اکیسویں صدی اور علمائے کرام
دنیا بھر میں اکیسویں صدی کی آمد آمد کا غلغلہ ہے اور ہر جگہ نئی عیسوی صدی کے آغاز کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی اس موضوع پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا رہا ہے اور مختلف حوالوں سے اکیسویں صدی کے تقاضوں پر بحث ہو رہی ہے۔ ہم نے تو اپنی نئی ہجری صدی کا آغاز بیس سال قبل کیا تھا اور اس موقع پر بھی عالم اسلام میں بہت تیاریاں ہوئی تھیں اور تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا، اب نئی عیسوی صدی کے آغاز پر دنیا کے مختلف حصوں میں تقریبات منعقد ہو رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام اور خواتین کے حقوق
انسانی نسل کی بقا اور معاشرت کی گاڑی جن دو پہیوں پر رواں دواں ہے ان میں ایک عورت ہے جس کا نسلِ انسانی کی نشوونما اور ترقی میں اتنا ہی عمل دخل ہے جتنا مرد کا ہے۔ اس لیے اسلام نے عورت کے وجود کو نہ صرف تقدس اور احترام بخشا بلکہ اس کی اہمیت و افادیت کا بھرپور اعتراف کیا ہے اور اسے ان تمام حقوق اور تحفظات سے نوازا ہے جو مرد اور عورت کے فطری فرائض کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل عورت کو انسانی معاشرہ میں ایک آزاد اور خودمختار وجود کی حیثیت حاصل نہ تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بین الاقوامی لابیاں، قادیانی گروہ اور بعض پاکستانی دانشور
روزنامہ نوائے وقت میں ’’اور پاکستان بدنام ہو رہا ہے‘‘ کے عنوان سے اصغر علی گھرال کے مضمون کی تین قسطیں نظر سے گزریں جس میں انہوں نے پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف درج مقدمات اور ان کے حوالہ سے عالمی سطح پر قادیانیوں کی طرف سے پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم کا ذکر کیا ہے اور قادیانیوں کو یہ تسلی دینے کی کوشش کی ہے کہ ان کے خلاف شوروغوغا صرف تنگ نظر ملاؤں نے بپا کر رکھا ہے ورنہ عام مسلمانوں کو ان سے کوئی شکایت نہیں ہے اور نہ ہی ملک کی عام آبادی قادیانیوں کے خلاف کسی قسم کی مہم میں شریک ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لاہور میں ’’سہ روزۂ تحریکِ ختمِ نبوت‘‘
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی یہ نشست دو حوالوں سے ہے۔ شہدائے ختم نبوت کی یاد میں ہے اور ۹ اپریل کو ایوان اقبالؒ لاہور میں مجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ’’امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کانفرنس‘‘ کی تیاری کے سلسلہ میں بھی ہے اور میں ان دونوں امور کے بارے میں چند مختصر گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔ شہدائے ختم نبوت کا تذکرہ ان کی جدوجہد کو تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ نسبت و محبت کے اظہار اور ان کے مشن کے ساتھ وابستگی کا احساس بیدار رکھنے کے لیے بھی ہے اور زندہ قومیں اپنے شہیدوں کو یاد رکھا کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اعمال کی سزا و جزا کا اسلامی تصور
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ محترم بزرگو اور دوستو! میں نے آپ کے سامنے سورۃ النساء کی آیت نمبر ۱۲۳ تلاوت کی ہے جس کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا ارشاد گرامی ہے کہ اس میں اعمال کی سزا اور جزا کے حوالہ سے مشرکین مکہ اور اہل کتاب کے خیالات کا رد کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ اعمال کے بدلے کے بارے میں نہ تو مشرکین کی آرزوئیں پوری ہوں گی اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں کا لحاظ رکھا جائے گا بلکہ جو شخص بھی کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا اور ہر شخص کو اپنے اعمال کی سزا خود بھگتنا ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امام بخاریؒ اور بخاری شریف
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرات علمائے کرام اور عزیز طلبہ! ختم بخاری شریف کی اس تقریب میں شرکت اور کچھ عرض کرنے کا موقع میرے لیے سعادت کی بات ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ گزارشات آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ بخاری شریف کی آخری حدیث کے حوالہ سے علمی مباحث تو حضرت ڈاکٹر صاحب مدظلہ آپ کے سامنے رکھیں گے البتہ کتاب کے موضوع اور صاحبِ کتاب کے بارے میں چند معروضات ضروری سمجھتا ہوں۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کچھ مقصد کی باتیں کہننے سننے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
محترمہ بے نظیر بھٹو! معاملات کو گڈمڈ نہ کریں
قائد حزب اختلاف محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک حالیہ مضمون میں موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت آرڈیننس اور سی ٹی بی ٹی پر دستخط کے معاملات پر بھی بحث کی ہے۔ محترمہ کا موقف ہے کہ پاکستان کو سی ٹی بی ٹی پر دستخط کر دینا چاہئیں بلکہ یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ جبکہ ہماری معلومات کے مطابق خود حکومت پاکستان نے بھی سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے اور اس کے لیے حالات کو سازگار بنانے پر کام کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’الشریعہ‘‘ کا دورِ نو
ہم نے پہلے دن سے جو اہداف طے کر رکھے ہیں بحمد اللہ تعالیٰ آج بھی ان پر قائم ہیں کہ اسلام کی دعوت و تبلیغ اور غلبہ و نفاذ، اسلام دشمن عناصر اور لابیوں کے تعاقب، اسلامی تحریکات کے درمیان مفاہمت کے فروغ، دینی حلقوں کی بریفنگ اور ذہن سازی اور اسلامی نظام کے بارے میں مختلف حلقوں کے پیدا کردہ شکوک و شبہات کے ازالہ کے لیے علمی اور فکری محاذ پر اپنی بساط کے مطابق سرگرم عمل رہیں گے، اور گروہی مخاصمتوں اور لابیوں کی ترجیحات سے بالاتر رہتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسٹر رابن کک! یہ ایجنڈا ادھورا ہے
لاہور کے ایک اردو روزنامے میں برطانوی وزیرخارجہ مسٹر رابن کک کا یہ بیان نظر سے گزرا ہے کہ اسلام اور مغرب کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے یورپی یونین اور اسلامی تنظیم (او آئی سی) کے درمیان مذاکرات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ایک اسلامک سنٹر میں اپنی کسی تقریر کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں انہوں نے ’’اسلام اور مغرب کے اشتراک‘‘ پر اظہارِ خیال کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اس حوالہ سے یورپی یونین اور او آئی سی میں بہت جلد مذاکرات شروع ہونے والے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چند بزرگوں اور دوستوں کی یاد میں
پرانے رفقاء میں سے کسی بزرگ یا دوست کی وفات ہوتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ جنازہ یا تعزیت کے لیے خود حاضری دوں اور معمولات کے دائرے میں ایک حد تک اس کی کوشش بھی کرتا ہوں مگر متنوع مصروفیات کے ہجوم میں صحت و عمر کے تقاضوں کے باعث ایسا کرنا عام طور پر بس میں نہیں رہتا۔ گزشتہ دنوں چند انتہائی محترم بزرگ اور دوست جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اجتماعی اجتہاد کی ضرورت اور اس کے تقاضے
شاہ صاحب موصوف گزشتہ دنوں فقہی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے اپنے معزز رفقاء کے ہمراہ گوجرانوالہ تشریف لائے تو ان کے پاس کانفرنس میں پیش کیے جانے والے مضامین و مقالات کے مجوزہ عنوانات کی فہرست میں سے ایک عنوان کا میں نے خود انتخاب کیا جو فہرست کے مطابق یوں تھا: ’’تقلید و اجتہاد کی حدود کا تعین اور اجتماعی اجتہاد کے تصور کا علمی جائزہ‘‘۔ لیکن جب قلم و کاغذ سنبھالے خیالات کو مجتمع کرنا چاہا تو محسوس ہوا کہ یہ ایک نہیں دو الگ الگ عنوان ہیں اور ہر عنوان اپنی جگہ مستقل گفتگو کا متقاضی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حکومت اور دینی مدارس کی کشمکش کا ایک جائزہ
’’دینی مدارس، انسانی حقوق اور مغربی لابیاں‘‘ کے عنوان سے ’’الشریعہ‘‘ کی خصوصی اشاعت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ ہم نے اس شمارے میں شامل کرنے کے لیے مضامین کے انتخاب میں اس ضرورت کو پیش نظر رکھا ہے کہ دینی مدارس کے خلاف مغربی لابیوں اور میڈیا کی موجودہ مہم کے پس منظر اور مقاصد کو آشکارا کرنے کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے تقاضوں کے حوالہ سے دینی مدارس کے نصاب و نظام میں ناگزیر تبدیلیوں اور تعلیم کے جدید ذرائع اور مواقع سے دینی تعلیم کے لیے استفادہ کے امکانات کا جائزہ بھی قارئین کے سامنے آجائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ورلڈ اسلامک فورم کا قیام
پاکستان سے میری طویل غیر حاضری اور لندن میں قیام کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد کی طرف بحمد اللہ تعالیٰ پیش رفت ہوئی ہے اور چند اصحاب فکر نے راقم الحروف کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کے نام سے ایک نیا فکری حلقہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ’’الشریعہ‘‘ کے قارئین گواہ ہیں کہ راقم الحروف نے علمائے کرام اور دینی تحریکات کے قائدین کی خدمت میں ہمیشہ یہ عرض کیا ہے کہ اسلام کے غلبہ و نفاذ کی جدوجہد میں مؤثر پیش قدمی کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کے حوالہ سے مغربی فلسفہ کا مکمل ادراک حاصل کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ورلڈ اسلامک فورم کے پہلے باضابطہ اجلاس کا دعوت نامہ
باسمہ سبحانہ۔ بگرامی خدمت، زید لطفکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ گزارش ہے کہ کافی عرصہ سے اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مغربی میڈیا اور اسلام دشمن لابیوں کے معاندانہ پراپیگنڈا کا سائنٹیفک انداز میں جائزہ لیا جائے اور اس کے توڑ کے لیے منظم کام کیا جائے۔ نیز یورپ میں مقیم مسلمانوں بالخصوص مشرقی یورپ کے کمیونزم سے آزاد ہونے والے ممالک کی مسلم اقلیتوں کی دینی ضروریات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے کر اس کے مطابق ضروری لٹریچر کی اشاعت و تقسیم کا اہتمام کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جناب حمزہ اور چند سیاسی یادیں
سینٹ آف پاکستان کے انتخابات کا عمل جاری ہے اور چند روز میں سینٹ کا نیا ایوان اپنا کام شروع کر دے گا۔ پنجاب سے سینٹ کے بارہ ارکان حسب سابق متفقہ طور پر منتخب ہوئے ہیں جو ایک خوش آئند روایت اور سیاست میں افہام و تفہیم کی علامت ہے۔ مگر میرے لیے اس میں سب سے زیادہ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ہمارے بزرگ دوست حمزہ صاحب بھی اس انتخابات کے ذریعے ایک بار پھر پارلیمنٹ کے ایوان میں آگئے ہیں اور ایوان میں ان کی کھری کھری باتیں ایک بار پھر گونجا کریں گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذِ اسلام اور ہمارا نظامِ تعلیم
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام ایک صحت مند اور مثالی معاشرہ کی تشکیل کے لیے عمل میں لایا گیا تھا اور اس سلسلہ میں قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم سمیت بانیان پاکستان کے واضح اعلانات تاریخ کا انمٹ حصہ ہیں جن میں اسلام کے مکمل عادلانہ نظام کے نفاذ اور قرآن و سنت کی بالادستی کو پاکستان کی حقیقی منزل قرار دیا گیا ہے۔ لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ دنیا کے نقشے پر اس نظریاتی ملک کو نمودار ہوئے نصف صدی کا عرصہ گزرنے کو ہے مگر ابھی تک ہم اسلامی نظام کی منزل سے بہت دور ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علماء اور قومی سیاست
میں سب سے پہلے جمعیۃ اہل سنت گوجرانوالہ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے آپ حضرات سے ملاقات و گفتگو کا موقع فراہم کیا۔ مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کے ساتھ آج کی اس گفتگو کے لیے ’’علماء اور قومی سیاست‘‘ کا موضوع طے ہوا ہے اور میں اس کے حوالہ سے کچھ ضروری گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ معروضات بنیادی طور پر تین پہلوؤں پر مشتمل ہوگی: (۱) سیاست کے ساتھ علماء کا تعلق کیا ہے؟ (۲) قومی سیاست میں اب تک علماء کا رول کیا ہے اور اس کے ثمرات و نتائج کیا ہیں؟ (۳) آئندہ سیاسی محاذ پر علماء کے آگے بڑھنے کے امکانات کیا ہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سماجی ارتقا اور آسمانی تعلیمات
انسانی سماج لمحہ بہ لمحہ تغیر پذیر ہے اور اس میں ہر پیش رفت کو ارتقا سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ تغیر اور پیش رفت سوسائٹی کے مشاہدات و تجربات کی بنیاد پر ہوتی ہے اس لیے ہر آنے والے دور کو پہلے سے بہتر قرار دے کر اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوجانے کو ضروری سمجھا جاتا ہے اور اسے نظرانداز کرنے کو قدامت پرستی اور معاشرتی جمود کا عنوان دے دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے آج کی مروجہ عالمی تہذیب و قوانین کو ’’اینڈ آف ہسٹری‘‘ کے عنوان سے انسانی سماج کی سب سے بہتر صورت اور آئیڈیل تہذیب کے ٹائٹل کے ساتھ پوری نسل انسانی کے لیے ناگزیر تصور کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
درخواستی خاندان کی اسلام کے لیے خدمات
حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ پاکستان کی دینی و سیاسی تاریخ کی ایک اہم شخصیت تھے جن کا اوڑھنا بچھونا تعلیم و تدریس اور ذکر و اذکار تھا۔ وہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان جیسی معروف دینی و سیاسی جماعت کے تین عشروں تک امیر رہے اور ان کی امارت میں کام کرنے والے سرکردہ رہنماؤں میں مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا عبید اللہ انورؒ، مولانا پیر محسن الدین احمدؒ، مولانا شمس الحق افغانیؒ اور مولانا سید محمد یوسف بنوری شامل رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
توہین رسالت کا قانون اور امریکی موقف
امریکی صدر باراک اوباما نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بدنام زمانہ امریکی فلم کی مذمت کی ہے جس میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں کی جانے والی توہین پر پورا عالمِ اسلام سراپا احتجاج ہے اور بہت سے مقامات پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں تشدد کے باعث خاصا جانی و مالی نقصان بھی سامنے آیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے پرتشدد مظاہروں میں لیبیا میں امریکی سفیر اور دیگر امریکی شہریوں کے قتل کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ان پرتشدد مظاہروں کا کوئی جواز نہیں ہے اور ان سے بین الاقوامی قوانین کی توہین ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تسخیرِ کائنات اور قرآنِ کریم
مریخ تک رسائی بلاشبہ انسانی تاریخ کا اہم واقعہ اور سائنس کی غیر معمولی پیش رفت ہے جس پر امریکی سائنسدان مبارکباد کے مستحق ہیں۔ مجھے ہیوسٹن میں واقع ناسا ہیڈکوارٹر میں عام وزیٹر کے طور پر ایک سے زیادہ مرتبہ جانے کا اتفاق ہوا ہے اور چاند پر اترنے والی خلائی گاڑی اپالو میں بیٹھنے کا موقع بھی ملا ہے جو عام نمائش کے لیے وہاں رکھی ہوئی ہے۔ جبکہ ناسا ہیڈکوارٹر کے مین گیٹ کے سامنے گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے قاری مطیع الرحمان مرحوم کے قائم کردہ حفظ قرآن کریم کے مدرسہ میں بھی حاضری ہوئی جو پہلے کرائے کی ایک بلڈنگ میں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
رمضان المبارک، تربیت کا مہینہ
رمضان المبارک قرآن کریم اور روزوں کا مہینہ ہے، برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے، مغفرت اور نجات کا مہینہ ہے، جو اپنی بہاریں دکھا کر چند دنوں میں رخصت ہونے والا ہے۔ مبارکباد کے مستحق ہیں وہ سعادت مند جنہوں نے ان مبارک ساعات سے فیض حاصل کیا اور اپنے ذخیرۂ آخرت میں اضافہ کر لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک صبر و مواخاۃ کا مہینہ بھی ہے کہ اس ماہ میں مسلمانوں کو بھوک پیاس پر صبر کر کے اپنے بھوکے پیاسے بھائیوں کی تکالیف کا احساس ہوتا ہے اور یہ احساس ان میں بھوکوں پیاسوں کے لیے ہمدردی اور غم خواری کے جذبات کو ابھارتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خطابت کی دنیا اور نئے دور کا نیا اسلوب
چند برسوں سے ’’میڈیا کورس‘‘ کے عنوان سے ذرائع ابلاغ کے استعمال کی ضرورت کا احساس دلانے کے علاوہ ان کی تربیت دینے کے حوالے سے بعض مقامات پر پروگرام شروع ہوگئے ہیں جو بہت خوش آئند ہیں اور ان سے دینی مدارس کے طلبہ اور اساتذہ میں اس کا احساس اور شعور بیدار ہو رہا ہے کہ آج کے دور میں میڈیا کی اہمیت کیا ہے، اس کا دائرہ کار اور طریق کار کیا ہے اور دینی مقاصد کے لیے اس کی ضرورت کیا ہے؟ اس حوالہ سے گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران تین مختلف کورسز میں حاضری اور کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذ اسلام کی تحریکیں اور مسلم ممالک کی حکومتیں
مسلم ممالک میں نفاذ اسلام کی تحریکوں کو ایک عرصہ سے اس صورتحال کا سامنا ہے کہ جو تحریکیں عسکری انداز میں ہتھیار اٹھا کر نفاذ شریعت کا پروگرام رکھتی ہیں انہیں نہ صرف اپنے ملک کی فوجی قوت کا سامنا ہے بلکہ عالمی سطح پر انہیں دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف کردار کشی کی مہم چلائی جاتی ہے اور ایک طرح سے پوری دنیا ان کے خلاف یک آواز ہو جاتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف وہ تحریکیں ہیں جو سیاسی انداز میں نفاذ اسلام کے مقصد کی طرف آگے بڑھتی ہیں، جمہوری راستہ اختیار کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایوننگ کورٹس کی تجویز اور شرعی عدالتوں کی افادیت
پاکستان بار کونسل نے وفاقی حکومت کی طرف سے پیش کی جانے والی یہ تجویز مسترد کر دی ہے کہ ملک بھر کی عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار کا بوجھ کم کرنے اور عوام کو جلد انصاف مہیا کرنے کے لیے شام کی عدالتیں (ایوننگ کورٹس) قائم کی جائیں۔ ایک خبر کے مطابق وفاقی وزارت قانون اس سلسلہ میں ایک عرصہ سے کام کر رہی ہے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں وفاقی وزیر قانون جناب فاروق ایچ نائیک کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے قانون اور سیکرٹریز قانون نے بھی شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کوڑوں کی سزا اور آسمانی تعلیمات
سوات میں ایک نوجوان لڑکی کو کوڑے مارنے کے مبینہ واقعہ کی ویڈیو فلم نے ملکی اور عالمی سطح پر کوڑوں کی سزا کے حوالے سے ایک بار پھر ارتعاش پیدا کر دیا ہے اور ہر سطح پر اس کے بارے میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ جہاں تک اس ویڈیو فلم کا تعلق ہے وہ ابھی تک مشکوک و متنازعہ ہے اور سپریم کورٹ میں اس کے بارے میں کوئی حتمی رپورٹ پیش کیے جانے اور عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے تک یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ فلم فی الواقع کسی واقعہ کی فلم ہے یا جعلی طور پر بنائی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور سرکاری طرز عمل
ملی یکجہتی کونسل پاکستان ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو قابو میں لانے اور قومی مسائل پر تمام مکاتب فکر کے متفقہ موقف اور کردار کے اہتمام کے لیے قائم ہوئی تھی اور اس میں مولانا شاہ احمد نورانیؒ اور قاضی حسین احمدؒ کے ساتھ ساتھ مختلف اوقات میں مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمان، پروفیسر ساجد میر، مولانا ضیاء القاسمیؒ، علامہ ساجد نقوی اور دیگر زعما کا متحرک کردار کونسل کی تاریخ کا حصہ ہے۔ اب یہ فورم اپنے دورِ ثانی میں صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر اور جناب لیاقت بلوچ کی قیادت میں سرگرم عمل ہے اور ان کے ساتھ مختلف دینی حلقوں کے سرکردہ حضرات شریک کار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’خود ہی مدعی، خود ہی گواہ اور خود ہی جج‘‘
پروفیسر حافظ محمد سعید اور مولانا عبد الرحمان مکی کے سروں کی قیمت مقرر کر کے امریکہ اور بھارت نے اپنے تئیں یہ سمجھ لیا ہوگا کہ انہوں نے مبینہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں کوئی پیش رفت کی ہے اور اس سے انہیں اس جنگ میں کوئی فائدہ مل سکتا ہے۔ لیکن اس کے مضمرات اور نتائج پر غور کرنے کی زحمت نہ اس کا فیصلہ کرنے والے امریکی دانشوروں نے گوارا کی ہے اور نہ ہی اس کا خیرمقدم کرنے والے بھارتی دانشوروں کو اس کی توفیق ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
افغان طالبان کا مختصر پسِ منظر
طویل عرصہ سے اس خبر کا انتظار تھا جو آج پڑھنے کو ملی کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے افغان طالبان قطر میں اپنا سیاسی دفتر قائم کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ان کے نمائندے قطر پہنچ چکے ہیں۔ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر فوج کشی کے بعد جب طالبان حکومت کا جبر کے ذریعے خاتمہ کر دیا تھا تو لندن سے ہمارے ایک مخدوم و محترم بزرگ حضرت مولانا عتیق الرحمان سنبھلی نے اپنے درد بھرے مضمون میں دکھ کا اظہار فرمایا تھا کہ سب کچھ ختم ہوگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تجارت و ابلاغ اور اسلامی تعلیمات
’’رفاہ انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی‘‘ کا نام سن رکھا تھا مگر کبھی حاضری کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ ۱۰ جنوری کو یونیورسٹی کے ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (MBA) کے شعبے کی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا جو راولپنڈی صدر میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی سابقہ عمارت میں واقع رفاہ یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس میں منعقد ہوئی۔ شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر عمیر صاحب اور دیگر اساتذہ سے ملاقات و گفت و شنید ہوئی اور تجارت میں تشہیر و ابلاغ کی اخلاقیات و آداب کے حوالہ سے منعقدہ تقریب میں کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 87
- 88
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »