بین الاقوامی معاہدات اور ہماری ملی ضروریات

جوں جوں بین الاقوامی معاہدات کا حصار تنگ ہوتا جا رہا ہے، ان معاہدات سے آگاہی اور ان پر بحث و تمحیص کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے اور مختلف علمی مراکز میں ان کے حوالہ سے آگاہی و بیداری کا ماحول دیکھنے میں آرہا ہے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی شریعہ اکادمی ملک بھر کے اصحاب فکر و نظر کے شکریہ اور تبریک کی مستحق ہے کہ وہ اس فکری و علمی مہم کی قیادت میں پیش پیش ہے جس میں پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد، ڈاکٹر حبیب الرحمان اور ان کے رفقاء کی دلچسپی اور تگ و دو علماء و طلبہ کے لیے حوصلہ افزا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ دسمبر ۲۰۱۹ء

جدید سیاسی نظام اور اجتہاد

’’اقبال کا تصور اجتہاد‘‘ کے عنوان سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام یہ تین روزہ سیمینار ایسے وقت میں ہو رہا ہے جبکہ پوری دنیائے اسلام میں اجتہاد کے بارے میں نہ صرف یہ کہ بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے مختلف اور متنوع پہلو ارباب علم و دانش کی گفتگو کا موضوع بنے ہوئے ہیں، بلکہ مختلف سطحوں پر اجتہاد کا عملی کام بھی پہلے سے زیادہ اہمیت اور سنجیدگی کے ساتھ پیشرفت کر رہا ہے اور امت مسلمہ میں اجتہاد کی ضرورت و اہمیت کا احساس بڑھتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اکتوبر ۲۰۰۷ء

شریعت بل، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور اجتہاد

صدر مملکت کی طرف سے قومی اسمبلی توڑے جانے کے بعد عوامی سطح پر شریعت بل کے بارے میں بحث و تمحیص کا سلسلہ اگرچہ وقتی طور پر رک گیا ہے اور شریعت بل کی منظوری اور نفاذ کے بارے میں لوگ ۲۴ اکتوبر کو معرض وجود میں آنے والی قومی اسمبلی کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن اہل دانش کے ہاں شریعت بل پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ چنانچہ ملک کے دو معروف قانون دانوں ریٹائرڈ جسٹس جناب جاوید اقبال اور جناب ملک امجد حسین ایڈووکیٹ کے مضامین گزشتہ دنوں روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحات کی زینت بنے ہیں جن میں شریعت بل کے حوالہ سے چند نکات زیر بحث لائے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۰ء

دینی و عصری تعلیم کے مشترکہ نصاب و نظام کے بارے میں بعض تحفظات

روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد (۱۲ دسمبر) کی خبر کے مطابق حکومت اور دینی مدارس کے وفاقوں کے درمیان مبینہ طور پر طے پانے والے معاہدہ کے مطابق نئے مجوزہ سسٹم کے تحت دینی مدارس کے کوائف مرتب کرنے اور ان کی رجسٹریشن کا کام شروع ہوگیا ہے اور متعلقہ محکموں نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ جبکہ کوائف کے سوالنامہ میں اس خبر کے مطابق آمدنی کے ذرائع بتانے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ یہ نیا سلسلہ کیا ہے اور اس کی تفصیلات کیا ہیں؟ متعلقہ محکموں اور ان کے افسران کے طرز عمل سے سارا منظر چند روز تک واضح ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ دسمبر ۲۰۱۹ء

وجدانیات اور نفسیات کے حوالہ سے مغرب کا طرز عمل

۲۸ نومبر ۲۰۱۹ء کو معہد الخلیل الاسلامی کراچی میں ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کے درس کے دوران وجدانیات اور نفسیات کے حوالہ سے مغرب کے طرز عمل پر کچھ گفتگو ہوئی تو درجہ ثانیہ عربی کے طالب علم محمد معاذ الحسینی نے ایک دلچسپ سوال تحریری صورت میں کیا جس کا سرسری جواب تو وہاں زبانی دے دیا مگر بعد میں تحریری جواب بھی بھجوایا۔ سوال و جواب دونوں قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ سوال: آپ کے آج کے بیان سے جو ذہن کے دریچے کھلے ہیں اور بہت سے سوالوں کی تفشی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ دسمبر ۲۰۱۹ء

حدود و تعزیرات سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جسے اس غرض سے تشکیل دیا گیا تھا کہ دستور پاکستان میں ملک کے تمام مروجہ قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کی جو ضمانت دی گئی ہے، وہ اس کی تکمیل کے لیے حکومت پاکستان کی مشاورت کرے۔ اس کی عملی شکل یہ ہے کہ جدید قانون کے ممتاز ماہرین اور جید علمائے کرام پر مشتمل ایک کونسل تشکیل دی جاتی ہے جو حکومت کے استفسار پر یا اپنے طور پر ملک میں رائج کسی قانون کا اس حوالے سے جائزہ لیتی ہے کہ وہ قرآن و سنت کے مطابق ہے یا نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اکتوبر ۲۰۰۷ء

شریعت کی تعبیر و تشریح اور علامہ محمد اقبالؒ

ان دنوں قومی اخبارات میں ’’عورت کی حکمرانی‘‘ کے بارے میں بحث کا سلسلہ چل رہا ہے اور عورت کی حکمرانی کے جواز اور عدم جواز پر دونوں طرف سے اپنے اپنے ذوق کے مطابق دلائل پیش کیے جا رہے ہیں۔ جو حضرات عورت کی حکمرانی کو شرعاً جائز نہیں سمجھتے وہ اپنے موقف کے حق میں قرآن کریم کی آیت کریمہ ’’الرجال قوامون علی النساء‘‘ کے علاوہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد ارشادات اور امت کا چودہ سو سالہ اجتماعی تعامل پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون و جولائی ۱۹۹۲ء

’’عصر حاضر میں اجتہاد ۔ چند فکری و عملی مباحث‘‘

اجتہاد کے حوالے سے اس وقت عام طور پر دو نقطہ نظر پائے جاتے ہیں: (۱) ایک یہ کہ دین کے معاملات میں جتنا اجتہاد ضروری تھا وہ ہو چکا ہے، اب اس کی ضرورت نہیں ہے، اس کا دروازہ کھولنے سے دین کے احکام و مسائل کے حوالے سے پنڈورا بکس کھل جائے گا اور اسلامی احکام و قوانین کا وہ ڈھانچہ جو چودہ سو سال سے اجتماعی طور پر چلا آرہا ہے، سبوتاژ ہو کر رہ جائے گا ۔ ۔ ۔ (۲) جب کہ دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اجتہاد آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے، دین کے پورے ڈھانچے کو اس عمل سے دوبارہ گزارنا وقت کا اہم تقاضا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ دسمبر ۲۰۰۷ء

ترکی میں احادیث کی نئی تعبیر و تشریح ۔ علمی شخصیات و مراکز کی خدمت میں ایک اہم مکتوب

مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ مزاج گرامی؟ برادر مسلم ملک ترکی کے حوالے سے ایک خبر اخبارات میں شائع ہوئی ہے جو اس عریضہ کے ساتھ منسلک ہے کہ اس کی وزارت مذہبی امور نے احادیث نبویہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کے پورے ذخیرے کی ازسرنو چھان بین اور نئی تعبیر و تشریح کے کام کا سرکاری سطح پر آغاز کیا ہے جو اس حوالے سے یقیناً خوش آئند ہے کہ ترکی نے اب سے کم و بیش ایک صدی قبل ریاستی و حکومتی معاملات سے اسلام اور مذہبی تعلیمات کی لاتعلقی کا جو فیصلہ کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مارچ ۲۰۰۸ء

امت مسلمہ کو درپیش فکری مسائل: چند اہم گزارشات

’’عصر حاضر میں اسلامی فکر ۔ چند توجہ طلب مسائل‘‘ کے عنوان سے محترم ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا مضمون نظر سے گزرا۔ یہ مضمون کم و بیش ربع صدی قبل تحریر کیا گیا تھا لیکن اس کی اہمیت و افادیت آج بھی موجود ہے بلکہ مسائل کی فہرست اور سنگینی میں کمی کے بجائے اس دوران میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے بیشتر مسائل خود میرے مطالعہ کا موضوع رہے ہیں اور بعض مسائل پر کچھ نہ کچھ لکھا بھی ہے مگر یہ خواہش رہی ہے کہ ایجنڈا اور تجاویز کے طور پر ایسے مسائل کی ایک مربوط فہرست سامنے آجائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۲ء

حضرت لاہوریؒ کی جدوجہد و خدمات کی ایک جھلک

شیرانوالہ گیٹ لاہور میں عالمی انجمن خدام الدین کا دو روزہ سالانہ اجتماع آج شروع ہوگیا ہے جو کل شام تک جاری رہے گا اور اس میں سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ کے مشائخ اور متوسلین کے علاوہ علماء کرام اور کارکنوں کی بھرپور شرکت رہے گی، ان شاء اللہ تعالٰی۔ اجتماع کے اشتہار میں اسے ۱۰۲ واں اجتماع بتایا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انجمن خدام الدین ایک صدی مکمل کر کے دوسری صدی میں داخل ہو گئی ہے اور یہ بات بہرحال خوشی کی ہے کہ اس کا تسلسل اور سرگرمیاں بدستور جاری ہیں، اللہ تعالٰی ترقیات اور ثمرات سے ہمیشہ بہرہ ور فرماتے رہیں، آمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ دسمبر ۲۰۱۹ء

کراچی یونیورسٹی کی سالانہ سیرت کانفرنس میں حاضری

۲۷ و ۲۸ نومبر کراچی میں گزارنے کا موقع ملا، شعبہ علوم اسلامی کراچی یونیورسٹی کی سیرت چیئر کی سالانہ سیرت کانفرنس میں شرکت کا وعدہ تھا، اس دوران قیام معہد الخلیل الاسلامی بہادر آباد میں رہا اور ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کی ہفتہ وار کلاس میں گفتگو کی۔ یہ کلاس معہد الخلیل الاسلامی کراچی کے زیر اہتمام الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے اشتراک و تعاون سے ہر منگل کو اڑھائی بجے سے ساڑھے تین بجے تک آن لائن ہوتی ہے۔ معہد کے مدیر مولانا محمد الیاس مدنی کا ارشاد تھا کہ جب آپ کراچی آ ہی رہے ہیں تو ایک نشست بالمشافہہ ہو جائے جو جمعرات کو ظہر کے بعد ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ نومبر ۲۰۱۹ء

امت مسلمہ کے مسائل اور عالمی قوتوں کی ’’اصول پرستی‘‘

آج کی ایک خبر کے مطابق امریکی کانگریس کے ایک سو پینتیس (۱۳۵) ارکان نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومیو کے فلسطین میں یہودی بستیوں کی حمایت پر مبنی بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کا موقف فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مساعی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق امریکی ارکان کانگریس کی طرف سے تیار کردہ پٹیشن میں وزیرخارجہ مائیک پومیو سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غرب اردن میں یہودی آباد کاری کی حمایت سے متعلق اپنا بیان واپس لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ نومبر ۲۰۱۹ء

بلاول بھٹو زرداری سے چند گزارشات

محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کی جگہ ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو پاکستان پیپلز پارٹی کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے اور ان کی تعلیم و تربیت مکمل کرنے تک ان کے والد جناب آصف علی زرداری کو شریک چیئرمین کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے، جبکہ مخدوم امین فہیم کو آئندہ وزارت عظمی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح پاکستان پیپلز پارٹی کی آئندہ قیادت کے خدوخال کچھ نہ کچھ واضح ہوگئے ہیں۔ چیئرمین شپ کو بھٹو خاندان میں رکھنا ہمارے خطے کی روایتی مجبوری ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۸ء

جامعہ حفصہ کی تعمیر نو اور ’’تحریک طالبان و طالبات اسلام‘‘

سپریم کورٹ کے حکم پر لال مسجد کے کھل جانے کے بعد سے وہاں نماز وغیرہ کی معمول کی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں۔ عدالت عظمٰی نے لال مسجد کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کا ازخود نوٹس لینے کے بعد اس سلسلہ میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی طرف سے دائر کی جانے والی رٹ اور غازی عبد الرشید شہید کے خاندان کی طرف سے دی جانے والی درخواستوں کو یکجا کر دیا ہے اور ان سب پر مجموعی طور پر کارروائی آگے بڑھ رہی ہے۔ جس میں لال مسجد کے دوبارہ کھولے جانے اور جامعہ حفصہ کی ازسرنو تعمیر کا معاملہ بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اکتوبر ۲۰۰۷ء

پاکستان اسٹیل ملز اور عدالت عظمیٰ

۱۹۷۰ء کے عام انتخابات سے پہلے جب ملک میں انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ہوا تو وہ میری سیاسی اور خطابتی زندگی کا ابتدائی دور تھا۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز سے عقیدت زیادہ تھی جو اب بھی ہے، ان کی سیاسی جدوجہد اور سیاسی افکار سے سب سے زیادہ متاثر تھا اور اسی مناسبت سے استعمار دشمنی کی بات کسی طرف سے بھی ہو، اچھی لگتی تھی۔ جمعیت علمائے اسلام کا اجتماعی ذوق بھی یہی تھا (جو اب پس منظر میں چلا گیا ہے)۔ اس حوالے سے لیفٹ کے سیاسی کارکنوں کے ساتھ ہمارا میل جول زیادہ رہتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اگست ۲۰۰۶ء

عدلیہ کی بحالی اور دستور و قانون کی بالادستی

سپریم کو رٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جناب اعتزاز احسن اور وکلاء تحریک کے دیگر قائدین جسٹس (ر) طارق محمود اور جناب علی احمد کرد دوبارہ نظر بند کر دیے گئے ہیں۔ اس سے یہ بات پھر واضح ہوگئی ہے کہ صدر پرویز مشرف اور ان کی حکومت دستور کی بالادستی اور پی سی او کے تحت معزول کیے جانے والے معزز جج صاحبان کی بحالی کے بارے میں ملک بھر کے قانون دانوں اور رائے عامہ کی بات پر توجہ دینے کے لیے ابھی تک تیار نہیں۔ لیکن کیا اس طرح وکلاء کی قیادت کو ان سے دور رکھ کر اس تحریک کو دبایا جا سکے گا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۲۰۰۸ء

وکلاء اور علماء کے مابین ایک ملاقات کا احوال

وکلاء کی تحریک کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور جج صاحبان کی بحالی کے لیے نئی حکومت جن عزائم کا اظہار کر رہی ہے، پوری قوم کو ان میں پیشرفت کا بے چینی کے ساتھ انتظار ہے۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی رہائش گاہ زبردستی خالی کرانے کی بھونڈی حرکت نے جہاں نومنتخب وزیر اعظم کو جسٹس خلیل الرحمن رمدے سے معذرت کرنے پر مجبور کیا ہے، وہاں وکلاء کی تحریک کے لیے بھی مہمیز کا کام دیا ہے اور ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ پھیلتا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس محترم جناب افتخار محمد چودھری کے اس بیان نے ان کی عزت و وقار میں مزید اضافہ کیا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۸ء

عدلیہ کی بحالی اور اسلام کی بالادستی

پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے امیر مولانا عبد الحق خان بشیر نے، جو میرے چھوٹے بھائی اور گجرات کے محلہ حیات النبی میں جامع مسجد امام ابوحنیفہؒ کے خطیب ہیں، ۷ فروری جمعرات کو مسجد امن باغبانپورہ لاہور میں شریعت کونسل کے صوبائی سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمن اختر کی رہائش گاہ پر مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کی ایک غیر رسمی مشاورت کا اہتمام کیا۔ ایجنڈا دو نکات پر مشتمل تھا: (۱) ایک یہ کہ عدلیہ کی بحالی اور دستور کی بالادستی کے لیے جو تحریک وکلاء کے فورم سے چل رہی ہے اس میں دینی حلقوں کا کیا کردار ہونا چاہیے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ فروری ۲۰۰۸ء

جامعہ حفصہ کا معاملہ: مذاکرات کے مراحل

اب جبکہ لال مسجد اسلام آباد، جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کا معاملہ مسلح حکومتی آپریشن کے بعد اس انجام کو پہنچ چکا ہے جو ملک کی مقتدر قوتوں کی خواہش تھی اور جس کے لیے گن گن کر دن گزارے جا رہے تھے، اس وقت جب میں اسلام آباد ہی میں بیٹھا یہ سطور تحریر کر رہا ہوں، غازی عبد الرشید اپنی والدہ محترمہ اور دیگر بہت سے رفقاء سمیت جام شہادت نوش کر چکے ہیں، اور لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف سرکاری فورسز کا آپریشن آخری مرحلہ میں ہے جس کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ چند گھنٹوں میں اپنے آخری نتیجے تک پہنچنے والا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲، ۱۶، ۱۷ جولائی ۲۰۰۷ء

سر جھکا کر اور سر اٹھا کر چلنے والوں کا فرق

چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کی خبر سن کر مجھے یوں لگا جیسے کوئی ڈاکٹر ایمرجنسی آپریشن روم کے دروازے سے باہر جھانک کر مریض کے رشتہ داروں کو یہ خوشخبری دے رہا ہے کہ مریض کی حالت خطرے سے باہر ہو گئی ہے اور اس نے اب سانس لینا شروع کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے اعلان سے قبل پوری قوم سکتے کے عالم میں تھی اور کان اسلام آباد کی طرف لگے ہوئے تھے کہ وہاں سے کیا خبر آتی ہے؟ عدالت عظمیٰ کے فل کورٹ نے قوم کا رخ مایوسی سے امید کی طرف پھیر دیا ہے جس پر فل کورٹ کے تمام ارکان پوری قوم کی طرف سے مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جولائی ۲۰۰۷ء

سپریم کورٹ میں وفاق المدارس کی آئینی درخواست

میں اس وقت جدہ میں ہوں، پرسوں ۱۳ اگست کو عشاء کی نماز کے وقت یہاں پہنچا ہوں، یوم آزادی یہیں گزارا ہے اور آج ۱۵ اگست کو مدینہ منورہ روانہ ہونے سے قبل یہ سطور تحریر کر رہا ہوں۔ مولانا عبد العزیز کے بھانجے عامر صدیق اور ہمشیرگان محترمات کی پریس کانفرنس کی رپورٹ میں نے سفر کے دوران پڑھی ہے جس میں انہوں نے مولانا عبد العزیز کی طرف سے اپنے وکیل کی تبدیلی اور وفاق المدارس العربیہ کی جدوجہد پر اطمینان کے اظہار کا اعلان کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ ان کے بعض نمائندے ان کے اور علمائے کرام کے درمیان اختلافات اور غلط فہمیوں کا باعث بنے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۰۷ء

اکابر علمائے کرام کا مشترکہ اعلامیہ

ملک کے تیس سرکردہ علمائے کرام نے، جن میں مختلف مکاتب فکر کے زعماء شامل ہیں، اپنے مشترکہ اعلامیہ میں ملک کی عمومی صورتحال کا جو تجزیہ پیش کیا ہے اور اس کے حل کے لیے جو تجاویز پیش کی ہیں وہ پاکستان کے ہر محب وطن شہری کے دل کی آواز ہے۔ آپ ملک کے کسی بھی حصے میں کسی ایسی جگہ پر چلے جائیں جہاں عام لوگ مل بیٹھ کر تبادلہ خیالات کیا کرتے ہیں، آپ کو اسی قسم کی باتیں سننے کو ملیں گی اور خیالات کی یکسانی اور ہم آہنگی کا یہ منظر آپ کو ہر جگہ اور ہر سطح پر نظر آئے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۸ء

وحدت امت اور تحفظ ختم نبوت کے ضروری تقاضے

لاہور میں ’’جامعۃ العروۃ الوثقٰی‘‘ کے نام سے اہل تشیع کا ایک بڑا تعلیمی ادارہ ہے جو آغا سید جواد نقوی کی سربراہی میں کام کر رہا ہے اور طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد وہاں مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کرتی ہے۔ مشترکہ دینی و قومی معاملات میں ملی مجلس شرعی کے فورم پر ان کا ہمارے ساتھ رابطہ رہتا ہے اور نقوی صاحب کے نائب علامہ توقیر عباس اجلاسوں میں ان کی اکثر نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک عرصہ سے ان کا تقاضہ تھا کہ جامعہ کی سالانہ کانفرنس میں شریک ہوں مگر موقع نہیں بن رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ نومبر ۲۰۱۹ء

آزادکشمیر کی دینی و سیاسی قیادتوں سے درخواست

میں آج آزاد کشمیر کے ایک بڑے شہر میں آپ حضرات کے سامنے اپنے دل کے درد کا ایک بار پھر اظہار کر رہا ہوں۔ اب سے ایک ماہ قبل منگ اور راولاکوٹ کے اجتماعات میں یہ گزارشات پیش کر چکا ہوں مگر صورتحال جوں کی توں ہے اس لیے دوبارہ عرض کرنے پر خود کو مجبور پاتا ہوں کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کی صورتحال پر ایک سو سے زیادہ دن گزر چکے ہیں، لاکھوں لوگ آزاد نقل و حرکت کی سہولتوں سے محروم ہیں، ان کے شہری اور سیاسی حقوق معطل ہیں، جبر و تشدد کی فضا ہے، آزادیٔ رائے پر مسلسل پہرے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ نومبر ۲۰۱۹ء

کرتارپور راہداری اور قادیانی مذہب

ان دنوں کرتارپور راہداری کے بارے میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر اخبارات اور سوشل میڈیا پر اظہار خیال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بین الاقوامی سرحد پر نارووال سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر کرتارپور ایک جگہ کا نام ہے جہاں تقسیم ملک سے قبل دونوں طرف آنے جانے کا راستہ ہوتا تھا۔ یہ راستہ تقسیم ہند کے وقت بند ہوگیا تھا جسے گزشتہ دنوں کھول دیا گیا ہے اور ۹ نومبر کو پاکستان کے وزیر اعظم جناب عمران خان نے اس کا افتتاح کیا ہے۔ یہاں سکھوں کا ایک بڑا گوردوارہ ہے جو ان کے اہم اور مقدس مقامات میں شمار ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ نومبر ۲۰۱۹ء

قادیانی مسئلہ اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی ذمہ داری

قادیانی گروہ کی سرپرست لابیوں اور ویسٹرن میڈیا کی طرف سے قادیانی مسئلہ کے حوالہ سے ایک الزام پاکستان کے مسلمانوں پر، پاکستان کی حکومت پر اور پاکستان کے دستوری اور قانونی ڈھانچے پر پورے شدومد کے ساتھ دنیا بھر میں دہرایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے انسانی حقوق پامال کر دیے گئے ہیں، ان کے شہری حقوق معطل ہو گئے ہیں اور قادیانیوں کے ہیومن رائٹس ختم کر دیے گئے ہیں۔ ابھی حال میں اسی ماہ کے آغاز میں برطانیہ میں ٹل فورڈ کے مقام پر قادیانیوں کے سالانہ اجتماع میں بھارتی ہائی کمشنر نے شرکت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اگست ۱۹۹۲ء

جامعہ حفصہ کی طالبات کی جدوجہد ۔ چند سوالات

جامعہ حفصہ اسلام آباد کی طالبات کے مطالبات اور جدوجہد کے حوالے سے معاملات جس رخ پر آگے بڑھ رہے ہیں اس سے کئی سنجیدہ سوالات نے جنم لیا ہے اور ان کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ بات اسلام آباد میں ایک مسجد کے گرائے جانے اور متعدد دیگر مساجد کو غیر قانونی قرار دے کر ان کے گرانے کا نوٹس جاری ہونے پر بطور احتجاج شروع ہوئی تھی جس میں جامعہ حفصہ کی طالبات نے ایک سرکاری لائبریری پر احتجاجاً قبضہ کر لیا تھا۔ طالبات اور ان کے سرپرست مولانا عبد العزیز اور مولانا غازی عبد الرشید ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اپریل ۲۰۰۷ء

پاکستانی خواتین کے حقوق اور صدر مشرف

نیویارک میں پاکستانی خواتین کے اجتماع سے صدر پرویز مشرف کا خطاب ان دنوں عام طور پر موضوع بحث ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے صدر پرویز مشرف کی نیویارک آمد کے موقع پر یہاں کے بعض پاکستانی حلقوں نے ’’خواتین کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا جس میں صدر پاکستان کے بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ خواتین کے حقوق و مسائل کے حوالے سے صدر محترم پاکستان میں جو کوششیں کر رہے ہیں یا حکومت پاکستان جو اقدامات کر رہی ہے، ان سے عالمی سطح پر لوگوں کو متعارف کرایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۵ء

جامعہ حفصہ کا مسئلہ اور دینی مدارس کا مستقبل

مولانا عبد العزیز کی گرفتاری کے بعد لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا حکومت کے ساتھ تنازع ایک لحاظ سے اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے اور ان کے نائب مولانا عبد الرشید غازی کی طرف سے خود کو حکومت کے حوالے کرنے کی مشروط پیشکش نے حکومت کے ساتھ ان کی مسلح مزاحمت کے باقی ماندہ امکانات کو بھی ختم کر دیا ہے۔ جب ان دونوں بھائیوں نے چند ماہ قبل اپنے بعض مطالبات کے لیے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا تھا، اس وقت ملک کے سنجیدہ دینی حلقوں اور ان کے خیر خواہوں کی طرف سے انہیں یہ کہہ دیا گیا تھا کہ حکومت کے ساتھ اس طرح کی محاذ آرائی کا طریقہ درست اور قابل عمل نہیں ہے، اس لیے وہ اسے ترک کر دیں اور ملک کی علمی و دینی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی مشاورت کے ساتھ مکمل تحریر

۱۰ جولائی ۲۰۰۷ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter