ختم نبوت کے فکری و عملی تقاضے اور ہماری ذمہ داریاں

تحریک ختم نبوت کی عملی صورتحال یہ ہے کہ نوے سال کی طویل جدوجہد کے بعد اسلامیانِ پاکستان ۱۹۷۴ء میں ملک کے دستور میں منکرین ختم نبوت کے ایک گروہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں کامیاب ہوئے، لیکن اس دستوری ترمیم کے بعد اس کے عملی تقاضوں کی تکمیل کے لیے قانون سازی کا کام نہ ہو سکا۔ اور ۱۹۸۴ء میں مولانا محمد اسلم قریشی کے حوالے سے منظم ہونے والی تحریک ختم نبوت کے نتیجہ میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے جاری کردہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کی صورت میں قانون سازی کی طرف پہلی عملی پیشرفت ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ ستمبر ۱۹۹۰ء

تحریک پاکستان اور علماء کرام

پاکستان کے قیام کو نصف صدی گزر چکی ہے مگر ابھی تک اس کے نظریاتی اہداف کے حصول کے لیے کوئی سنجیدہ پیشرفت نہیں ہوئی، بلکہ قیام پاکستان کے نظریاتی مقاصد کو دھندلانے کے لیے اس پراپیگنڈا میں دن بدن شدت پیدا کی جا رہی ہے کہ پاکستان تو علماء کے موقف کے علی الرغم قائم ہوا تھا، اس لیے اس ملک میں علماء کی راہنمائی اور ان کے نظریاتی موقف و پروگرام کی پذیرائی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ حالانکہ یہ محض ایک دھوکہ ہے جس کا مقصد صرف پاکستان کو اسلامی تشخص سے دور رکھنے کی راہ ہموار کرنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۷ء

مذہبی انتہا پسندی کے اسباب اور اس کا علاج

برطانیہ کی انتظامیہ کا مسلمانوں کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ یہاں کے مسلم نوجوانوں کے جذبات اور مبینہ طور پر ان کی انتہا پسندی کو کنٹرول میں رکھنا ہے، تاکہ انتظامی مسائل پیدا نہ ہوں اور اس سلسلے میں مشکلات کم ہوں۔ آج جبکہ میں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں، میرے سامنے لندن میں شائع ہونے والا ایک اردو اخبار پڑا ہے جس کی اہم خبر یہ ہے کہ برطانوی حکومت لوکل اتھارٹیز کو پانچ ملین پونڈ اس مقصد کے لیے دے رہی ہے کہ وہ نوجوان مسلمانوں کو انتہا پسندی کی طرف جانے سے روکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جنوری ۲۰۰۷ء

جنرل مشرف کے لیے تین نکاتی ایجنڈا

پاک فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے آئین معطل کر کے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کا منصب سنبھال لیا ہے۔ اس کے پس منظر میں واقعات کا ایک پورا تسلسل ہے جو قارئین کے سامنے ہے اور ان میں سے کسی بات کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عام حلقوں میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ملک کسی بڑے بحران سے بچ گیا ہے۔ نواز شریف کے سیاسی مخالفین خوشیاں منا رہے ہیں اور ان کے سیاسی ہمدرد افسوس کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ ہمارے نزدیک اب تک کی صورتحال میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۱۹۹۹ء

مسئلہ قادیانیت: بھٹی صاحب کے تین اعتراضات

راقم الحروف نے مندرجہ بالا عنوان کے تحت چند روز قبل قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے ایک بیان پر گرفت کی تھی جس میں انہوں نے حالیہ مردم شماری میں قادیانی جماعت کے بعض افراد کے اندراج کے حوالہ سے کچھ علماء کرام کے اس بیان کو جھٹلایا تھا کہ مردم شماری میں اپنے نام درج کرانے والے قادیانیوں نے خود کو غیر مسلم تسلیم کر لیا ہے۔ اس کے جواب میں طاہر احمد بھٹی صاحب کا ایک مضمون ’’مولانا! آپ کی دعوت سر آنکھوں پر مگر……’’ کے عنوان سے روزنامہ اوصاف میں شائع ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ مئی ۱۹۹۸ء

کرونا کنٹرول میں چین کی پالیسی اور ہمارا طرز عمل

کرونا وائرس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ چائنہ نے کافی حد تک اسے کنٹرول کر لیا ہے مگر ایران اور اٹلی کے بعد امریکہ میں اس کے پھیلاؤ کو روکنا مشکل مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ رپورٹیں بھی آنا شروع ہو گئی ہیں کہ کرونا وائرس یا وبائی فلو کی یہ لہر فطری ہے یا اس کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی کارفرما ہے۔ ہم اس سلسلہ میں اپنے ایک کالم میں عرض کر چکے ہیں کہ اس کا پورا امکان موجود ہے کہ یہ حیاتیاتی جنگ یا وائرس وار کا کوئی مرحلہ ہو، مگر ابھی اس بحث کو چھیڑنے کی بجائے ہم اس کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرین کی مدد کے پہلو کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ مارچ ۲۰۲۰ء

دینی مدارس کو درپیش آزمائش اور اسوۂ حسنہ

دینی مدارس کو درپیش فکری چیلنجز بہت سے ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ ان مدارس کی آخر الگ سے کیا ضرورت ہے؟ اور جب مسلمان معاشرے میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں موجود ہیں اور تعلیمی خدمات سرانجام دے رہی ہیں تو اجتماعی دھارے اور مین اسٹریم سے ہٹ کر یہ مدارس الگ کیا کام کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں؟ یہ بہت بڑا سوال ہے جو پوری دنیا میں دہرایا جا رہا ہے اور بار بار دہرایا جا رہا ہے جس کا جواب دینا ضروری ہے اور نئی نسل کو مطمئن کرنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ تا ۲۵ جولائی ۲۰۰۷ء

عصر حاضر کے چیلنجز اور دینی جدوجہد کے ۷ دائرے

اس وقت پورے عالم اسلام میں علماء کرام اور دین سے تعلق رکھنے والے حلقے، شخصیات اور ادارے جن دائروں میں کام کر رہے ہیں، اور جو دین کے حوالے سے ان کی تگ و دو کے دائرے ہیں، ان کی معروضی صورتحال پر میں اس وقت آپ حضرات سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں، تاکہ یہ بات آپ دوستوں کے سامنے آ جائے کہ کون سے کام ہمارے کرنے کے ہیں؟ ان میں سے کون سے ہو رہے ہیں اور کون سے نہیں ہو رہے ہیں؟ میں نے موجودہ مسلم معاشرے اور عالمی ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے دینی جدوجہد کی مختلف سطحوں کو سات دائروں میں تقسیم کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جون ۲۰۰۶ء

عالم اسلام پر مغربی فکر کی یلغار اور علماء کرام کی ذمہ داری

آج کی اس ملاقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس عنوان کے تحت کچھ تلخ گزارشات آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ حضرات محترم! اس عنوان کے تحت بنیادی طور پر چار امور غور طلب ہیں: ایک یہ کہ مغربی فکر کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ مغربی فکر کے عالم اسلام پر اثرات کیا ہیں؟ تیسرا یہ کہ اس کے مقابلہ میں ہم جو کچھ کر رہے ہیں، وہ کہاں تک مؤثر ہے؟ اور چوتھا یہ کہ مسلمانوں کو اس مغربی فکر کے حصار سے نکالنے کے لیے علماء کرام پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اگست ۱۹۹۲ء

مغربی عوام اور حکمران ہم آہنگ نہیں

۲۸ ستمبر ۲۰۰۲ء کو لندن میں عراق پر مجوزہ امریکی حملے کے خلاف عوامی مظاہرہ تھا۔ گزشتہ سال انہی دنوں میں افغانستان پر امریکی حملے کے خلاف بھی لندن میں ایک بڑا مظاہرہ ہوا تھا جس میں شرکت کا مجھے بھی موقع ملا۔ مغربی ممالک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو عراق، فلسطین، کشمیر اور افغانستان کے حوالے سے امریکہ اور برطانیہ کی قیادت کے درمیان قائم عالمی اتحاد کے عزائم کو ان کے اصل پس منظر میں سمجھتے ہیں اور اسے سراسر ظلم قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف آواز بھی بلند کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ اکتوبر ۲۰۰۲ء

مسلمان اور مسیحی مذہبی راہنماؤں کے درمیان مکالمہ کی ضرورت

ایک عرصہ سے دل میں یہ خواہش پرورش پاتی چلی آ رہی ہے کہ مغرب آسمانی تعلیمات اور مذہبی احکامات و اقدار سے بغاوت کے جو تلخ نتائج بھگت رہا ہے اور اب ان میں ہم مشرق والوں کو بھی شریک کرنے کے درپے ہے، ان کے بارے میں سنجیدہ مسیحی مذہبی راہنماؤں سے گفتگو کی جائے اور اگر مذہب گریز رجحانات کو روکنے کے لیے کسی درجے میں مشترکہ کوششوں کی کوئی راہ نکل سکتی ہو تو اس کے لیے پیشرفت کی جائے۔ پاکستان کے مسیحی راہنماؤں میں آنجہانی جسٹس اے آر کارنیلیس اور آنجہانی جوشوا فضل دین کے بعد کوئی ایسا مسیحی راہنما نظر نہیں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اگست ۱۹۹۷ء

فکری بیداری کے مختلف دائرے اور ہماری ذمہ داری

اب سے سترہ اٹھارہ برس پہلے ہم نے ورلڈ اسلامک فورم تشکیل دیا اور احباب کو توجہ دلائی کہ وہ دینی جدوجہد کے حوالے سے آج کے دور کی ضروریات اور تقاضوں کا ادراک حاصل کریں اور ان کو سامنے رکھ کر اسلام اور مسلمانوں کے لیے اپنی محنت کو مؤثر بنائیں، تو ہماری یہ آواز اجنبی سی محسوس ہو رہی تھی اور یوں لگتا تھا کہ شاید کوئی بھی ہماری اس آواز کو سنجیدگی کے ساتھ سننے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ لیکن آج بحمد اللہ تعالٰی ہم مطمئن ہیں کہ اس آواز کو دھیرے دھیرے پذیرائی حاصل ہو رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ و ۳۰ مئی ۲۰۰۸ء

نائن الیون کا سانحہ اور مسلمانوں کے لیے لائحہ عمل

مسلم ممالک میں سب سے پہلے ترکی نے سیکولر فلسفہ کو دستوری طور پر قبول کیا تھا اور وہی سب سے زیادہ شدت کے ساتھ اس پر ابھی تک قائم بھی ہے، حتٰی کہ ترکی کا دستور صراحت کے ساتھ قرآن و سنت کی راہنمائی کو مسترد کرتا ہے، لیکن ترکی کے عام مسلمان نے آج تک اس لا مذہبی فلسفہ کو قبول نہیں کیا اور عام ترکی مسلمانوں کو جب بھی موقع ملتا ہے، وہ قرآن و سنت کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ کا کھلم کھلا اظہار کر دیتے ہیں۔ یہ بات مغرب کے حکمرانوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۱ء

مغربی ممالک میں مسلمان بچوں کی دینی تعلیم

مذاکرہ میں اس امر کا جائزہ لیا گیا کہ مغربی معاشرہ میں ان ضروریات کا دائرہ کیا ہے جن کی تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض عین ہے اور جن کے بغیر کوئی شخص اس معاشرہ میں ایک صحیح مسلمان کے طور پر زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ بحث و تمحیص کے بعد والدین، اساتذہ اور خطباء و ائمہ سے یہ گزارش کرنے کا فیصلہ کیا گیا کہ وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں مندرجہ ذیل امور کے حوالہ سے بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص توجہ دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۳ء

مغرب میں مقیم مسلمانوں کے لیے دینی لائحہ عمل ۔ مولانا مفتی رفیع عثمانی کی تجاویز

امریکی ریاست ورجینیا میں وفاقی دارالحکومت واشنگٹن سے متصل علاقہ اسپرنگ فیلڈ میں ’’دارالہدیٰ‘‘ کے نام سے ایک دینی ادارہ ہے جس میں مسجد، قرآنی تعلیم کا مکتب اور طالبات کے لیے اسکول کے شعبے کام کر رہے ہیں۔ مولانا عبد الحمید اصغر کی سربراہی میں ایک ٹیم اس کارخیر میں مصروف ہے۔ موصوف بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں، بنیادی طور پر انجینئر ہیں، لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی میں استاد رہے ہیں، معروف نقشبندی بزرگ حضرت مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندیؒ (آف چکوال) کے خلیفہ مجاز ہیں اور امریکہ آنے کے بعد ایک عرصہ سے دینی خدمات میں سرگرم ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اکتوبر ۲۰۰۳ء

برطانوی مسلمان اور مسٹر ڈیوڈ کیمرون کے خیالات

میں نے گزشتہ کسی کالم میں برطانوی کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر مسٹر ڈیوڈ کیمرون کے ایک انٹرویو کا ذکر کیا تھا جو انہوں نے ایک مسلمان خاندان کے ساتھ چوبیس گھنٹے گزارنے کے بعد دیا ہے اور میں نے اس کی تفصیلات ۱۲ مئی کو لندن سے شائع ہونے والے ایک اردو روزنامہ میں پڑھی تھیں۔ گزشتہ ماہ برطانیہ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے جہاں کنزرویٹو پارٹی کو یہ امید دلا دی ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات میں لیبر پارٹی پر سبقت حاصل کر سکتی ہے، وہاں حکمران لیبر پارٹی بھی نئی صف بندی پر مجبور ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جون ۲۰۰۷ء

اسلامی نظام، انسانی حقوق اور قادیانیت

بعد الحمد والصلوۃ۔ حضرت الامیر! قابل احترام علماء کرام، بزرگو، دوستو اور ساتھیو! ایک دور تھا جب مرزا غلام احمد قادیانی کی امت کا ہیڈ کوارٹر قادیان میں تھا اور یہ وہ زمانہ تھا جب قادیانیت کے خلاف کوئی بات کہنا برطانوی حکومت کے غیظ و غضب کو دعوت دینا تھا۔ تب مجلس احرار اسلام کے شعبہ تبلیغ نے قادیان میں کانفرنس کا اہتمام کیا جہاں قادیانی امت اپنا سالانہ اجتماع منعقد کیا کرتی تھی اور اسے مبینہ طور پر معاذ اللہ حج کی طرح مقدس اجتماع کی حیثیت دی جاتی تھی۔ اس دور میں قادیان میں مسلمانوں کا اجتماع منعقد کرنے میں احرار کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جولائی ۱۹۹۳ء

مغربی معاشرہ میں دینی تعلیم

مولانا محمد کمال خان ہمارے محترم بزرگ ہیں، سوات کے رہنے والے ہیں، ایک عرصہ تک ڈیوزبری (برطانیہ) کے تبلیغی مرکز کے دینی مدرسہ میں خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں اور اب نوٹنگھم کے قریب نیوارک سے متصل بلڈنگ خرید کر الجامعۃ الاسلامیہ کے نام سے ایک بڑا دینی ادارہ قائم کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ بلڈنگ رائل ایئر فورس کے آفیسرز کے ہاسٹل کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے، اس میں ڈیڑھ سو کے قریب کمرے ہیں اور مجموعی رقبہ دس ایکڑ سے زائد ہے۔ اس کی قیمت کی قرضہ حسنہ سے ادائیگی کے لیے اصحاب خیر سے رابطے کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۲ء

لاک ڈاؤن اور مساجد کا مسئلہ

دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی کی طرف سے ایک اپیل سامنے آئی ہے جو انہوں نے کرونا وائرس کے سلسلہ میں بھارتی مسلمانوں سے کی ہے، ہمارے خیال میں وہ بہت متوازن اور قابل عمل ہے، اسے انہی کے الفاظ میں پیش کیا جا رہا ہے: ’’ملک میں کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ تشویشناک صورتحال کے پیش نظر تمام باشندگان ملک خصوصاً مسلمانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس سلسلہ میں محکمۂ صحت کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کی پابندی کریں اور وطن عزیز کو اس وبا سے محفوظ رکھنے میں تعاون کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مارچ ۲۰۲۰ء

مغربی ممالک میں مسلمانوں کی نئی نسل کا مستقبل اور مسلم دانشوروں کی ذمہ داری

نئی نسل کے بارے میں اس قسم کے خیالات کا اظہار اکثر ہماری مجالس میں ہوتا رہتا ہے اور ہمیں یہ شکایت رہتی ہے کہ مغربی ممالک میں مقیم ہماری نئی نسل مشرقی روایات، اسلامی اقدار اور پاکستانی تہذیب سے بیگانہ ہوتی جا رہی ہے۔ شکوہ بجا مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس میں نئی نسل کا قصور کیا ہے؟ اور اسے کوسنے میں ہم کس حد تک حق بجانب ہیں؟ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صورتحال کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور اس کے اسباب کا تجزیہ کیا جائے، مستقبل کی ضروریات کی نشاندہی کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۳ء

امریکہ کا لکڑ ہضم، پتھر ہضم معاشرہ اور مسلمانوں کی نئی پود کا مستقبل

محترم و برادران اسلام! مجھے امریکہ میں حاضری دیتے ہوئے چوتھا سال ہے۔ ہر سال کچھ دنوں کے لیے حاضری کا موقع ملتا ہے۔ یہاں مکی مسجد میں آپ حضرات سے ملاقات کی سعادت بھی حاصل ہوتی ہے۔ پہلی دفعہ ۱۹۸۷ء میں حاضر ہوا تو یہیں مکی مسجد میں مسلسل آٹھ دس روز قادیانیت کے بارے میں روزانہ گفتگو ہوتی رہی۔ اس وقت یہاں آنے کا مقصد بھی قادیانی گروہ کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا اور امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کے حالات معلوم کرنا تھا۔ پھر جوں جوں مسائل و احوال سے واقفیت ہوتی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ دسمبر ۱۹۹۰ء

’’دیار مغرب کے مسلمان ۔ مسائل، ذمہ داریاں، لائحہ عمل‘‘

برطانیہ کا پہلا سفر میں نے ۱۹۸۵ء میں اور امریکہ کا پہلا سفر ۱۹۸۷ء میں کیا تھا۔ دونوں ممالک کے اس سفر کا ابتدائی داعیہ قادیانی مسئلہ تھا۔ ۱۹۸۴ء میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پاکستان میں اسلام کے نام پر اور مسلمانوں کی اصطلاحات کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے سے قادیانیوں کو روک دیا اور ان کے لیے اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مذہبی شعائر و اصطلاحات کے استعمال کو قانوناً جرم قرار دے دیا تو قادیانیوں نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز لندن کو بنا لیا اور وہاں ’’اسلام آباد‘‘ کے نام سے نیا مرکز بنا کر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۲۰۰۸ء

ملک بھر کے دینی کارکنوں اور علماء کرام سے اپیل

’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کا انتخابی اور حکومتی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کے قیام کے ساتھ واضح کر دیا گیا تھا کہ انتخابی سیاست اور اقتدار کی کشمکش سے الگ تھلگ رہتے ہوئے پاکستان شریعت کونسل ملک میں (۱) اسلامی نظام کے نفاذ، (۲) دینی قوتوں میں رابطہ و مفاہمت کے فروغ، (۳) اور اسلام مخالف لابیوں اور سرگرمیوں کے تعاقب کے لیے فکری اور علمی محاذ پر کام کرے گی۔ چنانچہ اسی دائرہ میں رہتے ہوئے کونسل اپنے وسائل اور استطاعت کے دائرہ میں سرگرم عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۲ء

مجلس تحفظ حدود اللہ کا قیام اور متحدہ مجلس عمل کی ریلی

’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کے بارے میں اسلامی نظریہ کونسل کی حالیہ رائے، مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کی طرف سے ’’مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان‘‘ کے قیام کے ساتھ اس بل کے خلاف جدوجہد کے اعلان اور متحدہ مجلس عمل کی لاہور سے گجرات تک ریلی کے بعد اس سلسلہ میں صورتحال خاصی دلچسپ ہوتی جا رہی ہے، مگر اس حوالے سے کچھ عرض کرنے سے قبل ایک وضاحت ضروری سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ دسمبر ۲۰۰۶ء

سرحد حکومت کے اصل کام

سرحد اسمبلی نے گزشتہ دنوں اہم نوعیت کی چند قراردادیں پاس کی ہیں جو اگرچہ سفارشی نوعیت کی ہیں، مگر ان سے سرحد اسمبلی میں ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ کی صوبائی حکومت کے فکری رجحانات کی نشاندہی ہوتی ہے اور نفاذ اسلام کے حوالے سے وفاقی حکومت اور ملک کی دیگر صوبائی حکومتوں کے لیے بھی ان میں راہنمائی کا سامان موجود ہے۔ مکمل تحریر

۲۰۰۲ء غالباً

پاکستان اور عالم اسلام کا مستقبل

مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام کا وفد بھارت کے دورے سے واپس آگیا ہے، وفد میں جمعیت کے تین دوسرے لیڈر حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب خان، اور مولانا قاضی حمید اللہ خان بھی شامل تھے۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند میں حاضری کے علاوہ جمعیت علماء ہند کے راہنماؤں اور بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سمیت متعدد بھارتی لیڈروں سے ملاقاتیں کیں جن میں انڈین نیشنل کانگریس کی لیڈر سونیا گاندھی بھی شامل ہیں۔ اس دورے کا اصل پس منظر تو یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل پشاور میں جمعیت علماء اسلام کے زیراہتمام منعقد ہونے والی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اگست ۲۰۰۳ء

عید الفطر پر تذبذب کی صورتحال اور اس کا حل

عید الفطر گزر گئی ہے اور ملک بھر میں روایتی جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی ہے۔ رؤیت ہلال کا تنازع حسب توقع عید کے موقع پر بھی قائم رہا۔ صوبہ سرحد کی رؤیت ہلال کمیٹی نے اپنے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے پیر کی شام کو اجلاس طلب کر لیا اور سینکڑوں شہادتوں کی بنیاد پر فیصلہ صادر کر دیا کہ عید الفطر ۲۵ نومبر منگل کو ہوگی۔ صوبہ بلوچستان کی رؤیت ہلال کمیٹی نے بھی اس حد تک صوبہ سرحد کا ساتھ دیا کہ چاند دیکھنے کے لیے اجلاس پیر کی شام کو طلب کر لیا مگر کوئی شہادت نہ ملنے کی وجہ سے بدھ کی عید کا اعلان کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ دسمبر ۲۰۰۳ء

تحفظ نسواں بل سے متعلق علماء کمیٹی کی سفارشات

حدود آرڈیننس میں ترامیم بل کے حوالے سے جو بحران پیدا ہوتا نظر آرہا تھا وہ بحمد اللہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن کی خصوصی حکمت عملی اور توجہ کے باعث باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ اصولی طور پر رک گیا ہے۔ اور اگر تحفظ حقوق نسواں بل کو قومی اسمبلی میں دوبارہ پیش کرتے وقت کوئی اور الجھن پیدا نہ ہوئی تو امید ہے کہ اس مسئلہ پر کوئی نیا بحران کھڑا نہیں ہوگا اور اس کے ملک کی سالمیت پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ ستمبر ۲۰۰۶ء

چاند کا مسئلہ: مشترکہ دینی قیادت کی آزمائش

رؤیت ہلال کا مسئلہ اس سال قومی سطح پر متنازعہ صورت اختیار کرنا نظر آرہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر اس مسئلہ کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے کی فوری کوشش نہ کی گئی تو عید الفطر کے موقع پر یہ خلفشار وسیع تر صورت اختیار کر جائے گا اور قوم متفقہ یا کم از کم اکثریتی عید کے ثواب و لطف سے محروم ہو جائے گی۔ اب سے ربع صدی قبل بلکہ اس سے بھی پہلے ہمارے طالب علمی کے دور میں یہ صورتحال عام طور پر پیش آ جاتی تھی کہ چاند کی رؤیت کے مسئلہ پر اختلاف ہو جاتا تھا اور بسا اوقات ایک شہر میں دو دن الگ الگ عید منائی جاتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ نومبر ۲۰۰۳ء

رؤیت ہلال کا مسئلہ۔ قائدین توجہ فرمائیں!

رؤیت ہلال کا مسئلہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد حسن جان کے استعفٰی کے بعد مزید تشویشناک صورت اختیار کر گیا ہے۔ قومی اخبارات میں شائع ہونے والے ایک بیان میں مولانا حسن جان نے فرمایا ہے کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا مفتی منیب الرحمن نے کمیٹی کے دیگر حاضر ارکان کے مشورے اور رائے پر توجہ دینے کی بجائے ذاتی فیصلے پر اڑے رہنے کو ترجیح دی ہے جس کی وجہ سے ۲۸ اکتوبر کو چاند نظر نہ آنے کا اعلان ان کا ذاتی فیصلہ ہے، کمیٹی کا فیصلہ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ نومبر ۲۰۰۳ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter