میں افراد کو بھر کر لایا جاتا تھا اور امریکہ کی منڈیوں میں فروخت کیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس اور تحفظ حقوق نسواں بل

مغربی معاشرہ اور قوانین میں رضامندی کا زنا سرے سے جرم ہی تصور نہیں ہوتا اور اس سلسلے میں کوئی بھی امتناعی قانون انسانی حقوق کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ اسلام اسے سنگین ترین جرم قرار دیتا ہے اور سنگسار کرنے اور سو کوڑوں کی سخت ترین سزا اس جرم پر تجویز کرتا ہے۔ اس واضح تضاد کو مغربی سوچ کے مطابق دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حدود آرڈیننس کے اس حصے کو یا تو بالکل ختم کر دیا جائے، اور اگر اسے کلیتاً ختم کرنا ممکن نہ ہو تو اسے ایسے قانونی گورکھ دھندوں میں الجھا دیا جائے کہ ایک ’’شو پیس‘‘ سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت باقی نہ رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۶ء

محترم جاوید احمد غامدی اور ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی کی توضیحات

حدود آرڈیننس ہوں یا کوئی بھی مسئلہ اور قانون، مسلمات کے دائرے میں رہتے ہوئے بحث و مباحثہ ہمارے نزدیک نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ وقت کا ایک ناگزیر تقاضا اور ضرورت بھی ہے جس کی طرف ہم روایتی علمی حلقوں کو مسلسل توجہ دلاتے رہتے ہیں، اور مختلف حوالوں سے بعض دوستوں کی ناراضی کا خطرہ مول لیتے ہوئے بھی اس کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ البتہ اس کے ساتھ ہم پورے شعور کے ساتھ اس بات کی بھی کوشش کرتے ہیں کہ ہماری زبان اور قلم سے کوئی ایسا جملہ نہ نکلنے پائے جو اسلامی تعلیمات کی نفی کرنے والوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۶ء

عقل کی حدود اور اس سے استفادہ کا دائرہ کار

آج مغرب کے پاس اپنے فکر وفلسفہ کو دنیا سے منوانے کے لیے سب سے بڑی دلیل یہی ’’عقل عام‘‘ اور ’’کامن سینس‘‘ ہے۔ لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ جس عقل عام اور کامن سنس کو واحد عالمی معیار قرار دے کر دنیا سے منوانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ صرف مغرب کی عقل عام ہے اور اسی کا کامن سنس ہے۔ اس کے معلومات و مشاہدات کا دائرہ باقی دنیا سے مختلف ہے، اس کے مدرکات ومحسوسات کی سطح باقی دنیا سے الگ ہے اور اس کے تاریخی پس منظر اور تجربات کا ماحول دوسری دنیا سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۶ء

اسلام کا قانون ازدواج اور جدید ذہن کے شبہات

جناب نبی اکرم ﷺ کی گیارہ شادیاں اور قرآن کریم میں مسلمانوں کو چار تک شادیاں کرنے کی اجازت ایک عرصہ سے مغربی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اعتراض وطعن کا عنوان بنی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی سامنے آجاتاہے کہ جب ایک مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے تو عورت کو بیک وقت چارشادیاں کرنے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟ حدود آرڈیننس پر گزشتہ دنوں چھیڑی جانے والی بحث کے دوران مختلف حلقوں کی طرف سے یہ سوالات میڈیا کے ذریعے اٹھائے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۶ء

Pages