مقالات و مضامین

’’آب حیات‘‘ کا انٹرویو

مختلف طبقات اور گروہ اپنے اپنے مفادات کی سیاست کر رہے ہیں اور اجتماعی وقومی سیاست کا کوئی ماحول آج تک قائم نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے قومی معاملات پر سیاست دانوں کی گرفت نہیں ہے اور وہ دیگر طاقت ور قوتوں کے آلہ کار سے زیادہ کوئی کردار اپنے لیے حاصل نہیں کر سکے۔ سیاست دانوں کی اپنی نااہلی کے ہاتھوں ہم قومی خود مختاری سے محروم ہو چکے ہیں اور ہمارے معاملات کا کنٹرول ہمارے پاس نہیں رہا۔ دینی سیاست کی علم بردار جماعتیں بھی اصولی اور نظریاتی سیاست کے بجائے معروضی سیاست پر آگئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۵ء

بھارت میں غیر سرکاری شرعی عدالتوں کا قیام

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی کوششوں میں یہ بات بھی شامل رہتی ہے کہ مسلمان اپنے نکاح وطلاق کے تنازعات اور دیگر باہمی معاملات شرعی عدالتوں کے ذریعے سے حل کرائیں۔ اسی مقصد کے لیے پرائیویٹ سطح پر شرعی عدالتوں کے قیام کا تجربہ کیا جا رہا ہے جہاں تحکیم کی صورت میں دونوں فریق مقدمہ لاتے ہیں اور شرعی عدالتیں ’حکم‘ کی حیثیت سے ان کا فیصلہ صادر کرتی ہیں۔ صوبہ بہار میں امارت شرعیہ کے نام سے یہ پرائیویٹ نظام بہت پہلے سے قائم ہے جس میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۵ء

سنی شیعہ کشیدگی۔ چند اہم معروضات

ہم جمہور علماء اہل سنت کے اس موقف سے متفق ہیں کہ جو شیعہ تحریف قرآن کریم کا قائل ہے، اکابر صحابہ کرام کی تکفیر کرتا ہے اور حضرت عائشہؓ پر قذف کرتا ہے، وہ مسلمان نہیں ہے ۔نیز ہم امت کی چودہ سو سالہ تاریخ کے مختلف ادوار میں شیعہ کے سیاسی کردار کے حوالے سے بھی ذہنی تحفظات رکھتے ہیں، لیکن اس کی بنیاد پر ان کے خلاف کافر کافر کی مہم، تشدد کے ساتھ ان کو دبانے اور کشیدگی کا ماحول پیدا کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ہمارا اس حوالہ سے موقف یہ ہے کہ عقائد اور تاریخی کردار کے حوالہ سے باہمی فرق اور فاصلہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۴ء

سنی شیعہ کشیدگی: فریقین ہوش کے ناخن لیں

سنی شیعہ مسلح کشمکش میں بیرونی عوامل کی کارفرمائی سے انکار نہیں اور ہم اس کی کئی بار اپنی معروضات میں نشان دہی کر چکے ہیں، لیکن بنیادی طور پر یہ مسئلہ اہل سنت اور اہل تشیع کی محاذ آرائی کا ہے اور خارجی عوامل کے لیے بھی آلہ کار اور ایندھن کا کام ہر دو طرف کے جذباتی نوجوان سرانجام دیتے ہیں۔ اس لیے دیگر عوامل ومحرکات سے سردست صرف نظر کرتے ہوئے اہل سنت اور اہل تشیع کے رہنماؤں، بالخصوص جذباتی نوجوانوں سے دو گزارشات کرنے کو جی چاہ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۴ء

عالمی استعمار اور مسلم حکومتوں کا موقف

اگر مسلم حکومتیں ان جہادی تحریکات کے بارے میں امریکی بولی بولنے اور انھیں ریاستی جبر کا نشانہ بنانے کے بجائے صرف یہ اعتماد دلا دیں کہ عالم اسلام کی آزادی، مسلم ممالک کی خود مختاری، اور اسلامی اقدار کی سربلندی کے بارے میں وہ ان کے موقف کو اصولی طور پر درست سمجھتے ہوئے ان کے ہتھیار بکف ہونے کے طریق کار کو غلط قرار دیتی ہیں، اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو وہ ان کے اصولی موقف کی حمایت اور ترجمانی کرنے کے لیے تیار ہیں تو بہت سی جہادی تحریکوں کو ہتھیار ڈالنے اور اپنی جدوجہد کو پرامن طریقہ سے آگے بڑھانے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۴ء

جہاد، مستشرقین اور مغربی دنیا

جہاد کا مقصد کافروں کو زبردستی اسلام قبول کرانا نہیں بلکہ انہیں اس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ وہ بے شک اپنے مذہب پر قائم رہیں، اس پر آزادی کے ساتھ عمل کریں، اور اپنے دائرے میں اس کی تعلیم بھی دیں، لیکن انسانی سوسائٹی پر ’’آسمانی تعلیمات‘‘ کی بالادستی اور فروغ میں رکاوٹ نہ بنیں اور ان کے مقابل نہ ہوں۔ کیونکہ آسمانی تعلیمات کا یہ حق ہے کہ ان کا انسانی آبادی میں کسی روک ٹوک کے بغیر فروغ ہو اور ان کی دعوت وتعلیم کی راہ میں کوئی مزاحم نہ ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۴ء

جدید معاشرے میں مذہبی طبقات کا کردار ۔ ڈاکٹر یوگندر سکند کا سوالنامہ

پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے دینی مدارس کا ماحول، اہداف، طریق کار اور اسلوب کم وبیش یکساں ہے اور تمام خوبیوں اور خامیوں میں وہ برابر کے شریک ہیں۔ البتہ بھارت میں ندوۃ العلماء کی طرز پر جو کام ہو رہا ہے، پاکستان میں وہ کام اس سطح پر نہیں ہو رہا۔ اس کی اپنی افادیت اور ضرورت ہے اور پاکستان میں بھی اس طرز کے ادارے قائم ہونے چاہئیں۔ خود ہم نے چند برس قبل گوجرانوالہ میں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے نام سے جو پروجیکٹ شروع کیا تھا، اس میں ہمارے پیش نظر ندوۃ العلماء ہی تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۴ء

کیا موجودہ عالمی کشمکش تہذیبی نہیں ہے؟

اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کا کمیشن اور دیگر بہت سے بین الاقوامی ادارے اس چارٹر کے حوالے سے دنیا بھر کی صورت حال کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور ہر سال مختلف رپورٹیں منظر عام پر آتی ہیں جن میں یہ بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے کون کون سے ممالک میں ان حقوق کی کس حد تک خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ان رپورٹوں کی بنیاد پر بیشتر ممالک اور عالمی ادارے متعلقہ ملکوں کے بارے میں اپنی پالیسیوں کی ترجیحات قائم کرتے ہیں اور ان کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ و ۳۱ مئی ۲۰۰۴ء

علمی وفکری مباحث اور جذباتی رویہ

کم وبیش پینتیس برس پہلے کی بات ہے۔ میرا طالب علمی کا زمانہ تھا۔ لکھنے پڑھنے کا ذوق پیدا ہو چکا تھا۔ جناب ذو الفقار علی بھٹو مرحوم نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھنے کے بعد ’’اسلامی سوشلزم‘‘ کا نعرہ لگا کر ملکی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی تھی۔ قومی اخبارات اور دینی جرائد میں اسلام، جمہوریت اور سوشلزم کے حوالے سے گرما گرم بحث جاری تھی اور اسی ضمن میں جاگیرداری نظام، زمینداری سسٹم، مزارعت اور اجارہ پر زمین دینے کے جواز اور عدم جواز پر بہت کچھ لکھا جا رہا تھا۔ اسلامی سوشلزم کے نعرے کی بنیاد پر مسٹر بھٹو مرحوم کے خلاف ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۴ء

ڈھاکہ میں ’’سید ابوالحسن علی ندوی ایجوکیشن سنٹر‘‘کی افتتاحی تقریب

جنوری ۲۰۰۴ کا پہلا عشرہ مجھے بنگلہ دیش میں گزارنے کا موقع ملا۔ میرپور ڈھاکہ میں مدرسہ دار الرشاد کے مہتمم مولانا محمد سلمان ندوی کا تقاضا تھا کہ وہ ’’سید ابو الحسن علی ندویؒ ایجوکیشن سنٹر‘ کے نام سے ایک نئے تعلیمی شعبے کا آغاز کر رہے ہیں جس کی افتتاحی تقریب یکم جنوری کو رکھی گئی ہے اور اس موقع پر ’’عصر حاضر میں دینی مدارس کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے مسجد بیت المکرم ڈھاکہ میں سیمینار کا اہتمام بھی کیا گیا ہے، اس لیے مجھے اس میں ضرور شریک ہونا چاہیے۔ مولانا سلمان ندوی سے ا س سے قبل میرا تعارف نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۴ء

دینی مدارس کے اساتذہ کیا سوچتے ہیں؟

وفاق المدارس کے نصاب میں جو ترامیم اور تبدیلیاں کی گئی ہیں، وہ خوش آئند ہیں اور ان کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی تھی لیکن یہ ناکافی اور وقتی ہیں۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ آئندہ کم از کم نصف صدی تک کی ممکنہ صورت حال اور ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک جامع پالیسی طے کی جائے اور بجائے اس کے کہ ہر تین چار سال کے بعد جزوی تبدیلیاں کی جاتی رہیں، پچاس سال کے لیے ایک اصولی لائحہ عمل کا تعین کیا جائے۔ مثلاً ہم نے کچھ عرصہ قبل مڈل کی سطح کی تعلیم کو نصاب میں شامل کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۴ء

امریکی مسلمانوں کی صورت حال اور مستقبل کی توقعات

امریکہ میں عام مسلمانوں کی سطح پر جو بات میں نے محسوس کی، وہ یہ ہے کہ دینی بیداری میں اضافہ ہو رہا ہے، مساجد ومدارس کی تعداد اور ان میں حاضری کا تناسب بڑھ رہا ہے، بچوں کو دینی تعلیم وتربیت سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ خود زیادہ سے زیادہ دینی معلومات حاصل کرنے کا شوق بھی ترقی پذیر ہے۔ ایک بات سے اس صورت حال کا اندازہ کر لیں کہ بارہ تیرہ برس قبل جب میں واشنگٹن آتا تھا تو دار الہدیٰ ایک کرائے کے اپارٹمنٹ میں تھا اور نمازوں میں اکا دکا مسلمان دور دراز سے آیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۳ء

بھارت میں خاتون مفتیوں کے پینل کا قیام

’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے ۵ اکتوبر ۲۰۰۳ء کی اشاعت میں حیدرآباد دکن کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہاں کے ایک دینی ادارے ’’جامعۃ المومنات‘‘ نے تین عالمہ خواتین کو افتا کا کورس کرانے کے بعد فتویٰ نویسی کی تربیت دی ہے اور ان پر مشتمل خواتین مفتیوں کا ایک پینل بنا دیا ہے جو خواتین سے متعلقہ مسائل کو براہ راست سنتی اور ان کے بارے میں شرعی اصولوں کی روشنی میں فتویٰ جاری کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۳ء

عصر حاضر کے چیلنجز اور ہماری ذمہ داریاں

پہلی بات جسے میں ’’بے خبری کا بحران‘‘ سے تعبیر کرتا ہوں، یہ ہے کہ دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کی غالب اکثریت آج کے عالمی حالات اور ماحول دونوں سے بے خبر ہے۔ ہمیں نہ دنیا کے جغرافیے کا علم ہے اور نہ تاریخ کا۔ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ آج کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے، کون کیا کر رہا ہے، کیسے کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے؟ افراد کی بات نہیں کرتا۔ دوچار فی صد حضرات ضرور اس سے مستثنیٰ ہوں گے لیکن مجموعی صورت حال یہی ہے جو میں نے عرض کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۳ء

امریکہ کا حالیہ سفر اور چند تاثرات

۱۹۸۷ء سے ۱۹۹۰ء تک چار پانچ دفعہ امریکہ جا چکا ہوں اور امریکہ کے بہت سے شہروں میں مہینوں گھوما پھرا ہوں۔ اس کے بعد ویزے کی کوشش کرتا رہا مگر ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا حتیٰ کہ مئی ۲۰۰۱ء میں مجھے پانچ سال کے لیے ملٹی پل ویزا مل گیا مگر ۱۱ ستمبر کے سانحہ کے باعث حالات میں ایسی تبدیلی آئی کہ خواہش کے باوجود امریکہ کا سفر نہ کر سکا اور اب تقریباً تیرہ سال کے بعد امریکہ کے مختصر سے مطالعاتی دورے کا موقع مل گیا۔ واشنگٹن میٹرو پولیٹن کے علاقے میں میرے ہم زلف محمد یونس صاحب سالہا سال سے بچوں سمیت قیام پذیر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۳ء

قرب قیامت کی پیش گوئیاں

قرآن کریم یا جناب نبی اکرم ﷺ کی پیش گوئیوں کا اپنے دور کے واقعات پر اطلاق یا انہیں مستقبل کے حوالہ کر کے ان کے وقوع کا انتظار خود حضرات صحابہ کرام کے دور میں بھی مختلف فیہ رہا ہے۔ سورۃ الدخان میں ’’دخان‘‘ اور ’’البطشۃ الکبریٰ‘‘ کی پیش گوئیوں کا حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ اپنے دور کے حالات پر اطلاق کرتے ہیں، جبکہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ انہیں قیامت کی نشانیوں میں شمار کر کے اپنے دور میں ان کے وقوع کی بات قبول نہیں کرتے۔ اس سے اصولاً یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پیش گوئیوں کے بارے میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

امریکی استعمار، عالم اسلام اور بائیں بازو کی جدوجہد

عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے مغربی فلسفہ کے حوالے سے اسلامی احکام وقوانین کی مخالفت اور ان کے خلاف مکروہ اور معاندانہ پراپیگنڈا بھی امریکی مہم کا حصہ ہے جس کے بارے میں امریکی قیادت کے ذمہ دار حضرات کئی بار اظہار خیال کر چکے ہیں۔ اس لیے ہم پورے شعور اور شرح صدر کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان، عراق اور دیگر مسلم ممالک کے خلاف امریکی عزائم اور یلغار صرف اور صرف معاشی مفادات کے حوالے سے نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس میں مذاہب کے درمیان کشمکش اور مغربی تہذیب کو زبردستی مسلط کرنے کی مہم بھی بنیادی اسباب کے طور پر پوری طرح کار فرما ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ

ڈاکٹر محمد حمید اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے طویل عرصہ تک اسلام کی دعوت واشاعت کے حوالہ سے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ فرانسیسی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کیا اور بے شمار لوگوں کو اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرایا۔ بہت سے فرانسیسی باشندوں نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ وہ بنیادی طور پر تعلیم وتحقیق کی دنیا کے آدمی تھے اور انہوں نے ساری زندگی لکھنے پڑھنے کے ماحول میں گزار دی۔ فقیر منش اور قناعت پسند بزرگ تھے، کتاب زندگی بھر ان کی ساتھی رہی اور کتاب ہی کی خدمت میں وہ آخر دم تک مصروف رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ دسمبر ۲۰۰۲ء

دور جدید کے فکری تقاضے اور علماء کرام

نوجوان علماء کو اس بات سے بھی باخبر ہونا چاہیے کہ جب یونان،ایران اور ہندوستان کے فلسفوں نے مسلمانوں کے عقائد واعمال میں دراندازی شروع کی، ان کے اثرات ہمارے ہاں پھیلنے لگے اور ان فلسفوں نے ہمارے عقائد کو متاثر کرنا چاہا تو اس وقت کے باشعور علماء اسلام نے ان فلسفوں سے آگاہی حاصل کی، ان پر عبور حاصل کیا اور ان فلسفوں کی زبان اور اصطلاحات استعمال کر کے انہی کے دلائل سے اسلام کی حقانیت کو دنیا کے سامنے پیش کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۲ء

’’دہشت گردی‘‘ کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کا سوالنامہ

خلافت راشدہ سے لے کر خلافت عثمانیہ کے خاتمہ (۱۹۲۴ء) تک چونکہ اسلامی احکام وقوانین کا نفاذ کسی نہ کسی شکل میں اور کسی نہ کسی سطح پر تسلسل کے ساتھ موجود رہا ہے اس لیے ہر دور میں نئے پیش آمدہ مسائل ومشکلات کا حل بھی ساتھ ساتھ سامنے آتا رہا ہے، جس میں قضاۃ کے اجتہادی فیصلوں کے علاوہ ارباب علم اور اصحاب استنباط کی آزادانہ اجتہادی کاوشیں بھی شامل ہیں اور انسانی سوسائٹی کے حالات میں تغیر کے ساتھ ساتھ اجتہادی دائرہ میں ضرورت کے مطابق شرعی احکام وقوانین میں تغیر و تبدل کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۲ء

حضرت سرفراز خان صفدرؒ کے دروس قرآن کی اشاعت کا آغاز

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ کے درس قرآن کریم کے چار الگ الگ حلقے رہے ہیں۔ ایک درس بالکل عوامی سطح کا تھا جو صبح نماز فجر کے بعد مسجد میں ٹھیٹھ پنجابی زبان میں ہوتا تھا۔ دوسرا حلقہ گورنمنٹ نارمل سکول گکھڑ میں جدید تعلیم یافتہ حضرات کے لیے تھا جو سالہا سال جاری رہا۔ تیسرا حلقہ مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں متوسط اور منتہی درجہ کے طلبہ کے لیے ہوتا تھا اور دوسال میں مکمل ہوتا تھا۔ جبکہ چوتھا مدرسہ نصرۃ العلوم میں ۷۶ء کے بعد شعبان اور رمضان کی تعطیلات کے دوران دورۂ تفسیر کی طرز پر تھا جو پچیس برس تک پابندی سے ہوتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۲ء

سود کے بارے میں چند گزارشات

شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان کے قابل صد احترام سربراہ اور معزز ارکان سے گزارش ہے کہ سودی نظام کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے تاریخی فیصلے پر نظر ثانی کا فیصلہ کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات، جناب نبی اکرمؐ اور خلفاء راشدین کے تعامل، امت کے ہر دور کے جمہور علما وفقہا کے فیصلوں‘ قیام پاکستان کے نظریاتی مقاصد اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ارشادات وتصریحات کو سامنے رکھیں اور نوآبادیاتی استحصالی نظام کے منحوس شکنجے سے مظلوم پاکستانی قوم کو نجات دلانے والے تاریخی فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۲ء

تحریک ختم نبوت کے مطالبات

امریکی کانگریس کی طرف سے قادیانیوں کو مسلمان تسلیم کرنے کے مطالبہ کے فوراً بعد مسلم اور غیر مسلم ووٹروں کے الگ الگ اندراج اور ووٹر فارم میں مذہب کا خانہ اور عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو عملاً قادیانیوں کو مسلمانوں میں شامل کرنے اور سرکاری ریکارڈ میں مسلمانوں اور قادیانیوں کا فرق ختم کر دینے کے مترادف ہے جو اسلامیان پاکستان کے لیے قطعی طور پر ناقابل برداشت ہے جبکہ یہ حلف نامہ اور مذہب کا خانہ نیز مسلم اور غیر مسلم ووٹروں کا الگ الگ اندراج بھٹو حکومت کے دور سے چلا آ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۲ء

امریکی مطالبات اور پاکستان کی پوزیشن

مغربی ممالک اور اداروں کا موقف یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور کی یہ شقیں بین الاقوامی قوانین کا درجہ رکھتی ہیں اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے ممبر کی حیثیت سے اس منشور پر دستخط کر کے اس کی پابندی کی ذمہ داری قبول کر رکھی ہے۔ اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور توہین رسالت پر موت کی سزا کے قوانین ان شقوں میں بیان کردہ آزادیوں اور حقوق کے منافی ہیں، اس لیے پاکستان کو اپنے حلف اور دستخط کے مطابق ان قوانین پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور انہیں بین الاقوامی قوانین سے ہم آہنگ کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۲ء

جمہوریت، مسلم ممالک اور امریکہ

امریکہ مسلم ممالک میں جمہوریت کو فروغ دینے میں ناکامی کا ذمہ دار ہے، بلکہ دنیا میں جمہوریت کے فروغ کی راہ میں امریکہ خود سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اور اس کی حتی الوسع یہ کوشش ہے کہ دنیا کے کسی بھی مسلمان ملک میں جہاں کے عام مسلمان اسلام کے ساتھ کمٹ منٹ رکھتے ہیں اور اپنی اجتماعی زندگی میں اسلامی احکام وقوانین کی عمل داری کے واضح رجحان سے بہرہ ور ہیں، وہاں جمہوریت کا راستہ روکا جائے، عوام کو حکومتوں اور ان کی پالیسیوں کی تشکیل سے دور رکھا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ فروری ۲۰۰۲ء

جہادی تحریکات کے نوجوانوں سے چند گزارشات

برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کی تحریک آزادی میں حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ ایک بلند مرتبہ راہنما اور مفکر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، انہوں نے آزادیٔ ہند کی خاطر زندگی کا ایک بڑا حصہ جلاوطنی میں گزارا اور تحریکِ آزادی کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔ ان کے رفقاء میں ایک نام مولانا منصور انصاریؓ کا بھی آتا ہے جو ان کے انتہائی قریبی ساتھی تھے اور جب ایک مرحلہ میں برلن میں پروفیسر برکت اللہ بھوپالیؒ کی سربراہی میں ’’آزاد ہند گورنمنٹ‘‘ کے نام سے جلاوطن حکومت کی بنیاد رکھی گئی اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ کو اس کا وزیرخارجہ مقرر کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ و ۲۰ جون ۲۰۰۰ء

خلیفہ کے لیے قریشی ہونے کی شرط

راقم الحروف نے ایک کالم میں برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں گزشتہ عیسوی صدی کی تیسری دہائی میں ترکی کی خلافت عثمانیہ کی حمایت میں چلنے والی تحریکِ خلافت کے بارے میں یہ ذکر کیا تھا کہ مولانا احمد رضا خان بریلویؒ نے اس تحریک کی مخالفت کی تھی اور ترکوں کے خلاف فتویٰ پر دستخط کیے تھے۔ اس پر مری کے محمد مسکین عباسی صاحب نے ایک مراسلہ میں سوال کیا ہے کہ میرے پاس اس کا حوالہ کیا ہے؟ کیونکہ ان کے خیال میں مولانا احمد رضا خانؒ ترکوں کی خلافت کے حامی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اپریل ۲۰۰۰ء

حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا تین نکاتی احتسابی فارمولا

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے ایک بار پھر واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ لوٹی ہوئی قومی دولت کی ایک ایک پائی واپس لیں گے اور احتساب مکمل ہونے تک اقتدار سیاست دانوں کے سپرد نہیں کریں گے۔ ان کے اس اعلان پر ملک بھر میں اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے اور عام شہری مسلسل دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت جنرل صاحب کو اپنے اس اعلان پر مکمل عملدرآمد کی توفیق سے نوازیں، آمین۔ ہم اس موقع پر جنرل پرویز مشرف صاحب اور ان کے رفقاء کو اسلامی تاریخ کے ایک اہم واقعہ کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۱۹۹۹ء

تعلیمی نصاب میں تبدیلی اور آغا خان فاؤنڈیشن

ملک کے سرکاری نصابِ تعلیم کے حوالے سے مبینہ تبدیلیوں پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور آغا خان فاؤنڈیشن کا حوالہ اس میں بار بار سامنے آرہا ہے۔ بہت سے دوست سوال کر رہے ہیں کہ ملک کے ریاستی نصاب تعلیم کے ساتھ آغا خان فاؤنڈیشن کا کیا تعلق ہے اور ملک کے بہت سے تعلیمی حلقوں کو آغا خان فاؤنڈیشن سے کیا شکایت ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اس قدر تشویش و اضطراب کا اظہار کر رہے ہیں؟ اس لیے ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اس حوالہ سے کچھ گزارشات قارئین کی خدمت میں پیش کر دی جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اپریل ۲۰۰۴ء

نصاب میں تبدیلی پر اضطراب اور اسماعیلی فرقہ کا تعارف

سکولوں اور کالجوں کے نصابِ تعلیم کے بارے میں متضاد خبریں سامنے آرہی ہیں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ نصاب میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں کی جا رہی، وفاقی وزراء نصاب تعلیم سے اسلامی مواد کو خارج نہ کرنے کی یقین دہانیاں کرا رہے ہیں اور اب وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے بھی کہا ہے کہ ہمارا نصاب تعلیم اسلامی ہے اور اس میں اس حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ لیکن دوسری جانب ملک کے تعلیمی حلقے مسلسل حالتِ اضطراب میں ہیں، اساتذہ اور طلبہ کے مختلف فورموں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ نصاب میں تبدیلیاں کر دی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اپریل ۲۰۰۴ء

شدت پسندی ۔ شاہ فہد اور مہاتیر محمد کا اختلافِ نظر

دہشت گردی کے حوالے سے دنیا بھر میں بحث جاری ہے اور اس کی کوئی تعریف متعین کیے بغیر عالمی اتحاد کے نام پر طاقتور قومیں ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد سے اس کے خلاف لٹھ لیے پھر رہی ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کے سانحات کے بعد جب امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے عالمی اتحاد بنانے کا اعلان کیا اور افغانستان کو خوفناک بمباری کا نشانہ بنایا تو یہ سوال اسی وقت اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ دہشت گردی کہتے کس کو ہیں اور اس کی تعریف کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اگست ۲۰۰۳ء

آغا خان تعلیمی بورڈ اور حکومتی وضاحتیں

آغا خان تعلیمی بورڈ کے بارے میں حکومتی وضاحتوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن ان وضاحتوں سے مسئلہ صاف ہونے کی بجائے مزید الجھتا جا رہا ہے ۔کچھ عرصہ قبل حکومت نے آغا خان یونیورسٹی کے بورڈ کو ایک پرائیویٹ تعلیمی بورڈ کے طور پر منظور کیا اور یہ خبریں منظر عام پر آنے لگیں کہ ملک کے تمام تعلیمی بورڈز کو آغا خان بورڈ کے ساتھ ملحق کرنے کی اسکیم زیرغور ہے۔ اور ایک مرحلہ پر یہ خبر بھی اخبارات کی زینت بنی کہ اسلام آباد کے وفاقی ثانوی تعلیمی بورڈ کو آغا خان بورڈ کے ساتھ منسلک کرنے کے سوال پر وفاقی بورڈ کے ارکان میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۵ء

ابوبکرؓ اسلامک سنٹر ساؤتھال لندن کے قیام کی منظوری

ساؤتھال لندن کے مسلمان دس سال کی طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد بالآخر ابوبکرؓ مسجد کے قیام کی باقاعدہ اجازت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور ایلنگ کونسل کی ویسٹ پلاننگ کمیٹی نے گزشتہ روز ابوبکرؓ مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے دی گئی ’’اسلامک ایجوکیشنل اینڈ ریکریشنل انسٹیٹیوٹ‘‘ کی پلاننگ پرمیشن کی درخواست کی منظوری دے دی ہے۔ اس مرحلہ پر کمیٹی کے ہندو اور سکھ ارکان نے بھی مسلمانوں کا بھرپور ساتھ دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جون ۱۹۹۹ء

حسن محمود عودہ سے ایک ملاقات

گزشتہ روز برطانیہ کے شہر سلاؤ میں مولانا منظور احمد چنیوٹی کے ہمراہ فلسطینی دانشور الاستاذ حسن محمود عودہ سے ملاقات کی اور مختلف مسائل پر ان سے گفتگو ہوئی۔ حسن عودہ کا تعلق اس فلسطینی خاندان سے ہے جس نے پون صدی قبل قادیانیت قبول کی تھی اور عرب ممالک میں قادیانیت کے فروغ میں اس خاندان نے مسلسل کردار ادا کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اگست ۱۹۹۹ء

رمضان اور اجتہاد

رمضان المبارک ایک بار پھر ہماری زندگی میں آیا ہے اور خاموشی کے ساتھ گزرتا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے قرآن کریم کا مہینہ فرمایا ہے کہ اس میں لوح محفوظ سے قرآن کریم اتارا گیا اور جس رات یہ لوح محفوظ سے منتقل ہوا اس رات کو اللہ تعالیٰ نے ’’شبِ قدر‘‘ قرار دے کر ایک ہزار مہینوں پر بھاری کر دیا۔ قرآن کریم نے اس ماہ میں مسلمانوں پر روزوں کا حکم صادر فرمایا اور کہا کہ روزے رکھنے سے تقوٰی پیدا ہوتا ہے اور روزہ رکھنے والوں میں پرہیزگاری کا ذوق بیدار ہوتا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صبر و ضبط کا مہینہ قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ نومبر ۲۰۰۳ء

جہادی تربیتی کیمپ ۔ وزیر داخلہ کے نام کھلا خط

بعد از سلام مسنون! گزارش ہے کہ گزشتہ روز ایک قومی اخبار نے آنجناب کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ ’’امریکہ کی طرف سے پاکستان سے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کے مطالبہ پر لندن میں اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے طالبان کی حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود تمام تربیتی کیمپ بند کر دے جہاں پر پاکستان کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ مسلح تربیت حاصل کرتے ہیں‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اپریل ۲۰۰۰ء

مدارس آرڈیننس نافذ کرنے کا نیا سرکاری پروگرام

دینی مدارس کے بارے میں صدر پرویز مشرف اور وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے اعلانات کے باوجود تذبذب اور گومگو کی فضا ابھی تک ختم نہیں ہوئی اور مختلف حوالوں سے یہ خبریں سامنے آرہی ہیں کہ حکومت ریگولیشن اور رجسٹریشن کے نام پر اس آرڈیننس کو ایک بار پھر جھاڑ پھونک کر نفاذ کے مرحلہ تک لانے کی تیاریاں کر رہی ہے جسے دینی مدارس کے تمام وفاقوں نے متفقہ طور پر مسترد کر دیا تھا۔ باخبر ذرائع کے مطابق صوبہ سرحد کی حکومت نے پچھلے دنوں وفاقی حکومت سے استفسار کیا کہ جو مدارس رجسٹرڈ نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ دسمبر ۲۰۰۳ء

ڈاکٹر حمید اللہؒ کی یاد میں ایک نشست

ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے مقررین نے بتایا کہ عالم اسلام کی اس عظیم شخصیت نے یورپ کے دل پیرس میں بیٹھ کر نصف صدی تک اسلام کی جو خدمت کی وہ دعوت اسلامی کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ انہوں نے فرانسیسی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کرنے کے علاوہ فرانسیسی میں اسلامی تعلیمات پر بیش بہا لٹریچر شائع کیا اور ان کے ہاتھ پر ہزاروں افراد نے اسلام قبول کیا۔ وہ آج کے دور میں ایک قابل تقلید نمونہ تھے جس کی ایک مثال یہ ہے کہ انہیں دنیا کے جس حصے سے بھی کوئی شخص خط لکھتا تھا وہ اس کا جواب ضرور دیتے تھے ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ ستمبر ۲۰۰۳ء

ملک میں اسلحہ کلچر ۔ وفاقی وزیرداخلہ سے دو اہم گزارشات

امن و امان کے حوالہ سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد وفاقی وزیرداخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے اخباری نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اسلحہ کلچر کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور اس سلسلہ میں اسلحہ کی نمائش پر پابندی اور فائرنگ کی قانونی ممانعت کے علاوہ ان دینی طلبہ کی حوصلہ شکنی بھی پروگرام میں شامل ہے جو افغانستان جا کر اسلحہ کی ٹریننگ حاصل کرتے ہیں۔ وزیرداخلہ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ اس حوالہ سے افغانستان کی حکومت سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اسلحہ چلانے کی تربیت دینے والے مراکز بند کر دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ فروری ۲۰۰۰ء

پاکستان اور لاؤس میں بھکاریوں کا فرق

وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی ان دنوں لاؤس کے دورے پر ہیں، لاہور کے ایک قومی اخبار کی مختصر خبر کے مطابق انہوں نے لاؤس کے دارالحکومت میں ایک اخبار نویس سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا ہے کہ لاؤس انہیں کوئی بھکاری نظر نہیں آیا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں بھکاری بنتے نہیں بلکہ بنائے جاتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک مختصر سا تاثر یا تبصرہ ہے جو جمالی صاحب نے بھکاریوں کے حوالہ سے پاکستان اور لاؤس کی صورتحال میں نظر آنے والے فرق پر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اپریل ۲۰۰۴ء

’’نئی امریکی بائبل‘‘ اور مسیحی عقائد

گوجرانوالہ سے شائع ہونے والے مسیحی جریدہ ماہنامہ کلام حق کو چرچ آف پاکستان اور پریسٹیرین چرچ آف پاکستان سے شکایت ہے کہ انہوں نے بائبل کا جو انگریزی متن شائع کیا ہے اس میں بہت سی آیات حذف کر دی گئی ہیں۔ یہ شکایت ماہنامہ کلام حق نے فروری ۲۰۰۴ء کے شمارے میں کی ہے اور بتایا ہے کہ چرچ آف پاکستان کی انگریزی بائبل میں چالیس کے لگ بھگ آیات میں ردوبدل کیا گیا ہے، ان میں بعض آیات بالکل حذف کر دی گئی ہیں اور بعض آیات کے اہم جملے نکال دیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مارچ ۲۰۰۴ء

دینی مدارس کے جداگانہ نظام و نصاب کا مقصد

رجب المرجب کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں دینی مدارس کی تقریبات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور ختم بخاری شریف، تقسیم اسناد، دستار بندی اور سالانہ اجتماعات کے عنوان سے یہ تقریبات شعبان المعظم کے اختتام تک جاری رہیں گی جن میں مختلف دینی و تعلیمی موضوعات پر گفتگو کے علاوہ مدارس کے منتظمین اپنی کارکردگی کی سالانہ رپورٹیں پیش کریں گے اور آئندہ عزائم کا تذکرہ کریں گے۔ میں اسی حوالہ سے دو روز سے حیدر آباد سندھ میں ہوں اور نصف درجن سے زائد دینی مدارس کی تقریبات میں شرکت کر چکا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ ستمبر ۲۰۰۳ء

علماء دیوبند کے تاریخی کردار پر ایک نظر

آج آزاد کشمیر کے تاریخی شہر باغ میں آل جموں و کشمیر جمعیۃ علمائے اسلام کے زیر اہتمام دو روزہ ’’خدمات علماء دیوبند کانفرنس‘‘ کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ کانفرنس اکابر علماء دیوبند کی ملی و دینی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کی جا رہی ہے اور اس کا ایک بڑا مقصد اپنے بزرگوں کی خدمات اور کارناموں کا تذکرہ کر کے ان سے راہنمائی حاصل کرنے کے علاوہ نئی نسل کا ذہنی و فکری رشتہ ان بزرگوں کے ساتھ قائم رکھنا اور آج کے لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ آج اگر جنوبی ایشیا میں اسلام کا نام زندہ ہے، دینی تعلیم و ثقافت کی اقدار و روایات کا تسلسل قائم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مئی ۲۰۰۴ء

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے قیام کا پس منظر

ایک عرصہ سے خواہش تھی کہ کوئی ایسا ادارہ ہو جو درس نظامی کے فضلاء کے لیے فکری و ذہنی تربیت گاہ کے ساتھ ساتھ مطالعہ و تحقیق اور تحریر و تقریر کا تربیتی مرکز بنے۔ دینی مدارس کا موجودہ نظام جس بین الاقوامی دباؤ اور اس کے نتیجے میں ریاستی اداروں کی مداخلت کے خطرہ سے دوچار ہے اس کے پیش نظر دینی مدارس کے منتظمین کے ذہنی تحفظات کی وجہ سمجھ میں آتی ہے، اس لیے ان کے داخلی نظام میں کسی بڑی تبدیلی کی سردست کوئی توقع ہے اور نہ ہی میں خود موجودہ فضا میں اس کے حق میں ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ دسمبر ۱۹۹۹ء

پاکستان شریعت کونسل کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ، اسلامی نظام کے نفاذ، قومی خودمختاری کے تحفظ اور مغرب کی نظریاتی و ثقافتی یلغار کے مقابلہ کے لیے رائے عامہ کو بیدار و منظم کرنے کی غرض سے ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کے قیام کا اعلان سامنے آیا تو مختلف حلقوں کی طرف سے اس سوال کا اٹھایا جانا ایک فطری امر تھا کہ آخر ان مقاصد کے لیے ایک نئی جماعت کے قیام کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟ بعض دوستوں کا خیال ہے کہ پہلے سے موجود بیسیوں جماعتوں میں ایک نئی جماعت کا اضافہ کوئی ضروری امر نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۶ء

خدماتِ علماء دیوبند کانفرنس: قائدین اور شرکاء سے چند گزارشات

گزشتہ کم و بیش ڈیڑھ سو برس کے دوران اس خطۂ زمین میں اسلامی تعلیم و ثقافت کو زندہ رکھنے اور عام مسلمانوں کا دین کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کے لیے علمائے دیوبند نے جو کردار ادا کیا ہے اس کا مختصر اور سرسری تذکرہ ہم گزشتہ کالم میں کر چکے ہیں۔ اور آج اس حوالہ سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں کہ مستقبل کے امکانات و خدشات اور ضرورتوں کا دائرہ کیا ہے اور علمائے دیوبند کے ماضی کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے اس قافلۂ حق و صداقت پر اس حوالہ سے کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ مئی ۲۰۰۴ء

طالبان، امریکہ اور اقوام متحدہ

امریکی صدر بل کلنٹن نے اعلان کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے پر طالبان کو سزا دینا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ افغانستان پر عائد کی جانے والی پابندیوں کا مقصد طالبان تحریک کو عالمی برادری سے دہشت گردی سمیت اہم معاملات پر عدم تعاون کی راہ اپنانے کی سزا دینا ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان جنرل اسمبلی میں سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ افغانستان دنیا بھر کے مذہبی دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۹ء

فہم قرآن کریم کی اہمیت اور اس کے تقاضے

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور ہمارے لیے ہے۔ جب یہ بات بطور عقیدہ ہمارے ذہن میں آجاتی ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے اس پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ کسی بھی پیغام کا پہلا حق یہی ہوتا ہے کہ اسے پڑھا جائے، سمجھا جائے اور پیغام بھیجنے والے کے مقصد سے آگاہی حاصل کی جائے۔ پیغام کسی دوست کا ہو، دفتری خط ہو، عدالتی سمن ہو، کاروباری لیٹر ہو حتیٰ کہ کسی دشمن کا پیغام بھی ہو تو منطقی طور پر اسے وصول کرنے والے کی پہلی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ اسے پڑھے اور سمجھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۰۴ء

اسلام دشمنی ۔ یہود و نصارٰی میں قدرِ مشترک

امریکی سینٹ نے ملائیشیا کے لیے بارہ لاکھ ڈالر کی فوجی امداد کو مبینہ مذہبی آزادی کے ساتھ مشروط کر دیا ہے اور یہودیوں پر ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کی تنقید کو ہدف اعتراض بناتے ہوئے امریکی قیادت نے کہا ہے کہ فوجی امداد کے حصول کے لیے مہاتیر محمد کو اس تنقید پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ دوسری طرف ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی سربراہ کانفرنس میں انہوں نے اپنے خطاب کے دوران یہودیوں کے بارے میں جو یہ بات کہی تھی کہ دنیا پر دراصل چند مٹھی بھر یہودی حکومت کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ نومبر ۲۰۰۳ء

Pages